سلسلہ نقشبندیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مقالات بہ سلسلۂ

تصوف

Maghribi Kufic.jpg

∗سلسلہ نقشبندیہ روحانیت کے مشہور سلاسل میں سے ہے، اس سلسلے کے پیروکار نقشبندی کہلاتے ہیں جو کہ پاکستان، بھارت کے علاوہ وسطِ ایشیا اور ترکی میں کثیر تعداد میں آباد ہیں۔ اس روحانی سلسلہ کے بانی شیخ بہاؤالدین نقشبند ہیں جو کہ بخارہ (ازبکستان) کے رہنے والے تھے۔

سلسلے اور ان کے مشائخ کے اسماء[ترمیم]

∗چار بڑے سلاسل چل رہے ہیں ۔جو کہ چشتیہ ،نقشبندیہ ،قادریہ اور سہروردیہ ہیں ۔سلسلہ چشتیہ کے سرخیل حضرت خواجہ معین الدین چشتی (رحمۃ اللہ علیہ) ہیں۔ان کے آگے پھر دو شاخ ہیں چشتیہ صابریہ کے سرخیل حضرت صابر کلیری (رحمۃ اللہ علیہ) ہیں اور چشتیہ نظامیہ کے سرخیل حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء (رحمۃ اللہ علیہ) ہیں،سلسلہ قادریہ کے سرخیل حضرت شیخ عبد القادر جیلانی (رحمۃ اللہ علیہ)،سلسلہ سہروردیہ کے حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی (رحمۃ اللہ علیہ) اور سلسلہ نقشبندیہ کے حضرت شیخ بہاؤالدین نقشبندی (رحمۃ اللہ علیہ) ہیں۔ نقشبندیہ کی بہت سی شاخیں ہیں آجکل سیفی سلسلہ بھی اسی کی ایک شاخ ہے۔ جس کے بانی آخوند زادہ سیف الرحمن مبارک ہیں۔

طریقہ کی خصو صیات[ترمیم]

محبت شیخ[ترمیم]

∗ طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی امتیازی خصو صیات میں پہلا زینہ متابعت رسول ؐ اور دوسرازینہ محبت شیخ ہے ۔ محبت شیخ کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ طریقہ نقشبندیہ کا دا رو مدار دو اصولوں پر ہے ۔ پہلا سنت رسول ؐ پر اس حد تک استقامت کر نا کہ اُ سکے چھوٹےاور معمولی آداب بھی ترک نہ ہو نے پائیں ۔ اور دوسرا شیخ طریقت کی محبت اور خلوص میں اس قدر راسخ اور ثابت قدم ہو کہ اُ س پر کسی قسم کے اعتراض اورانگشت نمائی کا خیال بھی دل میں نہ لا سکے بلکہ اُ س کی تمام حرکات و سکنات مرید کی نظر میں محبوب دکھائی دیں ۔ اس لئے اگر اللہ تعالیٰ کی مہر بانی اور فضل و کرم سے یہ دو اصول درست ہو گئے تو دنیا وآخر ت میں سعادت اُس کا مقدر ہے

صحبت شیخ[ترمیم]

صحبت شیخ بھی محبت شیخ کے ضمن میں آتی ہے۔ جس قدر صحبت شیخ زیادہ ہو گی اسی قدر محبت شیخ میں اضافہ ہو گا ۔اسی لئے مشائخ نقشبندیہ نے صحبت شیخ زیادہ سے زیادہ اختیا ر کر نے کی تا کید فرما ئی ہے۔تاکہ طالب شیخ کی مجلس میں رہ کر فیض و برکت حاصل کر ے ۔ حضر ت امام ربانی محبو ب سبحانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرما یا ہے کہ اس طریقہ یعنی سلسلہ نقشبندیہ میں افا دہ و استفادہ کا دار و مدارصحبت شیخ پر ہے۔ خواجہ نقشبندقد س سرہ‘ نے فرما یا ہےکہ ہمارا طریقہ شیخ طریقت کی محبت پر ہے ۔ اور صحبت کی بہت ہی فضیلت ہے ۔ ہر کہ خوا ہدہم نشینی با خدا او نشیند در حضور اولیاء اصحاب کرام رضوان اللہ اجمعین خیر البشر ؐ کی صحبت کی وجہ سے ہی اولیا ء امت سے افضل ہیں بڑے سے بڑا ولی اللہ بھی صحابی کے درجے سے کم تر ہے ۔ کوئی ولی اﷲ صحابی کےدرجہ کو ہر گز نہیں پہنچ سکتا خوا ہ وہ اویسِ قرنی رحمۃ اللہ علیہ ہی کیوں نہ ہوں۔

رابطہ شیخ[ترمیم]

∗ہروقت ہر جگہ قلب میں تصور شیخ کے ذریعے شیخ طریقت سے اپنا رابطہ قائم رکھے ۔کیونکہ بعض اوقات بدنی صحبت میسرنہیں ہو تی تو تصور شیخ سے بھی را بطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔رابطہ شیخ وہ کیمیاء اثر نسخہ ہے کہ جس کے ذریعے فنا فی الشیخ اور فنا فی الرسولؐ کے بعد فنا فی اﷲ جیسے اعلیٰ مقامات تک رسائی ہو سکتی ہے ۔اور اس سے قربِ الی اﷲ کی منا زل جلد اور سہل طریقے سے طے ہو جا تی ہیں ۔ مر شد کو وسیلہ ٔہدایت جانے اور اُ س کی خیالی صورت بطریق محبت و تعظیم سامنے رکھے ۔جو لوگ شیخ کے ساتھ دل نہیں لگاتے ۔ وہ فیض اور ترقی سے محروم رہتے ہیں ۔ مختلف صوفیائے کرام کے مختلف نظریات ہیں لیکن اکثر صو فیا ئےعظام اس بات پر مشترک و متفق ہیں کہ وحی اور الہام ہی علم کا ماخذ و مبنع ہے ۔ صوفیائے کرام تزکیۂ نفس پر زور دیتے ہیں۔ جو کہ عبادات ، مراقبہ، مجا ہد ہ، عشق اور ترک ِماسوا کے واسطے سے ممکن ہے ۔ کیو نکہ عبادت ریاضت اور مجاہدے سے انسا ن کی طبیعت ضبطِ نفس کو پالےتی ہے ۔اور جب سالک اس قوت پر حاوی ہو جائے تو دیگر مخالف قوتیں مسخر ہو جا تی ہیں۔ جس کی وجہ سے خواہشاتِ نفسانی قا بو میں رہتی ہیں ۔ حضرت بہاؤالدین نقشبند ؒ فرماتے ہیں۔ ’’جس قدر نفوس ہیں ۔اسی قدر خدا سے ملنے کی راہیں ہیں ۔ ہر نفس اپنی حقیقت سے ملنے کا راستہ رکھتا ہے۔ لیکن دینِ کبریٰ نے با لاتفاق تین راہوں کو اخذ کیا ہے۔ یہ تین راستے سب راستوں سے افضل ہیں ۔ اور انہی راستوں پر چلنے سے لاکھوں ولی اللہ بن گئے۔اور ان کی تصدیق تواتر سے حق الیقین تک پہنچتی ہے یہ راستے بیشک سب راستوں سے افضل ہیں وہ یہ ہیں ۔ (۱)۔ ذکر (۲)۔ فکر (۳)۔ رابطہ ء شیخ خواجہ معصوم ؒ کا فرمان ہے ’’ذکر رابطہ کے بغیر خدا تک نہیں پہنچاتاالبتہ رابطہ بغیر ذکر کے خدا تک پہنچا دیتا ہے‘‘۔ پس رابطہ ء شیخ انتہائی عمدہ اور مفید چیز ہے جس کی بنا پر طالب بوجہ اتصالِ روحانی و پرتو ِ کمال باطنی اپنے شیخ سے ایسا کمال حاصل کر لیتا ہے۔ کہ جیسے مہر کی نقل کاغذ پر جلوہ گر ہوتی ہے[1]۔

اصطلاحات نقشبندیہ[ترمیم]

∗حضرات نقشبندیہ رحمھم اللہ علیہم نے اپنے طریقہ کی بنیاد گیارہ کلمات پر رکھی ہے ۔ ان میں سے آٹھ کلمات خواجہ خواجگان حضرت عبدالخالق غجد وانی رحمۃ اللہ علیہ سے اور تین کلمات بانئ سلسلہ نقشبندیہ حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہیں یہ اصطلاحات اشغال و اعمال کی طرف اشارہ کرتی ہیں آٹھ کلمات یہ ہیں ۔ ۱۔ ہو ش در دم ۔ ۲۔ نظر بر قدم ۔ ۳۔ سفر در وطن ۔ ۴۔ خلوت درا نجمن ۔ ۵۔ یاد کر د ۔ ۶۔ باز گشت ۔ ۷۔ نگہداشت ۔۸۔ یاداشت ۔حضرت شاہ نقشبندبخاری رحمۃ اللہ علیہ کے تین کلمات یہ ہیں ۔۱۔ وقوف زمانی ۲۔ وقوف قلبی۳۔ وقوف عددی

ہو ش در دم[ترمیم]

∗یہ اصل میں پا س انفاس ہی ہے ۔ یہ کہ سالک کا ہر سانس حضورو آگاہی یعنی ہر دم ہو ش میں ہو ۔ تاکہ کوئی سانس غفلت و معصیت میں نہ گزرے ۔ اور ہر وقت سانس کی حفاظت کر ے تاکہ رابطہ ٹو ٹنے نہ پائے اور وابستگی قائم رہے ۔ حدیث شریف میں ہے ۔کہ ہو شیار وہ شخص ہے کہ جس نے اپنے نفس کو ڈرایا۔ حضرت خواجہ نقشبند بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے فرما یا ہے کہ کسی سانس کو ضائع نہ ہو نے دیں ۔ یعنی سانس کے دخول و خروج اور خروج و دخول کے درمیان محا فظت درکار ہے ۔ کہ کوئی غفلت میں نہ گزرے ۔ اگر غفلت محسوس کرے تو استغفارکرے ۔ اورآئندہ غفلت ترک کر نے کا ارادہ کر ے ۔ کیونکہ اسی غفلت کے سبب انسان معا صی کا مرتکب ہو تا ہے ۔ ہو ش دردم تفرقہ اندرونی کیلئے ہے ۔

نظربر قدم[ترمیم]

∗یعنی اپنی نگاہ اپنے پاؤں کی طرف رکھنا۔ کیونکہ نیچی نظر رکھنا سنت رسول ؐ ہے ۔ تاکہ نظر کی محافظت ہو سکے ۔ اور کوئی بصری آلائش یا نقش و نگار پردہ و درحسن و جما ل خوبرویاں دل کو پرا گندہ نہ کر سکیں ۔ اس لئے سالک کو راہ چلتے ادھر اُدھر نہ دیکھنا چاہئے ۔ کیو نکہ نظر کی آلو دگی ایک ایسا زہر آلودہ تیر ہے ۔جس سے شکار اور شکاری دونوں ہلاک ہو جا تے ہیں ۔ اور یہ ہلاکت نقص ایمان ہے ۔ رسوائی و تباہی دارین ہے ۔ رنگ برنگ اشیاء دیکھنے سے خیالا ت صالحہ منتشر ہو جا تے ہیں ۔ اور سالک کا مطلو ب سے بر گشتہ ہو کر اپنی منزل سے بھٹک جانے کا اندیشہ ہے ۔ دیگر اس سے مرا دیہ ہے ۔ کہ سالک کا قدم باطن اس کی نظر باطن سے پیچھے نہ رہے۔ سالک اپنی برائی اور نیکی کے قدم کودیکھے اگر برا ئی میں قدم دیکھے تو پیچھے ہٹائے اور نیکی کے قدم کو مزیدآگے بڑھائے۔ وقت رفتن برقدم با ید نظر ہست سنت حضرت خیر ا لبشر اندریں حکمت بس است و بے شمار دیدہ خواہد طالب حق آشکار حضر ت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ فرما تے ہیں ۔ کہ نظر کو نیچے رکھنا یہ مبتدی کے لئے ہے ۔ منتہی پر تو واجب ہے ۔ کہ اپنے حال میں تامل کرے ۔ کہ و ہ کس نبی کے قدم پر ہے ۔ کہ بعض اولیاء سید المر سلین خاتم النبین ؐکے قدم پرہوتے ہیں۔ اور اُن کوپوری جا معیت ِکمالات حاصل ہو تی ہے ۔ اور بعض حضرت مو سیٰ علیہ السلام کے قدم پر ہو تے ہیں ۔ جب منتہی اپنے پیشوا کو پہچان لے تو چاہئے ۔ کہ اُس کے اپنے حالات اور واقعات اپنے پیشوا کے ساتھ مناسبت رکھتے ہوں ۔ دیگر حضور ؐکے قدم یعنی اسوہ و سنت پر ہر دم نگاہ رکھے کہ میری زندگی حضور ؐ کے قدم یا اسوہ سے ہٹ تو نہیں رہی ۔

سفر در وطن[ترمیم]

∗سفر در وطن کے معنی ہیں ۔ اپنے باطن میں سفر کر نا ۔اس سے مراد یہ ہے ۔ کہ انسان کی اصل تخلیق ملکی ہے ۔ جو اس جسد بشری سے پہلے واقع ہو ئی تھی ۔ جب روحی وملکی تخلیق کے بعد ما دی و بشری تخلیق میں روح نے نزول کیا تو وہ روح بھی صفا ت ذمیمہ کا شکار ہو گئی۔ اب اصل وطن کی طرف رجو ع کر نے سے مراد یہ ہے۔ کہ اپنے اند ران صفات حسنہ کو تلا ش کر ے جن کی استعداد اس کے اندر رکھ دی گئی ہے ۔ اور جو اس کی روح کی پہلی کا ئنا ت ہے ۔لہٰذا آدمی صفا ت بشریہ کو چھوڑ کر صفا ت ملکیہ حاصل کرے یعنی طلب جاہ ،بغض، حسد، کینہ کو دل سے نکال با ہر پھینکے اور اپنے دل کو اُن سے بالکل پاک کر دے دوسرے لفظوں میں صفات ذمیمہ سے صفات حمیدہ کی طرف انتقال کرنا ہے ۔کیونکہ جب تک رذائل دل میں بھر ے ہو نگے ۔ تو خدا کا دل میں دخول کیونکر ممکن ہو گا۔ اگر حُبِ خلق کا غلبہ محسوس کرے ۔ تو لاالہ سے نفی ٔمحبت خلق اور الا اللہ سے اللہ کی محبت اس کی جگہ ثبت کرے ۔ چنانچہ اول المؤ منین حضر ت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘فرماتے ہیں ۔جس نے اللہ سے محبت کا مزا چکھا تو اُ س نے اس کو طلب دنیا سے باز رکھا۔ خواجگان نقشبندرحم اللہ اجمعین سفر ظاہری اتنا ہی کر تے ہیں کہ پیر کامل تک پہنچ سکیں ۔ دوسری حرکت جا ئز نہیں رکھتے ۔ اور شیخ سے دوری ہر گز نہیں چاہتے بلکہ آگاہی کے حصول کیلئے نہایت کو شاں رہتے ہیں۔ یہ سیر آفاقی کوسیرانفسی سے طے کر تے ہیں ۔ با قی سلاسل میں سلو ک سیر آفاقی سے شروع ہو تا ہے ۔ سیرانفسی سےابتداء کرنا سلسلہ نقشبندیہ کاخاصہ ہے ۔ اندراج نہایت درہد ایت کے یہی معنی ہیں۔

خلوت در انجمن[ترمیم]

∗خلو ت در انجمن کا مطلب یہ ہے ۔ کہ دل سے خدا کے ساتھ مشغول رہے ۔ اور اپنے تمام مشاغل روز مرہ از قسم طعام و قیام اکل و شرب ۔ نشست و بر خا ست ، معاملات فہم وادراک و غیرہ پر اللہ جل شانہ‘ کے ساتھ تعلق کو قائم رکھے ۔ اس کے لئے طہار ت کوئی شر ط نہیں ہے بلکہ رو ز مرہ زندگی میں اللہ تعالیٰ سے اس قدر قربت عین اسلام ہے ۔ اور یہ طلب دنیا کے ضمن میں بھی نہیں ہے۔ تمدنی و معا شرتی زندگی میں جہاں قدم قدم پر معصیت و گمراہی منہ کھولے خلق خدا کو ہڑپ کر رہی ہے۔ فقط اسی طریقہ سے اپنے آپ کو بچایا جا سکتا ہے ۔ چونکہ اسلام ایک دین ہے ۔ ایک نظام زندگی ہے ۔ اس لئے اس میں زندگی کے ہر پہلو سے متعلق ضابطے مو جو د ہیں خلوت درانجمن ہمارے لئے سلسلہ نقشبندیہ نے وہ اصول وضع کر کے دیا ہے ۔ جس پر عمل کر کے ہم تہذیب و تمدن معاشرت ، ثقافت ،اقتصادےات معا شیا ت ، معا ملات غر ضیکہ زندگی کےہمہ گو شوں کو اسلام کے عین مطابق قائم کر کے صحیح اسلامی معا شرت قائم کر سکتے ہیں ۔ ع: دل بہ یار دست بکار خلوت در انجمن سے مرا د یہ بھی ہے کہ پوری کا ئنا ت تو مو جو د ہے ۔ لیکن دل میں ما سوائے اللہ کسی کا خیال تک نہ ہو ۔ ؎ بندگاں باید کہ در وقت سخن قلب با حق قالبے در انجمن ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نہ تو عالموں والا لباس پہنتا ہوں۔ اور نہ درویشوں والا تاکہ لو گ مجھے در ویش اورعالم نہ سمجھیں ۔ بلکہ عام لو گوں کا لبا س پہنتا ہوں ۔ تاکہ پہچانا نہ جائوں ۔ صحابہ کبار کا بھی یہی طریقہ کار تھا ۔ کہ عام لو گوں کی طرح رہتے تھے ۔ اور اپنی کوئی خصو صی حیثیت اور شان خود ظاہر نہ فر ما تے تھے ۔ یہی طریقہ خو اجگان نقشبندکا بھی ہے ۔ حضرت خو اجہ احرا ر رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے۔ کہ ذکر میں جہد و اہتما م بلیغ کے ساتھ مشغول ہو نے سے سالک کو پا نچ روز میں یہ دولت اور سعادت نصیب ہو سکتی ہے ۔ خو اجہ خوا جگان حضرت شاہ نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک خلوت در انجمن ظاہر میں خلق کےساتھ اوربا طن میں حق کے ساتھ ہو نا ہے ۔

یاد کر د[ترمیم]

∗یاد کردذکر اورگیان کے ہم معنی ہے۔ مرادیہ ہے کہ اپنے شیخ سے سیکھے ہوئے ذکر بر وقت ادا کرنا ہے ذکر اس کثر ت سے کر ے کہ اللہ جل شانہ‘ کی حضوری حاصل ہو جائے ۔ امام طریقت حضرت شاہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ذکر سے مقصود یہ ہے ۔ کہ ہمیشہ حضرت حق کے ساتھ حاضر رہے ۔ ذکر غفلت سے باز رکھتا ہے ۔ اسی لئے ابتدائی طور پر ذکر اثبات و نفی یا مجرد ذکر کی تلقین کی جا تی ہے ۔نیز ذکر سے مراد کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کی تعلیمات کے علاوہ صفات الٰہیہ کو اپنے معا نی کے ساتھذہن نشین کر نا ہے ۔

باز گشت[ترمیم]

∗یعنی رجو ع کر نایا پھر نا اس سے مرا د یہ ہے ۔ کہ تھوڑے تھوڑے ذکر کے بعد تین بار یا پانچ بار مناجات کی طرف رجو ع کر ے حضرت شاہ نقشبند قدس سرہ ‘کی یہ دعا تھی ۔ الٰہی مقصود من توئی و رضائے تو محبت مغفرت خود بدہ " اے اللہ میرا مقصو د تو ہی ہے ۔ اوراپنی خو شنودی اپنی محبت اور مغفرت عطا کر۔ حق یہ ہے کہ ذکر اور فکر کے درمیان اگر کچھ غیب سے نظر آئے ۔ تو اُ س پر سالک کو مغرور نہ ہو نا چاہئے ۔ اور اُسے مطلو ب ہی نہ سمجھ لے ۔ کیو نکہ ذات الٰہی تو کجا صفات الٰہی میں سے ایک صفت میں اگر سالک لاکھوں سال گزار دے تو سیر ختم نہ ہو ۔ حضرت شاہ نقشبند قدس سرہ‘ فرماتے ہیں کہ ہر چہ دیدہ شد و دانستہ شد ۔ آں ہمہ غیر است بحقیقت کلمہ لا نفی آں باید کرد ۔ یعنی جو کچھ دیکھا سنا جائے اور جانا جائے وہ سب غیر خدا ہے کلمہ طیبہ کی لا سے سب کی نفی کرنی چاہئے ۔

نگہداشت[ترمیم]

∗اس سے یہ مطلب ہے کہ ذاکر اپنے قلب کے خطرات اور احادیث نفس نگا ہ میں رکھے ۔ اور کمال ہو شمندی سے رہے۔اور جو وساوس و خیالات غیر خدا دل میں آئیں ۔ اُن کا ابتد ا ہی سے تدارک کر ے ۔ اور ظہور طبیعت کااس طرف مائل ہو نے کا خطرہ ہے ۔ پھر نجات بھی مشکل ہے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خطرہ کو ایک ساعت بھی دل میں نہ رکھنا چاہئے ۔بزرگوں کے نزدیک یہ بہت اہم ہے ۔ اولیاء کاملین کو یہ د ولت طویل عرصہ تک حاصل رہتی ہے ۔

یاداشت[ترمیم]

∗یاداشت فکر اور دھیان کے ہم معنی ہے ۔ اور اس سے مراد دوام آگاہی بحق سبحانہ‘وتعالیٰ ہے۔ دل میںیہ سوال پیدا ہو سکتا ہے ۔ کہ یاد کرو نگہداشت اور یاداشت میں کیا فرق ہے ۔ نگہداشت میں طالب اپنی کو شش سے اللہ تعالیٰ کی طرف مشغول رہتا ہے ۔ لیکن یا داشت میں بلا کو شش اور خود بخود اللہ تعالیٰ کی طر ف مشغول ومخاطب ہو تا ہے ۔ اوریہ مقام منتہی ان ولایت کو حاصل ہو تا ہے ۔یاداشت حاصل شود بعد از فنا بلکہ حاصل می شود بعد از بقا بعد ازیں غافل نہ باشد یک زباں خواہ باشد فرح و غم سود وزیاں در جماعت اولیاء داخل شودجملہ طُرق اُ و واصل شود اس کے بعد اب تین اصطلاحات جو کہ امام طریقت حضرت شاہ نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ہیں اُن کا بیان کیاجا تا ہے ۔

وقوف زمانی[ترمیم]

∗وقوف زمانی اور ہو ش دردم تقریباً ہم معنی ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے۔ کہ ہو ش دردم مبتدی کے واسطے ہے ۔ ہر لحظہ اور ہر لمحہ احتیاط ہے ۔اور وقوف زمانی متو سط کیلئے مناسب ہے ۔ کہ کچھ کچھ دیر بعد تامل کرے اور وقوف زمانی سے محاسبہ بھی کیا جا تا ہے۔ کہ نفس کس سمت کو جا رہا ہے ۔

وقوف عددی[ترمیم]

∗ وقوف عددی سے مراد سالک کا اثنائے ذکر سے واقف رہنا ہے ۔ اور جب ذکر حق کرے تو طاق عدد پر کرے ۔ نہ کہ جفت عد د پر۔ کیونکہﷲ وترویحب الوتر۔ لیکن ذکر عدد ی کے ساتھ ذکر قلبی بھی ضروری ہے ۔

وقوف قلبی[ترمیم]

∗وقوف قلبی سے مرادیہ ہے کہ سالک ہر وقت ہر لحظہ اپنے قلب کی طرف متو جہ رہے ۔ اور قلب خدا کی طر ف متوجہ رہے ۔ تاکہ سب طرف سے تو جہ ٹو ٹ کر معبو د حقیقی کی طر ف ہو جائے ۔ اور وساوس و خطرات دل میں داخل ہی نہ ہونے پائیں ۔ خصو صاًجلسہ ذکر کے دوران اُس کا پورا خیال رکھے ۔ یہاں زندگی کو پیش آنے والے مختلف مراحل میں خدا کے پسندیدہ و نا پسندیدہ کام کا سوال بھی سامنے آتا ہے ۔ گو یا ہر پیش آنے والے امر پر یہ فیصلہ کرے کہ یہ کام خدا کو نا پسند ہے۔ اس لئے مجھے اس کا ترک کر نا ضروری ہے ۔ اور اس میں خدا کی پسندید ہ صور ت یہ ہے جس پر کار بند ہونا میر ے لئے لازمی ہے بس اسی کانام وقوف قلبی ہے ۔ وقوف قلبی شاہ نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بہت ضروری ہے اور یہ رکن عظیم ہے ۔ طریقہ سلسلہ نقشبند یہ کا دارومدار اسی پر ہے۔[2]

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

(مراجع)

  1. ^ http://www.churasharif.com/index.php?option=com_content&view=article&id=49&Itemid=55
  2. ^ http://www.churasharif.com/index.php?option=com_content&view=article&id=50&Itemid=56