صارف:Adilch

وکیپیڈیا سے

Jump to: navigation, search
   
Cet utilisateur est administrateur sur fr:Wikipédia
+ اگر مجھے پیغام لکھنا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں.
کیا معلوم ہم اردو کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیں
یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ ان کی ریت نئی ہے نہ اپنی ریت نئی
یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں آگ میں پھول
نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
چشم ما روشن، دل ما شاد
نوشتۂ دیوار

ایک وقت آئیگا، جب ماسکو میں کمیونزم خود اپنے بچاؤ کے لئے پریشان ہوگا۔ سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میںاپنے تحفظ کے لئے لرزہ براندم ہوگی۔ مادہ پرستانہ الحاد خود لندن اور پیرس کی یونیورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہوگا۔ نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقد نہ پا سکے گی اور آج کا یہ دور تاریخ میں صرف ایک داستانِ عبرت کی حیثیت سے باقی رہ جایئگا کہ “اسلام جیسی جہاں کُشا اور عالمگیر طاقت کے نام لیوا، کبھی اتنے بے وقوف ہو گئے تھے، کہ عصائے موسٰی بغل میں تھا، اور اپنے سامنے لاٹھیوں اور رسیوں کو دیکھ دیکھ کر کانپ رہے تھے“

مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ 1942ء بمقام سیالکوٹ
کچھ میرے بارے میں۔۔۔۔۔۔
  • نام: عادل جاوید چودھری
  • عمر: 19 سال
  • رہائش: لاہور
  • بلاگ: بے دست و پا


ملکی سیاست میں حصہ لے کر وطن اور دین کو عروج پہ پہنچانا میرا ایسا خواب ہے جسکے بارے میں میں ہمشہ سوچتا رہتا ہوں۔ مجھے اردو،شاعری،خطاطی، مصوری اور فوٹوگرافری کا شوق ہے۔ 03314167571

ممالک جنھیں میں عالمی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہوں
یہ خیال ماخوز کیا گیا ہےUser:Expatkiwiسے

عادل جاوید چودھری تبادلہ خیال | میرا حصہ


تصویر:LinkFA-star.png: منتخب مقالہ

: امیدوار برائے منتخب مقالہ


میری کچھ خدمات
عادل جاوید چودھری
ذوق


یہ صارف پاکستان کے حال اور مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے اور بہتری کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے


یہ صارف اردو وکی پرآسان اردو کے استعمال کی حمایت کرتا ہے


HIS
صارف کا پسندیدہ مضمون تاریخ ہے
صارف مذہب میں دلچسپی رکھتا ہے.
یہ صارف برقی خط کے لئے جی میل استعمال کرتا ہے
Google یہ صارف گوگل استعمال کرتا ہے
صارف مسلمان ہے۔
یہ صارف محبت میں گرفتار ہے اور پیار کرتا ہے
یہ صارف اردو شاعری پسند کرتا ہے.
خطاب بہ جوانانِ اسلام
کبھی اے نوجواں مسلم! تدّبر بھی کیا تونے؟

وہ کیا گردوں تھا، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا؟
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سردار
تمدّن آفریں، خلاّق آئینِ جہاں داریوہ
صحرائے عرب، یعنی شتربانوں کا گہوارا
سماں اَلۡفقَرُ فَخۡرِیۡ کارہا شان امارت میں
"بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روئے زیبارا"
گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے
کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا
غرض میں کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرانشیں کیا تھے
جہاں گیر و جہاں دار و جہانبان و جہاں آرا
اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں
مگر تیرے تخیّل سے فزوں تر ہے وہ نظّارا
تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار، وہ کردار، تو ثابت، وہ سیّارا
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثرّیا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
حکومت کو تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
نہیں دنیا کے آئیں مسلّم سے کوئی چارا
مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا
غنی روزِ سیاہِ پیر کنعاں راتماشاکن"
"کہ نورِ دیدہ اش روشن کند چشمِ زلیخارا

دیگر زبانیں