ص (سورت)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ص سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

یہ مضمون قرآن کی سورۃ ص کے بارے میں ہے۔ حرف ص کے لیے دیکھیں ص (حرف)۔

الصافات
الصافات
دور نزول مکی
عددِ سورت 38
عددِ پارہ 23
زمانۂ نزول مختلف روایات
اعداد و شمار
رکوع 5
تعداد الآیات 88

قرآن مجید کی 38 ویں سورت، جس میں 5 رکوع اور 88 آیات ہیں۔

نام[ترمیم]

آغاز ہی کے حرف ص کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے

زمانۂ نزول[ترمیم]

بعض روایات کی رو سے یہ سورت اس زمانے میں نازل ہوئی جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکۂ معظمہ میں علانیہ دعوت کا آغاز کیا تھا اور قریش کے سرداروں میں اس پر کھلبلی مچ گئی تھی۔ اس لحاظ سے اس کا زمانۂ نزول تقریباً نبوت کا چوتھا سال قرار پاتا ہے۔ بعض دوسری روایات اسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کے بعد کا واقعہ بتاتی ہے۔ اور معلوم ہے کہ وہ ہجرت حبشہ کے بعد ایمان لائے تھے۔ ایک اور سلسلۂ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو طالب کے آخری مرض کے زمانہ میں وہ معاملہ پیش آیا تھا جس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ اسے اگر صحیح مانا جائے تو اس کا زمانۂ نزول نبوت کا دسواں یا گیارہواں سال ہے۔

تاریخی پس منظر[ترمیم]

امام احمد، نسائی، ترمذی، ابن جریر، ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم اور محمد بن اسحاق وغیرہ نے جو روایات نقل کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ابو طالب بیمار ہوئے اور قریش کے سرداروں نے محسوس کیا کہ اب یہ ان کا آخری وقت ہے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ چل کر شیخ سے بات کرنی چاہیے۔ وہ ہمارا اور اپنے بھتیجے کا جھگڑا چکا جائیں تو اچھا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا انتقال ہو جائے اور ان کے بعد ہم محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ساتھ کوئی سخت معاملہ کریں اور عرب کے لوگ ہمیں طعنہ دیں کہ جب تک شیخ زندہ تھا، یہ لوگ اس کا لحاظ کرتے رہے، اب اس کے مرنے کے بعد ان لوگوں نے اس کے بھتیجے پر ہاتھ ڈالا ہے۔ اس رائے پر سب کا اتفاق ہو گیا اور تقریباً 25 سردارانِ قریش جن میں ابو جہل، ابو سفیان، امیہ بن خلف، عاص بن وائل، اسود بن المطلب، عقبہ بن ابی معیط، عتبہ اور شیبہ شامل تھے، ابو طالب کے پاس پہنچے۔ ان لوگوں نے پہلے تو حسب معمول نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف اپنی شکایات بیان کیں، پھر کہا ہم آپ کے سامنے ایک انصاف کی بات پیش کرنے آئے ہیں۔ آپ کا بھتیجا ہمیں ہمارے دین پر چھوڑ دے اور ہم اسے اس کے دین پر چھوڑے دیتے ہیں۔ وہ جس معبود کی عبادت کرنا چاہیے کرے، ہمیں اس سے کوئی تعرض نہیں مگر وہ ہمارے معبودوں کی مذمت نہ کرے اور یہ کوشش نہ کرتا پھرے کہ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ اس شرط پر آپ ہم سے اس کی صلح کرا دیں۔ ابو طالب نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلایا اور آپ سے کہا کہ بھتیجے! یہ تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے ہیں ان کی خواہش ہے کہ تم ایک منصفانہ بات پر ان سے اتفاق کر لو تاکہ تمہارا اور ان کا جھگڑا ختم ہو جائے۔ پھر انہوں نے وہ بات حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتائی جو سردارانِ قریش نے ان سے کہی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب میں فرمایا، چچا جان! میں تو ان کے سامنے ایک ایسا کلمہ پیش کرتا ہوں جسے اگر یہ مان لیں تو عرب ان کا تابعِ فرمان اور عجم ان کا باج گذار ہو جائے۔ یہ سن کر وہ لوگ سٹپٹا گئے۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آخر کیا کہہ کر ایسے ایک مفید کلمے کو رد کر دیں۔ پھر کچھ سنبھل کر بولے، تم ایک کلمہ کہتے ہو، ہم ایسے دس کلمے کہنے کو تیار ہیں، مگر یہ تو بتاؤ کہ وہ کلمہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا لا الہ الا اللہ۔ اس پر وہ سب یکبارگی اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ باتیں کہتے ہوئے نکل گئے جو اس سورت کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالٰیٰ نے نقل کی ہیں۔

ابن سعد نے طبقات میں یہ سارا قصہ اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح اوپر مذکور ہوا، مگر ان کی روایت کے مطابق یہ ابو طالب کے مرض وفات کا نہیں بلکہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعوتِ عام کی ابتدا کی تھی اور مکہ میں پے در پے یہ خبریں پھیلنی شروع ہو گئی تھیں کہ آج فلاں آدمی مسلمان ہوا اور کل فلاں۔ اس وقت سردارانِ قریش یکے بعد دیگرے کئی وفد ابو طالب کے پاس لے کر پہنچے تھے تاکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس تبلیغ سے روک دیں اور انہی وفود میں سے ایک کے ساتھ یہ گفتگو ہوئی تھی۔

زمخشری، رازی، نیسا بوری اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ یہ وفد ابو طالب کے پاس اس وقت گیا تھا جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے پر سردارانِ قریش بوکھلا گئے تھے لیکن کتبِ روایت میں سے کسی میں اس کا حوالہ نہیں مل سکا اور نہ ان مفسرین نے اپنے ماخذ کا حوالہ دیا ہے تاہم اگر یہ صحیح ہو تو یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ اس لیے کہ کفار قریش پہلے ہی یہ دیکھ کر گھبرائے ہوئے تھے کہ اسلام کی دعوت لے کر ان کے درمیان ایک ایسا شخص اٹھا ہے جو اپنی شرافت، بے داغ سیرت اور دانائی و سنجیدگی کے اعتبار سے ساری قوم میں اپنا جواب نہیں رکھتا۔ اور پھر اس کا دست راست ابو بکر (رضی اللہ عنہ) جیسا آدمی ہے جسے مکے اور اس کے اطراف کا بچہ بچہ ایک نہایت شریف، راست باز اور ذکی انسان کی حیثیت سے جانتا ہے۔ اب جو انہوں نے دیکھا ہوگا کہ عمر بن خطاب جیسا جری اور صاحبِ عزم آدمی بھی ان دونوں سے جا ملا ہے تو یقیناً انہیں محسوس ہوا ہوگا کہ خطرہ حدِ برداشت سے گذرتا جا رہا ہے۔

موضوع و مباحث[ترمیم]

اوپر جس مچلس کا ذکر کیا گیا ہے اسی پر تبصرے سے اس سورت کا آغاز ہوا ہے۔ کفار اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گفتگو کو بنیاد بنا کر اللہ تعالٰیٰ نے بتایا ہے کہ ان لوگوں کے انکار کی اصل وجہ دعوتِ اسلامی کا کوئی نقص نہیں ہے بلکہ ان کا اپنا تکبر اور حسد اور تقلیدِ اعمیٰ پر اصرار ہے۔ یہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں کہ اپنی ہی برادری کے ایک آدمی کو خدا کا نبی مان کر اس کی پیروی کر لیں۔ یہ انہی جاہلانہ تخیلات پر جمے رہنا چاہتے ہیں جن پر انہوں نے اپنے قریب کے زمانے کے لوگوں کو پایا ہے، اور جب اس جہالت کے پردے چاک کرکے ایک شخص ان کے سامنے اصل حقیقت کو پیش کرنا چاہتا ہے تو یہ اس پر کان کھڑے کرتے ہیں اور اسے عجیب بات بلکہ نرالی اور انہونی بات قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک توحید اور آخرت کا تخیل محض ناقابل قبول ہی نہیں ہے بلکہ ایک ایسا تخیل ہے جس کا بس مذاق ہی اڑایا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالٰیٰ نے سورت کے ابتدائی حصے میں بھی اور آخری فقروں میں بھی کفار کو صاف صاف متنبہ کیا ہے کہ جس شخص کا تم آج مذاق اڑا رہے ہو اور جس کی رہنمائی قبول کرنے سے تم کو آج سخت انکار ہے، عنقریب وہی غالب آ کر رہے گا اور وہ وقت دور نہیں جب اسی شہر مکہ میں، جہاں تم اس کو نیچا دکھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہو، اس کے آگے تم سب سرنگوں نظر آؤ گے۔

پھر پے در پے 9 پیغمبروں کا ذکر کرکے، جن میں حضرت داؤد و سليمان علیہ السلام علیہما السلام کا قصہ زیادہ مفصل ہے، اللہ تعالٰیٰ نے یہ بات سامعین کے ذہن نشین کرائی ہے کہ اس کا قانونِ عدل بالکل بے لاگ ہے، اس کے ہاں انسان کا صحیح رویہ ہی مقبول ہے، بے جا بات خواہ کوئی بھی کرے وہ اس پر گرفت کرتا ہے، اور اس کے ہاں وہی لوگ پسند کیے جاتے ہیں جو لغزش پر اصرار نہ کریں بلکہ اس پر متنبہ ہوتے ہی تائب ہو جائیں اور دنیا اور آخرت کی جواب دہی کو یاد رکھتے ہوئے زندگی بسر کریں۔

اس کے بعد فرماں بردار بندوں اور سرکش بندوں کے اس انجام کا نقشہ کھینچا گیا ہے جو وہ عالمِ آخرت میں دیکھنے والے ہیں اور اس سلسلے میں کفار کو دو باتیں خاص طور پر بتائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ آج جن سرداروں اور پیشواؤں کے پیچھے جاہل لوگ اندھے بن کر ضلالت کی راہ پر چلے جا رہے ہیں، کل وہی جہنم میں اپنے پیروؤں سے پہلے پہنچے ہوئے ہوں گے اور دونوں ایک دوسرے کو کوس رہے ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ آج جن اہل ایمان کو یہ لوگ ذلیل و خوار سمجھرہے ہیں، کل یہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر حیرت کے ساتھ دیکھیں گے اُن کا جہنم میں کہیں نام و نشان تک نہیں ہے اور یہ خود اس کے عذاب میں گرفتار ہیں۔

آخر میں قصۂ آدم و ابلیس کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اس سے مقصود کفار قریش کو یہ بتانا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے جھکنے سے جو تکبر تمہیں مانع ہو رہا ہے وہی تکبر آدم کے آگے جھکنے سے ابلیس کو بھی مانع ہوا تھا۔ خدا نے جو مرتبہ آدم کو دیا تھا اس پر ابلیس سے حسد کیا اور حکمِ خدا کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرکے لعنت کا مستحق ہوا۔ اسی طرح جو مرتبہ خدا نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیا ہے اس پر تم حسد کر رہے ہو اور اس بات کے لیے تیار نہیں ہو کہ جسے خدا نے رسول مقرر کیا ہے اس کی اطاعت کرو، اس لیے جو انجام ابلیس کا ہونا ہے وہی آخر کار تمہارا بھی ہونا ہے۔


گذشتہ سورت:
الصافات
سورت 38 اگلی سورت:
الزمر
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحیٰ · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس