سلامتی کونسل
سلامتی کونسل : اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلنے والا دوسرا بڑا ادارہ ہے جو دنیا میں امن سلامتی کا ذمہ دار ہے۔ اس کے رکن ممالک کی تعداد 15 ہوتی ہے جن میں سے 5 مستقل اراکین ہیں۔ ان مستقل اراکین کو حق تنسیخ حاصل ہے جس کی رو سے سلامتی کونسل میں زیر غور کسی بھی مسئلے کے حل کے لئے سادہ اکثریت ہونے کے علاوہ ضروری ہے کہ پانچوں مستقل اراکین اس پر متفق ہوں ورنہ اس پر رائے شماری نہیں ہوسکتی۔
فہرست |
[ترمیم] مستقل اراکین
[ترمیم] غیر مستقل اراکین
دیگر غیر مستقل ممبران میں براعظم افریقہ سے 3 ممبر، براعظم لاطینی امریکا سے 2 ممبر ، مغربی یورپ سے 2 ممبر، مشرقی یورپ سے 1 ممبر، ایشیاء سے 2 ممبر لئے جاتے ہیں۔ آج کل برکینا فاسو ، کوسٹاریکا، کروشیا، لیبیا، ویتنام، آسٹریا، جاپان، میکسیکو، ترکی اور یوگینڈا اس کے غیر مستقل اراکین ہیں۔
[ترمیم] مستقل رکنیت کے امیدوار ممالک
بھارت، جاپان، جرمنی اور برازیل اس ادارے کی مستقل رکنیت کے امیدوار ہیں۔
[ترمیم] تنقید
حق تنسیخ نے اس ادارے کے وقار کو بری طرح مجروح کردیا ہے اور یہ بڑی طاقتوں کا آلہ کار بن گیا ہے، روس نے 123 مرتبہ امریکا نے 82 مرتبہ ، برطانیہ نے 32 مرتبہ ، فرانس نے 18 مرتبہ اور چین نے قدرے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 6 مرتبہ اس حق کو استعمال کیا ہے۔ روس اور امریکا نے اس حق کو نہایت ہی غیر ذمہ داری سے بار بار استعمال کیا ہے۔ ان کی اسی غیر ذمہ داری کا نتیجہ ہے کہ مسئلہ کشمیر، مسئلہ فلسطین آج تک حل طلب ہیں۔ تیسری دنیا خاص کر عالم اسلام کی اس میں کوئی مستقل نمائندگی نہیں۔