سڈنی شیلڈن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سڈنی شیلڈن

پیدائش : 11 فروری 1917ء

انتقال:30 جنوری 2007ء

معروف امریکی ناول نگار اور ٹیلی ویژن لکھاری ۔Naked Face, Rage of Angles, Bloodline اور The Other side of Midnight جیسے معروف ناولوں کے مصنف۔ شکاگو میں پیدا ہوئے۔

اُن کے ذاتی حالات بھی کسی ناول کے پلاٹ سے کم دلچسپ نہیں تھے۔ اُن کا بچپن امریکی تاریخ کا بدترین اقتصادی دور تھا جسے آج ہم مہا مندی یا Great Depression کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ 1934ء میں جب وہ سترہ برس کے تھے تو بھوک اور بیکاری سے تنگ آکر انھوں نے خودکشی کا منصوبہ بنایا لیکن اس سے پہلے کہ گلے میں پھندا ڈالتےانھیں ہالی وڈ سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں ایک فلم کا سکرین پلے لکھنے کی دعوت دی گئی تھی۔

بلڈ لائن

اور یوں زندگی سے بیزار یہ نوجوان ہالی وُڈ اور براڈوے کا ایک مقبول ڈرامہ نگار بن گیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران سڈنی شیلڈن نے ایک جنگی پائلٹ کے طور پر محاذ کا تجربہ بھی حاصل کیا اور خاتمۂ جنگ پر پھر سے ڈرامے اور سکرین پلے لکھنے شروع کردیئے۔انہیں سن 1948ء میں ’دی بیچلر اینڈ دی بابی سوکسر‘ جیسی معروف فلم کے لیے اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ انھوں نے پہلا ناول 1970ء میں لکھا جب اُن کی عمر 53 برس ہو چُکی تھی۔ اس سے پہلے وہ ڈرامے، سکرین پلے اور ٹی وی سیریل ہی لکھتے رہے تھے۔

گِنز بُک آف ورلڈ ریکارڈز نے انھیں 1990ء کے عشرے کے آخر میں دنیا کا سب سے زیادہ ترجمہ کیا جانے والا مصنف قرار دیا کیونکہ اُن کے ناول 51 زبانوں میں ترجمہ ہوکر دنیا کے 108 ممالک میں پڑھے جاتے ہیں۔

جس طرح پاک و ہند میں تیرتھ رام فیروزپوری، ابن صفی، گلشن نندہ، دت بھارتی اور رضیہ بٹ کو لاکھوں افراد پڑھتے ہیں لیکن ناقدینِ ادب انھیں مصنف ہی نہیں سمجھتے، اسی طرح انگریزی ادب کے سکّہ بند نقادوں نے سڈنی شیلڈن کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا اور ہمیشہ انکی مقبولیت پر ناک بھوں چڑھائی ہے۔

لیکن سِڈنی بھی عرُفی کیطرح غوغائے رقیباں سے بے نیاز آخری دم تک اپنے قارئین کو دلچسپ تحریروں سے محظوظ کرتے رہے۔کیلی فورنیا میں ان کا انتقال ہوا۔