سلطنت خداداد میسور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سلطنتِ میسور
سلطنتِ خداداد میسور
Kingdom (Subordinate to Vijayanagara Empire until 1565).
نوابی ریاستیں under the suzerainty of the British Crown after 1799

1399–1947

پرچم

ترانہ
Kayou Sri Gowri
     سلطنتِ میسور, 1784 AD (جب اس کی عظیم ترین وسعت میں)
دارالحکومت میسور ، سرنگا پٹم
زبانیں اردو ، کنڑا ، انگریزی
مذہب ہندو مت ، اسلام
حکومت بادشاہت تا 1799 ، ولایت بعد میں
مہاراجہ
 - 1399–1423 (اوّل) یدورایا
 - 1940–47 (آخر) جیا چامراجا ووڈیار
تاریخ
 - قیام 1399
 - اوّلین نقوش 1551
 - اختتام 1947
Warning: Value specified for "continent" does not comply


سلطنت خداداد میسور کا پرچم

جس زمانے میں بنگال اور شمالی ہند میں انگریز اپنے مقبوضات میں اضافے کررہے تھے، جنوبی ہند میں دو ایسے مجاہد پیدا ہوئے جن کے نام تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ حیدر علی اور ٹیپو سلطان تھے۔ بنگال اور شمالی ہند میں انگریزوں کو مسلمانوں کی طرف سے کسی سخت مقابلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان کی منظم افواج اور برتر اسلحے کے آگے کوئی نہ ٹھہر سکا لیکن جنوبی ہند میں یہ صورت نہیں تھی۔ یہاں حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے قدم قدم انگریزوں کی جارحانہ کاروائیوں کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے بے مثل سیاسی قابلیت اور تدبر کا ثبوت دیا اور میدان جنگ میں کئی بار انگریزوں کو شکستیں دیں۔ انہوں نے جو مملکت قائم کی اس کو تاریخ میں سلطنت خداداد میسور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

حیدر علی[ترمیم]

حیدر علی ایک مصور کی نظر میں

حکمران از 1761ء تا 1783ء

حیدر علی نے میسور کے ہندو راجہ کی فوج میں ایک سپاہی کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا لیکن وہ اپنی بہادری اور قابلیت کی بدولت جلد ہی راجہ کی فوجوں کا سپہ سالار بن گیا۔ راجہ اور اس کے وزیر نے حیدر علی کے بڑھتے ہوئے اقتدار سے خوفزدہ ہو کر جب اس کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو حیدر علی نے میسور کے تخت پر قبضہ کرلیا۔ راجہ کو اس نے اب بھی برقرار رکھا، لیکن اقتدار پوری طرح اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کی حکومت کا آغاز 1761ء سے ہوتا ہے۔

حیدر علی کواپنے 20 سالہ دور حکومت میں مرہٹوں، نظام دکن اور انگریزوں تینوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ اگرچہ ان لڑائیوں میں اس کو ناکامیاں بھی ہوئیں، لیکن اس کے باوجود اس نے مالابار کے ساحل سے لے کر دریائے کرشنا تک ایک بہت بڑی ریاست قائم کرلی جس میں نظام دکن، مرہٹوں اور انگریزوں سے چھینے ہوئے علاقے بھی شامل تھے۔ اس نے میسور کی پہلی جنگ (1767ء تا 1769ء) اور دوسری جنگ (1780ء تا 1784ء) میں انگریزوں کو کئی بار شکست دی۔ دوسری جنگ میں حیدر علی نے نظام دکن اور مرہٹوں کو ساتھ ملا کر انگریزوں کے خلاف متحدہ محاذ بنایا تھا اور اگر مرہٹے اور نظام اس کے ساتھ غداری نہ کرتے اور عین وقت پر ساتھ نہ چھوڑتے تو کم از کم جنوبی ہند سے حیدر علی انگریزی اقتدار کا خاتمہ کردیتا۔ حیدر علی کی ان کامیابیوں کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس نے فرانسیسیوں کی مدد سے اپنی افواج کو جدید ترین طرز پر منظم کیا اور ان کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کیا۔

ٹیپو سلطان[ترمیم]

ٹیپو سلطان کی خیالی تصویر

حکمران از 1782ء تا 1799ء

ابھی میسور کی دوسری جنگ جاری تھی کہ حیدر علی کا اچانک انتقال ہو گیا۔ اس کا لڑکا فتح علی ٹیپو سلطان جانشیں ہوا۔ ٹیپو سلطان جب تخت پر بیٹھا تو اس کی عمر 32 سال تھی۔ وہ ایک تجربہ کار سپہ سالار تھا اور باپ کے زمانے میں میسور کی تمام لڑائیوں میں شریک رہ چکا تھا۔ حیدر علی کے انتقال کے بعد اس نے تنہا جنگ جاری رکھی کیونکہ مرہٹے اور نظام دکن انگریزوں کی سازش کا شکار ہو کر اتحاد سے علیحدہ ہو چکے تھے۔ ٹیپو سلطان نے انگریزوں کو کئی شکستیں دیں اور وہ 1784ء میں سلطان سے صلح کرنے پر مجبور ہو گئے۔

ٹیپو سلطان ایک اچھا سپہ سالار ہونے کے علاوہ ایک مصلح بھی تھا۔ حیدر علی ان پڑھ تھا لیکن ٹیپو سلطان ایک پڑھا لکھا اور دیندار انسان تھا۔ نماز پابندی سے پڑھتا تھا اور قرآن پاک کی تلاوت اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ ٹیپو سلطان نے اپنی ریاست کے عوام کی اخلاقی و معاشرتی خرابیاں دور کرنے کے لیے اصلاحات کیں۔ شراب اور نشہ آور چیزوں پر پابندی لگائی اور شادی بیاہ کے موقع پر ہونے والی فضول رسومات بند کرائیں اور پیری مریدی پر بھی پابندی لگائی۔

ٹیپو سلطان نے ریاست سے زمینداریاں بھی ختم کردی تھیں اور زمین کاشتکاروں کو دے دے تھی جس سے کسانوں کو بہت فائدہ پہنچا۔ ٹیپو سلطان نے کوشش کی کہ ہر چیز ریاست میں تیار ہو اور باہر سے منگوانا نہ پڑے۔ اس مقصد کے لیے اس نے کئی کارخانے قائم کیے۔ جنگی ہتھیار بھی ریاست میں تیار ہونے لگے۔ اس کے عہد میں ریاست میں پہلی مرتبہ بینک قائم کیے گئے۔

ان اصلاحات میں اگرچہ مفاد پرستوں کو نقصان پہنچا اور بہت سے لوگ سلطان کے خلاف ہوگئے لیکن عوام کی خوشحالی میں اضافہ ہوا اور ترقی کی رفتار تیز ہو گئی۔ میسور کی خوشحالی کا اعتراف اس زمانے کے ایک انگریز نے ان الفاظ میں کیا ہے:

میسور ہندوستان میں سب سے سر سبز علاقہ ہے۔ یہاں ٹیپو کی حکمرانی ہے۔ میسور کے باشندے ہندوستان میں سب سے زیادہ خوشحال ہیں۔ اس کے برعکس انگریزی مقبوضات صفحۂ عالم پر بدنما دھبوں کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں رعایا قانون شکنجوں میں جکڑی ہوئی پریشان حال ہے۔ [1]

ٹیپو سلطان کے تحت میسور کی یہ ترقی انگریزوں کو بہت ناگوار گذری۔ وہ ٹیپو کو جنوبی ہند پر اپنے اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔ انگریزوں اور میسور کے درمیان صلح کو مشکل سے چھ سال ہوئے تھے کہ انگریزوں نے معاہدے کو بالائے طاق رکھ کر نظام حیدر آباد اور مرہٹوں کے ساتھ مل کر میسور پر حمل کردیا اور اس طرح میسور کی تیسری جنگ (1790ء تا 1792ء) کا آغاز ہوا۔ اس متحدہ قوت کا مقابلہ ٹیپو سلطان کے بس میں نہیں تھا ، اس لیے دو سال مقابلہ کرنے کے بعد اس کو صلح کرنے اور اپنی نصف ریاست سے دستبردار ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔

جنگ میں یہ ناکامی ٹیپو کےلیے بڑی تکلیف دہ ثابت ہوئی اس نے ہر قسم کا عیش و آرام ترک کردیا اور اپنی پوری توجہ انگریزوں کے خطرے سے ملک کو نجات دینے کے طریقے اختیار کرنے پر صرف کردی۔ نظام دکن اور مرہٹوں کی طرف سے وہ مایوس ہو چکا تھا اس لیے اس نے افغانستان، ایران اور ترکی تک اپنے سفیر بھیجے اور انگریزوں کے خلاف متحدہ اسلامی محاذ بنانا چاہا لیکن افغانستان کے حکمران زمان شاہ کے علاوہ اور کوئی ٹیپو سے تعاون کرنے پر تیار نہ ہوا۔ شاہ افغانستان بھی پشاور سے آگے نہ بڑھ سکا۔ انگریزوں نے ایران کو بھڑکا کر افغانستان پر حملہ کرادیا تھا اس لیے زمان شاہ کو واپس کابل جانا پڑا۔ جبکہ عثمانی سلطان سلیم ثالث مصر سے فرانسیسی فاتح نپولین کا قبضہ ختم کرانے میں برطانیہ کی مدد کے باعث انگریزوں کے خلاف سلطان ٹیپو کی مدد نہ کر سکا۔

انگریزوں نے ٹیپو سلطان کے سامنے امن قائم کرنے کے لیے ایسی شرائط پیش کیں جن کو کوئی باعزت حکمران قبول نہیں کرسکتا تھا۔ نواب اودھ اور نظام دکن ان شرائط کو تسلیم کرکے انگریزوں کی بالادستی قبول کر چکے تھے لیکن ٹیپو نے ان شرائط کو رد کردیا۔ 1799ء میں انگریزوں نے میسور کی چوتھی جنگ چھیڑ دی۔ اس مرتبہ انگریزی فوج کی کمان لارڈ ویلیزلی کررہا تھا جو بعد میں 1815ء میں واٹرلو کی مشہور جنگ میں نپولین کو شکست دینے کے بعد جنرل ولنگٹن کے نام سے مشہور ہوا۔ اس جنگ میں وزیراعظم میر صادق اور غلام علی اور دوسرے عہدیداروں کی غداری کی وجہ سے سلطان کو شکست ہوئی اور وہ دارالحکومت سرنگاپٹنم کے قلعے کے دروازے کے باہر بہادری سے لڑتا ہوا 4 مئی 1799ء کو شہید ہو گیا۔ سراج الدولہ، واجد علی شاہ اور بہادر شاہ ظفر کے مقابلے میں اس کی موت کتنی شاندار تھی۔ انگریز جنرل ہیرس کو سلطان کی موت کی اطلاع ہوئی تو وہ چیخ اٹھا کہ "اب ہندوستان ہمارا ہے"۔ انگریزوں نے گرجوں کے گھنٹے بجا کر اور مذہبی رسوم ادا کرکے سلطان کی موت پر مسرت کا اظہار کیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے ملازمین کو انعام و اکرام سے نوازا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اب ہندوستان میں برطانوی اقتدار مستحکم ہو گیا اور اس کو اب کوئی خطرہ نہیں۔

میسور محل

اس میں کوئی شک نہیں کہ اورنگ زیب عالمگیر کے انتقال کے بعد اسلامی ہند میں نظام الملک آصف جاہ، حیدر علی اور ٹیپو سلطان جیسی حیرت انگیز صلاحیت رکھنے والا تیسرا کوئی حکمران نظر نہیں آتا۔ خاص طور پر حیدر علی اور ٹیپو سلطان کو اسلامی تاریخ میں اس لیے بلند مقام حاصل ہے کہ انہوں نے دور زوال میں انگریزوں کا بے مثل شجاعت اور سمجھداری سے مقابلہ کیا۔ یہ دونوں باپ بیٹے دور زوال کے ان حکمرانوں میں سے ہیں جنہوں نے نئی ایجادوں سے فائدہ اٹھایا۔ وقت کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کی اور اپنی مملکت میں فوجی، انتظامی اور سماجی اصلاحات کی ضرورت محسوس کی۔ انہوں نے فرانسیسیوں کی مدد سے اپنی افواج کی جدید انداز پر تنظیم کی جس کی وجہ سے وہ انگریزوں کا 35 سال تک مسلسل مقابلہ کرسکے اور ان کو کئی بار شکستیں دیں۔ یہ کارنامہ اٹھارہویں صدی کے نصف آخر میں کوئی دوسرا حکمران انجام نہیں دے سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ بر صغیر میں انگریزوں کا جتنا کامیاب مقابلہ حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے کیا کسی اور مسلم اور غیر مسلم حکمران نے نہیں کیا۔ ٹیپو سلطان سلطنت عثمانیہ کے سلیم ثالث کا ہمعصر تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ کمپنی کی حکومت از باری صفحہ 227 (مطبوعہ نیا ادارہ لاہور 1969ء

مزید دیکھیے[ترمیم]