سلیمان شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
1973 میں مزار کا منظر

سلیمان شاہ (عثمانی ترک زبان میں: سليمان شاه، Süleyman Şah - Süleyman bin Kaya Alp) (پیدائش:۱۱۷۸ء، وفات:۱۲۳۶ء) قتلمش کا بیٹا اور ارطغرل کا باپ تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے پہلے حکمران عثمان خان غازی کا دادا تھا، جس کا تعلق اوغوز ترکوں سے تھا ۔ سلیمان شاہ کا ایک اور بیٹا تھا جس کا نام سارو یت تھا جو بے ہوجا کا باپ تھا۔[1] اس کا مقبرہ قلعہ جعبر کے اندر یا اس کے قریب ہے[2]۔ صلح انقرہ (۱۹۲۱) کے آرٹیکل ۹ کے تحت، جو ترکی اور فرانس کے درمیان طے پایا گیا تھا، میں لکھا ہے کہ یہ مقبرہ ترکی کے ہی پاس رہے گا۔[3]

پس منظر[ترمیم]

تیروہویں صدی عیسوی کی ابتداء میں شاہان خوازم کی قوت اپنے شباب پر تھی وہ ایران، خراسان، شام اور عراق میں سلجوقیوں کے کئی مقبوضات پر قابض ہوچکے تھے ان کا منصوبہ ایشیاء کی تمام اسلامی سلطنتوں کو فتح کرنا تھا لیکن عین وقت پر جبکہ اپنے منصوبے کی تکمیل کیلئے تیار تھے چنگیز خانی طوفان نے خوارزم شاہی سلطنت کو تہہ و بالا کرکے ان کے تمام منصوبے خاک میں ملادیئے ۔ اس سلطنت کی تباہی کے بعد ترک قبائل جنوب کی طرف بھاگے ان میں سے بعض ایران اور شام پہنچے اور وہاں اقتدار حاصل کیا جو ترکمانی کہلائے ۔ بعض ایشیائے کوچک میں سلجوقیوں سے آملے ۔ انہی ترک قبائل میں اپنا وطن چھوڑ کر ما رے مارے پھرنے والے عثمانی ترکوں کے آباء و اجداد کا قبیلہ بھی تھا جو اوغوز قبیلے کا ہی ایک جزو تھا۔ اس قبیلہ کے سردار کا نام سلیمان شاہ تھا ۔ ایک روایت کے مطایق یہ خراسان کے شہر ماہان میں آباد ہوا لیکن منگولوں کے حملے کے باعث یہاں سے نکل کر مغرب کی جانب ہجرت کی ۔

اناطولیہ آمد[ترمیم]

سلیمان شاہ تیرہویں صدی عیسوی میں ہجرت کرکے ایران آئے اور وہاں سے اپنے قبیلے کے ساتھ اناطولیہ کی جانب روانہ ہوئے جہاں اس وقت سلجوقی سلطنت قائم تھی ۔ سلیمان شاہ منگولوں کے دشمن ملک میں پناہ لینے کے خواہشمند تھے کیونکہ ان کے خیال میں یہاں پناہ لینا ان کے قبیلے کیلئے انتہائی مناسب تھا۔ سلیمان شاہ مشرقی اناطولیہ کے شہر اخلاط پہنچے وہ خود اور ان کے قبیلے والے اپنے اعلیٰ اوصاف میں مشہور تھے ۔ اخلاط کے حکمراں سے بھی تعلقات اچھے تھے لیکن جب یہاں منگولوں کی جانب سے خطرہ ہوا تویہ علاقہ بھی چھوڑ کر آگے بڑھ گئے ۔ اخلاط میں قیام کے دوران سلیمان شاہ اور اس کے قبیلہ والوں نے بہت نام پیدا کیا لیکن خوارزم شاہ کا حامی اور مدد گار ہونے کی وجہ سے انہیں منگولوں سے خطرہ تھا۔ اس لئے اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ 1221ء میں اخلاط چھوڑنا پڑا۔

کارنامے[ترمیم]

جس زمانہ میں سلیمان شاہ اور ان کے آدمی اناطولیہ کے شہر اخلاط میں مقیم تھے دوران انہوں نے چند نمایاں کام کئے ۔

  1. شمال کے عیسائی دہشت پسند گروہ اخلاط کے علاقے میں آکر لوٹ مار کرتے تھے سلیمان کے ساتھیوں نے ان کا قلع قمع کیا ۔
  2. اخلاط میں امن و امان قائم کردیا ۔
  3. شمال کی بازنطینی سلطنت سے بھی جس کا مرکز طربزون تھا، ٹکر لی اور انہیں پسپا کیا ۔
  4. بعض مورخین کے خیال میں اس دوران انہوں نے سلجوتی سلطان کی مدد بھی کی ۔

انتقال[ترمیم]

اخلاط کے بعد سلیمان نے اپنے آدمیوں کے ساتھ شام کے مشہورشہر حلب کی جانب ہجرت کی ۔

تھوڑا عرصہ یہاں وہاں قیام کیا لیکن ابھی سفر ہجرت جاری تھا کہ سلیمان شاہ دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دریائے فرات تھا۔ بعض کا بیان ہے کہ وہ دریا میں غسل کرتے ہوئے ڈوبا جبکہ چند مورخین کا کہنا ہے کہ وہ سفر کے دوران دریا عبور کرتے وقت ڈوب گیا۔ اس کی لاش وہیں دفن کی گئی ۔ ان کا مزار ترک مزاری یعنی ترک کا مزار کہلاتا ہے ۔ بے شمار ترک ان کے مزار کی زیارت کرتے ہیں ۔

جغرافیائی طور پر ترک مزاری 2015 تکشام میں واقع تھا تب تک معاہدہ لوزان کے تحت ترکی کو ان کے مزار پر پرچم نصب کرنے اور اعزازی گارڈز تعینات کرنے کی اجازت تھی۔ شام میں خانہ جنگی اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی وجہ سے اس مزار کو اب ترکی کے اندر منتقل کر دیا گيا ہے، کیوں کہ خطرہ تھا کہ اس پر وہابیت نواز دولت اسلامیہ حملہ کر دے گی، جس وجہ سے ترکی کو مجبور اونا پڑے گا کہ وہ فوجی کاروائی کرے۔ اس سے بچنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گيا۔ یہ مزار اس سے پہلے 1970 کی دہائی میں بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا گيا۔[4]

حوالہ[ترمیم]

  1. ^ http://en.wikipedia.org/wiki/Suleyman_Shah
  2. ^ Sourdel, D. (2009). "ḎJ̲abar or Ḳalat ḎJ̲abar". In P. Bearman, Th. Bianquis, C.E. Bosworth, et al.. Encyclopaedia of Islam (2nd ed.). Brill online.
  3. ^ "Franco-Turkish agreement of Ankara" (in French). Retrieved 19 September 2009
  4. ^ http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/02/150223_shah_suleyman_tomb_sq بی بی سی اردو 24 فروری 2015

متعلقہ مضامین[ترمیم]