سینٹ بوناوینچرز ہائی اسکول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سینٹ بوناوینچرز ہائی اسکول
St Bonaventure's High School Logo.svg
We hold the fort
پتہ
فوجداری روڈ، صدر
حیدرآباد, سندھ
پاکستان
معلومات
قسم ہائی اسکول
مذہبی الحاق رومن کیتھولک گرجا
قائم 1920–1930
بانیسانچہ:If: آرکلس مئیرسمن
LEA کیتھولک تعلیمی مجلس
مجلس برائے وسطی و ثانوی تعلیم، حیدرآباد
انتظامیہ کیتھولک تعلیمی بورڈ
پرنسپل برٹرم ڈیسوزہ، اینجلہ ڈیسوزہ
Gender لڑکے (سٹی برانچ)، لڑکے اور لڑکیاں (قاسم آباد)
اندراج تقریباً 2000
علاقہ فوجداری روڈ
117,040 sq ft (10,873 m2)
قاسم آباد
88,610 sq ft (8,232 m2)
ہاؤسس      ایوب
     جناح
     لیاقت
     طارق
رنگ سفید، نارنجی اور کتھئی             
Affiliations آغا خان یونیورسٹی
سینٹ میریز کانوینٹ ہائی اسکول

سینٹ بوناوینچرز ہائی اسکول (متبادل: سینٹ بوناوینچرز بوائز ہائی اسکول) کی دو شاخیں فوجداری روڈ اور قاسم آباد، حیدرآباد، صوبہ سندھ، پاکستان میں واقع ہیں۔ یہ اسکول 1920ء کی دہائی میں قائم ہوا اور شہر کے قدیم ترین اسکولوں میں سے ایک ہے۔ یہ حیدرآباد کے رومن کیتھولک ڈایوسس (diocese) کی طرف سے چلایا جاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

1920ء کی دہائی میں جنوبی ہندوستان کے مشنری اداروں نے حیدرآباد میں چرچ کی طرف سے چلائے جانے والے ایک اسکول بنیاد رکھی۔[1] تاہم تقسیمِ ہندوستان اور قیامِ پاکستان (1945ء-1948ء) کے دوران، آرکلس مئیرسمن (پادری) نے نیا اسکول تعمیر کیا۔ آرکلس مئیرسمن ایک ڈچ ماں اور بیلجئن باپ کے ہاں کراچی کے فرانسسکن مدرسے میں پیدا ہوئے تھے۔[2] فرانسسکن نظریات سے گہری وابستگی کی وجہ سے آرکلس نے اسکول کا نام باگنوریجیو کے سینٹ بوناوینچر سے منسوب کیا۔ اگرچہ کچھ روایات کے مطابق اسکول کا نام رائٹ ریورنڈ بوناوینچر پیٹرک پال، سابق بشپ حیدرآباد، سے وابستہ ہے۔[3] تقسیمِ ہند کے بعد اسے ہائی اسکول کا درجہ دیا گیا اور باضابطہ طور پر سینٹ بوناوینچرز ہائی اسکول کا نام دیا گیا۔

کیتھولک تعلیمی مجلس نے اسکول چلانے اور اس کی تعمیروتوسیع کا ذمہ اٹھایا۔ اور وسطی ایشیا اور بھارت میں ان کی خدمات کے لئے سینٹ فرانسس زیویر کی یاد میں ایک چرچ تعمیر کیا۔ چرچ اور اسکول کی عمارات کا شمار حیدرآباد کے ثقافتی ورثے میں کیا جاتا ہے۔ [4] ابتداء میں ایک مخلوظ ادارے کے طور پر قائم ہوا، جس میں سے لڑکیوں کے لیے سینٹ میریز کانونٹ ہائی اسکول کے نام سے اسکول علیحدہ کیا گیا۔ عیسائی انتظامیہ کے تحت چلنے والے دونوں اسکولوں نے 1970ء کی دہائی تک طلباء کو انتہائی اعلٰی معیارِتعلیم مہیا کی، جب ان اسکولوں کو ذوالفقار علی بھٹو کی سوشلسٹ حکومت کے تحت سرکار کے حوالے کیا گیا۔[1]

جب 1972ء میں نجی ملکیت کے تمام اداروں کو حکومتِ پاکستان کے ماتحت کیا گیا تو ان اداروں کے معیار میں کمی واقع ہوئی۔[1] یہ 1992ء میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ اسکول کو بالآخر رومن کیتھولک ڈایوسس کے حوالہ کیا گیا۔ ملک کے دیگر حصوں میں عیسائی اداروں کو جون 2001ء میں نجی ملکیت ک حوالے کیا گیا۔[1] [5] موجودہ پرنسپل برٹرم ڈیسوزہ اور مسز انجیلا ڈیسوزہ 1960ء کی دہائی میں اساتذہ تھے۔ جو بعد میں رشتہ ازداج میں منسلک ہوئے اور بالآخر 1970ء میں مشترکہ پرنسپل بنے۔

References[ترمیم]