شکری القوتلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
شام کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد شکری القوتلی کی ایک یادگار تصویر

شکری القوتلی شام کے پہلے صدر تھے۔ آپ شام کی جدوجہدِ آزادی میں شامل اہم شخصیات میں سے ایک تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

وہ 1891ء میں دمشق میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم جامعہ استنبول میں حاصل کی۔ 1913ء میں تعلیم مکمل کرکے وطن واپس آگئے۔ انہوں نے زمانۂ طالب علمی ہی میں سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ 1908ء میں استنبول میں قائم ہونے والی عرب نوجوانوں کی خفیہ تنظیم "جمعیۃ القتاہ" کے قیام میں ان کا اہم حصہ تھا۔

عملی سیاست[ترمیم]

دمشق واپس آکر انہوں نے عملی سیاست میں حصہ لیا 1916ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران عربوں کی بغاوت کے بعد جن شامی رہنماؤں کو جمال پاشا نے سازش کے الزام میں گرفتار کیا تھا ان میں شکری القوتلی بھی شامل تھے۔ اعتراف جرم کرنے کے لیے ان کو مسلسل کوڑے مارے گئے۔ شکری القوتلی کو اس وقت رہا کیا گیا جب فیصل بن حسین نے جمال پاشا کو دھمکی دی کہ اگر شامی حریت پسندوں کو رہا نہ کیا گیا تو مکہ اور طائف میں گرفتار کیے جانے والے ترک افسر قتل کر دیے جائیں گے۔ 1920ء میں جب فرانس نے شاہ فیصل کو دمشق سے بے دخل کیا تو شام کے حریت پسند رہنماؤں کو بھی گرفتار کرلیا ان میں شکری القوتلی بھی شامل تھے جنہیں سزائے موت سنائی گئی۔ لیکن شکری کسی طرح جیل سے بھاگ نکلے اور یورپ ہوتے ہوئے مصر پہنچ گئے۔ سیاسی قیدیوں کی عام معافی کے اعلان کے بعد وہ پھر شام واپس آگئے اور آزادی کی تحریک میں پھر سرگرمی سے حصہ لینا شروع کر دیا۔ شکری القوتلی شام کی ممتاز سیاسی جماعت حزب استقلال کے بانی ہیں۔ 1923ء میں انہیں دوبارہ سزائے موت سنائی گئی لیکن وہ روپوش ہوگئے اور مصر، فلسطین اور حجاز میں رہ کر شام کی آزادی کے لیے کام کیا۔ عام معافی کے بعد وہ پھر شام واپس آگئے۔

دورِ صدارت[ترمیم]

دوسری جنگ عظیم کے دوران جب شامی رہنماؤں نے شام کی آزادی کا اعلان کیا تو شکری کو ان کی خدمات کی وجہ سے 11 مارچ 1943ء کو جمہوریہ شام کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ وہ اس عہدے پر مارچ 1949ء کے فوجی انقلاب تک فائز رہے۔ 1945ء میں فرانس نے شام کی نو آزاد جمہوریہ کو ختم کرنے کے لیے دمشق پر شدید گولہ باری کی اور شہر پر قبضہ کر لیا اس وقت شکری القوتلی سخت بیمار تھے۔ اُس وقت برطانوی سفیر نے ان سے ملاقات کی اور فرانس کے ساتھ صلح نامے پر دستخط یا کسی محفوظ مقام پر منتقلی کی تجویز دی جو انہوں نے رد کردی۔ ان کے اس عزم و حوصلے کے باعث ہی فرانس گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا اور اسے اگلے سال شام خالی کرنا پڑا۔

اسرائیل اور عربوں کی پہلی جنگ (1947ء) شکری القوتلی کے دور صدارت میں ہوئی۔ شام کی سرحد چونکہ فلسطین سے ملتی تھی اس لیے شام کا اسرائیل سے براہ راست تصادم ہوا۔ لیکن جنگ میں شام کی فوجیں کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔ شام کی اس ناکامی نے عوام میں بے چینی پیدا کر دی جس سے شام کے فوجی افسروں نے فائدہ اٹھایا اور مارچ 1949ء میں شکری القوتلی کی جمہوری حکومت کا خاتمہ کرکے فوجی آمریت قائم کر دی۔

فوجی آمریت کے خاتمے کے بعد اگست 1955ء میں ہونے والے پہلے عام انتخابات میں شکری القوتلی ایک مرتبہ پھر صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے انتہائی پر آشوب دور میں اقتدار سنبھالا۔ فوج اگرچہ سیاست سے بظاہر بے دخل ہوگئی تھی لیکن اس کی مداخلت اور اندرونی سازشیں جاری تھی۔ یہی وجہ ہے کہ 30 اکتوبر 1956ء کو جب اسرائیل نے مصر پر حملہ کیا تو شام کوئی موثر قدم نہ اٹھا سکا۔ شام میں قوم پرست بعث پارٹی اور اشتراکی عناصر نے زور پکڑ لیا تھا اور انہوں نے فوج کے ان عناصر کو بھی غلط راستے پر ڈال دیا تھا جو نصیری اور دروزی فرقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ فوجی عناصر شام کو خالص کمیونسٹ ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ ان حالات میں اشتراکیت مخالف شامی حلقوں نے، جن میں اخوان بھی شامل تھے، مناسب سمجھا کہ شام کا مصر سے الحاق کر دیا جائے۔

متحدہ عرب جمہوریہ[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں:

مصر اور شام کے الحاق کی تحریک میں شکری القوتلی کا نمایاں ہاتھ تھا۔ ستمبر 1957ء میں ان کی کوششوں سے شام اور مصر کے درمیان ایک فوجی معاہدہ ہوا اور یکم فروری 1958ء کو شام اور مصر نے متحدہ عرب جمہوریہ تشکیل دی۔ شامی حکومت ختم کر دی گئی اور صدر قوتلی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ یہ شامی و مصری اتحاد ستمبر 1961ء تک قائم رہا۔ اس کی بڑی وجہ مصر کا شام کو نو آبادی بنا لینا اور شام میں پولیس راج کا قیام تھا۔ بعثی و اشتراکی عناصر کی دھاندلیوں اور قاہرہ کی بے تدبیریوں کی وجہ سے متحدہ عرب جمہوریہ اپنے قیام کے صرف تین سال 7 ماہ بعد ختم ہوگئی۔

انتقال[ترمیم]

اس دوران 1959ء میں صدر ناصر سے تنازع کے باعث انہیں ایک مرتبہ پھر انہیں جلا وطن کر دیا گیا اور اس طرح ان کا سیاسی دور اختتام کو پہنچا۔ 1967ء میں ان کا بیروت، لبنان میں انتقال ہو گیا۔