صادقین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
صادقین
پیدائش 1930ء
امروہہ ۔ ہندوستان
وفات 10 فروری 1987ء
کراچی ۔ پاکستان
قومیت پاکستانی
اسمائے دیگر سید صادقین احمد نقوی
مادر علمی آگرہ یونی ورسٹی
پیشہ مصوری
تنظیم صادقین آرٹ گیلری
کارہائے نمایاں فیصل مسجد فریئر ہال ، نیشنل میوزم و صادقین آرٹ گیلری میں
اعزازات تمغۂ امتیاز ، ستارۂ امتیاز
موقع جال
www._.com

پاکستان کے شہرہ آفاق مصور، خطاط اور نقاش، سید صادقین احمد نقوی جو کہ "صادقین" کے نام سے مشہور ہوئے ۔

ان کا گھرانہ خطاطی کے حوالے سے بہت پہلے سے مشہور تھا، 1940ء کی دہائی میں وہ ترقی پسند ادیبوں اور فن کاروں کی تحریک میں شامل ہوچکے تھے، ان کی شخصیت میں پوشیدہ فنکارانہ صلاحیتوں کو سب سے پہلے پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم حسین شہید سہروردی نے شناخت کیا ۔

فہرست

سوانح[ترمیم]

ابتدائی حالات[ترمیم]

1930ء کو ہندوستان کے ممتاز علمی شہر امروہہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم آبائی شہر امروہہ ہی میں حاصل کی، بعد ازاں آگرہ یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ تقسیم ہند کے بعد آپ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی آگئے۔

حالات زندگی[ترمیم]

1940ء کی دہائی میں وہ ترقی پسند ادیبوں اور فن کاروں کی تحریک میں شامل ہوچکے تھے ۔

آخری ایام[ترمیم]

زندگی کے آخری دنوں میں جب وہ فریئر ہال کی دیوار پر پینٹنگ میں مصروف تھے، اچانک گر پڑے اور 10 فروری 1987ء کو کراچی کے ایک اسپتال میں خالقِ حقیقی سے جا ملے، سخی حسن کا قبرستان ان کی آخری آرام گاہ ہے.

10 فروری 1987ء کودنیائے مصوری کی اس عہدساز شخصیت کا کراچی میں انتقال ہوا۔

خدمات[ترمیم]

، ان کے فن پاروں کی پہلی نمائش 1954ء میں کوئٹہ میں ہوئی تھی جس کے بعد فرانس، امریکا، مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ، اور دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی ایسی نمائشیں منعقد ہوئیں ۔ مارچ 1970ء میں آپ کو تمغہ امتیاز اور1985ء میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ آپ کو سب سے پہلے کلام غالب کو تصویری قالب میں ڈھالنے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ آپ کی خطاطی و مصوری کے نمونے فیصل مسجد اسلام آباد، فریئر ہال کراچی، نیشنل میوزیم، صادقین آرٹ گیلری اور دنیا کے ممتاز عجائب گھروں میں موجود ہیں۔

ان کی دیوار گیر مصوری کے نمونوں (میورلز) کی تعداد کم وبیش 35 ہے جو آج بھی سٹیٹ بینک، فریئر ہال کراچی، لاہور میوزیم، پنجاب یونیورسٹی، منگلا ڈیم، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف جیولوجیکل سائینسز، اسلامک انسٹی ٹیوٹ دہلی اور ابو ظہبی پاور ہاؤس کی دیواروں پر سجے شائقینِ فن کو مبہوت کر رہے ہیں، صادقین نے جناح اسپتال اور پی آئی اے ہیڈ کوارٹرز کے لیے بھی ابتداء ہی میں میورلز تخلیق کیے تھے جو پُر اسرار طور پر غائب ہوچکے ہیں ۔ [1]

صادقین نے قرآنِ کریم کی آیات کی جس مؤثر، دل نشیں اور قابلِ فہم انداز میں خطاطی کی وہ صرف انہی کا حصہ ہے، بالخصوص سورہ رحمن کی آیات کی خطاطی کو پاکستانی قوم اپنا سرمایہء افتخار قرار دے سکتی ہے، غالب اور فیض کے منتخب اشعار کی منفرد انداز میں خطاطی اور تشریحی مصوری ان ہی کا خاصہ ہے، انہیں فرانس، آسٹریلیا اور دیگر ملکوں کی حکومتوں کی جانب بھی سے اعزازات سے نوازا گیا ۔

اعزازات[ترمیم]

تاثرات[ترمیم]

صادقین کی خطاطی اور مصوری اتنی منفرد اور اچھوتی تھی کہ ان کے دور ہی میں ان کے شہ پاروں کی نقل ہونے لگی تھی اور بہت سے مصوروں نے جعلی پینٹنگز بنا کر اور ان پر صادقین کا نام لکھ کر خوب مال کمایا جبکہ خود صادقین نے شاہی خاندانوں اور غیر ملکی وملکی صاحبِ ثروت افراد کی جانب سے بھاری مالی پیشکشوں کے باوجود اپنے فن پاروں کا بہت کم سودا کیا ۔

روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "صادقین"، ہفت روزہ اخبار جہاں، ۲۷ اگست تا ۲ ستمبر ۲۰۱۲ صفحہ 3، http://www.akhbar-e-jehan.com/august2012/27-08-2012/aapkekhat_3.asp 


بیرونی روابط برائے مطالعہ[ترمیم]