سلطنت فاطمیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
خلافت فاطمیہ کی حدود اپنے عروج کے زمانے

سلطنت فاطمیہ یا خلافت فاطمیہ خلافت عباسیہ کے خاتمے کے بعد 297ھ میں شمالی افریقہ کے شہر قیروان میں قائم ہوئی۔ اس سلطنت کا بانی عبیداللہ المہدی چونکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے تھا (بعض محققین کو اس سے اختلاف ہے) اس لئے اسے سلطنت فاطمیہ کہا جاتا ہے ۔ عبید اللہ تاریخ میں مہدی کے لقب سے مشہور ہے۔

اسماعیلی حکومت[ترمیم]

عبید اللہ مہدی اور ان کے پیرو شیعہ فرقے کی ایک شاخ ہیں۔ یہ لوگ امام جعفر صادق تک تو تمام اماموں کو مانتے ہیں لیکن اس کے بعد وہ امام جعفر صادق کے بڑے صاحبزادے اسماعیل کو مانتے ہیں جبکہ اثناء عشری عقیدے کے مطابق امامت کا سلسلہ امام جعفر صادق کے دوسرے صاحبزادے امام موسی کاظم کی نسل میں چلتا ہے۔ فاطمی خلفاء چونکہ اسماعیل کی اولاد میں ہونے کادعویٰ کرتے تھے اس لئے وہ اسماعیلی کہلائی۔

مکمل خودمختاری[ترمیم]

خلافت عباسیہ سے الگ ہونے والی تمام حکومتیں اگرچہ خودمختار تھیں لیکن وہ سب بغداد کی خلافت کو تسلیم کرتی تھیں اور خطبہ نماز جمعہ میں عباسی خلیفہ کا نام پڑھتی تھیں لیکن فاطمی حکمرانوں نے عباسی خلفاء کانام خطبے سے نکال دیا اور خود خلیفہ ہونے کا اعلان کردیا۔ اس لئے ان کی حکومت کو خلافت فاطمیہ بھی کہا جاتا ہے۔

توسیع[ترمیم]

شروع شروع میں فاطمی حکومت شمالی افریقہ تک محدود رہے لیکن ان کے ایک حکمران المعز (341ھ تا 365ھ) نے 358ء میں مصر بھی فتح کرلیا۔ المعز فاطمی حکومت کا سب سے قابل حکمران تھا۔ وہ افریقہ سے مصر آگیا اور قاہرہ کی بنیاد ڈالی۔

قاہرہ اور جامع ازہر کی بنیاد[ترمیم]

مکمل مضمون کے لئے دیکھئے قاہرہ

جامع الازہر مسجد

قاہرہ کا شہر فسطاط کے قریب آباد کیا گیا تھا اور فاطمیوں کا دارالحکومت تھا۔ اس کے عہدے میں جامع ازہر کے نام سے قاہرہ میں ایک مسجد تعمیر کی گئی جس میں بعد میں دینی مدرسہ قائم کیا گیا۔ جامع ازہر کا یہ مدرسہ دنیا کا سب سے پرانا مدرسہ ہے جو اب تک موجود ہے اور دنیا کے ہر حصے سے مسلمان طالبعلم وہاں مذہبی تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں۔

عروج[ترمیم]

المعز کے بعد اس کا بیٹا عزیز (365ھ تا 386ھ ) تخت پر بیٹھا۔ وہ بھی ایک قابل حکمران تھا۔ اس کے زمانے میں شام،حجاز اور یمن پر بھی فاطمیوں کا قبضہ ہوگیا اور اس طرح فاطمی حکومت اسلامی دنیا کی سب سے بڑی حکومت بن گئی۔

فاطمیوں کے زمانے میں مسلمانوں کی بحری قوت نے بڑی ترقی پائی۔ صقلیہ اور اٹلی کا جنوبی حصہ ان کے قبضے میں تھا۔ فاطمہ بیڑے جینووا، روم اور ناپولی پرحملے کرتے رہتے تھے اور یورپ کے بحری بیڑے ان کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتے تھے۔

خاتمہ[ترمیم]

عباسی خلافت کے زوال کے بعد اس وقت تک جو حکومتیں قائم ہوئیں ان میں فاطمی سلطنت نہ صرف سب سے بڑی اور طاقتور بلکہ سب سے زیادہ پائیدار بھی تھی۔ یہ حکومت 296ھ سے لے کر 567ھ تک تقریباً پونے تین سو سال قائم رہی۔ 567ھ میں شام کے حکمران نور الدین زنگی نے اس حکومت کا خاتمہ کردیا جس کے بعد مصر میں عباسی خلیفہ کا نام خطبہ میں لیا جانے لگا۔

کارنامے[ترمیم]

فاطمیوں کے زمانے میں اگرچہ علم و ادب کے میدان میں دولت سامانیہ اور بنی بویہ کی طرح ترقی نہیں ہوئی تاہم انہوں نے شہر قاہرہ کو بہت ترقی دی، خوبصورت عمارات بنوائیں اور کپڑے اور شیشے بنانے کے کام نے اس زمانے میں بڑی ترقی کی۔ ان کے عہد کی کئی تعمیری یادگاریں آج بھی قاہرہ میں دیکھی جاسکتی ہیں لیکن ان میں سے سب سے زیادہ شہرت جامع ازہر کو حاصل ہوئی۔

فاطمیہ خلفاء[ترمیم]

297ھ تا 567ھ بمطابق 909ء تا 1171ء

  1. مہدی
  2. قائم
  3. منصور
  4. معز
  5. عزیز
  6. حاکم
  7. ظاہر
  8. مستنصر
  9. مستعلی
  10. آمر
  11. حافظ
  12. ظافر
  13. فائز
  14. عاضد

مزید دیکھیے[ترمیم]