سقوط بغداد 1258ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

-

سقوط بغداد 1258ء
سلسلہ منگولوں کا ظہور
Hulagu Baghdad 1258.jpg
ہلاکو کی افواج کا بغداد پر حملہ
تاریخ 29 جنوری تا 10 فروری 1258ء
مقام بغداد، عراق
نتیجہ منگولوں کی فتح
متحارب
منگول خلافت عباسیہ
قائدین
ہلاکو خان مستعصم باللہ
قوت
نامعلوم نامعلوم
نقصانات
نامعلوم، لیکن انتہائی کم افواج: 50 ہزار، شہری 90 ہزار سے 10 لاکھ کے درمیان

1258ء میں منگولوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی اور خلافت عباسیہ کے خاتمے کو سقوط بغداد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بغداد کا محاصرہ جو 1258 میں ہوا ایک حملہ، جارحیت، اور بغداد شہر کی بربادی تھا، اس حملہ نے بغداد کو مکمل طور پر برباد کر دیا باشندے جن کی تعداد 100،000 سے 1،000،000تهى کو شہر کے حملے کے دوران قتل کیا گیا،اور شہر جلا دیا یہاں تک کہ بغداد کے کتب خانے بھی چنگيزى افواج کے حملوں سے محفوظ نہ تھے جس میں بيت الحكمة بھی شامل ہے انہوں نے مکمل طور پر كتب خانے تباہ کر ڈالے

ہلاکو خان کی زیر قیادت منگول افواج نے خلافت عباسیہ کے دارالحکومت بغداد کا محاصرہ کرکے شہر فتح کرلیا اور عباسی حکمران مستعصم باللہ کو قتل کردیا۔ شہر میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور کتب خانوں کو نذر آتش اور دریا برد کردیا گیا۔ جنگ کے بعد منگولوں نے شام پر حملہ کیا اور دمشق، حلب اور دیگر شہروں پر قبضہ کرلیا۔ اس شکست کے ساتھ ہی امت مسلمہ کے عروج کا دور اول ختم ہوگیا۔

منگولوں کی پیشقدمی کا خاتمہ مملوک سلطان سیف الدین قطز اور اس کے سپہ سالار رکن الدین بیبرس نے فلسطین کے شہر نابلوس کے قریب عین جالوت کے مقام پر ایک جنگ میں کیا جس میں منگولوں کو پہلی مرتبہ شکست ہوئی۔ اس جنگ میں منگولوں کی قیادت ہلاکو خان کا نائب کتبغا کررہا تھا جو جنگ میں مارا گیا۔

پس منظر[ترمیم]

بغداد عباسى خلافت کا دارالحکومت تھا ،اور عباسى اسلامی خاندانوں میں سے دوسرے تھے بغداد کے عروج پر، اس کى آبادی تقریبا ایک لاکھ رہائشی تھی اور 60،000 سپاہیوں کی ایک فوج دفاع کرتى تھى.13 ويں صدی کے وسط تک خلافت اب ایک چھوٹی سی ریاست تھی تاہم خلیفہ کا منصب تھا، اور یہ مملوک یا ترک سرداروں کے کنٹرول میں تھا، اور اسكى اب بھی بڑی علامتی اہمیت تھی اور بغداد اب بھی ایک امیر اور مہذب شہر تھا. ہلاكو خان کے محاصرہ سے پہلے ، جنرل بیجو کی کمان میں منگولوں نے 1238، 1242 اور 1246 میں جدید عراق پر متعدد مرتبہ حملہ کیا تھا لیکن اس شہر پر نہیں.

فوج کی تشکیل[ترمیم]

1257 میں منگول حکمران مونكو خان نے عباسى خلافت پر غالب آنے کا فیصلہ کیا یہ جان کر کہ بغدادکا علاقہ ایک بڑا اور مرکزی علاقہ تھا اس نے اپنی فوج کے لئے اپنے ملک میں سے ہر دس لڑاکوں میں سے ایک کو بھرتی کیا. ایک مضبوط تخمینے سے یہ فوج شاید منگولوں کی طرف سے سب سے بڑی فوج تھی. جس کے جنگجوؤں کی تعداد لگ بھگ ایک لاکھ پچاس ہزار تھی۔ نومبر 1257 میں ہلاكو خان اور چینی کمانڈر کان گوا کی کمان میں ، انہوں نے بغداد کی طرف کوچ کیا جس میں مختلف عیسائی افواج کا ایک بڑا دستہ بھی شامل تھا، ان میں سے ایک بڑا حصہ جورجيين تھا، جو اپنے دارالحکومت، تفليس کی شكست کا بدلہ لینے کے بے چین تھے جو جلال الدین خوارزم شاہ کی طرف سے دہائیوں پہلے فتح کیا گیا تھا دوسرے حصہ لینے والے عیسائی افواج میں آرمینیا کی فوج، اپنے بادشاہ کی قیادت میں تھى اور سلطنت انتاکیا سے کچھ فرانسیسی دستے تھے ۔ عصر حاضر کا فارسی مبصر علاءالدين عطا الملك جويني ہمیں بتاتا ہے کہ محاصرے کے شرکاء تقریبا 1،000 چینی آرٹلری کے ماہرین تھے، اور وہاں ارمینیائی ، جورجيين ، فارسی اور ترک بھی تھے.


محاصرہ[ترمیم]

بغداد کے محاصرہ سے پہلے، ہلاكو خان نے بآسانی لر کے شہركو تباہ کر ڈالا اور اس کی دہشت سےتو حشّاشين‎ اتنا گھبرا گئے کہ انہوں نے 1256 میں ایک لڑائی کے بغیراپنے ناقابل تسخیرگڑھ قلعة ألموت میں ہتھیار ڈال دئے . پھر وہ بغداد چلا گیا. مونكو خان نے اپنے بھائی کو حکم دیا کہ وہ خلافت کو چھوڑ دیں اگر وہ منگولوں كى فرمانبرداری قبول کرتے ہیں. بغداد کے قریب ، ہلاكو خان نے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا، لیکن خلیفہ، معتصم، نے انکار کر دیا. کئی وجوہات کی بنا پر، خلیفہ، معتصم حملے کے لئے تیاری کرنے میں ناکام رہا تھا؛ اس نے نہ لشکر جمع کئے اور نہ ہی شہر کی دیواروں کو مضبوط کیا اس سے بھی زیادہ بدتر اس نے ہلاكو خان کو اپنی دھمکی سے بہت زیادہ ناراض كر دیا اور اس طرح اپنے بربادی کو یقینى بنا ليا ہلاكو نے دجلة کے دونوں کناروں پر لشکر کو تعینات کیا ، خلیفہ کی فوج نے مغرب سے حملہ آور افواج میں سے کچھ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، لیکن اگلی جنگ میں ہار گئے. حملہ آور منگولوں نے کچھ حفاظتى بندوں کو توڑ دیا جس کی وجہ سے وہاں فوج کے پیچھے ایک سیلاب آ گیا اور وہ پھنس گئے اس طرح بہت سے فوجیوں کو ذبح کر دیا یا غرق کر دیا گیا. چینی دستےنے 29 جنوری کو شہر کا محاصرہ شروع کیا یہ جنگ محاصرہ کے معیار کے مطابق بہت تیز تھی :5 فروری کو منگولوں نے دیوار کا کنٹرول لے لیا. معتصم نے گفت و شنید كى کی کوشش کی ، لیکن اس سے انکار کر دیا گیا. 10 فروری، بغداد نے ہتھیار ڈال دئے منگولوں نے 13 فروری کو شہر میں بھاری کامیابی حاصل کی اور قتل عام اور تباہی کا ہفتہ شروع کر دیا.

تباہی[ترمیم]

بيت الحكمہ، جو کہ بے شمار قیمتی تاریخی دستاویزات اور طب سے لیکر علم فلکیات تک کے موضوعات پرلكھی گئی کتب كا گھر تھا کو تباہ کر ڈالا گیا۔ زندہ بچ جانے والوں نے کہا کہ دریائے دجلہ کا پانی ان کتب كی سیاہی کے ساتھ سیاہ پڑ گیا جو بہت زیادہ تعداد میں دریا میں پھینک دى گئی تھیں۔ نہ صرف یہ مگر کئی دنوں تک اس کا پانی سائنسدانوں اور فلسفیوں کے خون سے سرخ رہا۔ شہریوں نے فرار کی کوشش کی مگر منگول سپاہیوں نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ مارٹن سكر لکھتا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد نوے ہزار ہو سکتی ہے (Sicker 2000, p. 111) دیگر تخمینے کافی زیادہ ہیں۔ وصّافِ کا دعوی ہے کہ انسانی زندگی کا نقصان کئی لاکھ تھا۔ ایان فريزر (دی نیویارکر سے) کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کا تخمینہ 200،000 سے دس لاکھ ہے۔ منگولوں نے لوٹ مارکی اور پھر مساجد، محلات، لائبریریوں، اور ہسپتالوں کو تباہ کر ڈالا۔ شاہی عمارات کو جلا دیا گیا۔ خلیفہ کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے اپنے شہریوں کا قتل عام اور اپنے خزانے كی لوٹ مار دیکھنے کے لئے مجبور کر دیا گیا۔ منگولوں نے ایک قالین میں خلیفہ کو لپیٹ کر اپنے گھوڑوں کے نیچے کچل دیا

متعلقہ مضامین[ترمیم]