شاہنامہ
وکیپیڈیا سے
شاہنامہ جس کا لفظی مطلب شاہ کے بارے یا کارنامے بنتا ہے، فارسی ادب میں ممتاز مقام رکھنے والی شاعرانہ تصنیف ہے جو کہ فارسی شاعر فردوسی نے تقریباً 1000ء میں لکھی۔ اس شعری مجموعہ میں “عظیم فارس“ کے تہذیبی و ثقافتی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ مجموعہ تقریباً 60000 سے زائد اشعار پر مشتمل ہے۔[1] اس ادبی شاہکار، شاہنامہ میں ایرانی داستانیں اور ایرانی سلطنت کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ یہ واقعات شاعرانہ انداز میں بیان کیے گئے ہیں اور اس میں عظیم فارس سے لے کر اسلامی سلطنت کے قیام تک کے واقعات، تہذیب، تمدن اور ثقافت کا احاطہ کیا گیا ہے۔
ایرانی تہذیب اور ثقافت میں شاہنامہ کو اب بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے، جس کو اہل دانش فارسی ادب میں انتہائی لاجواب ادبی خدمات میں شمار کرتے ہیں۔
[ترمیم] مزید دیکھیے
[ترمیم] حوالہ جات
- ^ فرح لالہ نی، "فردوسی کے شاہنامہ کا ہزار سالہ جشن"، اسماعیلی ڈاٹ آرگ، http://www.theismaili.org/cms/998/A-thousand-years-of-Firdawsis-Shahnama-is-celebrated
[ترمیم] بیرونی روابط
| وکیمیڈیا العام میں شاہنامہ سے متعلق وسیط موجود ہے |