سلیم الزماں صدیقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

سلیم الزماں صدیقی اودھ کے شہر بارہ بنکی میں ۱۸۹۷ء میں پیدا ہوئے تھے۔ یعنی وہ تہذیبِ اودھ کے پرداختہ تھے جسکا مرکز لکھنؤ تھا۔ ابتدائی تعلیم لکھنو ٔ میں حاصل کرنے کے بعد وہ علی گڈھ آگئے۔ انہوں نے ۱۹۱۹ء میں علی گڈھ سے گریجویشن کیا ۔ اُس وقت تک وہ ایم۔اے۔او۔ کالج تھا ۔ یونیورسٹی ۱۹۲۰ء میں بنی۔ پھر وہ لندن آگئے اور کچھ دنوں یونیورسٹی کالج لندن میں رہنے کے بعد فرینکفرٹ چلے گئے جہاں سے انہوں نے ۱۹۲۷ء میں پی۔ایچ۔ڈی۔ کی تکمیل کی۔ ہندوستان واپس آتے ہی وہ دہلی آگئے اور وہاں کے طبیہ کالج میں حکیم اجمل خاں کی قیادت میں شعبۂ تحقیق برائے آیورویدک اور یونانی طب قائم کیا۔ یہ شعبہ ۱۹۳۱ء میں قائم ہو ا تھا۔ ۱۹۴۰ء میں انہوں نے انڈین کائونسل آف سائینٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ میں کام شروع کیا اور وہاں دس برس رہے۔ قائدِ ملت لیاقت علی خاں کے اصرار پر وہ ۱۹۵۱ ء میں پاکستان آگئے۔ حکومت ِ پاکستان کی ایما پر انہوں نے پاکستان کاؤنسل آف انڈسٹریل اینڈ سائینٹفک ریسرچ قائم کی جس کا مرکز کراچی میں تھا اور اسکی شاخیں ڈھاکہ، راجشاہی، چٹاگانگ، لاہور اور پشاور میں بھی قائم کیں۔ ۱۹۶۶ء میں وہ کائونسل سے ریٹائر ہوئے اور کراچی یونیورسٹی میں حاجی ابراہیم جمال انسٹیٹیوٹ آف کیمکل ریسرچ قائم کیا۔۱۹۹۰ ء تک وہ وہاں رہے اور اسکے بعد بھی پرائیویٹ کام کرتے رہے۔

ہم جب کراچی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے تو آتے جاتے کہیں نہ کہیں سلیم الزمان صاحب سے صاحب سلامت ہو ہی جاتی تھی۔ مرحوم ہمارے والد سے بھی بڑی عمر کے تھے۔ ہماری انکی کوئی ذاتی جان پہچان نہیں تھی۔ لیکن ہم نے ہمیشہ انکو بڑی عقیدت اور احترام کی نظروں سے دیکھا۔ محض ایک طالب علم سمجھتے ہوئے ہم نے ہمیشہ انکی آنکھوں میں اپنے لئے ایک جذبۂ شفقت پایا۔ انکے چہرہ پر ہر وقت ایک بہت ہی دعوت آمیز خفیف سی مسکراہٹ ہو تی تھی کہ جیسے کہہ رہے ہوں۔’آئو ہم سے بات کرو۔‘

ہندوستان میں تحقیق کے دوران سلیم الزماں نے ہندوستانی پودہ سرپاگندھا ﴿Rauvolfiaserpentina﴾ سے ایک دوا بنائی جسکا نام انہوں نے حکیم اجمل کی یاد میں اجملین رکھا۔ اسکا کیمیائی فارمولا (C21H24N2O3)ہے۔ یہ دل کی غیر منظم دھڑکنوں (ARRYTHMIA)کا علاج کرتی ہے۔ انہوں نے نیم کے درخت ، اسکی چھال اور اسکے پھل یعنی نمکوری پر تحقیق کی۔ انہوں نے نیم کے تیل سے تین دوائیں بنائیں اور انکا نام نیمبین، نیمبیدین اور نیمبینین رکھا۔ انہوں نے بتا یا کہ نیمبیدین میں جراثیم کُش اثرات ہوتے ہیں، اسطرح سے انکی تحقیق نے پہلی بار یونانی اور آیورویدک طب کو جدید کیمسٹری میں متعارف کروایا۔ ۱۹۶۱ء میں وہ رائل سوسائٹی کے ممبر منتخب ہوئے۔ سوویٹ اکیڈمی آف سائینس نے انکو ایک گولڈ میڈل دیا۔ ا ور حکومت برطانیہ نے ۱۹۴۶ء میں انکو او۔بی۔ای ۔ کا خطاب دیا۔ پاکستان میں سلیم الزماں کی خدمات کوبہت سراہا گیا۔۱۹۵۳ ء میں وہ پاکستان اکیڈمی آف سائنس کے فیلو قرار پائے۔ ۱۹۵۸ء میں انکو تمغۂ پاکستان ملا۔ ۱۹۶۲ء میں انکو ستارۂ امتیاز ملا۔ ۱۹۶۶ء میں انکو صدر پاکستان کا امتیازی انعام پرائیڈ آف پرفارمنس میڈل دیا گیا۔ ۱۹۸۰ء میں انکو ہلالِ امتیاز ملا۔ سلیم الزماں صدیقی تھرڈ ورلڈ اکیڈمی آف سائینس کے اساسی ممبر بھی رہے۔

۱۹۹۴ء میں انکا انتقال ہوا۔ انکو کراچی یونیورسٹی کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ انکی پانچویں برسی پر پاکستان پوسٹ آفس نے انکا یادگاری ٹکٹ جاری کیا۔