سعادت حسن منٹو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سعادت حسن منٹو
پیدائش حسن
11 مئی , 1912
ضلع لدھیانہ ، پنجاب ، برطانوی ہند
وفات جنوری 18, 1955 (عمر 42 سال)
لاہور ، پنجاب Flag of Pakistan.svg پاکستان
پیشہ کہانی نویس
سالہائے فعالیت 1934-1955

اردو ادب کے عظیم افسانہ نگار ، خاکہ نگار

خاندانی پس منظر[ترمیم]

سعادت حسن منٹو کے والد غلام حسن منٹو قوم اور ذات کے کشمیری امرتسر کے ایک محلے کوچہ وکیلاں میں ایک بڑے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔

پیدائش[ترمیم]

منٹو 11مئی 1912کو موضع سمبرالہ ، ضلع لدھیانے میں پیدا ہو ا ۔ اس کے والد لدھیانے کی کسی تحصیل میں تعینات تھے-دوست اسے ٹامی کے نام سے پکارتے تھے ۔منٹو اپنے گھر میں ایک سہما ہوا بچہ تھا۔ سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے اپنا آپ ظاہر نہ کر سکتا تھا۔ اس کی والدہ اس کی طرف دار تھی۔ وہ ابتدا ہی سے تعلیم کی طرف مائل نہیں تھا۔ اس کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہوئی۔ 1921میں اسے ایم اے او مڈل سکول میں چوتھی جماعت میں داخل کرایا گيا۔ اس کا تعلیم کریئر حوصلہ ا‌فزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کےبعد اس نے 1931میں یہ امتحان پاس کیا تھا۔ اس کے بعد اس نے ہندو سبھا کالج میں ایف اے میں داخلہ لیا لیکن اسے چھوڑ کر منٹو نے ایم او کالج میں سال دوم میں داخلہ لے لیا- انہوں نے انسانی نفسیات کو اپنا موضوع بنایا۔ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے بہترین افسانے تخلیق کیے۔ جن میں ٹوبہ ٹیک سنگھ ، کھول دو ، ٹھنڈا گوشت ، دھواں ، بو شامل ہیں۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے اور خاکے اور ڈرامے شائع ہو چکے ہیں۔ کثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے 18 جنوری 1955 ان کا انتقال ہوا۔

فن[ترمیم]

سعادت حسن منٹو اردو کا واحد کبیر افسانہ نگار ہے جس کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہے ۔ وہ ایک صاحب اسلوب نثر نگار ہے جس کے افسانہ مضامین اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے مالک ہیں۔ منٹو ایک معمار افسانہ نویس تھا جس نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی-افسانہ مجھے لکھتا ہے منٹو نے یہ بہت بڑی بات کہی تھی۔ منٹو کی زندگی بذات خود ناداری انسانی جدوجہد بیماری اور ناقدری کی ایک المیہ کہانی تھی جسے اردو افسانے نے لکھا ۔ منٹو نے دیکھی پہچانی دینا میں سے ایک ایسی دنیا دریافت کی جسے لوگ اعتنا نہیں سمجھتے تھے یہ دنیا گمراہ لوگوں کی تھی۔ جو مروجہ اخلاقی نظام سے اپنی بنائی ہوئی دنیا کے اصولوں پر چلتے تھے ان میں اچھے لوگ بھی تھے اور برے بھی ۔ یہ لوگ منٹو کا موضوع تھے اردو افسانے میں یہ ایک بہت بڑی موضوعاتی تبدیلی تھی جو معمار افسانہ نویس کی پہلی اینٹ تھی۔ اس کے افسانے محض واقعاتی نہیں تھے ان کے بطن میں تیسری دنیا کے پس ماندہ معاشرے کے تضادات کی داستان موجود تھی۔

بیرونی روابط[ترمیم]