سویٹزر لینڈ میں میناروں پر پابندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
تُرک ثقافتی انجمن کی مسجد کا مینار جس پر سب سے پہلے مخالفت شروع ہوئی۔

سوئٹزرلینڈ کے مذہبی انتہا پسندوں کی طرف سے مسلمانوں کی مساجد میں مینار تعمیر کرنے کی مخالفت تحریک شروع کی گئی جسے سوئس قوم کی اکثریت کی حمایت حاصل ہو گئی۔

تاریخ[ترمیم]

سوئٹزرلیند میں قریبا ۳ لاکھ دس ہزار مسلمان آباد ہیں جو کہ ۰۶۱ مساجد یا سینٹر نمازوں کو ادائیگی کے لئے استعمال کرتے ہیں[1] ۔ لیکن باقاعدہ مسجد کے طور پر سارے ملک میں صرف ۳ مساجد ہیں۔کچھ عرصہ پہلے سوئٹزرلینڈ میں مساجد کے میناروں کے متعلق ایک ریفرنڈم کرایا گیا جس میں حصہ لینے والوں کی اکثریت نے ملک میں میناروں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ اس معاملے کا آغاز سن ۷۰۰۲ میں اس وقت ہوا جب مختلف مسلمان تنظیموں نے سوئٹزرلینڈ کے تین مختلف شہروں میں میناروں کی تعمیر کی اجازت مانگی نیز سارے یورپ کے مسلمانوں کے لئے برن شہر میں ایک عالیشان سنٹر بنانے کا منصوبہ پیش کیا۔ جب عوام کے سامنے یہ منصوبے آئے تو کچھ لوگوں نے میناروں کی تعمیر کی مخالفت شروع کر دی۔ چنانچہ یکم مئی ۷۰۰۲ کو میناروں کی تعمیر کے خلاف ایک تحریک کا آغاز ہوا اور ۹۲ جولائی ۸۰۰۲ تک اس تحریک کے حق میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کے دستخط اکٹھے کر لئے گئے تھے[2]. جس کے بعد سوئس قانون کے مطابق اس موضوع پر ایک ریفرنڈم کرانا ضروری ہو گیا۔ یہ ریفرنڈم ۹۲ نومبر ۹۰۰۲ کو منعقد کیا گیا۔

نتائج[ترمیم]

تمام اندازوں کے برخلاف ۵ئ۷۵ فی صد لوگوں اور سوئٹزرلینڈ کے ۳۲ میں سے ساڑھے ۹۱ کینٹونز نے میناروں کی ممانعت کے حق میں ووٹ دیا [3]۔ سوئٹزرلینڈ کے قانون کے مطابق ایسے ریفرنڈم کو قانون کا حصہ بنانا ضروری ہے لیکن اس قانون کے سوئٹزرلینڈ کے دستور ، جس میں آزادی مذہب کی ضمانت دی گئی ہے، کے ساتھ تضاد میں ہونے کی بنا پر بعض مسلمان تنظیموں نے سوئس سپریم کورٹ اور اسی طرح یورپین عدالت برائے انسانی حقوق میں اس کے خلاف اپیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ اس کے متعلق ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

دلائل[ترمیم]

میناروں کی تعمیر کے خلاف تحریک چلانے والے اپنے نقطہ نظر کے حق میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ وہ مساجد کی تعمیر کے خلاف نہیں بلکہ صرف میناروں کی تعمیر کے خلاف ہیں نیز ان کا کہنا ہے کہ مینار مساجد کا ضروری حصہ نہیں[4] نیز یہ کہ مینار کے بغیر بھی مساجد تعمیر اور اسلام پر عمل کیا جا سکتا ہے [5] اور قرآن نیز دوسری اسلامی مقد س کتب میں میناروں کی ضرورت کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ مینار دراصل اسلام کی مذہبی وسیاسی طاقت کا نشان ہیں اور اس لئے ان کی تعمیر کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ اس ضمن میں ترکی کے وزیر اعظم کی ایک تقریر کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے جس میں انہوں نے ایک نظم پڑھی تھی جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ”مساجد ہماری بیرکس اور گنبد ہمارے ہیلمٹ اور مینار ہماری سنگینیں ہیں“۔ اس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ میناروں کی تعمیر صرف ایک سیاسی چیز ہے۔

اس کے مقابل پر سوئس مسلمانوں اور ان کے وکلاءکا کہنا ہے کہ ۰۷ ہجری ہی سے مساجد کے ساتھ مینار تعمیر کئے جا رہے ہیں اور ۰۰۵۱ سال سے یہ مساجد کا ایک ضروری حصہ بن چکے ہیں [5] ان کا سیاسی طاقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ دوسرے یہ کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ فیصلہ کرے کہ مساجد میں کیا چیز شامل ہے اور کیا نہیں یہ فیصلہ صرف مسلمان ہی خود کر سکتے ہیں۔تیسرے یہ کہ مسلمان لمبے عرصہ سے یہاں رہ رہے ہیں اور ان کی آئندہ نسلیں بھی یہیں رہیں گی۔ اس لئے آزادی مذہب کے اصول کے مطابق ان کو یہاں اپنی خواہشات کے مطابق مساجد تعمیر کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔

اشتہاری مہم[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]