سہارتو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

سہارتو انڈونیشیا کے فوجی راہنما اور دوسرے صدر تھے۔ وہ 1967ء سے 1998ء تک انڈونیشیا کے صدر رہے۔ یہ انڈونیشیا کے جیونیز نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ جیونیز نسل کے لوگوں کی روایت کے مطابق ان کا صرف ایک ہی نام ہوتا ہے مثلا سہارتو۔ بعض اوقات انھیں انڈونیشیا میں اسلامی منظر کے مطابق حاجی سہارتو بھی کہا جاتا ہے۔

سہارتو، سابق انڈونیشی صدر

ابتدائی دور[ترمیم]

سہارتو Yogyakarta کے قریب ایک گائوں میں پیدا ہوئے۔ یہ ڈچ نوآبادیاتی دور تھا۔ ان کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد ہی ان کے والدین میں طلاق ہو گئی اور اس طرح انکا بچپن کئی سرپرست والدین کے ہوتے ہوئے گزرا۔
شروع میں ایک بینک کلرک کی نوکری کے طور پر ناکامی کے بعد انھوں نے 1940ء میں Royal Netherlands East Indies Army ميں شمولیت اختیار کر لی۔ جاپان کے انڈونیشیا کے قبضے کے دوران انھوں نے کئی جاپانی سیکيورٹی ایجنسیوں میں کام کیا۔ اور پھر انڈوینشیا کی آزادی کے لیے بننے والی فوج میں بطور کمانڈر حصہ لیا یہاں تک کہ انڈونیشیا کو آزادی ملی۔ انڈونیشیا کی آزادی کے وقت وہ میجر جنرل کے عہدے پر پہنچ گئے تھے۔

کیمونزم کے خلاف جنگ[ترمیم]

30 ستمبر، 1965ء میں ہونے والے کیمونزم حمایتی انقلاب کے خلاف سہارتو کی فوج نے حصہ لیا اور خونریز جنگ ہوئی جس میں 50,000 سے 100,000 تک انسانی ہلاکتیں ہوئیں۔

صدر بننا[ترمیم]

سہارتو نے انڈونیشیا کے پہلے صدر یعنی سوکارنو سے حکومت چھین لی جو کہ اب سیاسی طور پر کافی کمزور ہو چکے تھے۔ وہ 1968ء میں انڈونیشیا کے صدر بن گئے۔


دور حکومت[ترمیم]

جنرل سہارتو نے انڈویشیا پر تین دہائیوں تک حکومت کی۔ انھوں نے ایک مضبوط مرکزی فوجی حکومت بنائی جس کے بل پر وہ چوبیس سال تک حکمرانی کرتے رہے۔ کیمونزم کے خلاف سخت مزاج رکھنے کی وجہ سے انھیں امریکا اور مغرب کی جانب سے ہمیشہ حمایت حاصل رہی۔ اس کا مثبت اثر یہ ہوا کہ انڈونشیا نے زبردست معاشی ترقی کی اور ملک میں صنعتوں کا جال بچھ گیا۔
لیکن اسی کے ساتھ ساتھ جنرل کے New Order، مشرقی تیمور کے خلاف جنگ، اور کیمونزم کے حمایتیوں کے خلاف جنگ میں کوئی 102,800 انسان مارے گیے۔ ان کی حکومت کے بعد ظاہر ہونے والے اثاثے کوئى 35 بلین امریکی ڈالر ہیں جو سراسر کرپشن کی دین ہیں۔ یہ ان کے دور حکومت کا تاریک پہلو ہے۔

استعفٰی[ترمیم]

1998ء ہونے والے پر زور عوامی مظاہروں نے سہارتو کو استعفٰی دینے پر مجبور کر دیا۔

وفات[ترمیم]

27 جنوری، 2008ء کو جنرل سہارتو انتقال کر گئے

مزید دیکھیں[ترمیم]


بیرونی روابط[ترمیم]