شاہ حسین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
شاہ حسین
پیشہ شاعر
نژادیت پنجابی
لکھائی دور مغلیہ سلطنت
صِنف کافی

شاہ حسین ایک پنجابی شاعر تھے۔ شاہ حسین کو مادھو لال کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔


ابتدائی زندگی[ترمیم]

شاہ حسین ایک صوفی اور شاعر تھے۔ شاہ حسین 1539ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا ہندو تھے لیکن والد حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور نام شیخ عثمان رکھا گیا۔ لاہور کے ٹکسالی دروازے میں رہائش پذیر ہوئے۔

زندگی[ترمیم]

یہ زمانہ مغلیہ سلطنت کے مرکزی علاقوں میں احیائے دین کی تحریکوں کا زمانہ تھا جس کا رد عمل قادریہ مسلک کی صورت میں مروجہ صوفیانہ بغاوت کے علمبردار کے حیثیت سے سامنے آیا [حوالہ درکار]۔ اس مسلک کی تشکیل میں بھگتی اثرات کے علاوہ ملامتی مکاتیبِ فکر نے بھی حصہ لیا تھا اور اس نظام فکر کا اولین اظہار شاہ حسین کی صوفیانہ بغاوت کی صورت میں ہوا۔ ان کے گھرانے میں ہندو ثقافتی اور مذہبی اثرات بدستور موجود تھے۔ شاہ حسین پیشہ کے اعتبار سے بافندے تھے اور انہوں نے اپنے اس طبقاتی پس منظر کا کھلے دل کے ساتھ اظہار بھی کیا [حوالہ درکار]۔

جنیوٹ کے قادری صوفی شیخ بہلول نے انہیں اپنے حلقے میں شامل کر لیا اور شاہ حسین کے شب وروز عبادتوں اور ریاضتوں میں بسر ہونے لگے۔ یہ سلسلہ چھتیس برس جاری رہا۔ انہی دنوں شیخ سعد اللہ نامی ایک ملامتی درویش لاہور آنکلے۔ وہ کامل ملامتی تھے [حوالہ درکار]۔ شاہ حسین نے ان کی صورت میں جب بغاوت کو مجسم دیکھا تو ان کے گرویدہ ہو گئے اور ان کی صحبت میں شاہ حسین مدہوش ہوتے گئے۔ شیخ بہلول حدود سے اس حد تک تجاوز کو پسند نہ کرتے تھے مگر شاگرد ”اصلاح “ کے مقامات سے گزر چکا تھا [حوالہ درکار]۔ وہ رقص کرتے، وجد میں رہتے ، دھمال ڈالتے اور لال رنگ کے کپڑے پہنتے [حوالہ درکار]۔ اسی بنا پر لال حسین کے نام سے مشہور ہو گئے۔ اور اپنے حال میں مست رہے۔ انہی دنوں ایک برہمن زادے نے ان کی خود اعتمادی ، خود پر ستی اور حق شناسی کے آئینے کو ایک ہی نظر میں چور چور کر دیا۔ شاہ حسین اس کے پیچھے ہو لیے [حوالہ درکار]۔ کئی برس اسی تعلق میں گزار دیے [حوالہ درکار]۔ بالآخر حسین کا معرکہ عشق کی کامیابی پر ختم ہوا، اور مادھو نے اپنا دین ایمان دوست ? [حوالہ درکار] پر نچھاور کر دیا اور زندگی ان کی دلجوئی کے لئے وقف کر دی [حوالہ درکار]۔

شاعری[ترمیم]

عشقِ حقیقی میں ڈوبی ہوئی یہ آواز ایک درویش صفت اور مست الست انسان کی آواز ہے جو آج سے تقریبا ساڑھے چار سو سال قبل خطہ پنجاب میں گونجی اور پھر دیکھتے دیکھتے پاک و ہند میں پھیل گئی [حوالہ درکار]۔ شاہ حسین پنجاب کے ان سرکردہ صوفیاء میں سے ہیں جنہوں نے برصغیر میں خدا کی وحدانیت کا پیغام گھر گھر پہنچایا [حوالہ درکار]۔

پنجاب کے چند صوفی دانشوروں کی طرح حسینی فکر بھی عقل کی جگہ حس پر زیادہ توجہ دیتی تھی۔ شاہ حسین نے شاعری کو وسیلہ اظہار بنایا اور موسیقی آمیز شاعری کے ذریعے اپنے افکار و نظریہ کو خاص و عام میں فروغ دینے کی کوشش کی۔ صوفیانہ اظہار کی یہ صورت بعد ازاں پنجاب کی شاعری میں ایک صنف بن گئی۔ وہ صاحب حال صوفی تھے ان پر جو کیفیات گزرتیں، سادہ زبان میں بیان کر دیتے۔ قوتِ مشاہدہ کی بدولت ان کی شاعری کے سادہ الفاظ میں گہرے معنی پائے جانے لگے اور ان کی کافیوں میں استعمال کیے گئے عام الفاظ علامتوں کا روپ دھارنے لگے۔ شاہ حسین کی روز مرہ زندگی ملامتی زندگی میں رچی ہوئی تھی [حوالہ درکار]۔ ان کے مطابق طالب اور مطلوب کے درمیان رابطے کے لئے کسی تیسری ذات کی موجودگی اور اس کا فعال تعاون، بے حدی ضروری ہے [حوالہ درکار]۔ تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ مغلیہ حاکموں کی بہت سی بیگمات اور شہزادیاں شاہ حسین کو اپنا بزرگ مانتی تھیں مگر شاہ حسین شاہی خانوادے کے اِس التفات سے بے نیاز تھے اور اپنے ڈھنگ کی زندگی بسر کرتے تھے [حوالہ درکار]۔

انتقال[ترمیم]

لاہور میں برس ہابرس تک درو یشانہ رقص و سرود کی محفلیں آباد کرنے کے بعد یہ درویش 1599ء میں اللہ کو پیارا ہو گئے۔ ان کی قبر اور مزار لاہور کے شالیمار باغ کے قریب باغبانپورہ میں واقع ہے، ہر سال میلہ چراغاں کے موقع پر ان کا عرس منایا جاتا ہے۔

ان کے کلام کے بارے میں[ترمیم]

  • "پنجاب کے عظیم صوفی شاعر"، مصنف: آر۔ایم۔چوپڑا (انگریزی میں), 1999

بیرونی روابط[ترمیم]


حوالہ جات[ترمیم]