شہہ سوار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

شہہ سوار(انگریزی: Knight ;فارسی:شوالیه؛ عربی:الفارس(وسام) ؛ فرانسیسی: Chevalier) ایک اعزازی خطاب ہے جو کسی بادشاہ یا سیاسی رہنما کی طرف سے کسی بھی ایسے شخص کو عطا کیاجاتاتھا جو بلاواسطہ یا بالواسطہ فوج یا ملک کی خدمت بالخصوص فوجی خدمت انجام دیتاتھا ۔عمومی طور پر صلیبی جنگوں کے دوران ہیکل کیلئے جنگ لڑنے والوں کیلئے یہ لقب/خطاب استعمال ہوتاتھا۔قرون وسطیٰ متوسط میں کمتر درجے کے اشرافیہ کو بھی بطور شہہ سوارخدمتگارتصورکیاجاتاتھا۔تاہم بعد کے زمانے میں یہ خطاب /لقب اعلیٰ پائے کے گھڑسواروں اور عیسائی جنگجوؤں کیلئے شاہی ضابطہءاخلاق/قانون کی صورت اختیارکرگیا۔زمانہء جدید اولیٰ میں یہ خطاب خالصانہ طور پر ایسے لوگوں کو دیاجاتاتھا جو بادشاہ کے احکام کی تعمیل کرتے تھے بالخصوص برطانوی دربار میں بادشاہ کیلئے خدمت کرنے( خواہ وہ خدمت جنگ کی صورت میں ہو یا دیگر صورت میں ) والے افراد کو دیاجاتاتھا اور بدلے میں انکو جاگیریں عطاکی جاتی تھیں جہاں وہ لوگوں پر حاکم ہوتے تھے۔ عام طور پر بادشاہ ایسے جاگیرداروں پر اعتماد کرتے تھے جو گھڑسواری کی جنگ میں مہارت رکھتے تھے۔
شہہ سواروں کے بھی کئی درجات تھے جیساکہ شہہ سوار برائے معبد سلیمانی جس کو انگریزی میں Knights Templarکہاجاتاہے۔ یہ شہہ سوار برائے معبدسلیمان عیسائی جنگی روایات کے مطابق اساطیری حیثیعت کے مالک ہونے کی وجہ سے تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے تھے جسکی وجہ سے دیگر درجات برائے شہہ سواران مبہم طور پرماضی کے دھندلکوں میں گم ہوگئے۔ تاہم ایام رواں میں دیگر درجات برائے شہہ سواران مختلف ممالک میں پائےجاتےہیں جیساکہ انگلستان میں ان شہہ سواروں کو مخصوص نشان بند عطاکیاجاتاتھا، جبکہ سویڈن میں شاہ فریڈرک اول نے 1748میں خصوصی طور پر شہہ سواروں کےلئے شاہی درجہ برائے سرافین (فرشتوں کا ایک طبقہ) کے اعزاز کااجراءکیااورناروے اورسویڈن کے شاہ آسکراول نے 21اگست1847میں شہہ سواروں کیلئے ولی اولاف کے نام سے منسوب درجہ کا اجراءکیا۔ درج بالاتمام درجات کو پانے کیلئے خصوصی اہلیت ،قابلیت اور لیاقت کا پایاجاتالازم ہے تاہم شہہ سوار کا خطاب ریاست کے شاہ کی طرف سے ہر اس فردکودیاجاتاتھاجس نے کسی خاص میدان میں کارہائے نمایاں انجام دئے ہوں۔

شہہ سواروں کی اقسام[ترمیم]

شہہ سواروں(Knights)کی اہم اور مشہوراقسام درج ذیل تھیں

راہبانہ اور فوجی اعتبارسےشہہ سواروں کی اقسام[ترمیم]

میزبان شہہ سوار[ترمیم]

یہ ایسے شہہ سوار(Knights) تھے جو یروشلم میں آنے والے غریب، نادار، مسافر اور زائرین کی مدد پرمامورہوتاتھا۔ اس گروہ کی تنظیم سازی پہلی صلیبی جنگ 1099کےدوران ہوئی۔

ولی لعزرکے درجہ والے شہہ سوار[ترمیم]

اس درجہ کے شہہ سواروں کی تنظیم سازی 1100 عیسوی میں یروشلم کے ایک شفاخانہ برائے جزام میں ہوئی تھی اور اس درجہ کے سبھی شہہ سوار جزامی اور کوڑھی ہوتے تھے ۔ممکن ہے کہ شاہ بالڈون چہارم اسی درجے کا شہہ سوار تھا یا اسکو جزامی شہہ سواروں کی مددحاصل تھی۔ یہ وہی شاہ بالڈون ہے جس کے معالجے کیلئے صلاح الدین ایوبی نے معالج خاص بھیجاتھا اور اس بادشاہ نے صلاح الدین ایوبی سے معاہدہ امن کیاہواتھا۔

شہہ سوار برائے معبدسلیمانی[ترمیم]

اس درجہ کے شہہ سواروں کی تنظیم سازی 1118عیسوی میں ہوئی جبکہ کچھ حساس وجوہات کی وجہ سے اس گروہ کو 1307عیسوی میں ختم کردیاگیا۔

ٹیوٹونک شہہ سوار[ترمیم]

یہ گروہ جرمنی میں 1190میں منظم ہوا اس کامقصد زائرین کی مددکرنے کے علاوہ شفاخانوں کی تعمیر و تنظیم بھی تھابعد میں یہ گرہ/درجہ خالص کیتھولک درجہ شمارہونےلگاتھا اس گروہ نے پروشیامیں ایک ٹیوٹونک راہبانہ ریاستی نظام کی داغ بیل ڈالی جو 1525تک قائم رہی۔

گھڑسواری کے اعتبار سے شہہ سواروں کی اقسام[ترمیم]

اس موضوع پر مزید معلومات کے لیے , دیکھیں گھڑسوارجوانمرد.


محاربات صلیبی کے بعد عسکری اعتبار سے مربوط اور تربیت یافتہ ماہر شہہ سوار عوامی طور پر مثالی اور ہردلعزیزسمجھےجانےلگےتھےجس کااثر قرون وسطیٰ میں بادشاہ آرتھر سے منسوب تخلیق پانے والےادب میں بخوبی نظرآتاہے۔چودھویں اورپندھرویں صدی عیسوی کی عیسائی اشرافیہ میں شہہ سواری کی تربیت حاصل کرنا اور جنگی امورپر مہارت کلی حاصل کرناکاایک عام رواج تھا۔جبکہ عصرحاضر میں بھی کسی کی خاص عزت افزائی کیلئے یہ درجات مستعمل ہیں حتیٰ کہ لفظ درجہ/مقام اپنے اصلی معنی میں استعمال کیاجاتاہے۔عام طور پر گھڑسواری کے اعتبارسے درج ذیل اقسام برائے شہہ سواران پائی جاتی ہیں۔

ولی جارج کے نام سے موسوم درجہ[ترمیم]

اس درجے کابانی ہنگری(مجارستان) کابادشاہ چارلس اول تھا جس نے اس درجے کا اجراء1325/26عیسوی میں کیا۔

عیدتبشیرکے نام سے موسوم درجہ[ترمیم]

عید تبشیرکےنام سے موسوم درجہ جسے نہائت "معتبرترین عیدتبشیردرجہ" کہاجاتاہے۔اسے نواب اماڈیوس ششم نے1346میں جاری کیاتھا۔

موید نامی درجہ[ترمیم]

اس درجے کابانی ایڈورڈسوم تھا جس نے اسکا 1348میں اجراءکیا۔

عنيف نامی درجہ[ترمیم]

اس درجے کابانی سگس مونڈ نامی شہنشاہ روم تھا جس نے 1408میں اسکااجراءکیا۔

گوسفندکی اون سے منسوب وموسوم درجہ[ترمیم]

اس درجے کا بانی فلپ جید(فلپ سوم) جو کہ برگنڈی کا نواب تھا ۔ اس کااجراء1430میں ہواتھا۔

ولی میخائیل سے موسوم درجہ[ترمیم]

اس درجے کی ابتداء1469میں فرانس کے بادشاہ لوئی یازدہم نے کی تھی۔

درجہءشوک[ترمیم]

اس درجے کی ابتداء اسکاٹ لینڈ کے بادشاہ جیمس ہفتم نے 1687میں کی(جیمس ہفتم کو جیمس دوم شاہ انگلستان کے طور پر بھی جاناجاتاہے۔

درجہء فیل[ترمیم]

اس درجے کو پہلے ڈنمارک کے بادشاہ کرسٹیان اول نے جاری کیا مگر بعد میں ڈنمارک کے بادشاہ کرسٹیان پنجم نے اسکے موجودہ خدوخال کیلئے اس میں ترامیم و تبدیلیاں کیں۔

درجہء اغتسال[ترمیم]

ا س درجے کابانی مبانی جارج اول تھا اس نے اسکااجراء1725میں کیاتھا۔ شہہ سواروں کے درجہ میں شمولیت کیلئے خاص رسم برائے غسل طہورہ انجام دیناہوتی تھی۔اسی لئے اس درجے کانام درجہء اغتسال تھا۔

اعزازی درجات برائے شہہ سواران[ترمیم]

غیرمحتاطاندازےکیمطابق1560میں خاص امتیازاوروقارکی خاطر اعزازی خطابات، القابات و درجات برائے شہہ سواران غیرعسکری خدمتگاران سلطنت کو بھی عطاکئےجاتےتھے۔ ایسے اعزازی القابات/درجات/خطابات سولہویں اور سترھویں صدی عیسوی میں بہت مشہور تھے اور بعدمیں کافی سالوں تک کچھ ممالک میں یہ سلسلہ چلتارہا:

دیگر مملکتوں اور جمہوریاؤں میں آج بھی یہ نظام برائے اعزازات رائج ہے تاہم عام طورپریہ اعزازات ایسے افرادکوعطاکئےجاتےہیں جنہوں نے غیرعسکری اقدامات سے معاشرے کی خدمت کی ہو۔جیسے کوئی موسیقار، گلوکار،مصنف، مہندس، ہنرمند وغیرہ۔