شاہد آفریدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
شاہد آفریدی
Afridi.jpg
پاکستان.svg.png پاکستان
ذاتی معلومات
اصل نام شاہد احمد خان آفریدی
دیگر نام بوم بوم آفریدی / آفریدی
تاریخ پیدائش 1 مارچ 1980 (1980-03-01) ‏(34)
کوہاٹ, پاکستان
کردار آل راؤنڈر
طریقہ بلےبازی دائیں ہاتھ سے
طریقہ گیندبازی رائٹ آرم لیگ بریک
بین الاقوامی کرکٹ
پہلا ٹیسٹ (کیپ 153) 22 اکتوبر 1998ء: بمقابلہ آسٹریلیا
آخری ٹیسٹ 27 جولائی 2006: بمقابلہ برطانیہ
پہلا ایک روزہ (کیپ 109) 2 اکتوبر 1996: بمقابلہ کینیا
آخری ایک روزہ 30 مارچ 2011:  v انڈیا
شرٹ نمبر 10
کیریئر شماریات
ٹوئنٹی/20 ایک روزہ ٹیسٹ
کل میچ 10 253 26
کل دوڑیں 158 5369 1683
اوسط بلے بازی 17.55 23.75 37.40
50/100 -- / -- 4 / 29 5 / 8
بہترین اسکور 39 109 156
کل گیند کرائے 225 10131 3092
وکٹ 14 217 47
اوسط گیند بازی 18.64 36.02 34.89
5 وکٹ -- 2 1
10 وکٹ -- -- --
بہترین گیند بازی 4/19 5/11 5/52
کیچ/سٹمپ 3 / -- 89 / -- 10 / --

آخری ترمیم 19 مارچ, 2008
حوالہ: [1]

شاہد آفریدی(شاہد آفریدی) کا نام پاکستان کے بہترین آل راؤنڈرز میں آتا ہے۔ ان کا پورا نام صاحبزادہ محمد شاہد خان آفریدی ہے، اور آپ 1 مارچ، 1980ء میں خیبر ایجنسی کے شہر کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ 1996ء میں کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھنے والے آفریدی بوم بوم آفریدی کے نام سے بھی پہچانے جاتے ہیں۔ ان کو یہ نام بھارت کے معروف کرکٹر اور کمنٹیٹر راوی شاستری نے دیا۔

آفریدی اپنی جارحانہ بلے بازی کی بدولت پوری دنیا میں پہچانے جاتے ہیں۔ اور اسی بدولت کئی ریکارڈ مثلا سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ اور سب سے بہترین اسٹرائیک ریٹ کا ریکارڈ اپنے نام کر چکے ہیں۔ حال ہی میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق وہ پاکستان کے سب سے مشہور کھلاڑی ہیں۔

انٹرنیشنل کیرئیر[ترمیم]

شاہد آفریدی نے کرکٹ میں قدم اکتوبر 1996ء میں صرف سولہ سال کی عمر میں رکھا جب ان کو مشتاق احمد کی جگہ لیگ اسپنر کے طور پر کھلایا گیا۔ اور جلد ہی اپنی تیز بلے بازی کی وجہ سے جانے جانے لگے۔ انہوں نے اپنی پہلی ہی اننگز میں ایک روزہ کرکٹ کی تیز ترین سنچری (سو اسکور) بنا ذالی جب انہوں نے 4 اکتوبر، 1996ء میں سری لنکا کے خلاف صرف 37 گیندوں کی مدد سے 102 رنز بنائے۔ یہ ریکارڈ ابھی بھی قائم ہے۔ سن 2011 کے ورلڈ کپ میں سری لنکا کے خلاف کھیلتے ہوئے ون ڈے کرکٹ میں تین سو وکٹوں کا حدف پورا کیا۔ وہ جے سوریا کے بعد دنیا کے دوسرے آل راونڈر ہیں جنہوں نے ون ڈے کرکٹ میں 6000 ہزار سے زائد رنز اور تین سو سے زائد وکٹیں حاصل کیں۔

اپنی جلد بازی اور تیز بلے بازی کی وجہ سے ان کو ٹیسٹ کرکٹ میں زیادہ مواقع نہیں دیے گئے۔ لیکن موقع ملنے پر وہ تماشا‎ئیوں کو اپنی بلے بازی کی وجہ سے مایوس نہیں کرتے۔ وہ کئی مرتبہ پاکستان کو بلے بازی اور گیند بازی کی وجہ سے جتوا چکے ہیں۔

آفریدی اپنے کیرئیر کے آغاز میں اوپنر کی حیثیت سے بلے بازی کرتے تھے۔ لیکن اب ان کو میچ کی صورت حال کے مطابق بلے بازی کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ انہوں نے کرکٹ کا آغاز البتہ گیند باز کی حیثیت سے کیا تھا لیکن اب ان کا شمار دنیا کے بہترین آل راؤنڈر ہوتا ہے ۔ کوچ باب وولمر نے ان کو ایک بہترین آل راؤنڈر کے طور پر تیار کیا۔

بلے بازی کا طریقہ[ترمیم]

شاہد آفریدی تیز بلے بازی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ اور شروع ہی سے گیند باز پو حاوی ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ "بوم بوم آفریدی" کے نام سے بھی پکارے جاتے ہیں۔ اپنی جارحانہ بلے بازی کی وجہ سے کئی ریکارڈ بھی اپنے نام کر چکے ہیں۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ چھکے مارنے والے کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ، سب سے بہترین اسٹرائیک ریٹ کا ریکارذ بھی اپنے نام کر چکے ہیں۔

تیز بلے بازی کرنے کی وجہ سے اکثر جلدی آؤٹ بھی ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ اسی وجہ سے اکثر ٹیم سے باہر بھی ہو چکے ہیں۔ لیکن وہ کسی بھی صورت میں اپنے بلے بازی کا طریقہ نہیں بدلتے اور کئی بار مسلسل ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ ان کا سب سے پسندیدہ شاٹ سیدھا ہوا میں کھیلنا ہے۔ آفریدی اپنے مضبوط مصافحہ اور اپنے غسے کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔

ریٹائرمنٹ اور واپسی[ترمیم]

اپریل 12، 2006 کو اچانک انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا اعلان کیا تا کہ وہ اپنی پوری توجہ ایک روزہ کرکٹ پر دے سکیں۔ بہت زیادہ کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے ان کا کارکردگی میں اکثر فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔ اور اسی وجہ سے انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ کو خیر آباد کہا۔

لیکن کچھ ہی دنوں بعد 27 اپریل، 2006 کو انہوں نے یہ فیصلہ واپس لے لیا۔ اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر شہر یار خان نے آفریدی کو ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی پر آمادہ کیا۔ سن 2010 میں دورہ انگلینڈ کے دوران ٹیسٹ کرکٹ کو ہمیشہ کے لیے خیر آباد کہا۔ 2011 کے ورلڈ کپ کے لیے ان کو پاکستانی ون ڈے سکواڈ کا کپتان مقرر کیا گیا۔

کیرئیر کی جھلکیاں[ترمیم]

  • 4 اکتوبر، 1996ء میں سری لنکا کے خلاف صرف 37 گیندوں کی مدد سے 102 رنز بنانے کا اعزاز۔[1]
  • اپنی پہلی سنچری (سو اسکور) صرف سولہ سال 217 دن کی عمر میں بنالے کا اغزاز۔
  • مارچ 2005ء میں بھارت کے خلاف دوسری اننگز میں صرف 26 گیندوں پر پچاس رنز بنائے اور 3 وکٹ لے کر پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی میچ میں آفریدی کو راوی شاستری نے "بوم بوم آفریدی کا نام دیا۔
  • ایک روزا کرکٹ میں سب سے زیادہ چھکے مارنے کا ریکارڈ۔
  • جنوری 2006ء میں بھارت کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ہربھجن سنگھ کو لگا تار چار گیندوں پر چکھے رسید کیے۔ یہ ان سے پہلے صرف کپل دیو کر چکے تھے۔
  • 2007ء میں سری لنکا کے گیند باز ملنگا بندارہ کو ایک اوور میں 32 رنز دے مارے۔ یہ کرکٹ کا دوسرا مہنگا ترین اوور تھا۔
  • کرکٹ کے صرف تیسرے کھلاڑی ہیں جو 5،000 رنز کرنے کے ساتھ 200 وکٹیں بھی لے چکے ہیں۔ دوسرے دو کھلاڑی سنتھ جے سوریا اور جیک کیلس۔

ٹیسٹ سینچریاں[ترمیم]

  • رنز کے کالم میں, * ناٹ آؤٹ کا اشارہ ہے
  • میچ نمبر کا کالم کھلاڑی کے کھیلے گئے میچ کا نمبر ہے
شاہد آفریدی کی ٹیسٹ سینچریاں
رنز میچ نمبر خلاف شہر/ملک اسٹیڈئم Year
[1] 141 2 بھارت چنائی, انڈیا ایم اے چدمبرم اسٹیڈئم 1999
[2] 107 12 ویسٹ ایڈیز شارجہ, متحدہ عرب امارات شارجہ سی اے اسٹیڈئم 2002
[3] 122 18 ویسٹ انڈیز برج ٹاؤن, بارباڈوس کینسنگٹن،اوول 2005
[4] 103 21 بھارت لاہور, پاکستان قذافی اسٹیڈئم 2006
[5] 156 22 بھارت فیصل آباد, پاکستان اقبال اسٹیڈئم 2006

ایک روزہ بین الاقوامی سینچریاں[ترمیم]

  • رنز کے کالم میں, * ناٹ آؤٹ کا اشارہ ہے
  • میچ نمبر کا کالم کھلاڑی کے کھیلے گئے میچ کا نمبر ہے
شاہد آفریدی کی ایک روزہ بین الاقوامی سینچریاں
رنز میچ نمبر خلاف شہر/ملک جگہ سال
[1] 102 2 سری لنکا نیروبی, کینیا نیروبی جمخانہ 1996
[2] 109 65 بھارت ٹورانٹو, کینیڈا ٹورانٹو سی ایس سی سی 1998
[3] 108* 146 نیوزی لینڈ شارجہ, متحدہ عرب امارات شارجہ سی اے اسٹیڈیم 2002
[4] 102 204 بھارت کانپور, بھارت گرین پارک اسٹیڈیم 2005

تنقید[ترمیم]

31 جنوری 2010ء کو آسٹریلیا کے خلاف پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں شاہد آفریدی گیند کی ہئیت تبدیل کرتے ہوئے پائے گئے۔ ٹی وی کیمروں کی مدد سے دیکھی گئی تصاویر میں وہ گیند چبا رہے تھے۔ انھوں نے اپنی غلطی تسلیم کی اور میچ ریفری نے ان پر دو ٹونٹی ٹونٹی میچوں میں شرکت پر پابندی لگا دی۔ اس میچ میں وہ کپتان کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ کرکٹ کے شائقین اور تمام حلقوں میں شاہد آفریدی کی اس حرکت کو انتہائی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ گو کئی سابقہ پاکستانی کرکٹروں بشمول عمران خان اور رمیز راجہ نے آفریدی کا دفاع بھی کیا لیکن کھیلوں میں اس قسم کی ممنوع حرکات پر ان کا رویہ بھی سخت رہا.2007 کے ورلڈ قپ سے کچھ پہلے آفریدی نے جنوبی افریقہ کے خلاف ایک میچ میں آوٹ ہونے کے بعد جنوبی افریقہ کے ایک شخص کے سر پر بلا مار دیا جس کی وجہ سے اس پر ورلڈ قپ کے دو میچوں پر پابندی لگا دی۔[2]

کرکٹ ورلڈ کپ 2011 میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بالر ہیں شاہد آفریدی نے اس ورلڈ کپ میں 21 وکٹیں لے کر یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ http://www.shahidafridi.tv/
  2. ^ آفریدی کو گیند چبانے کی سزا

سانچہ:تمغا حسن کارکردگی برائے کھیل