شاہ عبداللطیف بھٹائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
شاہ عبداللطیف بھٹائی

شاہ عبداللطیف بھٹائی
شاھ عبدالطيف ڀٽائيِ
تاریخ پیدائش جمعۃ المبارک، 18 نومبر 1689ء (بمطابق 6 صفر1101ھ)
سوئی قندر (بھٹ شاہ) ھالا , سندھ (پاکستان)
تاریخ وفات ہفتہ، 1جنوری, 1752ء (بمطابق 14 صفر 1165ھ)
بھٹ شاہ
مؤثر شخصیات انبیائے کرام, جلال الدین رومی, فرید الدین عطار, شیخ سعدی
متاثر شخصیات بیشمار پاکستانی صوفی شعراء بشمول سچل سرمست
اصناف شاعری

شاہ عبدالطیف بھٹائی (سندھی زبان، شاھ عبدالطيف ڀٽائيِ) برصغیر کے عظیم شاعر تھے۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیغام کو عام لوگوں تک پہنچایا۔

شاھ عبداللطیف بھٹاؕئی کی ولادت 1689ع ، 1101 ھہ مین موجودہ ضلع مٹیاری کے تعلقہ ھالا مین ہوئی۔ آپ کے والد سید حبیب شاھ ھالا حولیلی میں رہتے تھے۔ اور موصوف کا شمار اس علاقے کی برگزیدہ ھستیوں میں تھا۔

شاھ صاحب کی پیدائش کے متعلق مشہور ہے کہ سید حبیب نے یکے بعد دیگرے تین شادیاں کیں لیکن اولاد سے محروم رہے۔ آپ نے اپنی اس محرومی کا ذکر ایک درویش کامل سے کیا، جن کا اسم گرامی عبداللطیف بتایا جاتا ہے۔ موصوف نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ آپ کی مراد بر آئے گی۔ میری خواھش ہے کہ آپ اپنے بیٹے کا نام میرے نام پر عبداللطیف رکھین۔ خدا نے چاھا تو وہ اپنی خصوصیات کے لحاظ سے یکتائے روزگار ہو گا۔

سید حبیب کی پہلی بیوی سے ایک بچہ پیدا ہوا۔ درویش کی خواھش کے مطابق اس کا نام عبداللطیف رکھا گیا۔ لیکن وہ بچپن میں ہی فوت ہو گیا۔ پھر اسی بیوی سے جب دوسرا لڑکا پیدا ہوا تو اس کا نام پھر عبداللطیف رکھا گیا۔ یہی لڑکا آگے چل کر درویش کی پیشن گوئی کے مطابق واقعی عگانہ روزگار ہوا۔


آباؤ اجداد[ترمیم]

شاھ بھٹائی کے آباؤ اجداد سادات کے ایک اہم خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور رسول خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم تک پہنچتا ہے۔ امیر تیمور کے زمانے میں ھرات کے ایک بزرگ سید میر علی بہت سی خوبیون کے مالک تھے۔ اور آپ کا شمار اس علاقے کے معزز ترین افراد میں ھوتا تھا۔ 1398ء ، 2-801ھ میں جب امیر تیمور ھرات آیا، تو سید صاحب نے اس کی اس کے ساتھیوں کی بڑی خاطر و تواضع کی، ساتھ ھی بڑی رقم بطور نذرانہ پیش کی۔ تیمور اس حسن سلوک سے متاثر ہوا۔ سید صاحب اور ان کے دو بیٹوں میر ابوبکر اور حیدرشاھ کو مصاحبین خاص میں شامل کر کے ھندوستان لے آیا۔یہاں آنے کے بعد میر ابوبکر کو سندھ کے علاقے سیوہن کا حاکم مقرر کیا۔ اور سید میر علی اور حیدر شاہ کو اپنے ساتھ رکھا۔ بعد کو سید حیدر شاہ بھی اپنے والد بزرگوار اور تیمور کی اجازت سے گھومتے پھرتے مستقل طور پر سندھ میں آ گئے۔ اور ھالا کے علاقے میں شاھ محمد زمیندار کے مھمان ہوئے۔ شاھ محمد نے آپ کی کچھ اس طرح خدمت کی کہ وقتی راہ و رسم پر خلوص محبت میں بدل گئی۔ کچھ دنون بعد اس نے اپنی لڑکی فاطمہ کی شادی آپ سے کردی۔ چونکہ آپ کی مان کا نام بھی فاطمہ تھا ، اس لئے شادی کے بعد اس نام کو سلطانہ سے بدل دیا گیا۔سید حیدر شاھ قریب قریب تین سال تک ھالا میں رھے پھر اپنے والد کی وفات کی خبر سن کر ھرات ھئے جہاں تین چار سال تک رہنے کے بعد وہیں وفات پا گئے۔ کہتے ہیں جب سید صاحب ھرات روانہ ہوئے تو آپ کی اھلیہ حاملہ تھیں انھون نے چلتے وقت یہ وصیت کی تھی کہ اگر میری عدم موجودگی میں بچہ پیدا ہوا تو لڑکا ہونے کی صورت میں اس کا نام میر علی اور لڑکی ہو تہ فاطمہ رکھا جائے۔چناچہ لڑکا پیدا ہوا۔ اور وصیت کے مطابق اس کا نام میر علی رکھا گیا۔ میر علی کے خاندان میں بڑے بڑے صاحب کمال بزرگ پیدا ہوئے، ان بزرگوں میں شاھ لطیف کے علاوہ، شاھ عبدالکریم بلڑی وارو، سید ھاشم اور سید جلال خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔


حالات زندگی[ترمیم]

شاھ لطیف کی ولادت کے کچھ دنوں بعد ان کے والد اپنے آبائی گاوں چھوڑ کر کوتڑی میں آکر رہنے لگے۔ پانج چھ سال کی عمر میں آخوند نور محمد کی مشہور درسگاہ میں تحصیل علم کے لئے بھیجے گئے۔عام روایت ہے کہ شاہ صاحب نے الف کی سوا کچھ اور پڑھنے سے صاف انکار کردیا۔

جن دنون شاہ حبیب کوٹڑی میں آ کر آباد ہوئے ان دنوں کوٹڑی میں مرزا مغل بیگ ارغون کا ایک معزز خاندان سکونت پذیر تھا۔ شاھ حبیب کی پاکبازی اور بزرگی نے مغل بیگ کو بہت متاثر کیا۔ کچھ دنوں بعد وہ اپنے پورے خاندان کے ساتھ مریدوں میں شامل ہو گئے۔ جب کبھی مرزا کے گھر میں کسی کو کوئی بیماری ہوتی شاھ حبیب کو دعائے صحت کے لئے بلایا جاتا۔ گو کہ مرزا کے گھر میں سخت قسم کا پردے کا رواج تھا لیکن شاھ حبیب کے لئے اس رسم کو بلکل ختم کردیا گیا۔ گھر کی مستورات بلا تکلف ان کے سامنے آجاتیں اور حسب ضرورت دعا تعویذ لے کر آنے والی بلاؤں کو ٹالتیں۔

ایک مرتبہ مرزا مغل بیگ کی نوجوان بیٹی بیمار ہو گئی۔ حسب معمول شاھ حبیب کے پاس ملازم بھیجا گیا، اتفاق سے شاھ حبیب کی طبیعت بھی کجھ ناساز تھی۔ اس لئے انھوں نے اپنے نو عمر بیٹے کو ملازم کے ساتھ روانہ کردیا۔

آپ نے سندھی شاعری سے لوگوں کی اصلاح کی۔ شاہ جو رسالو آپ ہی کی ایک عظیم کوشش ہے۔

وفات[ترمیم]

آپ 1752ء میں 63 سال کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔