شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مسلمانان ہند و پاک کے دورِ زوال کی اہم ترین شخصیت (پیدائش: 1703ء، انتقال:1762ء) برصغیر پاک و ہند میں جب مسلمانوں کا زوال شروع ہوا تو بہت سے لوگوں نے سنجیدگی کے ساتھ زوال کے اسباب پر غور کرنا شروع کیا ان لوگوں میں عہد مغلیہ کے مشہور عالم اور مصنف شاہ ولی اللہ (1703ء تا 1763ء) کا نام سب سے نمایاں ہے۔ مجدد الف ثانی اور ان کے ساتھیوں نے اصلاح کا جو کام شروع کیا تھا شاہ ولی اللہ نے اس کام کی رفتار اور تیز کردی۔ ان دونوں میں بس یہ فرق تھا کہ مجدد الف ثانی چونکہ مسلمانوں کے عہد عروج میں ہوئے تھے اس لئے ان کی توجہ زیادہ تر ان خرابیوں کی طرف رہی جو مسلمانوں میں غیر مسلموں نے میل جول کی وجہ سے پھیل گئی تھیں لیکن شاہ ولی اللہ چونکہ ایک ایسے زمانے سے تعلق رکھتے تھے جب مسلمانوں کا زوال شروع ہوگیا تھا اس لئے انہوں نے مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر بھی غور کیا اور اس کے علاج کے بھی طریقے بتائے

ابتدائی زندگی[ترمیم]

شاہ ولی اللہ مجدد الف ثانی کے انتقال کے تقریبا 80 سال بعد دہلی میں پیدا ہوئے۔ وہ ابھی چار سال کے تھے کہ شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کا انتقال ہوگیا اس کے چند سال بعد مغلوں کی عظیم الشان سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہونا شروع ہوگئی۔ سارے ملک میں بدامنی پھیل گئی اور مرہٹےملک کے بہت بڑے حصے پر قابض ہونے کے بعد دہلی پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھنے لگے۔

مسلمانوں کی نہ صرف سیاسی حالت خرابی تھی بلکہ وہ اخلاقی حیثیت سے بھی زوال کی طرف جارہے تھے۔ آرام طلبی، عیش و عشرت، دولت سے محبت، خود غرضی، بے ایمانی اور اسی قسم کی دوسری خرابیاں ان میں عام ہوگئی تھیں۔ شاہ ولی اللہ نے اپنی تصنیف و تالیف اور اصلاح کا کام اسی نازک زمانے میں شروع کیا۔ ان کی کوشش تھی کہ ایک طرف مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہو اور وہ پھر سے ایک مضبوط سلطنت قائم کریں اور دوسری طرف اپنی اخلاقی خرابیوں کو دور کرکے اور غیر اسلامی طریقوں و رسوم و رواج کو چھوڑ کو دورِ اول کے مسلمانوں جیسی زندگی اختیار کرلیں۔

اصلاح کا کام[ترمیم]

انہوں نے مسلمانوں کو سیاسی حیثیت سے مضبوط بنانے کے لئے بادشاہوں اور امراء سے خط و کتابت بھی کی۔ چنانچہ احمد شاہ ابدالی نے اپنا مشہور حملہ شاہ ولی اللہ کے خط پر ہی کیا جس میں اس نے پانی پت کی تیسری لڑائی میں مرہٹوں کو شکست دی تھی۔

شاہ ولی اللہ نے سماجی اصلاح کا بھی کام کیا۔ مسلمانوں میں ہندوؤں کے اثر کی وجہ سے بیوہ عورتوں کی شادی بری سمجھی جانے لگی تھی۔ شاہ ولی اللہ نے اس رسم کی مخالفت کی اسی طرح انہوں نے بڑے بڑے مہر باندھنے اور خوشی و غم کے موقع پر فضول خرچی سے روکا۔ حضرت شاہ ولی اللہ امت کے کلیدی مسائل کو مستقبل کی نظر سے بھی دیکھتے تھے ۔ آپ نے اپنی کتاب تفہیمات الٰہیہ میں حضرت عیسیٰ کی آمد کو مد ِنظر رکھتے ہوئے آیت خاتم النبین اور حدیث لا نبی بعدی کی صحیح اور محقق تفسیر پیش کی ہے کہ اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف تشریعی نبوت ختم ہوئی ہے نہ کی مقام نبوت۔ لیکن ہمارے علماء نے آج کل یہ کام پکڑا ہوا ہے کہ لوگوں کو یعنی عوام کو اصل تاریخ ہی نہیں بتاتے ۔ اگر یہ حوالہ قادیانی اپنے حق میں پیش کرتے ہیں تو کیا ہم تاریخ سے یہ چیزیں نکال دیں گے اور سچائی چھپائیں گے ؟ ، کوئی رہے یا نہ رہے لیکن ہم یعنی یہ امت ضرور رہے گی اور اللہ تعالیٰ ان علماء کی جگہ ایسے علماء لے آئے گا جو سچ بات بتائیں گے یہ نہیں دیکھیں گے کہ بات ان کے حق میں جاتی ہے یا دوسرے کے حق میں۔

انہوں نے مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کی اور اس پر زور دیا کہ اختلاف کی صورت میں انتہا پسندی کی جگہ اعتدال سے کام لیا جائے۔

انہوں نے تصوف کی بھی اصلاح کی اور پیری مریدی کے طریقوں کو غلط راستے سے ہٹایا۔

کارنامے[ترمیم]

شاہ ولی اللہ کا ایک بڑا کارنامہ قرآن مجید کا فارسی ترجمہ ہے۔ پاکستان و ہندوستان مین مسلمانوں کی علمی زبان فارسی تھی۔ قرآن چونکہ عربی میں ہے اس لئے بہت کم لوگ اس کو سمجھ سکتے تھے۔ شاہ ولی اللہ نے قرآن مجید کا فارسی ترجمہ کرکے اس رکاوٹ کو دور کردیا۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ لوگ اسلام کی تعلیم سے واقف ہونے لگے۔

شاہ ولی اللہ ترجمۂ قرآن کے علاوہ بکثرت کتابوں کے مصنف ہیں۔ یہ کتابیں علم تفسیر، حدیث،فقہ، تاریخ اور تصوف پر ہیں۔ ان عالمانہ کتابوں کی وجہ سے وہ امام غزالی، ابن حزم اور ابن تیمیہ کی طرح تاریخ اسلام کے سب سے بڑے عالموں اور مصنفوں میں شمار ہوتے ہیں۔

ان کی سب سے مشہور کتاب "حجۃ اللہ البالغہ" ہے۔ امام غزالی کی "احیاء العلوم" کی طرح یہ کتاب یھی دنیا کی ان چند کتابوں میں سے ہے جو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔ اس کتاب میں شاہ ولی اللہ نے اسلامی عقائد اور اسلامی تعلیمات کی وضاحت کی ہے اور دلیلیں دے کر اسلامی احکام اور عقاغد کی صداقت ثابت کی ہے۔ اصل کتاب عربی میں ہے لیکن اس کا اردو میں بھی ترجمہ ہوگیا ہے۔

شاہ ولی اللہ دہلوی رحمت اللہ علیہ نے اسلامی ریاست اور اسکے نظام کے بارے میں ایک انتہائی قیمتی اور منفرد کتاب ازالۃالخفاء عن خلافۃ الخلفاء فارسی فارسی زبان میں تالیف کی تھی، یہ کتاب دوہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور انتہائی پرمغز ابحاث پر مشتمل ہے .اس کتاب کا اردو ترجمہ مولانا عبدالشکور فاروقی مجددی نے کیا ہے جو قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی سے شائع ہوا ہے ۔ مولانا محمد بشیر سیالکوٹی مدیر دارالعلم اسلام آباد نے اس کتاب کا عربی زبان میں ترجمہ مکمل کر دیا ہے ۔

شاہ ولی اللہ اپنی کوششوں کی وجہ سے غزالی، ابن تیمیہ اور مجدد الف ثانی کی طرح اپنی صدی کے مجدد سمجھے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے زوال کے بعد جو بیداری پیدا ہوئی اور اس وقت خطے میں اسلامی جو احیائی تحاریک موجودہ ہیں ان کے بانی شاہ ولی اللہ ہی ہیں۔ شاہ ولی اللہ جہاں خود ایک بہت بڑے عالم، مصلح اور رہنما تھے۔ وہاں وہ اس لحاظ سے بھی بڑے خوش قسمت ہیں کہ ان کی اولاد میں ایسے ایسے عالم پیدا ہوئے جنہوں نے ھند وپاک کے مسلمانوں کی زندگی میں انقلاب برپا کردیا۔

جانشیں[ترمیم]

شاہ ولی اللہ کے سب سے بڑے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز عربی اور فارسی کے انشا پرداز تھے اور 60 سال تک دینی علوم اور احادیث کی تعلیم دیتے رہے۔ وہ ان افراد میں شامل ہیں جن کی وجہ سے برصغیر میں علم حدیث پھیلا۔

دوسرے صاحبزادے شاہ رفیع الدین کا سب سے بڑا کارنامہ اردو میں قرآن مجید کا پہلا ترجمہ ہے۔

تیسرے صاحبزادے شاہ عبدالقادر کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن مجید کی اردو تفسیر ہے جو "موضح القرآن" کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تفسیر آج بھی انتہائ مقبول ہے۔

شاہ ولی اللہ کی اولاد میں شاہ اسماعیل شہید کا مقام بھی بہت بلند ہے آپ شاہ ولی اللہ کے چوتھے صاحبزادے شاہ عبدالغنی کے بیٹے تھے جن کا شمار بھی اپنے زمانے کے بڑے عالموں میں ہوتا تھا۔ شاہ صاحب کے کام کو سب سے زیادہ ترقی شاہ اسماعیل نے ہی دی۔ وہ کئی اہم کتابوں کے مصنف بھی تھے جن میں "تقویۃ الایمان" سب سے زیادہ مقبول ہوئی۔

برصغیر میں غلبہ اسلام اور اسلامی حکومت کے قیام کی کوشش کرنے والی عظیم شخصیت سید احمد شہید شاہ عبدالعزیز کے شاگرد اور شاہ اسماعیل شہید کے ساتھی تھے۔شاہ صاحب نے فک کل نظام کا فتوی دیا جس کا مطلب تمام فرسودہ نظام کا خاتمہ کر دیا جائے اور اس کی جگہ عادلانہ نظام کا قیام کیا جائے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7_%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D9%84%DA%A9%D9%88%D9%B9%DB%8C#.D8.AA.D8.B1.D8.A7.D8.AC.D9.85.D8.8C_.D8.AA.D8.A7.D9.84.D9.8A.D9.81.D8.A7.D8.AA.D8.8C_.D8.AA.D8.B5.D9.86.D8.A7.D9.86.DB.8C.D9.81