فیصل مسجد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(شاہ فیصل مسجد سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
فیصل مسجد
Faisal Mosque
متناسقات: 33°43′48″N 73°02′18″E / 33.729944°N 73.038436°E / 33.729944; 73.038436متناسقات: 33°43′48″N 73°02′18″E / 33.729944°N 73.038436°E / 33.729944; 73.038436
مقام اسلام آباد، پاکستان
سال تاسیس 1987
معلومات طرزِ تعمیر
ماہر تعمیرات ویدات دالوکے
طرز تعمیر اسلامی معاصر
گنجائش 74,000 مرکزی علاقوں کے اندر,[1] تقریبا. 200,000 ملحقہ میدانوں میں
رقبہ 5,000 m2 (54,000 sq ft)
تعداد مینار 4
بلندیٔ مینار 90 m (300 ft)
تعمیری لاگت 120 ملین امریکی ڈالر

فیصل مسجد [2] پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں قائم ایک عظیم الشان عبادت گاہ ہے جسے جنوبی ایشیاء کی سب سے بڑی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ عظیم مسجد اپنے انوکھے طرز تعمیر کے باعث تمام مسلم دنیا میں معروف ہے۔

تاریخ[ترمیم]

رات کے وقت شاہ فیصل مسجد کا ایک دلکش نظارہ

شاہ فیصل مسجد کی تعمیر کی تحریک سعودی فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے 1966 کے اپنے دورہ اسلام آباد میں دی۔ 1969 میں ایک بین الاقوامی مقابلہ منعقد کرایا گیا جس میں 17 ممالک کے 43 ماہر فن تعمیر نے اپنے نمونے پیش کیے۔ چار روزہ مباحثہ کے بعد ترکی کے ویدت دالوکے کا پیش کردہ نمونہ منتخب کیا گیا۔ پہلے پہل نمونے کو روایتی مسجدی محرابوں اور گنبدوں سے مختلف ہونے کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں مسجد کی خوبصورت تعمیر نے تمام نقادوں کی زبان گنگ کر دی۔

سعودی حکومت کی مدد سے دس لاکھ سعودی ریال (کم و بیش ایک کروڑ بیس لاکھ امریکی ڈالر) کی لاگت سے 1976 میں مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا گیا۔ تعمیری اخراجات میں بڑا حصہ دینے پر مسجد اور کراچی کی اہم ترین شاہراہ 1975ء میں شاہ فیصل کی وفات کے بعد ان کے نام سے موسوم کردی گئی۔ تعمیراتی کام 1986ء میں مکمل ہوا اور احاطہ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی بنائی گئی۔ سابق صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کے مزار کی چھوٹی سی عمارت مسجد کے مرکزی دروازے کے قریب واقع ہے۔

فن تعمیر[ترمیم]

مسجد کا اندرونی منظر

مسجد 5000 مربع میٹر پر محیط ہے اور بیرونی احاطہ کو شامل کرکے اس میں بیک وقت میں300,000 نمازیوں کی گنجائش ہے۔ یہ دنیا کی بڑی مساجد میں سے ایک اور برصغیر کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ فن تعمیر جدید ہے، لیکن ساتھ ہی روایتی عربی فن تعمیر کی نمائندگی کرتا ہے جو ایک بڑا تکونی خیمے اور چار میناروں پر مشتمل ہے۔ روایتی مسجدی نمونوں سے مختلف اس میں کوئی گنبد نہیں ہے اور ایک خیمہ کی طرح مرکزی عبادت گاہ کو چار میناروں سے سہارا دیا گیا ہے۔ مینار ترکی فن تعمیر کے عکاس ہیں جو عام مینار کے مقابلے میں باریک ہیں۔ مسجد کے اندر مرکز میں ایک بڑا برقی فانوس نسب ہے اور مشہور زمانہ پاکستانی خطاط صادقین نے دیواروں پر پچی کاری کے ذریعے قرآنی آیات تحریر کی ہیں جو فن خطاطی کا عیم شاہکار ہیں۔ پچی کاری مغربی دیوار سے شروع ہوتی ہے جہاں خط کوفی میں کلمہ لکھا گیا ہے۔

مسجد کا فن تعمیر عرصہ دراز سے ہونے والے جنوبی ایشیائی مسلم فن تعمیر سے مختلف ہے اور کئی انداز میں روایتی عربی، ترکی اور ہندی طرز تعمیر کا امتزاج ظاہر کرتا ہے۔

محل وقوع[ترمیم]

مسجد شاہراہ اسلام آباد کے اختتام پر واقع ہے، جو شہر کے آخری سرے پر مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں ایک خوبصورت منظر دیتی ہے۔ یہ اسلام آباد کے لیے ایک مرکز اور شہر کی سب سے مشہور پہچان ہے۔

مزید تصاویر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام archnet کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  2. ^ http://islamik12.blogspot.com/2014/04/top-0-lagest-mosque-in-world.html