شجر الدر

وکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

الملكہ عصمہ الدين أم خليل شجر الدر کا شمار تاریخ اسلام کی نہایت اہم ترین خواتین میں ہوتا ہے۔ تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر جب ایوبی سلطنت تقریباً ختم ہو چکی تھی اور عیسائی بیت المقدس پر قبضے کے لئے مسلسل آگے بڑھ رہے تھے سلطانہ شجرالدر نے اپنی ذہانت سے ان کا راستہ اس وقت تک روکا جب تک کہ مملوکوں نے حقیقی کمان نہ سنبھال لی۔

[ترمیم] پس منظر

شجر الدر ایک باندھی تھیں جنہیں الصالح ایوب نے کرک سے1239ء میں اس وقت خریدا تھا جب وہ سلطان نہیں بنے تھے۔ جب وہ سلطان مصر و شام بن گئے تو شجر الدر بھی ان کے ساتھ مصر آ گئیں۔ یہاں انہوں نے سلطان کے بیٹے خلیل کو جنم دیا۔ خلیل آگے چل کر الملک المنصور کے نام سے مشہور ہوئے۔ شجر الدر کا تعلق ترک نسل سے تھا اور وہ ایک خوبصورت اور ذہین خاتون تھیں۔ اپریل 1249ء میں سلطان الصالح شام میں شدید بیمار ہو گئے۔ وہ مصر واپس آئے اور دمياط‎ کے قریب اشمم التنھ میں قیام کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب فرانس کا بادشاہ لوئیس نہم نے مسلمانوں کے خلاف ساتویں صلیبی جنگ شروع کی ہوئی تھی۔ اس نے مصر پر حملہ کر دیا۔ جون 1249ء میں اس نے دمیاط فتح کرلیا۔ 22نومبر 1249ء کو سلطان الصالح دس سال تک حکومت کے بعد انتقال کر گئے۔ اس کڑے وقت میں شجر الدر نے فوری طور پر سپہ سالار امیر فخرالدین یوسف بن شیخ اور محلات کے نگران طواشی جمال الدین محسن کو اطلاع کی۔ لیکن ملکی حالات کے پیش نظر اس خبر کو عام نہیں کیا گیا۔ سلطان کی میت خفیہ طور پر الرود کے قلعے میں پہنچا دی گئی۔

بیماری کے باوجود سلطان نے کسی کو اپنا جانشین نہیں بنایا تھا۔ اس لئے فوراً سلطان کے بیٹے المعطم توران شاہ کو حسن کیفہ سے بلایا گیا۔ مرنے سے پہلے سلطان نے ہزاروں خالی کاغذات پر دستخط کیے تھے۔ وفات کے بعد انہی کاغذات پر شجر الدر نے احکامات جاری کیے اور لوگوں کو یہ پتہ نہ چل سکا کہ سلطان وفات پا گئے ہیں۔


Wiki letter w.svg یہ ابھی نامکمل مضمون ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
ساتھی منصوبے
آلات
دیگر زبانیں