شمال مغربی سرحدی صوبہ
وکیپیڈیا سے
یہ مقالہ پاکستان کے صوبہ سرحد کے متعلق ہے. سرحد کے دیگر استعمالات کیلیے دیکھیے سرحد (ضد ابہام)
شمال مغربی سرحدی صوبہ (انگریزی: North-West Frontier Province) یا صوبہ سرحد پاکستان کے چار صوبوں میں سب سے چھوٹا صوبہ ہے. صوبہ سرحد پاکستان میں پشتونوں یا پختونوں کا گھر ہے. پشتونوں کے علاوہ یہاں پر دوسرے چھوٹے نسلی گروہ بھی آباد ہیں. بڑی زبان پشتو اور صوبائی دارالحکومت پشاور ہے.
فہرست |
[ترمیم] محلِ وقوع
صوبہ سرحد شمال مغرب کی طرف افغانستان، شمال مشرق کی طرف شمالی علاقہ جات، مشرق کی طرف آزاد کشمیر، مغرب اور جنوب میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات، جنوب مشرق کی طرف پنجاب اور اسلام آباد سے ملا ہوا ہے.
[ترمیم] جغرافیہ
صوبہ سرحد کا علاقہ ارضیاتی طور پر حساس جگہ پر واقع ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماضی میں یہاں کئی زلزلے آچکے ہیں مثلاً زلزلۂ کشمیر. مشہور درّۂ خیبر صوبے کو افغانستان سے ملاتا ہے. صوبہ سرحد کا رقبہ 28,773 مربع میل یا 74,521 مربع کلومیٹر ہے.
صوبہ سرحد کا سب سے بڑا شہر پشاور ہے جو کہ صوبے کا دارالحکومت بھی ہے. دوسرے بڑے شہروں میں نوشہرہ، مردان، چارسدہ، مانسہرہ، ایوبیہ، نتھیاگلی اور ایبٹ آباد شامل ہیں. ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ، بنوں، پشاور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ بڑے اضلاع ہیں.
صوبہ سرحد کا خطہ جنوب میں خشک پتھریلی علاقوں جبکہ شمال میں سبز میدانوں پر مشتمل ہے. آب و ہوا شدید ہے، سردیوں میں یخ ٹھنڈ اور گرمیوں میں نہایت گرمی پڑتی ہے. شدید موسم کے باوجود زراعت زیادہ ہے. سوات، کالام، دیر بالا، ناران، اور کاغان کی پہاڑی زمین حسین وادیوں کے لئے مشہور ہے. ہر سال کئی ملکی و غیر ملکی سیاح یہاں سیر و تفریح کے لئے آتے ہیں. سوات-کالام کو ‘‘سوٹزرلینڈ کا ٹکڑا’’ کہاجاتا ہے کیونکہ یہاں کے کئی مناظر سوٹزرلینڈ کے پہاڑی خطے سے مشابہت رکھتے ہیں.
۱۹۹۸ء کی مردم شماری کی مطابق صوبہ سرحد کی آبادی ۱۷ ملین تھی جس میں سے ۵۲ فیصد مرد اور ۴۸ فیصد خواتین تھیں. آبادی کی کثافت ۱۸۷ فرد فی کلومیٹر ہے.
جغرافیائی لحاظ سے صوبہ سرحد کو دو خطّوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: شمالی خطہ اور جنوبی خطہ. شمالی خطہ ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں سے شروع ہوکر پشاور کے سرحد، جبکہ جنوبی خطہ پشاور سے شروع ہوکر دراجت تک ہے. شمالی خطہ سردیوں میں ٹھنڈی، برفیلی اور زیادہ بارشوں والی جبکہ گرمیوں میں موسم خوشگوار ہوتا ہے ما سوائے پشاور کے جہاں گرمیوں میں سخت گرمی اور سردیوں میں سخت سردی پڑتی ہے. جنوبی خطہ خشک اور بنجر ہے، موسمِ گرما بہت گرم اور موسمِ سرما قدرے سرد ہوتا ہے، بارشیں کم ہوتی ہیں.
صوبہ سرحد کے دریاؤ میں دریائے کابل، دریائے سوات، دریائے چترال، دریائے پنجگوڑہ، دریائے باڑہ، دریائے کرم، دریائے گومل اور دریائے ژوب شامل ہیں.
صوبہ سرحد جو کبھی گندھارا تہذیب کا گہوارا رہا ہے، اب یہ علاقہ پرہیزگار، پُرخلوص اور مہمان نواز مسلمانوں کے لئے مشہور ہے، جو اپنے مذہب، اقدار، ثقافت، تہذیب و تمدن، روایات اور طریقہ ہائے زندگی کی نہایت جوش و جذبے سے حفاظت کرتے ہیں.
[ترمیم] آبادیات و سماج
صوبہ سرحد کی آبادی اندازاً ۲۱ ملین ہے. سب سے بڑا نسلی گروہ پختونوں کا ہے جن کی آبادی صوبے کی کل آبادی کا تقریباً ۶۶ فیصد ہے. سب سے بڑی زبان پشتو جبکہ ہندکو دوسری بڑی عام بولی جانے والی مقامی زبان ہے. پشتو مغربی اور جنوبی سرحد میں غالب زبان ہے اور یہ کئی شہروں اور قصبوں کی اصل زبان بھی ہے جن میں پشاور بھی شامل ہے. ہندکو بولنے والے مغربی سرحد مثلاً ہزارہ ڈویژن میں اور خصوصاً ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہری پور شہروں میں عام ہیں. سرائیکی اور بلوچی بولنے والے صوبے کے جنوب مشرق میں خصوصاً ڈیرہ اسماعیل خان میں رہتے ہیں.
صوبہ سرحد کے مرکز اور جنوب کے دیہاتی علاقوں میں کئی پختون قبیلے آباد ہیں جن میں یوسفزئی، تنولی ، خٹک، مروت، آفریدی، شنواری، اورکزئی، بنگش، محسود، مھمند اور وزیر شامل ہیں. شمال کی طرف سواتی، ترین، جدون اور مشوانی بڑے پشتون قبیلے ہیں. کئی غیر پشتون ق، بیلے بھی ہیں مثلاً اعوان، گجر وغیرہ. اعوان قبیلے کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اصل میں عرب ہیں اور اس قبیلے کے لوگ باقی پشتونوں اور غیر پشتونوں سے مختلف ہیں.
شمال میں ضلع چترال ہے جہاں چھوٹے نسلی گروہ جیسے کوہستانی، خوار، شینا، توروالی، کالاشا اور کالامی آباد ہیں.
اِس کے علاوہ صوبہ سرحد میں ۱.۵ ملین افغان مہاجرین بھی قیام پذیر ہیں جن میں اکثریت پشتونوں کی ہے.
صوبہ سرحد کے تقریباً تمام باشندگان مسلمان ہیں جن میں سُنّی سب سے زیادہ ہیں.
[ترمیم] تاریخ
[ترمیم] قدیم تاریخ
خطۂ صوبہ سرحد میں قدیم زمانے سے کئی حملہ آور گروہ آتے رہے ہیں جن میں فارسی، یونانی، کُشن، ہُنز، عرب، تُرک، منگول، مُغل، سکھ اور برطانیہ شامل ہیں. 1500 اور 2000 قبل از مسیح کے درمیان، آریائی قوم کی ایک ایرانی شاخ بنی جس کی نمائندگی پشتون کررہے تھے اُنہوں نے صوبہ سرحد کے زیادہ تر علاقے پر قبضہ کرلیا۔
۶ صدی عیسیوی سے وادئ پشاور مملکتِ گندھارا کا مرکز تھا. بعد میں یہ شہر کُشن دورِ سلطنت کا دارالحکومت بھی بنا. اس خطے پر کئی معروف تاریخی اشخاص کے قدم پڑے مثلاً دیریس دوم، اسکندر اعظم، ہیون سنگ، فا ہین، مارکوپولو، ماؤنٹسٹارٹ ایلفنسٹائن اور ونسٹن چرچل۔
خطّے پر موریائی قبضے کے بعد، بدھ مت یہاں کا بڑا مذہب بنا، خصوصاً شہری علاقوں میں جیسا کہ حالیہ آثاریاتی اور تشریحی شواہد سے پتا چلتا ہے. ایک بڑا کُشن فرماں روا کنیشکا بھی بُدھ مت کے عظیم بادشاہوں میں سے ایک تھا.
جبکہ دیہی علاقوں نے کئی شمنیتی عقائد برقرار رکھے مثلاً کالاش گروہ اور دوسرے. پشتونولی یا روایتی ضابطۂ وقار جس کی پشتون قوم پاسداری کرتی ہے، خیال کیا جاتا ہے کہ اِس کی جڑیں بھی اسلام سے پہلے کی ہیں.
[ترمیم] شاہی دور
صدی عیسوی کے اوائل میں، اسلام کی آمد سے پہلے، صوبہ سرحد پر بادشاہ حکومت کرتے تھے. پہلے حکمران تُرک تھے اور انہوں نے اِس خطے پر 870 صدی عیسوی تک حکومت کی. اُن کے بعد کے حکمرانوں کا شاید ہمسایہ کشمیر اور پنجاب کے حکمرانوں سے روابط تھے. جیسا کے آثار و تاریخ مثلاً سکّوں اور دوسری بنائی ہوئی چیزیں اُن کے کثیر ثقافتی کا ثبوت دیتی ہیں. ان آخری حکمرانوں کو اپنے برادرانہ قبیلوں نے آخر کار ختم کردیا جن کی کمان محمودِ غزنوی کررہے تھے۔
[ترمیم] اِسلام کی آمد
بدھ مت اور شمن پرستی اُس وقت تک بڑے مذاہب رہے جب تک مسلمانوں اور ترکوں نے 1000 صدی عیسوی کے آواخر میں قبضہ کرلیا. رفتہ رفتہ پشتون اور دوسرے قبیلے اسلام میں داخل ہوتے رہے. اِس دوران انہوں نے اپنے کچھ روایات برقرار رکھے جیسا کہ پشتونوں کی روایت پشتونولی یا ضابطۂ وقار و عزت. صوبہ سرحد عظیم اِسلامی مملکت یعنی "غزنوید مملکت" اور مملکتِ محمد غور کا حصہ بھی رہا۔ اس زمانے میں باقی ماندہ مسلمان ممالک سے مسلمان تاجر، اساتذہ، سائنسدان، فوجی، شاعر، طبیب اور صوفی وغیرہ یہاں جوق در جوق آتے رہے۔
[ترمیم] پشتون قوم پرستی
یہ صوبہ ایک اہم سرحدی علاقہ تھا جس پر مُغل اور فارس کے سفویوں کے درمیان اکثر اوقات تنازعہ رہتا تھا. مُغل حکمران اورنگزیب کے دَور میں، پشتون قوم پرست شاعر خوشحال خان خٹک نے اپنی شاعری کے ذریعے کئی پشتون قبائل کو حکمرانوں کے خلاف بیدار کیا، جس کی وجہ سے اِس خطے کو قابو میں رکھنے کے لئے بہت بڑی طاقت کی ضرورت تھی. خطہ بعد میں دُرّانی حکومت کے ذریعے یکجا ہوا جس کی بنیاد احمد شاہ دُرّانی نے ۱۷۴۷ء میں رکھی تھی.
[ترمیم] برطانوی دور
برطانیہ اور روس کے درمیان جنوبی ایشیاء پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے کئی تصادم ہوئے. جس کے نتیجے میں افغانستان کی تقسیم واقع ہوئی. افغانوں سے دو جنگوں کے بعد برطانیہ 1893ء میں ڈیورنڈ لائن نافذ کرنے میں کامیاب ہوگیا. ڈیورنڈ لائن نے افغانستان کا کچھ حصہ برطانوی ہندوستان میں شامل کردیا. ڈیورنڈ لائن، سر مورتیمر ڈیورنڈ کے نام سے ہے جو برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے معتمدِ خارجہ تھے. افغان ڈیورنڈ لائن کو ایک عارضی خط جبکہ برطانیہ اِس کو ایک مستقل سرحد سمجھتے تھے. یہ سرحدی خط قصداً ایسے کھینچی گئی کہ پختون قبیلے دو حصوں میں بٹ گئے.
برطانیہ جس نے جنوبی ایشیاء کا باقی حصہ بغیر کسی مزاحمت کے قبضہ کرلیا تھا، یہاں پر اُسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. پشتونوں کے ساتھ پہلی لڑائی کا نتیجہ بہت بُرا نکلا اور برطانوی فوج کا صرف ایک سپاہی جنگِ میدان سے واپس آنے میں کامیاب ہوا (جبکہ برطانوی فوجیوں کی کل تعداد 14,800 تھی). خطے میں اپنی رِٹ قائم رکھنے میں ناکامی کے بعد برطانیہ نے تقسیم کرو اور حکمرانی کرو کا کھیل شروع کیا. برطانیہ نے اِس کھیل میں کٹھ پتلی پشتون حکمران صوبہ سرحد میں بھیجے. تاکہ پشتونوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوسکے. باوجود اِس کے، موقعی پشتون حملے ہوتے رہے مثلاً محاصرۂ مالاکنڈ.
صوبہ سرحد 9 نومبر 1901 کو بطورِ منتظمِ اعلٰی صوبہ بنا. ناظمِ اعلٰی صوبے کا مختارِ اعلٰی تھا. وہ انتظامیہ کو مشیروں کی مدد سے چلایا کرتا تھا.
صوبے کا باضابطہ افتتاح 26 اپریل 1902ء کو شاہی باغ پشاور میں تاریخی ‘‘دربار’’ کے دوران ہوا جس کی صدارت لارڈ کرزن کررہے تھے. اُس وقت صوبہ سرحد کے صرف پانچ اضلاع تھے جن کے نام یہ ہیں: پشاور، ہزارہ، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان. مالاکنڈ کی تین ریاستیں دیر، سوات اور چترال بھی اس میں شامل ہوگئیں. صوبہ سرحد میں قبائل کے زیرِ انتظام ایجنسیاں خیبر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان بھی شامل تھیں. صوبہ سرحد کے پہلے ناظمِ اعلٰی ہرولڈ ڈین تھے.
صوبہ سرحد ایک مکمل حاکمی صوبہ 1935ء میں بنا. یہ فیصلہ اصل میں 1931ء میں گول میز اجلاس میں کیا گیا تھا. اجلاس میں اِس بات پر اتفاقِ رائے ہوا تھا کہ صوبہ سرحد کا اپنا ایک قانون ساز انجمن ہوگا. اِس لئے، 25 جنوری 1932ء کو وائسرائے نے قانونساز انجمن کا افتتاح کیا. پہلے صوبائی انتخابات 1937ء میں ہوئے. آزاد اُمیدوار اور جانے پہچانے جاگیردار صاحبزادہ عبدالقیوم خان صوبے کے پہلے وزیرِ اعلٰی منتخب ہوئے.
[ترمیم] آزادی کے بعد
برطانیہ سے آزادی کے بعد، 1947ء کے اِستصوابِ رائے میں صوبہ سرحد نے پاکستان میں شمولیت اختیار کی. تاہم، افغانستان کے 1949ء کے لویہ جرگہ نے ڈیورنڈ لائن کو غلط قرار دیا. جس کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعات ابھرے. 1950ء میں افغانستان نے علٰیحدگی پسند تحریک کی حمایت کی لیکن اِس تحریک کو قبائل میں پذیرائی حاصل نہ ہوئی. صدر ایوب خان کے پاکستانی صوبوں کے احذاف کے بعد، صدر یحیٰی خان نے 1969ء میں اِس ‘‘ایک اِکائی’’ منصوبے کو منسوخ کردیا اور سوات، دیر، چترال، کوہستان کو نئے سرحدات میں شامل کردیا.
1979ء میں افغانستان پر سوویت یونین کے حملے تک پختونستان کا مسئلہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی دہائیوں تک تنازعات کا مؤجب بنا. حملے کے سبب پچاس لاکھ افغان مہاجرین نے پاکستان کی طرف ہجرت کی، جو کہ زیادہ تر صوبہ سرحد میں قیام پذیر ہوئے (2007ء کے شمار کے مطابق قریباً تیس لاکھ ابھی بھی رہتے ہیں). افغانستان پر سوویت کے قبضے کے دوران، 1980ء کی دہائی میں صوبہ سرحد مجاہدین کا بہت بڑا مرکز تھا جو سوویت یونین کے خلاف لڑرہے تھے.
[ترمیم] حکومت
صوبہ سرحد کی صوبائی اسمبلی یک ایوانی ہے اور یہ 124 نشستوں پر مشتمل ہے جس میں دو فیصد اقلیتوں اور سترہ فیصد خواتین کے لئے مخصوص ہیں.
[ترمیم] اضلاع
صوبہ سرحد میں 24 اضلاع ہیں:
[ترمیم] اہم شہریں
[ترمیم] معیشت
سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کی وجہ سے یہ خطہ کئی دہائیوں تک مشکلات کا سامنا کرتا رہا. آج پھر اِس خطے کے حالات خصوصاً معیشت ناگفتہ بہ ہے.
زراعت کا صوبہ سرحد کی معیشت میں اہم کردار ہے. صوبے کے بڑے پیداوار گندم، مکئی، چاول، گنّا ہیں جبکہ کئی پھل بھی اگائے جاتے ہیں. پشاور میں کچھ صنعتی اور اعلٰی طرزیاتی سرمایہ کاری نے علاقے کے لوگوں کے لئے ذرائع آمدن مہیا کرنے میں بہت مدد کی ہے. صوبے میں ہر اُس چیز کی تجارت ہوتی ہے جس سے پاکستان کے لوگ واقف ہیں. اور یہاں کے بازار پورے پاکستان میں مشہور ہیں. صنعتوں کے قیام سے بے روزگاری میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے.
[ترمیم] تعلیم
صوبے میں اعلٰی تعلیم کے طرف رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور صوبہ سرحد میں پاکستان کی سب سے پہلی جامعۂ ہندسیات (غلام اسحٰق خان انسٹیٹیوٹ) بھی ہے. یہ جامعہ صوابی کے ایک قصبہ ٹوپی میں واقع ہے. جامعہ پشاور اعلٰی تعلیم کا ایک مشہور اِدارہ ہے.
درج ذیل خریطہ 1998ء میں حکومت کی صوبہ سرحد کی شرح تعلیم کے اندازوں کے بارے میں ہے:
| تعلیمی قابلیت | شہری | دیہی | کُل | اندازاً شرح(%) |
|---|---|---|---|---|
| — | 2,994,084 | 14,749,561 | 17,743,645 | — |
| ابتدائی سے پہلے | 413,782 | 3,252,278 | 3,666,060 | 100.00 |
| ابتدائی | 741,035 | 4,646,111 | 5,387,146 | 79.33 |
| وسطی | 613,188 | 2,911,563 | 3,524,751 | 48.97 |
| میٹرک | 647,919 | 2,573,798 | 3,221,717 | 29.11 |
| ثانوی | 272,761 | 728,628 | 1,001,389 | 10.95 |
| بی.اے، بی.ایس.سی ڈگری | 20,359 | 42,773 | 63,132 | 5.31 |
| ایم.اے، ایم.ایس.سی ڈگری | 183,237 | 353,989 | 537,226 | 4.95 |
| ڈپلومہ، سرٹیفیکیٹ | 82,037 | 165,195 | 247,232 | 1.92 |
| دوسرے | 19,766 | 75,226 | 94,992 | 0.53 |
[ترمیم] بڑے جامعات اور کالجیں
- زرعی یونیورسٹی پشاور
- ایوب طب کالج, ایبٹ آباد
- کیڈٹ کالج رزمک
- فضائی ہندسیات کالج
- کالج آف فلائنگ ٹریننگ
- غلام اسحٰق خان ادارۂ تعلیم برائے ہندسیات و سائنسیات, ٹوپی
- جامعۂ گومل
- جامعۂ ہزارہ
- اسلامیہ کالج پشاور
- خیبر طب کالج پشاور
- جامعۂ کوہاٹ برائے سائنس و طرزیات
- فوجی کالج برائے ہندسیات
- قومی ادارہ برائے نقل و حمل
- قومی ادارۂ تعلیم برائے شمارندیات و ظہور پذیر سائنسیات
- پاکستان فضائیہ اکیڈیمی
- پاکستان فوجی اکیڈیمی
- جامعۂ ہندسیات و طرزیات پشاور
- جامعہ مالاکنڈ
- جامعۂ پشاور
- جامعۂ سائنس و طرزیات، بنوں
[ترمیم] لوک موسیقی
پشتو لوک موسیقی پورے صوبہ سرحد میں مقبول ہے. پشتو لوک موسیقی اپنے اندر کئی سو سالوں کی روایات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے. پشتو موسیقی میں استعمال ہونے والے بڑے آلات رباب، منگے اور ہارمونیم ہیں.
خوار لوک موسیقی چترال اور شمالی سوات میں مقبول ہے. خوار موسیقی کے سُر پشتو موسیقی سے مختلف ہیں. چترالی ستار سب سے زیادہ استعمال ہونے والی آلۂ موسیقی ہے.