شاہ ولی افغان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
شاه ولي
شاہ ولی
اصناف غزل
کلاسیکی موسیقی
پیشے گلوکار
سالہائے فعالیت 1963ء–تاحال

شاہ ولی افغان، افغانستان سے تعلق رکھنے والے نامور موسیقار اور گلوکار ہیں۔ شاہ ولی افغان 1952ء میں افغانستان کے صوبہ کپسیا کے ضلع تغب میں پیدا ہوئے۔[1]
شاہ ولی، نسل سے پشتون ہیں۔[2] اور انھوں نے پشتو، فارسی اور اردو زبان میں تقریباً 300 سے زائد نغموں کی گلوکاری اور موسیقاری کی۔ شاہ ولی کے والد ایک تاجر تھے اور ان کا موسیقی کے شعبہ سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ شاہ ولی افغان نے اپنی محنت اور شوق کے بل بوتے پر موسیقی کے شعبہ میں تربیت حاصل کی اور نام کمایا۔
افغانستان پر روسی حملے کے وقت شاہ ولی افغان پاکستان ہجرت کر گئے، اور یہاں آنے سے پہلے ہی وہ تقریباً 250 سے زائد نغمے افغانستان ٹیلی ویژن کے لیے تخلیق کر چکے تھے۔ پاکستان آمد کے بعد پٹیالہ خاندان کے نامور گلوکار استاد نواب علی خان نے شاہ ولی کو اپنی شاگردی میں لے لیا اور تقریباً بارہ سال تک ان کی موسیقی کے شعبہ میں تعلیم و تربیت کی۔ پاکستان میں انھیں نے شہنشاہ غزل مہدی حسن، فریدہ خانم اور نواب شہاب الدین شہاب سے موسیقاری، ترنگ اور گلوکاری نکھارنے کا موقع میسر آیا، اور یوں 1985ء کے اواخر تک وہ پاکستان کے سب سے مشہور افغان گلوکار بن گئے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں اس پایے کا دوسرا افغان گلوکار دوسرا موجود نہیں ہے۔ [3] ان کی پاکستان میں پٹیالہ خاندان اور دوسرے نامور گلوکاروں کے ہاں تربیت مکمل ہونے پر “استاد“ کا خطاب عطا کیا گیا۔ شاہ ولی افغان کی فنی زندگی کی ابتداء ان کے مشہور نغمے “ شاہ لیلی راشہ“ سے ہوئی جو کہ انھوں نے افغانستان ٹیلی ویژن کے لیے تخلیق کیا تھا اور گلوکاری کے فرائض بھی خود سرانجام دیے، اس نغمے کے مشہور ہونے کے بعد ان کا فنی سفر اب تک جاری ہے۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

شاہ ولی افغان کی شادی ان کے خاندان میں ہوئی اور ان کے بارہ بچے ہیں۔ [حوالہ درکار] بارہ بچوں میں سات بیٹے جبکہ پانچ بیٹیاں ہیں۔ [حوالہ درکار] شاہ ولی افغان اپنے خاندان کے ہمراہ اب کینیڈا میں سکونت اختیار کر چکے ہیں۔ [حوالہ درکار] اور اپنے کئی شاگردوں کو موسیقی کی تربیت دیتے ہیں۔[4]

تخلیقات[ترمیم]

  • وطن
  • افغانستان سے نغمات محبت (د مينې سندرې له افغانستان نه)
  • نازولے لیلی (نازولې ليلا)

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ نصیر استورے (2007ء)، پشتانہ ہنرمندان، دہ پشتونخواہ دہ پوہانے ڈیرہ، ص: 41
  2. ^ ارجن اپھاردی، فرانک جے کوروم، مارگریٹ این ملز (1991ء)، Gender, Genre, and Power in South Asian Expressive Traditions، یونیورسٹی آف پینانسویلا پریس، ص: 310
  3. ^ السن آرنلڈ (2000ء)، The Garland Encyclopedia of World Music، ٹیلر اینڈ فرانسس، ص: 835
  4. ^ "شاہ ولی کے ساتھ - یاد گیرونہ" (in پشتو)، پاکستان ٹیلی ویژن، http://www.youtube.com/watch?v=fk4OYaDddJQ