صاحبزادہ فضل کریم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

صاحبزادہ فضل کریم محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد قادری کے صاحبزادے اور پاکستان کے ایک مذہبی سیاستدان تھے وہمرکزی جمعیت علماء پاکستان اور سنی اتحاد کونسل کےسربراہ تھے آپ کے والد گرامی محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد قادریاعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا محمد احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی کے شجرہء طریقت سے فیض یافتہ تھے۔

صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم


پیدائش 24 اکتوبر 1954 (1954-10-24) ‏(60)
لائلپور, پاکستان
وفات 15 اپریل 2013ء
سیاسی جماعت سنی اتحاد کونسل
مادر علمی جامعہ رضویہ مظہر الاسلام
جامعہ پنجاب
مذہب اسلام


تعلیم[ترمیم]

انہوں نے دین کی ابتدائی تعلیم شیخ الحدیث مولانا غلام رسول رضوی مفتی محمد نواب الدین اور مولانا عرفان الحق سے حاصل کی آپ نے انیس صد ستاسی میں جامعہ رضویہ مظہر الاسلام فیصل آباد سے اسلامک سٹیڈیز میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور دینی علوم کے علاوہ 1987ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کی ڈگری بھی حاصل کی اور عملی زندگی کا آغاز ایک کاروباری شخصیت کےطور پر کیا

تاریخ[ترمیم]

صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم کے آباء و اجداد نےبھارت کے شہر گورداسپور، مشرقی پنجاب سے قیام پاکستان کے وقت پاکستان کی طرف ہجرت کی، دوران ہجرت ان کے کنبے کے چند لوگ شہید بھی ہوئے باقی افرادجھنگ بازار لائلپور میں رہائش پذیر ہوگئےوہیں 1954ء میں فضل کریم پیدا ہوئے ، چھ بہنوں اور تین بھائیوں میں صاحبزادہ فضل کریم کا نمبر تیسرا تھا۔ان کے برادر اکبر، صاحبزادہ فضل رسول ، محدث اعظم پاکستان کے علمی جانشین ہیں اور ایک برادر بزرگ فضل احمد پہلے ہی اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ بائیس برس کی عمر میں 1977ء کوان کی شادی ہوئی آپ کا نکاح پڑھانے کا فریضہ مولانا شاہ احمد نورانی نے انجام دیا


اہلسنت و جماعت حنفی بریلوی

امام اہل سنت مولانا احمد رضا خان قادری کا مزار
اہم شخصیات

فضل حق خیر آبادی · رضا علی خان
سید کفایت علی کافی ·
نقی علی خان
امام احمد رضا خان
جماعت علی شاہ محدث ·
سید جماعت علی شاہ ثانی
امجد على اعظمى ·
پير مہر علی شاہ
نعیم الدین مراد آبادی ·
عبد العلیم صدیقی
مصطفی رضا خان ·
مفتی احمد یار خاں نعیمی
مفتی غلام جان قادری ·
یار محمد بندیالوی
محمد سردار احمد قادری ·
حامد رضا خان
ارشد القادری ·
احمد سعید کاظمی
صاحبزادہ فضل کریم ·
محمد شفیع اوکاڑوی
سید شجاعت علی قادری ·
قمر الزمان اعظمى
قاری غلام رسول ·
شہید محمد سلیم قادری
حسن رضا خان ·
مفتی محمد امین
مولانا شاہ احمد نورانی ·
محمد اختر رضا خان قادری
محمد عبدالحکیم شرف قادری ·
ابو البرکات احمد
سرفراز احمد نعیمی شہید ·
عبدالقیوم ہزاروی
فیض احمد اویسی ·
محمد ارشد القادری
محمد خان قادری ·
مفتی منیب الرحمان
اشرف آصف جلالی ·
محمد اسحاق جان سرہندی
قاری سید صداقت علی ·
محمد الیاس قادری
مشتاق قادری ·
کوکب نورانی اوکاڑوی
راغب حسین نعیمی ·
ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی
محمد عمران عطاری

اہم ادارے

جامعہ رضویہ منظر اسلام, بھارت
دارالعلوم حزب الاحناف, پاکستان
فیضان مدینہ، پاکستان
جامعہ اسلامیہ لاہور, پاکستان
جامعہ اسلامیہ رضویہ, پاکستان
جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور, پاکستان
جامعہ نظامیہ رضویہ شیخوپورہ, پاکستان
جامعہ نعیمیہ لاہور, پاکستان
دارالعلوم حزب الاحناف, پاکستان

تحریکیں

جنگ آزادی ہند 1857ء
آل انڈیا سنی کانفرنس
جمیعت علمائے پاکستان
تحریک ختم نبوت
دعوت اسلامی
تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان
تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان
سنی دعوت اسلامی
سنی تحریک
ورلڈ اسلامک مشن

سیاست[ترمیم]

آپ نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز جمیعت علمائے پاکستان کے اسٹیج سے اس وقت کیا جب یہ جماعت پاکستان کی اہم ترین سیاسی جماعتوں میں شمار ہوتی تھی۔ مرور وقت کے ساتھ جب یہ جماعت مختلف دھڑوں کا شکار ہوئی تو صاحبزادہ صاحب نے اپنی جماعت الگ منظم کی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کر کے چار دفعہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ میاں شہباز شریف صاحب کے سابقہ دور میں وہ وزیر اوقاف بھی رہے اور انتہائی کامیابی کے ساتھ اپنا دور نبھایا۔ چند سال قبل جب ملک میں دہشت گردی کی وبا عام ہوئی اور مختلف گروہوں اور تنظیموں نے اپنا وجود قائم رکھنے کے لئے جدوجہد کا آغاز کیا تو صاحبزادہ صاحب نے حضرت قبلہ سید حسین الدین شاہ صاحب مد ظلہ العالی کے ایماء پر اہل السنّت والجماعت کے دھڑوں کو منظم کرنے کی سعی بلیغ کی اور بالآخر سنی اتحاد کونسل کے سربراہ ٹھہرے۔ اہل السنّت والجماعت کے مطالبات کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے بعض افراد سے ان کے اختلافات ہوئے۔ اسی وجہ سے انہوں نے آخری دنوں میں مسلم لیگ (ق) سے اپنے روابط بڑھائے۔حوالہ:ادریہ، ماہنامہ ضیائے حرم صفحہ 10 مئی 2013ء انہوں نے خود کش حملوں کو غیر اسلامی قرار دینے کے ساتھ ساتھ لاہور کے داتا دربار سوات کی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ 1993 اور1997 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی اور 2002 اور 2008 کے انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، فضل کریم جمیعت علماء پاکستان کے صدر اور سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین بھی رہے، انہوں نے امریکا ،برطانیہ،مصر،شام سمیت بہت سے ملکوں کے دورے بھی کئے۔ صاحبزادہ فضل کریم انیس سو ترانوے سے ستانوے تک پنجاب اسمبلی کے رکن جب کہ انیس سو ستانوے سے ننانوے تک صوبائی وزیر بھی رہے. جب کہ انہوں نے دوہزار دو میں مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پرقومی اسمبلی کی نشست پر پہلی بار کامیابی حاصل کی پھر اسی نشست پر دوہزار آٹھ میں بھی کامیاب قرار پائے.صاحبزادہ فضل کریم کا دہشت گردی کےخلاف جنگ سے متعلق موقف بھی واضح رہا،دوہزار تیرہ کے انتخابات کیلئے ن لیگ سے اختلافات کے باعث وہ پیپلزپارٹی اور قاف سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے کوشاں تھے.

وفات[ترمیم]

سنی اتحاد کونسل کے سربراہ اور مذہبی رہنما صاحبزادہ فضل کریم 15 اپریل 2013ء پیر کو فیصل آباد میں انتقال کر گئے۔ وہ جگر کے عارضے میں مبتلا تھے اور 4 اپریل سے فیصل آباد کے الائیڈ اسپتال میں زیر علاج تھے۔ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین کی عمر 59 سال تھی اور وہ ایک اہم مذہبی رہنما تصور کیے جاتے تھے۔انہیں جھنگ بازار فیصل آباد میں جامعہ رضویہ مظہر الاسلام کے احاطے میں دفن کیا گیا۔

جانشین[ترمیم]

صاحبزادہ فضل کریم کے صاحبزادے حامد رضا ان کے جانشین ہوں گے، ان کے سوگواران میں بیوہ، ایک بیٹی اور 4 بیٹے شامل ہیں۔


بیرونی حوالہ جات[ترمیم]

٭ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ انتقال کر گئے

٭ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحب زادہ فضل کریم کو جھنگ بازار فیصل آباد میں جامعہ رضویہ کے احاطے میں سپرد خاک کردیا گیا

٭ صاحبزادہ فضل کریم کی زندگی پر ایک نظر

٭ چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ فضل کریم چل بسے

٭ Ref