شعبان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اسلامی تقویم

  1. محرم
  2. صفر
  3. ربیع الاول
  4. ربیع الثانی
  5. جمادی الاول
  6. جمادی الثانی
  7. رجب
  8. شعبان
  9. رمضان
  10. شوال
  11. ذوالقعدہ
  12. ذوالحجہ

شعبان اسلامی تقویم کا آٹھواں مہینہ ہے۔ اسے شعبان المعظم بھی کہا جاتا ہے۔ اسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ ایک متبرک مہینہ ہے اور اس میں مسلمان نفلی روزے رکھتے ہیں۔ شعبان کے مہینہ میں زیادہ سے زيادہ روزے رکھنے مستحب ہيں ، حدیث میں بیان کیا گياہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سارے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے :

ام سلمہ رضي اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہيں کہ :

( میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی دو ماہ مسلسل روزے رکھتےہوئے نہيں دیکھا ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو رمضان کے ساتھ ملایا کرتے تھے ) ۔

مسنداحمد حدیث نمبر ( 26022 ) سنن ابو داود حدیث نمبر ( 2336 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1648 ) ۔

اورابوداود کے الفاظ کچھ اس طرح ہيں :

( نبی صلی اللہ علیہ وسلم پورے سال میں کسی بھی پورے مہینے کے روزے نہيں رکھتے تھے ، لیکن شعبان کو رمضان سے ملاتے ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالٰی نے صحیح ابوداود ( 2048 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

لھذا اس حدیث کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پورا شعبان روزہ رکھا کرتے تھے ۔

لیکن احادیث میں یہ بھی وارد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے اکثر ایام کا روزہ رکھا کرتے تھے ۔

ام سلمہ رضي اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارہ میں دریافت کیا تووہ کہنے لگیں :

( آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھنے لگتے تو ہم کہتیں کہ آپ تو روزے ہی رکھتے ہیں ، اورجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ چھوڑتے تو ہم کہتے کہ اب نہيں رکھیں گے ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کے مہینہ سے زيادہ کسی اورمہینہ میں زيادہ روزے رکھتے ہوئے نہيں دیکھا ، آپ سارا شعبان ہی روزہ رکھتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں اکثر ایام روزہ رکھا کرتے تھے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1156 ) ۔

علماء کرام ان دونوں حدیثوں کو جمع کرنے میں اختلاف کرتے ہیں :

کچھ علماء کرام تو کہتے ہيں کہ یہ اوقات کی مختلف ہونے کی وجہ سےتھا ، لھذا کچھ سالوں میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سارا شعبان ہی روزہ رکھا کرتے تھے ، اوربعض سالوں میں شعبان کے اکثر ایام روزہ رکھتے


اس کی تین تاریخ کو امام حسین علیہ السلام کی ولادت ہوئی اور 15 تاریخ کو اہلِ تشیع کے عقائد کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔