کمپیوٹر وائرس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(شمارندی حمہ سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

کمپیوٹر وائرس (Computer Virus) ایسا پروگرام ہے جو اپنے آپ کو ایک Computer سے دوسرے کمپیوٹر میں داخل کرتا ہے اور جس میں بھی وہ داخل ہوتا ہے اس کے ہارڈوئیر یا سوفٹ وئیر میں دخل انداز ہوتا ہے۔ وائرس کو اس طریقے سے ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر میں منتقل ہوتے وقت یوزر کے علم سے بچ جائیں اور پتہ بھی نہ لگے کہ وائرس داخل ہوچکا ہے۔ جب وائرس کمپیوٹر میں داخل ہوجائے تو وہ کمپیوٹر کو اپنے کنٹرول میں لے لیتا ہے وائرس کی ان ہدایات کوجو کسی سسٹم کو خراب کرنے کا باعث بنتی ہے (Payload) کہا جاتاہے تاہم( پے لوڈ)کسی بھی فال یا پیغام کو خراب کر دیتاہے یا پھر اسکو بدل دیتا ہے ۔ لہذا کمپیوٹر کا نظام خراب ہوجاتا ہے۔ اور بھی ایسے پروگرام ہیں جو کمپیوٹر پروگرام کےلئے نقصان دہ ہے لیکن ان میں یکساں طور پر یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں کہ وہ خودبخود ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر میں منتقل ہوجائیں اور پھر ان کا کھوج بھی نہ لگایا جاسکے ۔ لیکن پھر بھی ایسے پروگرامز وائرس سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ کسی کھیل کی صورت میں آسکتے ہیںاور پھر اپنا کام دکھاتے ہیں ان میں سے بعض پروگرامز ایسے ہیں جو اس وقت تک عمل پذیر نہیں ہوتے جب تک وہ ایک خاص تاریخ یا وقت کو نہ پالیں۔اور پھر کسی مخصوص حرف کو یوزر ٹائپ نہ کرے ایسے بھی نقصان دہ پروگرامز سامنے آتے ہیں جو اپنے آپ کو کاپی کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کا حجم کمپیوٹر کی میموری پر حاوی ہوجاتا ہے اور اس طرح کمپیوٹر کا کا م سست پرجاتا ہے۔ 2۔ وائرس کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں؟ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ وائرس ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر میں منتقل ہوتے ہیں اور جب وہ اپنا کام شروع کردیں تو پھر وہ کسی بھی فلیش ڈسک یا ہارڈڈرائیو جو ایک کمپیوٹر سسٹم کا حصہ ہے ان میں منتقل ہوجاتا ہے۔اور اس طرح سارے نیٹ ورک اور دوسرے کمپیوٹرز میں خرابیاں پیدا کرنے لگ جاتاہے ایسے وائرس عام طور پر Professional Main Frame Systemsکی نسبت Personal Computersمیں زیادہ پائے جاتے ہیں کیونکہ ان پروگرامز کو سی ڈیز یا فلیش ڈسک کے ذریعے پھیلایا جاتاہے۔ جو کہ Personal Computers کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کے کام آتی ہے۔ وائرسز صرف اس وقت عمل پذیر ہوتے ہیں جب ان کے پروگرام کو استعمال کیا جائے لہذا اگر کوئی کمپیوٹر کسی انفکٹڈنیٹ ورک سے منسلک ہے ضروری نہیں کہ اس کمپیوٹر خرابی پیدا ہو تاہم ایسے وائر س پروگرام ہیں جو کمپیوٹر یوزر کو لالچ دے کر اپنا پروگرام استعمال کرواتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض ایسے وائرس ہیں جو کسی اچھے پروگرام کے ساتھ اٹیچ ہوجاتے ہیں لہذا جب ان پروگرام کو چلایا جاتا ہے تو وائرس بھی ایکٹو ہوجاتے ہیں۔ 3۔وائرس کی اقسام وائرس کی بنیادی چھ اقسام ہیں۔ جو مختلف طریقوں سے اثر پذیر ہوتے ہیں اور صرف اپنے اند رپروگرام کیے گئے احکامات بجالاتے ہیں۔ لہذا جو کام جس وائرس کے سپرد ہو جب تک اس کام کا وقت نہ آئے وہ کسی طرح بھی کوئی خرابی پیدا نہیں کرتے۔ ایسے پروگرام کی تین بڑی اقسام ہیں۔جوکمپیوٹر میں خرابی کا سبب بنتے ہیں یا ڈاٹا کو متاثر کرتے ہیں۔ 1: ورم (Worm)

یہ پروگرام کسی کے علم میں لائے بغیر خود سے اپنے آپ کو پھیلاتا ہے اور ایکٹو ہونے کےلئے کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہوتا یعنی خود بخود ایکٹو ہوجاتا ہے یہ عام طور پر انٹر نیٹ کے ذریعے پھیلتا ہے جس میں یوزر کو کوئی ای میل کھولنے کے لئے کا جاتا ہے جس کے ساتھ انٹر نیٹ ورم کو اٹیچ کردیا جاتا ہے۔ اس پے لوڈ میں ایسی ہدایات ہوسکتی ہیں کہ یہ خود بخود ان لوگوں تک پہنچ جائے جن کو آپ ای میل کرتے ہیں یا جن کے ای میل کے ایڈریس آپ نے م س آﺅٹ لک یا ایڈریس بک میں لکھ رکھے ہیں۔ یہ زیادہ تر زیادہ نقصان دہ نہیں ہوتے لیکن چند ورم کافی خطرناک ہوتے ہیں۔ 2: وائرس(Virus)

ایسا پروگرام جو بہرحال کمپیوٹر کےلئے خطرناک ہو، وائرس کہلاتا ہے۔ تکنیکی لحاظ سے وائرس ایسا پروگرام ہوتا ہے جو یوزر کی مدد سے ایکٹو ہوتا ہے۔ یعنی آپ کو دلچسپ ناموں کے ذریعے لالچ دے کر کسی پروگرام کو چلانے پر آمادہ کرتا ہے یا ای میل کے ساتھ آنے والی اٹیچ مینٹ کو اوپن یا ڈاﺅن لوڈ کرنے کیلئے ہدایات دی جاتی ہیں۔ جب آپ فائل کو اوپن کریں یا وائرس کے پروگرام کو چلا دیتے ہیں۔تو وائرس اپنا کا م کرنا شروع کردیتا ہے۔یہ کمپیوٹر میں مخفی رہ کر اپنی کاپیز بناتا رہتا ہے۔ 3: ٹروجن ہارس (Trojan Horse)

قدیم یونانی روایات کے ٹروجن ہارس کی طرح وائرس کی یہ قسم عام بے ضرر پروگرام یا سوفٹ وئیر کے ساتھ اپنے آپ کو اٹیچ کر لیتی ہے اور اس پروگرام کو چلانے سے یہ بھی ایکٹو ہوکر اپنا کام شروع کردیتا ہے۔ ٹروجن ہارس عام طور پر Softwares یا CD's میں عام ہوتے ہیں جو غیر قانونی طور پر بنائی جاتی ہیں۔ کاپی شدہ سی ڈیز اس کے پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ ان میں چائنا وائرس کو آج کل بہت شہرت حاصل ہے۔

4:۔ وائرس سے بچنے کے طریقے۔

1:۔ بچاﺅ اور کھوج لگانا۔

کمپیوٹر یوزر ایسے سوفٹ وئیر پہلے سے تیا ررکھ سکتاہے جو وائرس سے خبردار کرسکیں۔ فلاپی ڈسک ، فلیش ڈسک اور ہر سی ڈی کو پہلے قابل اعتماد انٹی وائرس سے سیکن کرکے استعمال کیا جائے۔ یہاں تک کہ نئی ونڈو کرنے کے بعد سب سے پہلے وائرس کا سیکن کروائیں باقی انسٹالیشن بعد میں مکمل کرکے ایک دفعہ سارے کمپیوٹر کا سکین کرلیں۔ پھر کم از کم ہفتہ وار سیکنگ کی جائے ورنہ جتنی جلدی ممکن ہو کمپیوٹر سکین کر لیا جائے۔ 2:۔ حد بندی اور بحالی وائرس کی حد بندی اس طرح سےکی جاسکتی ہے کہ اگر انفکٹڈ ہوچکی ہے تو ایسے کمپیوٹر کو نیٹ ورک سے فوراً علیٰحدہ کر لیںاور اس طرح سے فائلز کا تبادلہ روک دیا جائے اور دوسری صورت یہ کہ اگر کمپیوٹر سسٹم میں وائرس داخل ہوچکا ہے تو اس کو ختم کرنا ہر کام سے زیادہ ضروری ہے بعض سوفٹ وئیر (انٹی وائرس ) خود وائرس پروگرام ہوتے ہیں۔ انٹی وائرس پروگرام ہمیشہ قابل اعتماد شخص کے مشورے سے ہی استعمال کریں نا کہ سنا سنایا پروگرام کو انسٹال کیا جائے یہ آپ کے کمپیوٹر سسٹم کا معاملہ ہے ۔ 5: وائرس کے مقاصد وائرس پروگرام بنانے والوں کے دو مقاصد ہوتے ہیں۔ نمبر 1 وہ یہ کہ کسی مخصوص شخص یا ادارے کے ریکارڈ کو تباہ کیا جاسکے ۔ نمبر 2 مخصوص وائرس کی مدد سے کسی کے کمپیوٹر سے معلومات چوری کی جاسکیں۔ 6: وائرس کی تاریخ 1949ءمیں ہنگری کا ایک باشندہ جو امریکہ میں قیام پزیر ہوچکا تھا یعنی (John Von Neumann) نے نیوجرسی کی ایک انسٹی ٹیوٹ میں یہ ارادہ کیا کہ اس بات کا پتہ لگایا جائے کہ کیا کمپیوٹر پروگرام ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر میں خود بخود منتقل ہوسکتے ہیںیا نہیں لہٰذا 1950ءکی دہائی میں ایک ایسی کھیل بنائی گئی جس کے نتیجے میں اس کھیل کوکھیلنے والے چھوٹے چھوٹے کمپیوٹر پروگرام بناتے تھے جو اپنے حریف کے سسٹم پر حملہ آور ہوتے تھے اور اسکے پروگرام کو مٹانے کی کوشش کرتے تھے۔1983ءمیں ایسے پروگرامزکو وائرس کانام دیا گیا۔1985ءمیں وائرس سے ملتے جلتے پروگرام سامنے آئے جس کے نتیجے میں وائرس پروگرام کو ترقی ملی 1986ءمیں برین وائرس (Brain Virus)سامنے آیا۔جو ایک سال کے اندر اندر ساری دنیا میں پھیل گیا۔ 1988ءمیں ایک وائرس کا پتہ لگا جس نے پوری یونائیٹڈ اسٹیٹ میں تہلکہ مچا دیااور اسی طرح 1990ءکی دہائی میں اور اسکے بعد تک وائرسز کی اقسام بہت ہی پیچیدہ ہوگئی.