شناخت مشعہ تعدد
شناخت مشعہ تعدد یا RFID ریڈیو فریکوئینسی آئیڈینٹی فیکیشن Radio-frequency identification ایسے ٹرانسمیٹر ہوتے ہیں جو چاول کے دانے سے ذرا سا بڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بیٹری نہیں ہوتی۔ جب ایک دوسرا بیرونی ٹرانسمیٹر (جس میں بیٹری ہوتی ہے اور جسے reader کہتے ہیں) RFID کو پڑھنے کے لیئے سگنل بھیجتا ہے تو RFID اسی بیرونی سگنل سے توانائی حاصل کر کے جواب میں ایک کوڈ نمبر بھیجتا ہے جسے reader پڑھ لیتا ہے اور RFID کو پہچان لیتا ہے۔ ریڈر کئی میٹر کے فاصلے سے RFID کو پڑھ اور پہچان سکتا ہے۔
اتنے چھوٹے RFID آلے بھی بن چکے ہیں جنہیں چونٹی پر چپکایا جا سکتا ہے۔
جن RFID میں بیٹری ہوتی ہے وہ active RFID کہلاتے ہیں۔ یہ اور بھی زیادہ دوری سے جانچے جا سکتے ہیں اور ملٹری کے عام استعمال میں ہیں۔
بار کوڈ بمقابلہ RFID [ترمیم]
- بار کوڈ پڑھنے کے لیئے reader عین سامنے ہونا چاہیئے اس لیئے انسان کی ضرورت ہوتی ہے۔ RFID پڑھنے کے لیئے انسان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ کافی فاصلے سے پڑھا جا سکتا ہے۔
- بار کوڈ ایک وقت میں ایک ہی پڑھا جاتا ہے جبکہ سینکڑوں RFID ایک ساتھ پڑھے جا سکتے ہیں۔
- بار کوڈ نمایاں ہونا چاہیئے جبکہ RFID ڈبے یا پیکنگ کے اندر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ بار کوڈ چھپایا نہیں جا سکتا جبکہRFID چھپایا جا سکتا ہے۔
- RFID مویشی، پالتو جانور اور انسان کے جسم کے اندر چھپایا جا سکتا ہے، بار کوڈ نہیں۔
استعمال [ترمیم]
- سپر مارکیٹوں میں اشیاء کی چوری روکنے کے لیئے RFID نہایت کارآمد ہے۔
- مشینی طریقے سے پڑھے جانے والے پاسپورٹ میں
- دفتر میں آنے اور جانے کے اوقات (حاضری) کے لیئے
- کارخانوں میں پرزوں کی نقل و حمل پر نظر رکھنے کے لیئے
- اسمبلی لائن پر بننے والے سامان کی جانچ پڑتال کے لیئے
- ایئر پورٹ پر سامان کی نقل و حمل کے لیئے
- داخل ہونے کی اجازت کنٹرول کرنے کے لیئے
- لائبریری کی کتابوں پر مکمل نظر رکھنے کے لیئے
- پالتو جانور اور مویشیوں کو گم ہونے سے بچانے کے لیئے
- خودبخود ادائیگی کے لیئے مثلاً کار میں نصب RFID جب چنگی ناکے سے گزرے گا تو چنگی ٹیکس خود بخود کریڈٹ کارڈ سے ادا ہو جائے گا
- کیسینو میں جعلی ٹوکن کی پہچان کے لیئے
انسانی نمبر پلیٹ [ترمیم]
اس بات کا قوی امکان ہے کہ مستقبل میں قانون سازی کر کے RFID کا انسانی جسم میں موجود ہونا لازمی قرار دے دیا جائے جس طرح آجکل شناختی کارڈ کا ہونا لازمی ہے۔ اس طرح دہشت گردوں پر نظر رکھنے کے بہانے ہر آدمی کی نقل و حمل کا مکمل ریکارڈ رکھا جا سکے گا۔ جب بھی کوئی شخص کسی بس، ریل یا جہاز میں سفر کرے گا یا کسی سپر مارکیٹ یا بینک میں داخل ہو گا تو یہ معلومات کمپیوٹر میں خود بخود محفوظ ہو جائیگی۔
CT scan کی مدد سے انسانی جسم کے بعض حصوں میں RFID کا داخل کرنا آسان جبکہ انہیں نکالنا انتہائی مشکل اور خطرناک ہو سکتا ہے۔
اس بات کی کوششیں جاری ہیں کہ RFID کو مصنوعی سیاروں سے پڑھے جانے کے قابل بنا دیا جائے لیکن ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی ہے۔