سمرقند
| سمرقند | |||
|---|---|---|---|
| "ریگستان" کا ایک منظر | |||
|
|||
|
|
|||
| متناسقات: 39°39′15″N 66°57′35″E / 39.65417°N 66.95972°E | |||
| ملک | |||
| صوبہ | صوبہ سمرقند | ||
| بلندی | 702 میٹر (2,303 فٹ) | ||
| آبادی (2008) | |||
| - شہر | 596,300 | ||
| - عُمرانی | 643,970 | ||
| - بلدیہ | 708,000 | ||
| موقعِ جال | http://www.samarkand.info | ||
سمرقند ازبکستان کا دوسرا سب سے بڑا شہر اور صوبہ سمرقند کا دارالحکومت ہے۔ سمرقند زمانہ قدیم سے چین اور مغرب کے درمیان شاہراہ ریشم کے وسط میں واقع اسلامی تعلیم اور تحقیق کے مرکز کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔ آج بھی شہر میں واقع بی بی خانم مسجد اس کی اہم ترین عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ "ریگستان" قدیم شہر کے مرکز میں واقع تھا۔ 2,750 سال قدیم اس شہر کو اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔
فہرست |
وجہ تسمیہ [ترمیم]
سمرقند کا نام قدیم فارسی کے الفاظ "اسمارا" ، بمعنی پتھر یا چٹان اور "قند" بمعنی قلعہ یا قصبہ کا مرکب ہے جس کا مطلب ہے چٹانی قلعہ۔ [1]
آبادی [ترمیم]
1939ء میں سمرقند کی آبادی 1,34,346 تھی۔ 2008ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 596,300 ہے۔ زیادہ تر آبادی فارسی بولنے والے تاجکوں پر مشتمل ہے۔ بخارا کے ساتھ ساتھ سمرقند وسطی ایشیا میں تاجکوں کا ایک تاریخی مرکز ہے۔
جڑواں شہر [ترمیم]
یہ شہر قدیم خراسان کے عظیم شہر تھے:
دیگر جڑواں شہر [ترمیم]
کزکو ، پیرو
لاہور ، پاکستان
لویو ، یوکرین
استنبول ، ترکی
ازمیر ، ترکی
قیروان ، تیونس
خوجند ، تاجکستان
ایوان تصویر [ترمیم]
-
امیر تیمور کے مقبرے گورِ امیر کے اندر کی تزئین و آرائش
حوالہ جات [ترمیم]
- ^ Room, Adrian (2006). Placenames of the World: Origins and Meanings of the Names for 6,600 Countries, Cities, Territories, Natural Features and Historic Sites (2nd edition ed.). London: McFarland. pp. 330. ISBN 0786422483. "Samarkand. City, southeastern Uzbekistan. The city derives its name from that of the former Greek city here of Marakanda, captured by Alexander the Great in 329 B.C.. Its own name derives from the Old Persian asmara, "stone", "rock", and Sogdian kand, "fort", "town"."
| ویکیمیڈیا العام میں سمرقند سے متعلق وسیط موجود ہے۔ |