شیدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ضلع کرناٹک کی ایک شیدی خاتون کی تصویر
(सिद्दी شیدی સિદ્દી ಸಿದ್ಧಿಗಳು)
کل آبادی
20,000 – 55,000 (تخمینہ)
علاقے جہاں یہ قبیلہ آباد ہے
گجرات، مہاراشٹر، کرناٹک بھارتی ریاستیں، سندھ اور بلوچستان پاکستانی صوبے اور جنوبی ایرانی ساحلی شہر (جہاں انہیں عرب سمجھا جاتا ہے)۔
زبانیں

گجراتی، مراٹھی، کناڈا، کونکنی، سندھی، مکرانی، بلوچی

مذاہب

عام طور پر صوفی، اس کے علاوہہندو اور رومن کیتھولک اقلیتیں

شیدی (انگریزی زبان: Siddi; ہندی، مراٹھی، کونکنی: सिद्दी or शीदि/ಸಿದ್ಧಿ; گجراتی: સિદ્દી; کناڈا: ಸಿದ್ಧಿಗಳು)، دیگر نام حبشی،گجرات، مہاراشٹر، کرناٹک بھارتی ریاستیں، سندھ اور بلوچستان پاکستانی صوبے اور جنوبی ایرانی ساحلی شہر (جہاں انہیں عرب سمجھا جاتا ہے) میں آباد ہیں۔ انہیں شیدی بلوچ اور مکرانی بھی کہا جاتا ہے۔شیدیوں کے آبااجداد افریقہ سے پاکستان اور بھارتی ریاست گجرات آکر آباد ہوئے

کراچی کی منگھو پیر کی پہاڑی پر واقع درگاہ حضرت خواجہ حسن سخی سلطان عرف منگھو پیر ان سیاہ فاموں کے روحانی پیشوا ہیں۔ اس لوگوں کی مزار کے احاطے میں واقع تالاب میں موجود ایک سو سے زائد مگر مچھوں سے خاص عقیدت ہے۔

پاکستان میں رہنے والے افریقی نسل کے سیاہ فام لوگ جنہیں شیدی پکارا جاتا ہے منگھو پیر میں ہر سال ساون کے مہینے سے پہلے میلہ منعقد کرتے ہیں۔

میلے کے آغاز پر قبیلے کا سردار سب سے بڑے مگر مچھ مور صاحب کے ماتھے پر سندور کا ٹیکہ لگاتا ہے، حلوہ اور گوشت کھلاتا ہے جس کے لیے خاص طور پر بکرہ ذبح کر کے اس کی سری مگر مچھ کو کھلائی جاتی ہے ۔

ان شیدیوں کا عقیدہ ہے کہ اگر مور صاحب ان کا دیا ہوا گوشت نہ کھائیں تو وہ سال ان کا اچھا نہیں گزرتا اور اس سال میلہ بھی نہیں ہوگا۔

مزار پر آنے والے زائرین کا عقیدہ ہے کہ یہ مگر مچھ بارہویں صدی عیسوی کے بزرگ خواجہ فرید الدین مسعود شکر گنج کی جوئیں ہیں جو انہوں نے منگھو پیر کو دیں تھیں جو بعد میں معجزے سے مگر مچھ بن گئیں۔

مگر مچھوں کے نگران سجاد خلیفہ کا کہنا ہے کہ شیدیوں کے علاوہ دیگر لوگ بھی یہاں منت مانگتے ہیں ’ کئی ایسے سوالی ہوتے ہیں جو اولاد کی منت مانگتے ہیں کچھ لوگ کاروبار تو کچھ روزگار کی منت لے کر آتے ہیں، وہ اپنے ساتھ حسب توفیق گوشت لاتے ہیں جو سات مرتبہ ان کے اوپر سے گزار کر ان مگر مچھوں کو کھلاتے ہیں جس کے بعد ان کی منت پوری ہوجاتی ہے‘۔

چودہ سو اسکوئر فٹ کے تالاب کے ہرے رنگ کے گدلے پانی میں اس وقت ایک سو سے زائد مگر مچھ موجود ہیں جو پاکستان میں کسی ایک جگہ پائے جانے والے مگر مچھوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ خلیفہ سجاد کا کہنا ہے کہ اگر ان مگر مچھوں میں سے کوئی مر جائے تو اسے غسل دے کر، عطر لگانے کے بعد اس کی عزت وہ احترام سے تدفین کی جاتی ہے۔

مگر مچھ کے گوشت کھانے پر خوشی میں تالاب کے کچھ فاصلے پر واقع ایک چھوٹے سے میدان میں ایک ڈرم نما ڈھول بجنے لگتا ہے، اس ڈھول کو مگرمان کہا جاتا ہے۔ مگرمان شیدیوں کے لیے صرف ناچنے گانے کا ساز نہیں بلکہ ان کا روحانی ساز ہے۔

سیاہ فام مرد اور خواتین مخصوص انداز میں رقص کرنے لگتے ہیں جس دوران ان پر وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور یہ ایک دوسرے کے گلے بھی لگ جاتے ہیں، ان سب کے پاؤں ننگے ہوتے ہوتے ہیں اور سر پر رومال بندھا ہوتا ہے جبکہ ہاتھوں میں فقیری ڈنڈے ہوتے ہیں۔


مگرمان کی تھاپ کے ساتھ ساتھ یہ مرد اور عورتیں ایک خاص ورد کرتے نظر آئے جس کے اکثر الفاظ شاید وہ خود بھی نہیں جانتے مگر پرکھوں سے سنی ہوئی یہ آوازیں سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہیں۔

میلے کے منتظم غلام اکبر شیدی کا کہنا ہے کہ یہ سواہلی زبان ہے جو افریقہ میں آج بھی بولی جاتی ہے۔ ’سواہلی ہمیں آتی بھی نہیں کیونکہ نہ دادا پر دادا زندہ ہیں اور نہ کوئی سواہلی بولنے والا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے ہم سواہلی کے ایسے لفظ بول رہے ہوں جو سرے سے ہوہی نہ‘۔شیدیبرژعیر آنے سے پہلے اپنا وطن افریقہ بتاتے ہیں۔

دھمال کرنے والے فقیروں کو لوگ پھولوں کے ہار پہناتے ہیں، ان کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ ان کے اندر جنات یا روحیں اتر آئی ہیں، لوگ ان سے اپنی پریشانیوں اور مستقبل کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور تبرک کے طور پر دعا کے دھاگے اور تعویذ بھی دیتے ہیں۔

ان شیدیوں کا کہنا ہے کہ جب عرب سپہ سالار محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا تو ان کی فوج میں شیدی سپاہی بھی موجود تھے، مگر تاریخ نویسوں کا کہنا ہے کہ اس خطے میں سیاہ فام غلاموں کی تجارت ہوتی تھی، جنہیں مسقط سے کراچی اور بھارت کی بندرگاہوں پر لایا جاتا تھا۔ اٹھارہ سو تینتالیس میں جب انگریزوں نے سندھ کو فتح کرلیا تو ان سیاہ فام لوگوں کو غلامی سے آزادی نصیب ہوئی۔

شیدی میلے کے آرگنائزر اکبر شیدی کا کہنا ہے کہ ’شیدی پسماندہ کمیونٹی ہے، مگر ہمارے بھائیوں ساتھیوں اور بزرگوں نے فٹ بال، باکسنگ اور سائیکلنگ کھیلی یا محنت مزدوری کی۔ آج شیدی جس مقام پر نظر آتے ہیں وہ اپنی محنت سے ہیں۔ ہمارے ملک میں نہ تو ہمارا کوئی آقا ہے اور نہ ہی بڑا ہے ‘

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=شیدی&oldid=770934’’ مستعادہ منجانب