سیاچن گلیشیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سیاچن گلیشیر
Siachen Glacier
सियाचिन ग्लेशियर
SiachenGlacier satellite.jpg
سیاچن گلیشیر
قسم پہاڑی گلیشیر
مقام کشمیر (بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازعہ; بھارت کی طرف سے کنٹرول حصہ پیلے رنگ میں اوپر)[1][2][3]

سیاچن بلتی زبان کا لفظ ہے جسکے معنی ہیں جنگلی گلاب اس گلیشیر پر یہ پودا زیادہ اگتا ہے اس لئے بلتی لوگ اسے سیاچن کہتے ہیں۔ یہ بلتستان کے ضلع گانچھے میں واقع ہے جہاں سلتورو نام کے گاؤں سے اسکو راستہ جاتا ہے

سیاچن تنازع [ترمیم]

سیاچن حقیقتا پاکستان کا حصہ ہے اور دنیا کے تمام نقشوں میں اسے پاکستانی علاقوں میں دکھایا گیا ہے لیکن 1984انڈیا نے کی فوجیوں نے اس پر قبضہ کیا تھا جس کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان رابطے کو کاٹنا تھا۔
سیاچن پر بھارت نے 1984ء میں قبضہ کیا تھا۔ اس وقت سے لے کر آج تک یہ مسئلہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس بلند ترین جگہ سے بھارت کا قبضہ ختم کرانے کے سلسلے میں بھارت اور پاکستان کی قیادتوں کے درمیان کئی مرتبہ بات چیت ہو چکی ہے جس میں ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھی شامل ہے، لیکن ہنوز اس تنازع کا کوئی حل نہیں نکل سکا ہے۔

سیاچن گلیشیئر پر گرمیوں میں بھی درجہ حرارت منفی دس کے قریب رہتا ہے۔جبکہ سردیو ں میں منفی پچاس ڈگری تک جاپہنچاتا ہے۔جس کے نتیجے میں یہاں سال بھر کسی قسم کی زندگی کے پنپنے کا کوئی امکان نہیں رہتا۔جو فوجی وہاں تعینات ہوتے ہیں ان کے لیے اس درجہ حرارت پر کھانا پینا ہی نہیں سانس لینا تک ایک انتہائی دشوار کام ہے۔ سردی کی شدت کی بنا پر فوجیوں کی اموات اور ان کے اعضا کے ناکارہ ہوجا نا ایک معمول کی بات ہے۔


اس بلند ترین جنگی محاذ پر پاکستان کے سپوت بے مثال جرات کا مقابلہ کر کے جہاں بھارت کی جارحیت کو روکے ہوئے ہیں، وہیں وہ بے رحم موسم کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کر رہے ہیں۔ اب تک پاکستان کے سینکڑوں سپاہیوں نے اس محاذ پر بھارتی قبضے کو روکنے اور سخت ترین سردی، برفانی تودوں اور ہواؤں کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ہے۔


سیاچن کے محاذ پر صرف پاکستان کا ہی نقصان نہیں ہو رہا ہے بلکہ بھارتی فوجی بھی مارے جا رہے ہیں۔ ہر سال جنگی محاذ پر بھارت 10 ارب روپے خرچ کر رہا ہے جبکہ پاکستان پر بھی اس کی وجہ سے مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس طرح دونوں ممالک اس جگہ بے مصرف جنگ پر اپنے مالی و جانی وسائل صرف کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس جنگی ساز و سامان اور اس کے استعمال سے ماحول پر مہلک اثرات پڑ رہے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ دونوں طرف سے فوجی کارروائیوں کی وجہ سے اس جگہ آبی حیات کو بہت زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کے علاوہ نشیب میں واقع درختوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ گلیشیئر بڑی تیزی کے ساتھ پگھل رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں سیلاب تواتر کے ساتھ آ رہے ہیں۔ بھارت کے بعض علاقے بھی زیادہ تیزی سے برف پگھلنے کی صورت میں سیلاب کی زد میں آ چکے ہیں۔


  1. ^ See http://www.bharat-rakshak.com/MONITOR/ISSUE6-1/Siachen.html for perhaps the most detailed treatment of the geography of the conflict, including its early days, and under section "3." the current status of Indian control of Gyong La, contrary to the oft-copied misstatement in the old error-plagued summary at http://www.globalsecurity.org/military/world/war/siachen.htm
  2. ^ "India has been able to hold on to the tactical advantage of the high ground… Most of India's many outposts are west of the Siachen Glacier along the Saltoro Ridge." Bearak, Barry (23 May 1999). "THE COLDEST WAR; Frozen in Fury on the Roof of the World". The New York Times. http://query.nytimes.com/gst/fullpage.html?res=9807EFDA1431F930A15756C0A96F958260&sec=&spon=&&scp=1&sq=%22May%2023,%201999%22%20%22Roof%20of%20the%20World%22&st=cse. Retrieved 20 February 2009. 
  3. ^ In an academic study with detailed maps and satellite images, co-authored by brigadiers from both the Pakistani and Indian military, pages 16 and 27: "Since 1984, the Indian army has been in physical possession of most of the heights on the Saltoro Range west of the Siachen Glacier, while the Pakistan army has held posts at lower elevations of western slopes of the spurs emanating from the Saltoro ridgeline. The Indian army has secured its position on the ridge-line". Hakeem, Asad; Gurmeet Kanwal, Michael Vannoni, Gaurav Rajen (1 September 2007). "Demilitarization of the Siachen Conflict Zone". Sandia Report. Sandia National Laboratories, Albuquerque, NM, USA. http://www.cmc.sandia.gov/cmc-papers/sand20075670.pdf. Retrieved 20 February 2009. 


سانچہ:لداخ