سید عطاء اللہ شاہ بخاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

پیدائش: 1891ء

وفات: 1961ء

سید عطاء اللہ شاہ بخاری دینی اور سیاسی رہنما مجلس احرار اسلام کے بانی تھے ۔1891ءکو پٹنہ میں پیدا ہوئے ۔ آبائی وطن موضع ناگڑیاں ضلع گجرات (پنجاب) تھا۔ لیکن آپ کے والد مولوی ضیاء الدین احمد نے بسلسلہ تبلیغ پٹنہ میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ سید صاحب زمانہ طالب علمی ہی میں سیاسی تحریکوں میں حصہ لینے لگے تھے۔ لیکن آپ کی سیاسی زندگی کی ابتداء 1918 میں کانگرس اور مسلم لیگ کے ایک مشترکہ جلسے سے ہوئی۔ جو تحریک خلافت کی حمایت میں امرتسر میں منعقد ہوا تھا۔ سیاسی زندگی بھر پور سفروں میں گذاری اور ہندوستان کے تمام علاقوں کے دورے کیے۔ اپنے زمانے کےمعروف ترین مقرر تھے اور لوگ ان کی تقریریں سننے کے لئے دور دور سے آتے تھے۔ سیاست میں "پنڈت کرپا رام برہمچاری، امیر شریعت اور ڈنڈے والا پیر " کے نام سے معروف تھے۔حیات امیر شریعت سوانح سید عطاء اللہ شاہ بخاری از جانباز مرزا مکتبہ تبصرہ لاہور صفحہ انگریز اور احمدیت دشمنی میں صف اول میں رہے۔حیات امیر شریعت سوانح سید عطاء اللہ شاہ بخاری از جانباز مرزا مکتبہ تبصرہ لاہور صفحہ 434 مجموعی طور پر 18 سال جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ 1929ء میں اپنے رفقا کے ساتھ مل کر مجلس احرار اسلام کے نام سے ایک علیحدہ سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی ۔ اور کئی سال اس کے صدر رہے۔ مجلس احرار تحریک پاکستان کے شدید مخالف جماعت تھی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کا مؤقف تھاکہ "پاکستان کے بارے میں گذشتہ سال میں نےجس جگہ بھی تقریر کی ہے۔ پاکستان کو مسلمانان ہندوستان کے مہلک بلکہ ہلاکت آفرین اور ہلاکت خیز بتایا ہے۔[1]

کانوں میں گونجتے ہیں بخاری کے زمزمے بلبل چہک رہا ہے ریاض رسول میں


خطابت اور شاعری[ترمیم]

قدرت نے آپ کو خطابت کا بے پناہ ملکہ ودیعت کر رکھا تھا۔ اس فن میں‌ بہت کم لوگ آپ کے مقابلے کے گزرے ہیں۔ اردو ، فارسی کے ہزاروں اشعار یاد تھے۔ خود بھی شاعر تھے اور ندیم تخلص کرتے تھے۔ ان کی زیادہ تر شاعری فارسی میں تھی۔ سواطع الالہام کے نام سے آپ کا مجموعہ کلام شائع ہوچکا ہے۔ برصغیر کی تقسیم سے قبل امرتسر میں قیام پذیر تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ملتان آگئے اور یہاں وفات پائی۔

آپ کے بارے میں لکھی جانے والی کتب[ترمیم]

مندرجہ دونوں کتابیں سید عطا اللہ شاہ صاحب کی سوانح کے بارے میں نہایت مستند اور مکمل تصانیف ہیں[2] [3]

  1. ^ حیات امیر شریعت سوانح سید عطاء اللہ شاہ بخاری از جانباز مرزا مکتبہ تبصرہ لاہور صفحہ 287
  2. ^ حیات امیر شریعت" از جانباز مرزا مکتبہ تبصرہ مطبع چٹان پریس لاہور جنوری 1970[1]
  3. ^ "سید عطاء اللہ شاہ بخاری" از آغا شورش کاشمیری مطبوعات چٹان لاہور"حیات امیر شریعت"