سپاہ صحابہ
دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والی سنی انتہا پسند جماعت سپاہ صحابہ کا نام پہلے انجمن سپاہ صحابہ تھا۔ اسے انیس سو پچاسی میں جھنگ کے دیوبندی مسلک کے مولانا حق نواز جھنگوی نے بنایا جو خود انیس سو نوے میں قتل کردیے گئے۔
حق نواز کے بعد مولانا ایثار الحق قاسمی اس جماعت کے سربراہ بنے جنھیں انیس سو اکیانوے میں قتل کردیا گیا اور مولانا ضیاء الرحمن فاروقی نے اس کی قیادت سنبھالی۔ اٹھارہ جنوری انیس سو ستانوے میں ان کے قتل کے بعد مولانا اعظم طارق اس جماعت کے سربراہ بنے جو 2003ء میں اسلام آباد میں قتل کر دیے گئے۔جب جنرل پرویز مشرف نے جنوری سنہ دو ہزار دو میں سپاہ صحابہ پاکستان پر پابندی عائد کردی۔ تو جماعت کا نام بدل کر ملت اسلامیہ پاکستان رکھا گیا۔
یہ جماعت انتہا پسند و فرقہ واریت کی اپنی مثال آپ ہے، اس کے نزدیک دیو بندی عقائد سے متصادم عقائد رکھنے والوں کا جینے کا کوئی حق نہیں اور ایسے افراد کو چُن چُن کر قتل کرنا نہ صرف فرضِ اولیں بلکہ “دین“ کی خدمت ہے۔ [1][2]
سپاہ صحابہ پاکستان سے ٹوٹ کر ایک نیا گروہ وجود میں آیا جس کا نام لشکر جھنگوی رکھا گیا تھا۔ اس پر حکومت پہلے ہی پابندی عائد کرچکی ہے۔ اس کے سربراہ ریاض بسرا کو 2002ء افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد پاکستان میں ایک پولیس مقابلہ میں ہلاک کردیا گیا۔