شیخ ایاز
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
|
|
||
| تاریخ پیدائش: | 23 مارچ 1923 | |
| جائےپیدائش: | شکار پور | |
| تاریخ وفات: | 28 دسمبر 1997 | |
| جائےوفات: | کرچی | |
| مدفن: | بھٹ شاھ | |
شیخ مبارک علی ایاز المعروف شیخ ایاز سندھی زبان کے بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کے بعد سندھ کا عظیم شاعر مانا جاتا ہے۔ اگر آپ کو جدید سندھی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ آپ مزحمتی اور ترقی پسند شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کی پیدئش 23 مارچ 1923 تی شکارپور میں ہوئی۔ آپ نے درجنوں کتابیں لکھیں اور سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رھے۔ آپ نے شاھ جو رسالو کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا جو اردو ادب میں سندھی ادب کا نیا قدم سمجھا جاتا ہے۔ 23 مارچ 1994 کو آپ کو ملک سب سے بڑا ادبی ایوارد ھلال امتیاز 16 اکتوبر 1994 کو فیض احمد فیض ایوارڈ ملا۔ 28 دسمبر 1997 کو دل کی تکلیف کی وجہ سے دار فانی سے چلے گئے۔
کتابیات [ترمیم]
شاعری
- نیل کنٹھ اور نیم کے پتے۔ (اردو)
- وجوں وسن آئیوں - وڄون وسڻ آيون (سندھی)
- کپر تھو کن کری - ڪپر ٿو ڪن ڪري
- پتن تھو پور کر- پتڻ ٿو پور ڪري
- چنڈ چنبیلی ول - چنڊ چنبيليءَ ول
- لڑیو سج لکن میں - لڙيو سج لڪن ۾
- الوداعی گیت - الوداعي گيت
- کی جی بیجل بولیو - ڪي جو ٻيجل ٻصليو. (سندھی)
- جو بیجل نے اکھیا (پنجابی)
نثر
- سفید وحشی (سندھی کھانیاں)
- جی کاک ککوریا کاپری (سندھی میں خط)
- جگ مڑوئی سپنو (سوانح عمری)
- ساھیوال جی ڈائری