سورہ یونس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
یونس
التوبہ یونس ھود
دور نزول مکی
عددِ سورت 10
عددِ پارہ 11
زمانۂ نزول اخیرِ مکی زندگی
اعداد و شمار
رکوع 11
تعداد آیات 109
الفاظ 1,841
حروف 7,425

قرآن مجید کی دسویں سورت جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی۔

نام[ترمیم]

اس سورت کا نام حسب دستور محض علامت کے طور پر آیت 98 سے لیا گیا ہے جس میں اشارتاً حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر آیا ہے۔ سورت کا موضوع بحث حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ نہیں۔

مقام نزول[ترمیم]

روایات سے معلوم ہوتا ہے اور نفس مضمون سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ یہ پوری سورت مکے میں نازل ہوئی ہے۔ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ اس کی بعض آیات مدنی دور کی ہیں، لیکن یہ محض ایک سطحی قیاس ہے۔ سلسلۂ کلام پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوجاتا ہے کہ یہ مختلف تقریروں یا مختلف مواقع پر اتری ہوئی آیات کا مجموعہ نہیں بلکہ شروع سے آخر تک ایک ہی مربوط تقریر ہے جو بیک وقت نازل ہوئی ہوگی، اور مضمون کلام اس بات پر صریح دلالت کررہا ہےکہ یہ مکی دور کا کلام ہے۔

زمانۂ نزول[ترمیم]

زمانۂ نزول کے متعلق کوئی روایت ہمیں نہیں ملی۔ لیکن مضمون سے ایسا ہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سورت زمانۂ قیام مکہ کے آخری دور میں نازل ہوئی ہوگی کیونکہ اس کے انداز کلام سے صریح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ مخالفین دعوت کی طرف سے مزاحمت پوری شدت اختیار کرچکی ہے، وہ نبی اور پیروان نبی کو اپنے درمیان برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں،ان سے اب یہ امید باقی نہیں رہی ہے کہ تفہیم و تلقین سے راہ راست پر آجائیں، اور اب انہیں اس انجام سے خبردار کرنے کا موقع آگیا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آخری اور قطعی طور پر رد کردینے کی صورت میں انہیں لازماً دیکھنا ہوگا۔ مضمون کی یہی خصوصیات ہمیں بتاتی ہیں کہ کونسی سورتیں مکہ کےآخری دور سے تعلق رکھتی ہیں لیکن اس سورت میں ہجرت کی طرف بھی کوئی اشارہ نہیں پایا جاتا۔ اس لیے اس کا زمانہ ان سورتوں سے پہلے کا سمجھنا چاہیے جن میں کوئی نہ کوئی خفی یا جلی اشارہ ہمیں ہجرت کے متعلق ملتا ہے۔ زمانے کی اس تعیین کے بعد تاریخی پس منظر بیان کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کیونکہ اس دور کا تاریخی پس منظر سورۂ انعام اور سورۂ اعراف کے مضامین میں بیان کیا گیا ہے۔

موضوع[ترمیم]

موضوعِ دعوت، فہمائش اور تنبیہ ہے۔ کلام کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ لوگ ایک انسان کے پیغام نبوت پیش کرنے پر حیران ہیں اور اسے خواہ مخواہ ساحری کا الزام دے رہےہیں، حالانکہ جو بات وہ پیش کررہا ہے اس میں کوئی چیز بھی نہ تو عجیب ہی ہے اور نہ سحر و کہانت ہی سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ تو دو اہم حقیقتوں سے تم کو آگاہ کررہا ہے۔ ایک یہ جو خدا اس کائنات کا خالق ہے اور اس کا انتظام عملاً چلا رہا ہے صرف وہی تمہارا مالک و آقا ہے اور تنہا اسی کا یہ حق ہے کہ تم اس کی بندگی کرو۔

دوسرے یہ کہ موجودہ دنیوی زندگی کے بعد زندگی کا ایک اور دور آنے والا ہے جس میں تم دوبارہ پیدا کیے جاؤ گے، اپنی موجودہ زندگی کے پورے کارنامے کا حساب دو گے اور اس بنیادی سوال پر جزا یا سزا پاؤ گے کہ تم نے اسی خدا کو اپنا آقا مان کر اس کے منشا کے مطابق نیک رویہ اختیار کیا یا اس کے خلاف عمل کرتے رہے۔ یہ دونوں حقیقتیں، جو وہ تمہارے سامنے پیش کررہا ہے، بجائے خود امر واقعی ہیں خواہ تم مانو یا نہ مانو۔ وہ تمہیں دعوت دیتا ہے کہ تم انہیں مان لو اور اپنی زندگی کو ان کے مطابق بنا لو۔ اس کی یہ دعوت اگر تم قبول کروں گے تو تمہارا اپنا انجام بہتر ہوگا ورنہ خود ہی برا نتیجہ دیکھو گے۔

مباحث[ترمیم]

اس تمہید کے بعد حسب ذیل مباحث ایک خاص ترتیب کے ساتھ سامنے آتے ہیں:

  1. وہ دلائل جو توحیدِ ربوبیت اور حیات اخروی کے باب میں ایسے لوگوں کو عقل و ضمیر کا اطمینان بخش سکتے ہیں جو جاہلانہ تعصب میں مبتلا نہ ہوں اور جنہیں بحث کی ہار جیت کے بجائے اصل فکر اس بات کی ہو کہ خود غلط بینی اور اس کے برے نتائج سے بچیں۔
  2. اُن غلط فہمیوں کا ازالہ اور اُن غفلتوں پر تنبیہ جو لوگوں کو توحید اور آخرت کا عقیدہ تسلیم کرنے میں مانع ہورہی تھیں (اور ہمیشہ ہوا کرتی ہیں)۔
  3. اُن شبہات اور اعتراضات کا جواب جو محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت اور آپ کے لائے ہوئے پیغام کے بارے میں پیش کیے جاتے تھے۔
  4. دوسری زندگی میں جو کچھ پیش آنے والا ہے اس کی پیشگی خبر، تاکہ انسان اس سے ہوشیار ہو کر اپنے آج کے طرز عمل کو درست کرلے اور بعد میں پچھتانے کی نوبت نہ آئے۔
  5. اس امر پر تنبیہ کہ دنیا کی موجودہ زندگی دراصل امتحان کی زندگی ہے اور اس امتحان کے لیے تمہارے پاس بس اتنی ہی مہلت ہے جب تک تم اس دنیا میں سانس لے رہے ہو۔ اس وقت کو اگر تم نے ضائع کردیا اور نبی کی ہدایت قبول کرکے امتحان کی کامیابی کا سامان نہ کیا تو پھر کوئی دوسرا موقع تمہیں ملنا نہیں ہے۔ اس نبی کا آنا اور اس قرآن کے ذریعے تم کو علم حقیقت کا بہم پہنچایا جانا وہ بہترین اور ایک ہی موقع ہے جو تمہیں مل رہا ہے۔ اس سے فائدہ نہ اٹھاؤ گے اور بعد کی ابدی زندگی میں ہمیشہ کے لیے پچھتاؤ گے۔
  6. ان کھلی کھلی جہالتوں اور ضلالتوں پر اشارہ جو لوگوں کی زندگی میں صرف اس وجہ سے پائی جارہی تھیں کہ وہ خدائی ہدایت کے بغیر جی رہے تھے۔

اس سلسلے میں نوح علیہ السلام کا قصہ مختصراً اور موسیٰ علیہ السلام کا قصہ ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس سے چار باتیں ذہن نشین کرنی مطلوب ہیں۔ اول یہ کہ محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جو معاملہ تم لوگ کررہے ہو وہ اس سے ملتا جلتا ہے جو نوح اور موسیٰ علیہما السلام کے ساتھ تمہارے پیشرو کرچکے ہیں اور یقین رکھو کہ اس طرز عمل کا جو انجام وہ دیکھ چکے ہیں وہی تمہیں بھی دیکھنا پڑے گا۔ دوم یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو آج جس بے بسی و کمزوری کے حال میں تم دیکھ رہے ہو اس سے کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ صورتحال ہمیشہ یہی رہے گی۔ تمہیں خبر نہیں ہے کہ ان لوگوں کی پشت پر وہی خدا ہے جو موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کی پشت پر تھا اور وہ ایسے طریقے سے حالات کی بساط الٹ دیتا ہے جس تک کسی کی نگاہ نہیں پہنچ سکتی۔ سوم یہ کہ سنبھلنے کے لیے جو مہلت خدا تمہیں دے رہا ہے اسے اگر تم نے ضائع کردیا اور پھر فرعون کی طرح خدا کی پکڑ میں آجانے کے بعد عین آخری لمحے پر توبہ کی تو معاف نہیں کیے جاؤ گے۔ چہارم یہ کہ جو لوگ محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لائے تھے وہ مخالف ماحول کی انتہائی شدت اور اس کے مقابلے میں اپنی بیچارگی دیکھ کر مایوس نہ ہوں اور انہیں معلوم ہو کہ ان حالات میں ان کو کس طرح کام کرنا چاہیے۔ نیز وہ اس امر پر بھی متنبہ ہوجائیں کہ جب اللہ تعالٰیٰ اپنے فضل سے ان کو اس حالت سے نکال دے تو کہیں وہ اُس روش پر نہ چل پڑیں جو بنی اسرائیل نے مصر سے نجات پاکر اختیار کی۔ آخر میں اعلان کیا گیا ہے یہ عقیدہ اور یہ مسلک ہے جس پر چلنے کی اللہ نے اپنے پیغمبر کو ہدایت کی ہے۔ اس میں قطعاً کوئی ترمیم نہیں کی جاسکتی، جو اسے قبول کرے گا وہ اپنا بھلا کرے گا اور جو اس کو چھوڑ کر غلط راہوں میں بھٹکے گا وہ اپنا ہی کچھ بگاڑے گا۔


گذشتہ سورت:
التوبہ
سورت 10 اگلی سورت:
ہود
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحیٰ · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس