سود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

زمرہ جات


سود کی تعریف[ترمیم]

سود کو عربی میں ربا کہتے ہیں۔ ربا سے مراد معینہ مدت کے قرض پہ وہ اضافہ ہے جس کا مطالبہ قرض خواہ مقروض سے کرتا ہے اور یہ شرح پہلے سے طے شدہ ہوتی ہے۔


وضاحت[ترمیم]

اس معاملے میں کلید ی لفظ قرض ہے۔ جب بھی دو فریقین کے مابین تعلق قرض خواہ اور مقروض کا ہوگا تو قرض دینے والا اگر قرض دینے کو اس شرط سے مشروط کر دے کہ وہ ایک معین اضافہ ایک معینہ مدت کے لیے اپنے قرض پر وصول کر ے گا تو اس اضافے کو سود یا ربا کہا جائے گا۔

مزید تشریح[ترمیم]

1۔ کمپنیز آرڈیننس 1984 سے قبل فنانسنگ کا ایک ذریعہ ڈی بنچر(دستاویز قرض) تھا۔ ڈی بنچر ہولڈراور کمپنی کے مابین تعلق کریڈٹر (قرض دینے والا ، قرض خواہ) اور ڈیٹر (قرض لینے والا، مقروض) کاہوتا تھا۔اس مثال میں( افراط زر کی شرح کو صفر فرض کرتے ہوئے ) وہ معین اضافہ جس کا استحقاق ایک ڈی بنچر ہولڈر رکھے گا ربا کہلائے گا اس کے برعکس ایک دوسرا تعلق شیئر ہولڈر اور کمپنی کے مابین ہوگا۔ شیئر ہولڈر کو جو اضافہ ملے گا وہ منافع کہلائے گا۔

2۔ اگرمعاملے کی نوعیت ایسی ہے کہ آپ نے کسی کو ایک چیز 'استعمال' کے لیے دی اور لینے والے نے وہ چیز استعمال کرنے کے بعد بعینہ واپس کر دی تو اس پہ آپ اگر متعین اجرت وصول کریں گے تو یہ کرایہ ہوگا۔ نہ کہ ربا۔ جبکہ ربا اس صورت میں ہوگا جب کہ لی جانے والی چیز صرف استعمال نہ ہو بلکہ استعمال کے دوران میں وہ بالکل صرف ہو جائے اور باقی نہ بچے ۔

قرآن مجید نے جب ربا کو ممنوع قرار دیا تو اسوقت اس کے لیے کوئی نئی اصطلاح وضع نہیں کی بلکہ معاشرے میں رائج اصطلاح کو ہی استعمال کیا اور ظاہر ہے کہ اس اصطلاح کا وہاں ایک خاص مطلب تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ قرآن نے شراب اور جوئے کے لیے خمر اور میسر کی اصطلاحیں استعمال کی تو وہ بھی وہی تھیں جو وہاں رائج تھیں۔ اس ماحول کا ہر شخص جس طرح خمر اور میسر کی اصطلاح کا مطلب سمجھ رہا تھا اسی طرح ربا کا مطلب بھی ان پر غیر واضح نہ تھا۔ قرآن نے جب جوئے اور شراب کو ممنوع قرار دیا توصرف اتنا کہا کہ یہ اب سے ممنوع ہیں اور انہیں ممنوع قرار دیتے ہوئے قرآن نے یہ وضاحت بالکل نہیں کی کہ جوئے کا مطلب یہ ہوتا ہے اور خمر کا یہ۔ کیونکہ یہ بات بالکل واضح تھی کہ یہ کیا ہوتی ہیں۔ یہی معاملہ ربا کا تھا قرآن کی براہ راست مخاطبین اس کے مفہوم کو بخوبی سمجھ رہے تھے۔ جب کوئی لفظ مروجہ مفہوم سے ھٹ کر ایک نئے مطلب میں استعمال کیا جاتا ہے تو عبارت کے سیاق و سباق سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ یہاں ایک نئے مطلب میں استعمال ہو رہا ہے۔ جس طرح کہ علامہ اقبال نے خودی کے لفظ کو ایک نیا مفہوم دیا تو سیاق و سباق سے یہ بات واضح تھی۔

لفظ کے معنی کے تعین میں یہ بات بنیادی اہمیت کی حامل ہے کہ اہل زبان اس کو کس مفہوم میں بولتے ہیں اور اگر کسی کا یہ دعوی ہو کہ اس کامطلب اور ہے تو پھر بار ثبوت اس کے ذمے ہے۔ مثلا اگر کوئی یہ کہے کہ قرآن نے خمر کا لفظ ایک خاص قسم کی شراب کے لیے استعمال کیا ہے یا اس شراب کے لیے جو بہت زیادہ پی جائے تو پھر یہ بات اس کو ثابت کرنا ہوگی کیونکہ اہل زبان تو اس کو اسی مفہوم میں نہیں سمجھ رہے ہوتے۔اسی طرح ربا کا لفظ قرآن کی ایک نئی اصطلاح نہیں ہے بلکہ اسی مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے جو عربوں میں رائج تھا۔اور عرب میں یہ لفظ اسی مفہوم میں مستعمل تھا جیسا کہ پیچھے وضاحت ہو چکی ہے مزید برآں یہ اضافے کے مطلب میں بھی استعمال ہو رہا تھا۔ قرآن نے ان مفاہیم کے اندر کوئی نئے معنی پیدا نہیں کیے بلکہ انہیں اسی طرح استعمال کیا۔ یہ واضح ہے کہ جب قرآن ربا کا لفظ استعمال کرتا ہے تو وہ اس کو قرض پہ ایک متعین اضافے کے لیے ہی استعمال کرتا ہے اگر وہ اس کو محض اضافے کے مفہوم میں لے رہا ہوتا تو پھر اس کا اطلاق ہر اضافے پر ہوتاجبکہ منافع بھی ایک اضافہ ہی ہے۔ لیکن وہ جائز ہے۔

4۔ بعض علما نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن نے ربا کا لفظ صرف استحصالی سود کے لیے استعمال کیا ہے یعنی جس میں دوسروں کی مجبوریوں کا ناجائز استعمال کیا جائے۔ ان کے خیال میں اگر کسی تجارتی مقصد کے لیے فریقین میں باہمی اتفاق سے یہ طے ہو جائے کہ یہ شرح اضافہ ادا کی جائے گی تو وہ ناجائز نہیں ہے۔ اور بنکوں کا شرح سود اسی قسم کا ہوتا ہے کیونکہ اس میں دونوں فریق تجارتی مقاصد کے لیے ایک خاص معاہدہ کرتے ہیں اور پہلے سے ایک خاص اضافہ طے کرلیتے ہیں ۔ اس لیے یہ ربا نہیں ہے ۔ اس کا تفصیلی جواب اگلے سوال کے ضمن میں دیا گیا ہے۔

5۔ بعض حضرات سنت سے کوئی اور مفہوم ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اصل میں سنت کا تعلق تمام تر عملی چیزوں سے ہوتا ہے عقیدے اور عقائد قسم کی چیزیں سنت کے دائرہ کار میں نہیں آتیں اسی طرح تعریفات بھی اس کے دائرے کی چیز نہیں ہے۔نبی نے خمر ، میسر کی طرح ربا کی بھی کوئی تعریف نہیں کی بلکہ اس کے بعض اطلاقات بیان کیے ہیں۔یہ اطلاقات اس کی تعریف نہیں ہیں۔ مثلا نبی نے سود کے بارے میں خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہہ اجناس میں بھی سود کے امکانات سے بچو۔ تو اس سے ایک مختلف نتیجہ اخذ کرنا زبان دانی کے ساتھ ظلم ہوگا۔[1]

سود قرآن اور حدیث کی روشنی میں[ترمیم]

قرآن[ترمیم]

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
اے ایمان والو سود دونے پر دونا نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہارا چھٹکارا ہو


الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَ‌ٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
جو لوگ سود کھاتے ہیں قیامت کے دن وہ نہیں اٹھیں گے مگر جس طرح کہ وہ شخص اٹھتا ہے جس کے حواس جن نے لپٹ کر کھو دیئے ہیں یہ حالت ان کی اس لیے ہوگی کہ انہوں نے کہا تھا کہ سوداگری بھی تو ایسی ہی ہے جیسےسود لینا حالانکہ اللہ نے سوداگری کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے پھر جسے اپنے رب کی طرف سے نصیحت پہنچی اوروہ باز آ گیا تو جو پہلے لے چکا ہے وہ اسی کا رہا اور اس کا معاملہ الله کے حوالہ ہے اور جو کوئی پھر سود لے وہی لوگ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے


وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا
اور ان کو سود لینے کے سبب سے حالانکہ اس سے منع کیے گئے تھے اور اس سبب سے کہ لوگو ں کا مال ناحق کھاتے تھے اور ان میں سے جو کافر ہیں ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے


گناہِ کبیرہ[ترمیم]

سود مندرجہ ذیل سات کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے۔


مزید دیکھئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ اسلامی تعلیمات

بیرونی روابط[ترمیم]

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=سود&oldid=727794’’ مستعادہ منجانب