سورہ مریم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مریم
مریم
دور نزول مکی
عددِ سورت 19
عددِ پارہ 16
زمانۂ نزول ہجرت حبشہ سے قبل
اعداد و شمار
رکوع 6
تعداد الآیات 98
الفاظ 972
حروف 3,835

قرآن مجید کی 19 ویں سورت جو 16 ویں پارے میں ہے۔ اس کا نام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ بی بی مریم کے نام سے موسوم ہے۔

نام[ترمیم]

اس سورت کا نام آیت "واذکر فی الکتٰب مریم" سے ماخوذ ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ سورت جس میں حضرت مریم کا ذکر آیا ہے۔

زمانۂ نزول[ترمیم]

اس کا زمانۂ نزول ہجرت حبشہ سے پہلے کا ہے۔ معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مہاجرین اسلام جب نجاشی کے دربار میں بلائے گئے تھے جو اس وقت حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے یہی سورت بھرے دربار میں تلاوت کی تھی۔

تاریخی پس منظر[ترمیم]

جس دور میں یہ سورت ناول ہوئی اس کے حالات کی طرف کسی حد تک سورۂ کہف کے مضمون میں اشارہ کیا جاچکا ہے لیکن وہ اس سورت اور اس کے دور کی دوسری سورتوں کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں اس لیے اس مضمون میں وہ حالات زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کیے جارہے ہیں۔ قریش کے سردار جب تضحیک، استہزاء، اطماع، تخویف اور جھوٹے الزامات کی تشہیر سے تحریک اسلامی کو دبانے میں ناکام ہوگئے تو انہوں نے ظلم و ستم، مار پیٹ اور معاشی دباؤ کے ہتھیار استعمال کرنے شروع کیے۔ ہر قبیلے کے لوگوں نے اپنے اپنے قبیلے کے نو مسلمانوں کو پکڑا اور طرح طرح سے ستا کر، قید کرکے، بھوک پیاس کی تکالیف دے کر حتیٰ کہ سخت جسمانی اذیتیں دے دے کر انہیں اسلام چھوڑنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ غریب لوگ اور وہ غلام اور موالی جو قریش والوں کے تحت زیر دست کی حیثیت سے رہتے تھے، بری طرح پیسے گئے۔ مثلاً بلال رضی اللہ عنہ، عامر رضی اللہ عنہ بن فہیرہ، ام عُبَیس رضی اللہ عنہ، زِنِیرَہ، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور ان کے والدین وغیرہم۔ ان لوگوں کو مار مار کر ادھ موا کردیا جاتا، بھوکا پیاسا بند رکھا جاتا، مکے کی تپتی ریت پر چلچلاتی دھوپ میں لٹا دیا جاتا اور سینے پر بھاری پتھر رکھ کر گھنٹوں تڑپایا جاتا، جو لوگ پیشہ ور تھے ان سے کام لے لیا جاتا اور اجرت ادا کرنے میں پریشان کیا جاتا۔ چنانچہ صحیحین میں حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی یہ روایت موجود ہے کہ "میں مکے میں لوہار کا کام کرتا تھا، مجھ سے عاص بن وائل نے کام لیا، پھر جب میں اس سے اجرت لینے گیا تو اس نے کہا کہ میں تیری اجرت نہ دوں گا جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کا انکار نہ کرے"۔

اسی طرح جو لوگ تجارت کرتے تھے ان کے کاروبار کو برباد کرنے کی کوششیں کی جاتیں اور جو معاشرے میں کچھ عزت کا مقام رکھتے تھے، ان کو ہر طریقے سے ذلیل و رسوا کیا جاتا۔ اسی زمانے کا حال بیان کرتے ہوئے حضرت خباب کہتے ہیں کہ ایک روز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کعبے کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا "یا رسول اللہ! اب تو ظلم کی حد ہوگئی ہے، آپ خدا سے دعا نہیں فرماتے؟" یہ سن کو آپ کا چہرۂ مبارک تمتما اٹھا اور آپ نے فرمایا

تم سے پہلے جو اہل ایمان تھے ان پر اس سے زیادہ مظالم ہو چکے ہیں، ان کی ہڈیوں پر لوہے کی کنگھیاں گھِسی جاتی تھیں، ان کے سروں پر رکھ کر آرے چلائے جاتے تھے، پھر بھی وہ اپنے دین سے نہ پھرتے تھے۔ یقین جانوں کہ اللہ اس کام کو پورا کرکے رہے گا یہاں تک کہ ایک وقت وہ آئے گا کہ ایک آدمی صنعاء سے حضر موت تک بے کھٹکے سفر کرے گا اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا خوف نہ ہوگا، مگر تم لوگ جلد بازی کرتے ہو"۔ [1]


یہ حالات جب ناقابل برداشت حد تک پہنچ گئے تو رجب 48 عام الفیل (5نبوی) میں حضور نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ "اچھا ہو کہ تم لوگ نکل کر حبش چلے جاؤ۔ وہاں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا اور وہ بھلائی کی سر زمین ہے۔ جب تک اللہ تمہاری اس مصیبت کو رفع کرنے کی کوئی صورت پیدا کرے، تم لوگ وہاں ٹھیرے رہو"۔

اس ارشاد کی بنا ہر پہلے گیارہ مرد اور چار خواتین نے حبش کی راہ لی۔ قریش کے لوگوں نے ساحل تک ان کا پیچھا کیا، مگر خوش قسمتی سے شُعَیبِبہ کے بندر گاہ پر ان کو بروقت حبش کے لیے کشتی مل گئی اور وہ گرفتار ہونے سے بچ گئے۔ پھر چند ماہ کے اندر مزید لوگوں نے ہجرت کی یہاں تک کہ 83 مرد گیارہ عورتیں اور 7 غیر قریشی مسلمان حبش میں جمع ہوگئے اور مکے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ صرف 40 آدمی رہ گئے۔

اس ہجرت سے مکے کے گھر گھر میں کہرام مچ گیا، کیونکہ قریش کے بڑے اور چھوٹے خاندانوں میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چشم و چراغ ان مہاجرین میں شامل نہ ہوں۔ کسی کا بیٹا گیا تو کسی کا داماد، کسی کی بیٹی گئی تو کسی کا بھائی اور کسی کی بہن۔ ابو جہل کے بھائی سَلَمہ بن ہِشام، اس کے چچا زاد بھائی ہِشام بن ابی حُذیفہ اور عیاش بن ابی ربیعہ اور اس کی چچا زاد بہن ام سلمہ، ابو سفیان کی بیٹی ام حبیبہ، عتبہ کے بیٹے اور ہند جگر خزار کے سگے بھائی ابو حذیفہ، سہیل بن عمرو کی بیٹی سہل اور اسی طرح دوسرے سردارانِ قریش اور مشہور دشمنانِ اسلام کے اپنے جگر گوشے دین کی خاطر گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے تھے۔ اس لیے کوئی گھر نہ تھا جو اس واقعے سے متاثر نہ ہوا ہو۔ بعض لوگ اس کی وجہ سے اسلام دشمنی میں پہلے سے زيادہ سخت ہوگئے اور بعض کے دلوں پر اس کا اثر ایسا ہوا کہ آخر کار وہ مسلمان ہو کر رہے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اسلام دشمنی پر پہلی چوٹ اسی واقعے سے لگی۔ ان کی قریبی رشتہ دار لیلیٰ بنت حثمہ بیان کرتی ہیں کہ میں ہجرت کے لیے اپنا سامان باندھ رہی تھی اور میرے شوہر عامر بن ربیعہ کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے۔ اتنے میں عمر آئے اور کھڑے ہو کر میری مشغولیت دیکھتے رہے۔ کچھ دیر کے بعد کہنے لگے "عبداللہ کی ماں! جارہی ہو؟" میں نے کہا "ہاں، خدا کی قسم تم لوگوں نے ہمیں بہت ستایا۔ خدا کی زمین کھلی پڑیہے، اب ہم کسی ایسی جگہ چلے جائیں گے جہاں خدا ہمیں چین دے"۔ یہ سن کر عمر کے چہرے پر رقت کے آثار طاری ہوئے جو میں نے کبھی ان پر نہ دیکھے تھے اور وہ بس یہ کہہ کر نکل گئے کہ "خدا تمہارے ساتھ ہو"۔

ہجرت کے بعد قریش کے سردار سر جوڑ کے بیٹھے اور انہوں نے طے کیا کہ عبداللہ بن ابی ربیعہ (ابو جہل کے ماں جائے بھائی) اور عمرو بن عاص کو بہت سے قیمتی تحائف کے ساتھ حبش بھیجا جائے اور یہ لوگ کسی نہ کسی طرح نجاشی کو اس بات پر راضی کریں کہ وہ ان مہاجرین کو مکہ واپس بھیج دے۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے (جو خود مہاجرین حبشہ میں شامل تھی) یہ وقعہ بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ قریش کے یہ دونوں ماہر سیاست سفیر ہمارے تعاقب میں حبش پہنچے۔ پہلے انہوں نے نجاشی کے امیران سلطنت میں خوب ہدیے تقسیم کرکے سب کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ مہاجرین کو واپس کرنے کے لیے نجاشی پر بالاتفاق وردیں گے۔ پھر نجاشی سے ملے اور اس کو بیش قیمت نذرانہ دینے کے بعد کہا کہ "ہمارے شہر کے چند نادان لونڈے بھاگ کر آپ کے ہاں آگئے ہیں اور قوم کے اشراف نے ہمیں آپ کے پاس ان کی واپسی کی درخواست کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ یہ لڑکے ہمارے دین سے نکل گئے ہیں اور آپ کے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں بلکہ انہوں نے ایک نرالا دین نکالا لیا ہے"۔ ان کا کلام ختم ہوتے ہی اہل دربار ہر طرف سے بولنے لگے کہ "ایسے لوگوں کو ضرور واپس کردینا چاہیے، ان کی قوم کے لوگ زیادہ جانتے ہیں کہ ان میں کیا عیب ہے، انہیں رکھنا ٹھیک نہیں ہے"۔ مگر نجاشی نے بگڑ کر کہا کہ "اس طرح تو میں انہیں حوالے نہیں کروں گا۔ جن لوگوں نے دوسرے ملک کو چھوڑ کر میرے ملک پر اعتماد کیا اور یہاں پناہ لینے کے لیے آئے ان سے میں بے وفائی نہیں کرسکتا۔ پہلے میں انہیں بلا کر تحقیق کروں گا کہ یہ لوگ ان کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں اس کی حقیقت کیا ہے"۔ چنانچہ نجاشی نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے دربار میں بلا بھیجا۔

نجاشی کا پیغام سن کر سب مہاجرین جمع ہوئے اور انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ بادشاہ کے سامنے کیا کہنا ہے۔ آخر سب نے بالاتفاق فیصلہ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو تعلیم ہمیں دی ہے ہم تو وہی بے کم و کاست پیش کریں گے خواہ نجاشی ہمیں رکھے یا نکال دے۔ دربار میں پہنچے تو چھوٹتے ہی نجاشی نے سوال کیا کہ "یہ تم لوگوں نے کیا کیا کہ اپنی قوم کا دین بھی چھوڑا اور میرے دین میں بھی داخل نہ ہوئے، نہ دنیا کے دوسرے ہی میں سے کسی کو اختیار کیا؟ آخر یہ تمہارا نیا دین ہے کیا؟" اس پر مہاجرین کی طرف سے جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ایک برجستہ تقریر کی جس میں پہلے عرب جاہلیت کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں کو بیان کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کا ذکر کرکے بتایا کہ آپ کیا تعلیمات پیش فرماتے ہیں، پھر ان مظالم کا ذکر کیا جو آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی اختیار کرنے والوں پر قریش کے لوگ ڈھا رہے تھے اور اپنا کلام اس بات پر ختم کیا کہ دوسرے ملکوں کے بجائے ہم نے آپ کے ملک کا رخ اس امید پر کیا ہے کہ یہاں ہم پر ظلم نہ ہوگا۔ نجاشی نے یہ تقریر سن کر کہا کہ ذرا مجھے وہ کلام سناؤ جو تم کہتے ہو کہ خدا کی طرف سے تمہارے نبی پر اترا ہے۔ حضرت جعفر نے جواب میں سورۂ مریم کا وہ ابتدائی حصہ سنایا جو حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام سے متعلق ہے۔ نجاشی اس کو سنتا رہا اور روتا رہا یہاں تک کہ اس کی داڑھی تر ہوگئی۔ جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے تلاوت ختم کی تو اس نے کہا کہ "یقیناً یہ کلام اور جو کچھ عیسیٰ علیہ السلام لائے تھے دونوں ایک ہی سر چشمے سے نکلے ہیں، خدا کی قسم میں تمہیں ان لوگوں کے حوالے نہ کروں گا"۔

دوسرے روز عمرو بن العاص نے نجاشی سے کہا کہ "ذرا ان لوگوں سے بلا کر یہ تو پوچھیے کہ عیسیٰ ابن مریم کے بارے میں ان کا عقیدہ کیا ہے۔ یہ لوگ ان کے متعلق ایک بڑی بات کہتے ہیں۔ نجاشی نے پھر مہاجرین کو بلا بھیجا۔ مہاجرین کو پہلے سے عمرو کی چال کا علم ہو چکا تھا۔ انہوں نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ اگر نجاشی نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا تو کیا جواب دو گے؟ موقع بڑا نازک تھا اور سب اس سے پریشان تھے۔ مگر پھر بھی اصحاب رسول اللہ نے یہی فیصلہ کیا کہ جو کچھ ہوتا ہے ہوجائے، ہم تو وہی بات کہیں گے جو اللہ نے فرمائی اور اللہ کے رسول نے سکھائی۔ چنانچہ جب یہ لوگ دربار میں گئے اور نجاشی نے عمرو بن العاص کا پیش کردہ سوال ان کے سامنے دہرایا تو جعفر بن ابی طالب نے اٹھ کر بلا تامل کہا کہ "وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی طرف سے ایک روح اور ایک کلمہ ہیں جسے اللہ نے کنواری مریم پر القا کیا" نجاشی نے سن کر ایک تنکا زمین سے اٹھایا اور کہا کہ "خدا کی قسم! جو کچھ تم نے کہا ہے عیسیٰ علیہ السلام اس سے اس تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں تھے"۔ اس کے بعد نجاشی نے قریش کے بھیجے ہوئے تمام ہدیے یہ کہہ کر واپس کردیے کہ میں رشوت نہیں لیتا اور مہاجرین سے کہا کہ تم بالکل اطمینان کے ساتھ رہو۔

موضوع اور مضمون[ترمیم]

اس تاریخی پس منظر کو نگاہ میں رکھ کر جب ہم اس سورت کو دیکھتے ہیں تو اس میں اولین بات نمایاں ہو کر ہمارے سامنے یہ آتی ہے کہ اگرچہ مسلمان ایک مظلوم پناہ گزیں گروہ کی حیثیت سے اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے ملک میں جارہے تھے، مگر اس حالت میں بھی اللہ تعالٰیٰ نے ان کو دین کے معاملے میں ذرا برابر مداہنت کرنے کی تعلیم نہ دی، بلکہ چلتے وقت زاد راہ کے طور پر یہ سورت ان کے ساتھ کی تاکہ عیسائیوں کے ملک میں عیسیٰ علیہ السلام کی بالکل صحیح حیثیت پیش کریں اور ان کے ابن اللہ (اللہ کے بيٹے) ہونے کا صاف صاف انکار کریں۔

پہلے دو رکوعوں میں حضرت یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کے بعد پھر تیسرے رکوع میں حالاتِ زمانہ کی مناسبت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ سنایا گیا ہے کیونکہ ایسے ہی حالات میں وہ بھی اپنے باپ اور خاندان اور اہل ملک کے ظلم سے تنگ آکر وطن سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ اس سے ایک طرف کفار مکہ کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ آج ہجرت کرنے والے مسلمان ابراہیم علیہ السلام کی پوزیشن میں ہیں اور تم لوگ ان ظالموں کی پوزیشن میں ہو جنہوں نے تمہارے باپ اور پیشوا ابراہیم علیہ السلام کو گھر سے نکالا تھا۔ دوسری طرف مہاجرین کو بشارت دی گئی ہے کہ جس طرح ابراہیم علیہ السلام وطن سے نکل کر تباہ نہ ہوئے بلکہ اور زیادہ سر بلند ہوگئے ایسا ہی انجامِ نیک تمہارا انتظار کررہا ہے۔

اس کے بعد چوتھے رکوع میں دوسرے انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام وہی دین لے کر آئے تھے جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لائے ہیں مگر انبیاء کے گذر جانے کے بعد ان کی امتیں بگڑتی رہی ہیں اور آج مختلف امتوں میں جو گمراہیاں پائی جارہی ہیں یہ اسی بگاڑ کا نتیجہ ہیں۔

آخری دو رکوعوں میں کفار مکہ کی گمراہیوں پر سخت تنقید کی گئی ہے اور کلام ختم کرتے ہوئے اہل ایمان کو مژدہ سنایا گیا ہے کہ دشمنان حق کی ساری کوششوں کے باوجود بالآخر تم محبوب خلائق ہو کر رہو گے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ صحیح بخاری
گذشتہ سورت:
الکہف
سورت 19 اگلی سورت:
طٰہٰ
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحیٰ · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس