صارف:Syedhameed82

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حیاتِ مؤمن[ترمیم]

حیاتِ مؤمن مفتی محمد مبین قمر قاسمی، حیدرآباد

ایک ایمان والے کو کمالِ ایمان کے ساتھ اپنی زندگی کس طرح گذارنا چاہئے، بحیثیتِ ایک مسلمان اسلام کی طرف سے اس پر جو جو فرائض وحقوق لازم ہیں، اُن تمام فرائض وحقوق کی ادائیگی مسنون طریقہ پر کس طرح کی جائے؟ اس کو ذیل میں مرتب انداز میں پیش کیا جارہا ہے۔ ایمان کی حقیقت سب سے پہلے ایمان کی حقیقت اور اس کا تعارف سمجھنا ضروری ہے اس لیے کہ بہت سارے لوگ ہیں جو ‘‘ایمان’’ کا مطلب نہیں سمجھتے جس کی وجہ سے بہت ساری اعتقادی خرابیاں وجود میں آتی ہیں۔ ایمان کے اصل معنی کسی پراعتماد کرتے ہوئے اس کی بات کو سچ ماننے کے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ‘‘وَمَاأَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنَاوَلَوْکُنَّا صَادِقِیْنَ’’۔ (یوسف: ۱۷) ‘‘اور آپ ہمارا کاہے کو یقین کرنے لگے ؛ گوہم کیسے ہی سچے ہوں’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) دین کی خاص اصطلاح میں ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے پیغمبرایسی حقیقتوں کے متعلق جوہمارے حواس اور آلات ادراک کے حدود سے ماوراء ہوں جو کچھ بتلائیں اور جو علم وہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں ہم ان کو سچا جان کر ان میں ان کی تصدیق کریں اور ان کو حق مان کر قبول کرلیں؛ واقعہ ہے کہ شرعی ایمان کا تعلق اصولاً امورِ غیب ہی سے ہوتا ہے جن کو ہم اپنے آلاتِ احساس وادراک (آنکھ، ناک، کان وغیرہ) کے ذریعہ معلوم نہیں کرسکتے اسی بنیاد پر قرآن پاک میں مؤمنین ومتقین کی تعریف کی گئی ہے ‘‘یؤمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ’’ (البقرۃ:۳) ‘‘یقین لاتے ہیں چھپی ہوئی چیزوں پر’’ (ترجمہ تھانویؒ) لہٰذا اللہ اور اس کی صفات اور اس کے احکام اور رسولوں کی رسالت اور ان پر وحی کی آمد اور مبدأ ومعاد (عالم کی ابتداء وانتہاء) کے متعلق ان کی اطلاعات وغیرہ وغیرہ، اس قسم کی جتنی باتیں امت کو رسول نے بیان فرمائی ہیں ان سب کو ان کی سچائی پر اعتماد کرتے ہوئے حق جان کر ماننے کا نام اصطلاح شریعت میں ایمان ہے اور پیغمبر کی اس قسم کی کسی ایک بات کو نہ ماننا یا اس کو حق نہ سمجھنا ہی اس کی تکذیب ہے جو آدمی کو ایمان کے دائرہ سے نکال کر کفر کی سرحد میں داخل کردیتی ہے؛ لہٰذا آدمی کے مؤمن ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ‘‘کُلُّ مَاجَاءَ بِہٖ الرَّسُوُلُ مِنْ عِنْدِاللہ’’ ‘‘وہ تمام چیزیں اور حقیقتیں جو اللہ کے پیغمبر، اللہ کی طرف سے لائے’’ اس کی تصدیق کی جائے اور ان کو حق مان کر قبول کیا جائے؛ لیکن ان سب چیزوں پر تفصیلی طور سے ایمان لانا ضروری نہیں ہے؛ بلکہ نفس ایمان کے لیے اجمالی تصدیق بھی کافی ہے؛ البتہ کچھ خاص اور بنیادی چیزیں ایسی بھی ہیں کہ ایمانی دائرہ میں آنے کے لیے ان کی تصدیق تعیین کے ساتھ ضروری ہے۔ چنانچہ حدیث جبرئیل میں ایمان سے متعلق سوال کے جواب میں جن امور کو ذکر فرمایا گیا ہے (اللہ، ملائکہ، اللہ کی کتابیں، اللہ کے رسول اور قیامت اور ہرخیروشر تقدیر) وہ ایمانیات میں سے اہم اور بنیادی امور ہیں جن پر تعیین کے ساتھ ایمان لانا ضروری ہے اور اسی واسطے آنحضرتﷺ نے حدیث جبرئیل میں ان کا ذکر صراحتاً اور تعین کے ساتھ فرمایا اور قرآن پاک میں بھی یہ ایمانی امور اسی تفصیل اور تعیین کے ساتھ مذکور ہیں: ‘‘اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللہِ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ’’۔ (البقرۃ: ۲۸۵) ‘‘اعتقاد رکھتے ہیں رسول اس چیز کا جو ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور مؤمنین بھی سب کے سب عقیدہ رکھتے ہیں اللہ کے ساتھ اور اس کے فرشتوں کے ساتھ اور اس کی کتابوں کے ساتھ اور اس کے سب پبرم وں کے ساتھ’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) ‘‘وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاللہ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا بَعِیْدًا’’۔ (النساء: ۱۳۶) ‘‘اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا انکار کرے اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور روزِ قیامت کا تو وہ شخص گمراہی میں بڑی دور جاپڑا’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) اِن چھ امور میں سے ‘‘تقدیر خیروشر’’ کا ذکر قرآن پاک میں اگرچہ ان آیات میں نہیں آیا ہے لیکن دوسرے موقع پر قرآن پاک نے اس کو بھی صراحتاً بیان فرمایا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے: ‘‘قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِاللہ’’۔ (النساء:۷۸) ‘‘آپ فرمادیجئے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف ہے’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) اور دوسری جگہ ارشاد ہے: ‘‘فَمَنْ یُّرِدِ اللہٗ اَنْ یَّھْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًاحَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِیْ السَّمَآءِ کَذٰلِکَ یَجْعَلُ اللہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ’’۔ (الانعام:۱۲۵) ‘‘سو جس شخص کو اللہ تعالیٰ راستہ پر ڈالنا چاہتے ہیں اس کے سینہ کو اسلام کے لیے کشادہ کردیتے ہیں اور جس کو بے راہ رکھنا چاہتے ہیں اس کے سینہ کو تنگ بہت تنگ کردیتے ہیں جیسے کوئی آسمان میں چڑھتا ہو، اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈالتا ہے’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) حدیث جبرئیل جس میں ایمانیات کو یکجا بیان کیا گیا وہ یہ ہے، حضرت عمر بن الخطابؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک دن رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ایک شخص سامنے سے نمودار ہوا، جس کے کپڑے نہایت سفید اور بال بھی بہت زیادہ سیاہ تھے اور اس پر سفر کا کوئی اثر معلوم نہیں ہوتا تھا (جس سے خیال ہوتا تھا کہ یہ کوئی بیرونی شخص نہیں ہے) اور اسی کے ساتھ یہ بات بھی تھی کہ ہم میں سے کوئی اس نووارد کو پہچانتا نہ تھا (جس سے خیال ہوتا تھا کہ یہ کوئی باہر کے آدمی ہیں؛ بہرحال یہ حاضرین کے حلقہ سے گزرتا ہوا آیا) اور اپنے گھٹنےآنحضرتﷺ کے گھٹنوں سے ملاکر بیٹھ گئے اور اپنے ہاتھ حضورﷺ کی رانوں پر رکھدیئے اور کہا: اے محمد! مجھے بتلائیے کہ اسلام کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اسلام یہ ہے (یعنی اس کے ارکان یہ ہیں کہ دل وزبان سے) تم یہ شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی ‘‘الٰہ’’ (کوئی ذات عبادت وبندگی کے لائق) نہیں اور محمد اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور ماہ رمضان کے روزے رکھو اور اگر حج بیت اللہ کی تم استطاعت رکھتے ہو تو حج کرو، اس نووارد سائل نے آپ کا یہ جواب سن کر کہا: آپ نے سچ کہا۔ راویٔ حدیث حضرت عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم کو اس پر تعجب ہوا کہ یہ شخص پوچھتا بھی ہے اور پھر خود تصدیق وتصویب بھی کرتا جاتا ہے، اس کے بعد اس شخص نے عرض کیا: اب مجھے بتلائیے کہ ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ کو، اس کے رسول کو، اس کے فرشتوں کو، اس کی کتابوں کو، اس کے رسولوں کو اور یوم آخرت یعنی روزِ قیامت کو حق جانو اور حق مانو اور ہرخیروشر تقدیر کو بھی حق جانو اور حق مانو (یہ سن کر بھی) اس نے کہا آپ نے سچ کہا؛ اس کے بعد اس شخص نے عرض کیا: مجھے بتلائیے کہ احسان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ اللہ کی عبادت وبندگی تم اس طرح کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو؛ اگر تم اس کو نہیں دیکھ سکو تو یہ خیال کرو کہ وہ توتم کو دیکھتا ہی ہے؛ پھراس شخص نے عرض کیا مجھے قیامت کی بابت بتلائیے (کہ وہ کب واقع ہوگی) آپ نے فرمایا: جس سے یہ سوال کیا جارہا ہے وہ اس کے بارے میں سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا؛ پھراس نے عرض کیا تو مجھے اس کی کچھ نشانیاں ہی بتلایئے؟ آپ نے فرمایا (اس کی ایک نشانی تو یہ ہے کہ) لونڈی اپنی مالکہ اور آقا کو جنے گی (اور دوسری نشانی یہ ہے کہ) تم دیکھوگے کہ جن کے پاؤں میں جوتا اور تن پر کپڑا نہیں ہے اور جوتہی دست اور بکریاں چرانے والے ہیں وہ بڑی بڑی عمارتیں بنانے لگیں گے اور اس میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کریں گے، حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ یہ باتیں کرکے یہ نووارد شخص چلاگیا؛ پھر مجھے کچھ عرصہ گزرگیا، تو حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے عمر! کیا تمھیں پتہ ہے کہ وہ سوال کرنے والا شخص کون تھا ؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں، آپ نے فرمایا کہ وہ جبرئیل تھے تمہاری اس مجلس میں اس لیے آئے تھے کہ تم لوگوں کو تمہارا دین سکھادیں۔ (مسلم، باب بیان الایمان والاسلام والاحسان،حدیث نمبر:۹۔ بخاری، باب سوال جبرئیل النبیﷺ، عن ابی ھریرۃ، حدیث نمبر:۴۸) ایمان باللہ (ذاتِ باری پر ایمان) ذاتِ باری پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس بات پر یقین کیا جائے کہ اللہ ایک ہے، اس کی ذات میں کوئی اس کا شریک نہیں نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے، وہی آسمانوں اور زمینوں کا بنانے والا؛ ہرچیز کا رب اور مالک ہے، اس کے سوا حقیقی معبود اور کوئی پالنے والا نہیں۔ (الاعراف:۵۴۔ طٰہٰ:۱۴۔ الانبیاء:۲۲۔ ھود:۶۔ یونس:۳۱،۳۲) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ‘‘آپ لوگوں سے کہدیجئے کہ وہ یعنی اللہ (اپنے کمال ذات وصفات میں) ایک ہے’’ (کمالِ ذات یہ ہے کہ واجب الوجود ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہیگا او رکمال صفات یہ کہ علم قدرت وغیرہ اس کے قدیم اور محیط ہیں ) اللہ بے نیاز ہے (یعنی وہ کسی کا محتاج نہیں اور اس کے سب محتاج ہیں) اس کے اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔ (الاخلاص، معارف القرآن: ۸/۲۰۲، مفتی محمدشفیع صاحبؒ، ولادت: ۲۰/شعبان ۱۳۱۴ھ مطابق جنوری ۱۸۹۷ء، وفات: ۹،۱۰ شوال المکرم کی درمیانی شب ۱۳۹۶ھ مطابق ۶/اکٹوبر ۱۹۷۶ء، مطبوعہ: مکتبہ اشرفی دیوبند) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اُس کو اُس کا حق نہیں تھا اور مجھے برابھلا کہا؛ حالانکہ اُس کو اُس کا حق نہیں تھا؛ بہرحال اس نے مجھے یہ کہکر جھٹلایا کہ میں اسے دوبارہ زندہ نہیں کرونگا؛ جیسا کہ پہلی بار کیا اور جو اس نے برابھلا کہا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اولاد ہے حالانکہ میں اس سے بے نیاز ہوں نہ میں کسی کی اولاد ہوں اور نہ میری کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی میرے برابر کا ہے۔ (بخاری، باب قولہ اللہ الصمد، حدیث نمبر:۴۵۹۳) ارشادِ باری ہے: ‘‘اب تو مت ٹھہراؤ اللہ پاک کے مقابل اور تم تو جانتے بوجھتے ہو’’۔ (ترجمہ: تھانویؒ، البقرۃ: ۲۲) حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بیان کیا کہ میں نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کونسا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا؛ حالانکہ اسی نے تجھے پیدا کیا یقینا یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ (بخاری، باب قولہ فلاتجعلوا اللہ اندادا، حدیث نمبر:۴۱۱۷) ایمان بصفات اللہ (صفاتِ باری پر ایمان) اللہ تعالیٰ کے تمام صفات کے حق ہونے پر ایمان لانا اور اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام سینکڑوں ہیں، جو قرآن مجید اور احادیث میں وارد ہوئے ہیں؛ انہی کو اسماء حسنیٰ کہا جاتا ہے؛ ہم قرآن میں آئے ہوئے اسمائے حسنیٰ کی فہرست جو حافظ ابن حجرؒ نے ذکر کی ہے اسے یہاں ذکر کرتے ہیں: ‘‘اللہ، الرَّحْمٰنُ، الرَّحِیْمُ، الْمَلِکُ، الْقُدُّوْسُ، اَلسَّلَامُ اَلْمُؤْمِنُ، اَلْمُھَیْمِنُ، اَلْعَزِیْزُ، اَلْجَبَّارُ، اَلْمُتَکَبِّرُ، اَلْخَالِقُ، اَلْبَارِیُ، اَلْمُصَوِّرُ، اَلْغَفَّارُ، اَلْقَھَّارُ، اَلتَّوَّابُ، اَلْوَھَّابُ، اَلْخَلَّاقُ، اَلرَّزَّاقُ، اَلْفَتَّاحُ، اَلْعَلِیْمُ، اَلْحَلِیْمُ، اَلْعَظِیْمُ، اَلْوَاسِعُ، اَلْحَکِیْمُ، اَلْحَیُّ، اَلْقَیُّوْمُ، اَلْسَّمِیْعُ، اَلْبَصِیْرُ، اَللَّطِیْفُ، اَلْخَبِیْرُ، اَلْعَلِیُّ، اَلْکَبِیْرُ، اَلْمُحِیْطُ، اَلْقَدِیْرُ، اَلْمَوْلیٰ، اَلنَّصِیْرُ، اَلْکَرِیْمُ، اَلرَّقِیْبُ، اَلْقَرِیْبُ، اَلْمُجِیْبُ، اَلْوَکِیْلُ، اَلْحَسِیْبُ، اَلْحَفِیْظُ، اَلْمُقِیْتُ، اَلْوَدُوْدُ، اَلْمَجِیْدُ، اَلْوَارِثُ، اَلشَّھِیْدُ، اَلْوَلِیُّ، اَلْحَمِیْدُ، اَلْحَقُّ، اَلْمُبِیْنُ، اَلْقَوِیُّ، اَلْمَتِیْنُ، اَلْغَنِیُّ، اَلْمَالِکُ، اَلشَّدِیْدُ، اَلْقَادِرُ، اَلْمُقْتَدِرُ، اَلْقَاھِرُ، اَلْکَافِیُ، اَلشَّاکِرُ، اَلْمُسْتَعَانُ، اَلْفَاطِرُ، اَلْبَدِیْعُ، اَلْغَافِرُ، اَلْاَوَّلُ، اَلْاٰخِرُ، اَلظَّاھِرُ، اَلْبَاطِنُ، اَلْکَفِیْلُ، اَلْغَالِبُ، اَلْحَکَمُ، اَلْعَالِمُ، اَلرَّفِیْعُ، اَلْحَافِظُ، اَلْمُنْتَقِمُ، اَلْقَائِمُ، اَلْمُحیِی، اَلْجَامِعُ، اَلْمَلِیْکُ، اَلْمُتَعَالُ، اَلنُّوْرُ، اَلْھَادِیُ، اَلْغَفُوْرُ، اَلشَّکُوْرُ، اَلْعَفُوُّ، اَلرَّؤُفُ، اَلْاَکْرَمُ، اَلْاَعْلٰی، اَلْبَرُّ، اَلْحَفِیُّ، اَلرَّبُّ، اَلْاِلٰہُ، اَلْوَاحِدُ، اَلْاَحَدُ، اَلصَّمَدُ، اَلَّذِیْ لَمْ یَلِدْ، وَلَمْ یُوْلَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ، کُفُوًااَحَدٌ’’۔ (فتح الباری، باب لِلّٰہ مأۃُ اِسْم غیرواحد، حدیث نمبر:۱۸/۲۱۵) بعض علماء نے اللہ تعالیٰ کے صفاتی اسماء کو احادیث سے تلاش کرکے دوسو سے زائد بتلایا ہے، یہ سارے صفاتی اسماء حسنیٰ اللہ کے صفاتِ کمال کے عنوانات اور اس کو پہچاننے کے دروازے ہیں، ان سب پر یہ یقین رکھنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان تمام صفات سے مکمل طور پر متصف ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے مذکورہ اسمائے حسنیٰ سے مجموعی طور سے باری تعالیٰ کی جو صفات ظاہر ہوتی ہیں اس کومختصراً اس طرح سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ موجود ہے، ہرچھوٹی، بڑی چیز کا عالم ہے، کوئی ذرّہ اس سے مخفی نہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ‘‘لَایَعْزُبُ عَنْہُ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَافِی الْاَرْضِ وَلَااَصْغَرُ مِنْ ذٰلِکَ وَلَااَکْبَرُ اِلَّافِی کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ’’۔ (سبا: ۳) ‘‘اس سے کوئی ذرہ برابر بھی غائب نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے اور نہ کوئی چیز بڑی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے’’۔ (ترجمہ تھانویؒ)

‘‘اِنَّ اللہ لَایَخْفٰی عَلَیْہِ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَافِی السَّمَآءِ’’۔ (آل عمران:۵) ‘‘بے شک اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے، زمین میں اور آسمان میں’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) ‘‘وَمَایَخْفٰی عَلَی اللہ مِنْ شَیْئٍ فِی الْاَرْضِ وَلَافِی السَّمَآءِ’’۔ (ابراہیم: ۳۸) ‘‘اور اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہ زمین میں اور نہ آسمان میں’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) وہ قادرِمطلق ہے جس طرح جو چاہے جب چاہے کرسکتا ہے ‘‘اِنَّ اللہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ’’ (البقرۃ:۲۰) اور وہ عظمت والا ہے؛ ہرچھپی اور ہرکھلی چیز غائب وحاضر کا پوری طرح جاننے والا ہے؛ ہرعیب سے پاک اور ہرایسی چیز سے بری ہے جو اس کے شایانِ شان نہیں، امن دینے والا اور نگرانی کرنے والا ہے اور ہرٹوٹی ہوئی ناکارہ چیز کی اصلاح کرکے درست کردینے والا ہے اور ہربڑائی درحقیقت اللہ جل شانہ کے لیے ہی مخصوص ہے، جو کسی چیز میں کسی کا محتاج نہیں اور اللہ ہی نے تمام مخلوقات کو خاص خاص شکل وصورت عطافرمائی ہے جس کی وجہ سے وہ دوسری چیزوں سے ممتاز ہوئی اور پہچانی جاتی ہے، دنیا کی عام مخلوقات آسمانی اور زمنیا خاص صورتوں ہی سے پہچانی جاتی ہیں؛ پھر ان میں انواع واصناف کی تقسیم اور ہرنوع وصفت کی جداگانہ ممتاز شکل وصورت اور ایک ہی نوعِ انسانی میں مردوعورت کی شکل وصورت کا امتیاز پھر سب مردوں سب عورتوں کی شکلوں میں باہم ایسے امتیازات کہ اربوں کھربوں انسان دنیا میں پیدا ہوے، ایک کی صورت بالکلیہ دوسرے سے نہںر ملتی، یہ کمال قدرت صرف ایک ہی ذات حق جل شانہ کی ہے، جس میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ شرک کسے کہتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کی ذات یااس کی صفات میں کسی کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے، اس کی کچھ تفصیل اس طرح ہے: مذکورہ صفات پر ایمان کے لیے ضروری یہ ہے کہ اللہ کی کسی صفت میں کسی کی شرکت نہ سمجھی جائے، عام طور پر کچھ صفات ایسی ہیں کہ جن میں عوام اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرتی ہے جو شرک تک پہنچادیتا ہے اور انہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ شرک ہورہا ہے، مثلاً انبیاء اور اولیاء اللہ سے ایسی محبت جو خدا کے شایانِ شان ہے۔ یہ حق ہے کہ انبیاء نے جو اعمال بتلائے ہیں اسے اپنایا جائے، عبادت کے جوطریقے سکھلائے ہیں اسے اختیار کیا جائے؛ اسی طرح اولیاء اللہ سے عقیدت ومحبت کا تقاضہ یہ ہے کہ انہوں نے جس طرح اپنی زندگی کو آخرت کے لیے بنایا تھا، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر مکمل طور پر کاربند ہوئے تھے اور حضورﷺ کی سنتوں کو اپنے کلیجہ سے لگاکر اس پر عمل کیا تھا اسی طرح ہم بھی اپنی زندگی بنائیں؛ مگرہوتا یہ ہے کہ جب مصائب وغیرہ آتے ہیں تو اس وقت پیغمبروں، اماموں، پیروں، شہیدوں اور فرشتوں کو پکارا کرتے ہیں انہی سے مرادیں مانگتے ہیں انہی کی منتیں مانتے ہیں، اپنی آرزوئیں پوری کرنے کے لیے انہیں پرنذرونیاز چڑھاتے ہیں اور بیماریوں سے بچنے کے لیے اپنے بیٹوں کو انہیں کی طرف منسوب کرتے ہوئے کسی کا نام عبدالنبی، یاعلی بخش، حسین بخش، یاپیربخش یامدار بخش یاسالاربخش وغیرہ رکھتے ہیں، کوئی کسی کے نام کی چوٹی رکھتا ہے، کوئی کسی کے نام کے کپڑے پہناتا ہے، کوئی کسی کے نام جانور کی قربانی کرتا ہے، کوئی مصیبت کے وقت اللہ کے علاوہ اور کو پکارتا ہے اور کوئی اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھاتا ہے، یہ ایسا ہی ہوا کہ غیرمسلم جو معاملہ اپنے دیوی دیوتاؤں سے کرتے ہیں وہی یہ نام نہاد مسلمان انبیاء، اولیاء، ائمہ، شہداء، ملائکہ اور پریوں سے کرتے ہیں، اس کے باوجود مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا: ‘‘وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُہُمْ بِاللّٰہِ اِلَّاوَہُمْ مُّشْرِکُوْنَ’’۔ (سوسف:۱۰۶) اکثر لوگ اللہ پر ایمان لاکر شرک کرتے ہیں۔ (ترجمہ تھانویؒ) یعنی اکثر ایمان کے دعویدار شرک کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں؛ اگر کوئی ان سے کہے کہ تم دعوے تو ایمان کے کرتے ہو مگر شرک میں مبتلا ہو تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم شرک نہیں کررہے ہیں؛ بلکہ انبیاء واولیاء سے محبت رکھتے ہیں، شرک تو جب ہوگا جب ہم انہیں اللہ کے برابر سمجھیں، ہم تو انہیں اللہ کے بندے اور مخلوق ہی سمجھتے ہیں، اللہ نے انہیں قدرت دی ہے، یہ خدا ہی کی مرضی سے دنیا میں جس طرح چاہتے کرتے رہتے ہیں؛ لہٰذا ان کو پکارنا اللہ ہی کوپکارنا ہوا اور ان سے مددمانگنا اللہ ہی سے مدد مانگنا ہے یہ لوگ اللہ کے پیارے ہیں، جو چاہیں کریں، یہ ہمارے سفارشی اور وکیل ہیں، جتنا ہم انہیں مانیں گے اتنا ہی ہم اللہ کے قریب ہوتے جائیں گے؛ بہرحال یہ اور اس قسم کی واہیات باتیں کرتے ہیں، جن کا واحد سبب یہ ہے کہ یہ قرآن وحدیث چھوڑ بیٹھے ہںا، نقل میں عقل سے کام لیا، جھوٹے افسانوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور غلط رسموں کو دلیل میں پیش کرتے ہیں؛ اگران کے پاس قرآن وحدیث کا علم ہوتا تو ان کو معلوم ہوتا کہ حضور اکرم ﷺ کے سامنے بھی مشرک اسی قسم کی دلیلوں کو پیش کیا کرتے تھے، اللہ پاک کا ان پر غصہ نازل ہوا اور انہیں جھوٹا بتلایا: ‘‘وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہ مَالَایَضُرُّھُمْ وَلَایَنْفَعُھُمْ وَیَقُوْلُوْنَ ھٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللہِ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللہَ بِمَالَایَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَافِی الْاَرْضِ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّایُشْرِکُوْنَo’’۔ (یونس:۱۸) ‘‘اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ اُن کو ضرر پہنچاسکیں او رنہ اُن کونفع پہنچاسکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں، آپ کہدیجئے کہ کیا تم خداتعالیٰ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو خداتعالیٰ کو معلوم نہیں نہ آسمان میں اور نہ زمین میں، وہ پاک اور برتر ہے ان لوگوں کوشرک سے’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) ‘‘اَلَا لِلہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَاءَ مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللہِ زُلْفٰى اِنَّ اللہَ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ فِیْ مَا ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ اِنَّ اللہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ ہُوَکٰذِبٌ کَفَّارٌ’’۔ (الزمر:۳) ‘‘یادرکھو! عبادت جو کہ خالص ہو اللہ ہی کے لیے سزاوار ہے اور جن لوگوں نے خدا کے سوا اور شرکاء تجویز کررکھے ہیں کہ ہم تو اُن کی پرستش صرف اس لیے کرتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنادیں تو ان کے باہمی اختلافات کا اللہ تعالیٰ فیصلہ کردیگا، اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو راہ پر نہیں لاتا جو جھوٹا اور کافر ہو’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) ‘‘قُلْ مَنْۢ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْءٍ وَّہُوَیُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ’’۔ (المؤمنون:۸۸) ‘‘آپ یہ بھی کہیے کہ وہ کون ہے جن کے ہاتھ میں تمام چیزوں کا اختیار ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا اگر تم کو کچھ خبر ہے’’۔ (ترجمہ تھانویؒ)

ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں کوئی کسی کا ایسا سفارشی نہیں کہ اگر اس کو مانا جائے تو وہ فائدہ پہنچائے اور اگر نہ مانا جائے تو نقصان پہنچائے؛ بلکہ انباعء کرام اور اولیاء عظام کی سفارش بھی خدا ہی کے اختیار میں ہے، مصیبت کے وقت ان کو پکارنے اور نہ پکارنے سے کچھ نہیں ہوتا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کو اپنا سفارشی سمجھ کر پوجنا شرک ہے۔ حق تو یہ ہے کہ اللہ انسان سے بہت ہی قریب ہے اور وہ براہِ راست (بغیر کسی واسطے کے) سب کی سنتا ہے اور سب کی امیدیں پوری کرتا ہے؛ لیکن مشرکین نے جس طرح بت کو سمجھا کہ یہ اللہ سے قریب کرینگے اور وہ ان کے حمایتی ہیں اسی طرح غیروں کو سمجھا کہ یہ اللہ تعالیٰ سے قریب کردینگے اور وہ ان کی امیدوں کو پورا کرینگے اس پر طرّہ یہ کہ غلط اور نامعقول راستہ سے اللہ کا قرب تلاش کیا جاتا ہے اس ٹیڑھی راہ پر جتنا چلیں گے اتنا ہی سیدھی راہ سے دور ہوتے جائینگے۔ اس سے معلوم ہوا کہ غیروں کو یہ سمجھ کر پوجنا کہ ان کے پوجنے سے خدا کی نزدیکی مل جائیگی وہ مشرک جھوٹا اور خدا کی نعمت کو ٹھکرادینے والا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو کائنات میں تصرف کرنے کی قدرت نہیں بخشی اور نہ ہی کوئی کسی کا حمایتی ہوسکتا ہے، اس کے علاوہ عہد رسالت کے مشرک بھی بتوں کو خدا کے برابر نہیں جانتے تھے؛ بلکہ انہیں اسی کے بندے اور مخلوق سمجھتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ ان میں خدائی طاقتیں نہیں ہیں؛ مگرانہیں پکارنا، ان کی منتیں ماننا، ان پر بھینٹ چڑھانا اور انہیں وکیل اور سفارشی سمجھنا ہی ان کا شرک تھا۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ جو کوئی کسی سے ایسا ہی برتاؤ کریگا؛ گرچہ انہیں بندہ اور مخلوق ہی جانتا ہو پھر بھی دونوں شرک میں برابر ہیں شرک یہی نہیں ہے کہ کسی کو اللہ کے برابر یا اس کے مقابلے کا مانا جائے بلکہ شرک یہ بھی ہے کہ جو چیز اللہ پاک نے اپنی ذات وصفات کے لیے مخصوص فرمائی ہوں اور بندگی کی علامتیں قرار دی ہوں انہیں غیروں کے آگے بجالایا جائے مثلاً سجدہ، اللہ کے نام کی قربانی، منت، مصیبت کے وقت پکارنا، اللہ کو حاضروناظر سمجھنا، قدرت وتصرف وغیرہ؛ اگر ان میں سے کوئی بات غیراللہ میں ثابت کی جائے تو شرک ہے اس میں شیطان، بھوت، پریت اور پری وغیرہ سب برابر ہیں؛ چنانچہ اللہ پاک نے بت پرستوں کی طرح یہودیوں اور عیسائیوں پر عتاب کیا ہے؛ حالانکہ وہ بت پرست نہیں تھے؛ البتہ علماء اور اولیاء سے ایسا ہی معاملہ رکھتے تھے: ‘‘اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَمَآاُمِرُوْٓا اِلَّالِیَعْبُدُوْٓا اِلٰھًاوَّاحِدًا لَآاِلٰہَ اِلَّاھُوَ سُبْحٰنَہُ عَمَّایُشْرِکُوْنَo’’۔ (التوبۃ:۳۱) ‘‘انہوں نے خدا کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو رب بنارکھا ہے اور مسیح بن مریم کو بھی؛ حالانکہ ان کو صرف یہ حکم کیا گیا ہے کہ فقط ایک معبود کی عبادت کریں، جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں وہ ان کے شرک سے پاک ہے’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) ‘‘اِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاo لَقَدْاَحْصٰھُمْ وَعَدَّھُمْ عَدًّاo وَکُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًاo’’۔ (مریم:۹۳،۹۴،۹۵) ‘‘جتنے بھی کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خداتعالیٰ کے روبرو غلام ہوکر حاضر ہوتے ہیں، اس نے سب کو احاطہ کررکھا ہے اور سب کو شمار کررکھا ہے اور قیامت کے روز سب کے سب اس کے پاس تنہا تنہا حاضر ہونگے’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) اس کے علاوہ اور بھی بہت سی آیتیں ہیں، نمونہ کے لیے چند آیتیں دی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص صفات اب یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کون کون سی چیزیں اپنی ذات کے لیے مخصوص فرمائی ہیں؛ تاکہ ان میں کسی کو شریک نہ کیا جاسکے، ایسی چیزیں تو بے شمار ہیں ہم یہاں چند چیزیں قرآن وحدیث سے بیان کرینگے تاکہ ان کی مدد سے دوسری باتیں بھی سمجھی جاسکیں: شرک فی العلم: یعنی اللہ تعالیٰ کے علم کی طرح کسی اور کو ثابت کرنا (۱)پہلی چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ہر چیز سے ہروقت خبردار ہے؛ خواہ وہ چیز دور ہو یا قریب، سامنے ہو یاپیچھے، چھپی ہوئی ہو یاکھلی ہوئی، آسمانوں میں ہو یازمینوں میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر ہو یاسمندر کی تہ میں، اب اگر کوئی اٹھتے بیٹھتے غیراللہ کا نام لے یادور ونزدیک سے اسے پکارے تاکہ وہ اس کی مصیبت کو دور کردے یادشمن پر اس کا نام لیتا ہو یادل میں اس کا تصور آتا ہے یااس کی صورت کا یا اس کی قبر کا دھیان کرتا ہو تو اسے اطلاع ہوجاتی ہے، میری کوئی بات اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے اور مجھ پر جو حالات آتے ہیں جیسے بیماری وصحت، فراخی وتنگی، موت وحیات اور خوشی وغم اس کو ان سب کی خبر رہتی ہے، جو بات میری زبان سے نکلتی ہے وہ اسے سن لیتا ہے اور میرے دل کے خیالات وتصورّات سے واقف رہتا ہے، ان تمام باتوں سے شرک ثابت ہوتا ہے یہ شرک فی العلم ہے یعنی حق تعالیٰ جیسا علم غیراللہ کے لیے ثابت کرنا، یقینا اس عقیدے سے انسان مشرک ہوجاتا ہے گرچہ یہ عقیدہ کسی بڑے سے بڑے انسان کے بارے میں رکھے یامقرب سے مقرب فرشتے سے متعلق رکھے چاہے ان کا یہ علم ذاتی سمجھے یااللہ تعالیٰ کا عطاکردہ ہرصورت میں شرکیہ عقیدہ ہے۔ (‘‘وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَآ اِلَّا ہُوَ’’الانعام:۵۹۔ ‘‘قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللہُ’’النمل:۶۵۔ ‘‘اِنَّ اللہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَام وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ’’ سورہ ٔلقمان:۳۴۔ ‘‘وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ مَنْ لَّایَسْتَجِیْبُ لَہٗٓ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ وَہُمْ عَنْ دُعَاِئِہِمْ غٰفِلُوْنَ’’ احقاف:۵۔ ‘‘قُلْ لَّآ اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَاءَ اللہُ وَلَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْـتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ’’ اعراف:۱۸۸۔ ‘‘عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّﷺ غَدَاةَ بُنِيَ عَلَيَّ فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي وَجُوَيْرِيَاتٌ يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ يَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِهِنَّ يَوْمَ بَدْرٍ حَتَّى قَالَتْ جَارِيَةٌ وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَا تَقُولِي هَكَذَا وَقُولِي مَاكُنْتِ تَقُولِينَ’’ بخاری، باب شہودالملائکۃ بدراً، حدیث نمبر:۳۷۰۰۔ ‘‘عَنْ عائشۃرضی اللہ عنہا قالت مَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ أَوْ كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أُمِرَ بِهِ أَوْ يَعْلَمُ الْخَمْسَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى{إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ} فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ’’ ترمذی، حدیث نمبر:۳۲۰۰۔ ‘‘وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي وَلَابِکُمْ’’ بخاری، باب العین الجاریۃ فی المنام، حدیث نمبر:۶۵۰۰) شرک فی التصرف: یعنی اللہ کی طرح دنیوی امور انجام دینا کسی اور کے اندر مان لینا (۲)کائنات میں ارادے سے تصرف کرنا، حکم چلانا، اپنی مرضی سے مارنا، جلانا، فراخی وتنگی، تندرستی وبیماری، فتح وشکست، ترقی یازوال دینا، مرادیں پوری کرنا، بلائیں ٹالنا، نازک حالات میں دسیرمری کرنا اور ضرورت پڑنے پر مدد کرنا، خدا ہی کی شان ہے کسی غیراللہ کی یہ شان نہیں چاہے وہ کتنا ہی بڑا انسان یافرشتہ کیوں نہ ہو، اب اگر کوئی شخص کسی غیراللہ میں ایسا تصرف ثابت کرے، اس سے مرادیں مانگے اور اس غرض سے اس کے نام کی منت مانے یاقربان کرے اور مشکل حالات میں اسے پکارے تاکہ وہ اس کی بلائیں ٹال دے ایسا شخص مشرک ہے، اس کو شرک فی التصرف کہا جاتا ہے، یعنی اللہ کی طرح تصرف غیراللہ میں مان لینا شرک ہے چاہے یہ ذاتی مانا جائے یااللہ کا عطیہ سمجھا جائے ہرصورت میں یہ شرکیہ عقیدہ ہے۔ (‘‘قُلْ مَنْۢ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْءٍ وَّہُوَیُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo سَیَقُوْلُوْنَ لِلہِ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ’’ المؤمنون:۸۸،۸۹۔ ‘‘قُلْ اِنِّىْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًاo قُلْ اِنِّىْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللہِ اَحَدٌ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا’’ الجن:۲۱،۲۲۔ ‘‘وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَا یَمْلِکُ لَہُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ شَـیْـــًٔـا وَّلَا یَسْتَطِیْعُوْن’’النحل:۷۳۔ ‘‘وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَا یَنْفَعُکَ وَلَا یَضُرُّکَ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِــمِیْنَ’’ یونس:۱۰۶۔ ‘‘قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ، لَا یَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِیْہِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِیْرٍo وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ حَتّٰٓی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقّ وَہُوَالْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ’’ سبأ: ۲۲،۲۳۔ ‘‘عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِﷺ يَوْمًا فَقَالَ يَا غُلَامُ إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلْ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الصُّحُفُ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ’’ ترمذی، باب منہ بعد باب ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض، حدیث نمبر:۲۴۴۰۔ ‘‘عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ قَلْبِ ابْنِ آدَمَ بِكُلِّ وَادٍ شُعْبَةً فَمَنْ اتَّبَعَ قَلْبُهُ الشُّعَبَ كُلَّهَا لَمْ يُبَالِ اللَّهُ بِأَيِّ وَادٍ أَهْلَكَهُ وَمَنْ تَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ كَفَاهُ التَّشَعُّبَ’’ ابن ماجہ ، باب التوکل والیقین، حدیث نمبر:۴۱۵۶۔ ‘‘عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا حَتَّى يَسْأَلَ شِسْعَ نَعْلِهِ إِذَا انْقَطَعَ’’ ترمذی، باب لیسأل الحاجۃ مھما صغرت، حدیث نمبر:۳۵۳۶۔ ‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ وَخَصَّ فَقَالَ يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي مُرَّةَ بنِ كَعْبٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ النَّارِ يَا فَاطِمَةُ أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنْ النَّارِ فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا’’ مسلم، باب فی قولہ وانذر عشیرتک الاقربین، حدیث نمبر:۳۰۳) شرک فی العبادۃ: (۳)اللہ تعالیٰ نے بعض کام اپنی بندگی کے لیے مخصوص فرمادیئے ہیں جن کو عبادات کہا جاتا ہے جیسے سجدہ، رکوع، ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا، اللہ کے نام پر خیرات کرنا، اس کے نام کا روزہ رکھنا اور اس کے مقدس گھر کی زیارت کے لیے دور دور سے سفر کرکے آنا اور ایسی ہیئت میں آنا کہ لوگ پہچان جائیں کہ یہ زائرین حرم ہیں (یعنی مخصوص لباس وغیرہ کے ساتھ) راستہ میں اللہ تعالیٰ ہی کا نام پکارنا، بیکار باتوں سے، شکار سے بچنا، پوری احتیاط سے جاکر اس کے گھر کا طواف کرنا اسی کی طرف سجدہ کرنا، اسی کی طرف قربانی کے جانور لے جانا، وہاں منتیں ماننا، کعبہ پر غلاف چڑھانا، کعبہ کی چوکھٹ کے آگے کھڑے ہوکر دعائیں مانگنا، دین ودنیا کی بھلائیاں طلب کرنا، حجر اسود چومنا، کعبہ کی دیوار سے منہ ملنا اور چھاتی لگانا، اس کے غلاف پکڑ کر دعائیں مانگنا، اس کے چاروں طرف روشنی کرنا، اس میں خادم بن کر رہنا جھاڑودینا، روشنی کرنا، فرش بچھانا، حاجیوں کو پانی پلانا وضو اور غسل کے لیے پانی مہیا کرنا، آبِ زم زم کو تبرک سمجھ کر پینا، بدن پر ڈالنا، چھک کر پینا، آپس میں تقسیم کرنا، عزیزواقارب کے لیے لیجانا، اس کے آس پاس کے جنگل کا ادب واحترام کرنا وہاں شکار نہ کرنا، درخت نہ کاٹنا، گھاس نہ اکھاڑنا، جانور نہ چرانا، اللہ نے اپنی عبادت کے یہ سب کام مسلمانوں کو بتلائے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص نبی، ولی، بھوت، پریت، جن، پری، سچی یاجھوٹی قبر، کسی کے تھان وچلےّ یاکسی کے مکان ونشان، کسی کے تبرک وتابوت کو سجدہ کرے، رکوع کرے، اس کے لیے روزہ رکھے، ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجائے، چڑھاوا چڑھائے، ان کے نام کی چھڑی کھڑی کرے، جاتے وقت الٹے پاؤں چلے، قبر کو چومے، قبروں یاتھانوں کی زیارت کے لیے دور سے سفر کرکے جائے، قبر پرچادر چڑھائے، ان کی چوکھٹ کا بوسہ لے ہاتھ باندھ کر دعائیں مانگے، مرادیں مانگے، مجاور بن کر خدمت کرے، اس کے آس پاس کے جنگل کا ادب کرے؛ غرضیکہ اس قسم کے کام کرے تو اس نے کھلا شرک کاے، اس کو شرک فی العبادت کہتے ہیں یعنی غیراللہ کی تعظیم اللہ کی طرح کرنا چاہے یہ عقیدہ کسی بھی طرح کا ہو کہ وہ ذاتی اعتبار سے اس تعظیم کے لائق ہے، یاخدا ان کی اس طرح تعظیم کرنے سے خوش ہوتا ہے اور اس کی تعظیم کی برکت سے بلائیں ٹل جاتی ہیں، ہرصورت میں شرکیہ عقیدہ ہے۔ (‘‘اَنْ لَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللہَ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ’’الہود:۲۶۔ ‘‘لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلہِ الَّذِیْ خَلَقَہُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ’’ فصلت:۳۸۔ ‘‘وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلہِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللہِ اَحَدًاo وَّاَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُاللہِ یَدْعُوْہُ کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًاo قُلْ اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَلَآ اُشْرِکُ بِہٖٓ اَحَدًا’’ الجن:۱۸،۱۹،۲۰۔ ‘‘وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْکَ رِجَالًا وَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍo لِّیَشْہَدُوْا مَنَافِعَ لَہُمْ وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللہِ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰی مَارَزَقَہُمْ مِّنْۢ بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَام فَکُلُوْا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْبَائسَ الْفَقِیْرَo ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَہُمْ وَلْیُوْفُوْا نُذُوْرَہُمْ وَلْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ’’الحج:۲۷،۲۸،۲۹۔ ‘‘قُلْ لَّآاَجِدُ فِیْ مَآاُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗٓ اِلَّآاَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْدَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْلَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّہٗ رِجْسٌ اَوْفِسْقًا اُہِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بِہ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَاعَادٍ فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ’’ الانعام:۱۴۵۔ ‘‘عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ صَفْوَانَ حِينَ رَأَوْهُ فَقَالَ اجْلِسَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ’’ ترمذی، باب ماجاء فی کراھیۃ قیام الرجل للرجل، حدیث نمبر:۲۶۷۹ ہذا حدیث حسن۔ ‘‘عن أبی الطفیل أن علیاؓ َأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبٌ فِيهَا لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ’’ مسلم، باب تحریم الذبح الغیر اللہ تعالیٰ ولعن فاعلہ، حدیث نمبر:۳۶۵۹۔ ‘‘عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَايَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى تُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزَّى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ {هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ} أَنَّ ذَلِكَ تَامًّا قَالَ إِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَوَفَّى كُلَّ مَنْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَيَبْقَى مَنْ لَا خَيْرَ فِيهِ فَيَرْجِعُونَ إِلَى دِينِ آبَائِهِمْ’’ مسلم، باب لاتقوم الساعۃ حتی تعبددوس ذاالخلصۃ، حدیث نمبر:۵۱۷۴۔ ‘‘عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّأْمِ فَلَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ فِي كَبَدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّى تَقْبِضَهُ قَالَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا فَيَتَمَثَّلُ لَهُمْ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ أَلَا تَسْتَجِيبُونَ فَيَقُولُونَ فَمَا تَأْمُرُنَا فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ’’ مسلم، باب فی خروج الدجال ومکثہ فی الارض، حدیث نمبر:۵۲۳۳۔ ‘‘عَنْ أَبی هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلَيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ عَلَى ذِي الْخَلَصَةِ وَذُو الْخَلَصَةِ طَاغِيَةُ دَوْسٍ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ’’ بخاری، باب تغییرالزمان حتی تعبدالاوثان، حدیث نمبر:۶۵۸۳) شرک فی العادت: (۴)حق تعالیٰ نے بندوں کو یہ ادب سکھلایا ہے کہ وہ دنیوی کاموں میں اللہ کو یاد رکھیں اور اس کی تعظیم بجالائیں تاکہ ایمان بھی سنور جائے اور کاموں میں برکت بھی ہو جیسے ضرورت پڑنے پر اللہ کی نذر مان لینا اور مشکل کے وقت اسی کو پکارنا اور کام شروع کرتے وقت برکت کے لیے اسی کا نام لینا؛ اگر اولاد ہو تو اس نعمت کے شکریے کے لیے اس کے نام پر جانور ذبح کرنا، اولاد کا نام عبداللہ، عبدالرحمن، اللہ بخش، اللہ دیا، امۃ اللہ اور اللہ دی وغیرہ رکھنا، کھیتی کے پیداوار میں سے تھوڑا سا غلہ اس کے نام کا نکالنا، پھلوں میں سے کچھ پھل اس کے نام نکالنا، جانوروں میں سے کچھ جانور اللہ کے نام مقرر کرنا اور اس کے نام کے جو جانور بیت اللہ کو لیجائیں ان کا ادب واحترام بجالانا یعنی نہ ان پر سوار ہونا نہ ہی ان پر لادنا، کھانے پینے، پہننے اوڑھنے میں خدا کے حکم پر چلنا، جن چیزوں کے استعمال کا حکم ہے، انہیں استعمال کرنا اور جن کی ممانعت ہے ان سے بازرہنا، دنیا میں گرانی وارزانی، صحت وبیماری، فتح وشکست، ترقی، تنزلی اور رنج ومسرت جو کچھ بھی پیش آتی ہے سب کو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں سمجھنا ۔ ہرکام کا ارادہ کرتے وقت انشاء اللہ کہنا مثلاً یوں کہنا کہ انشاء اللہ ہم فلاں کام کریں گے، خدا کے اسم گرامی کو اس عظمت کے ساتھ لینا جس سے اس کی تعظیم نمایاں ہو اور اپنی غلامی کا اظہار ہوتا ہو جیسے یوں کہنا: ہمارا رب، ہمارا مالک، ہمارا خالق، ہمارا معبود وغیرہ اگر کسی موقع پر قسم کھانے کی ضرورت پڑجائے تو اسی کے نام کی قسم کھانا یہ تمام باتیں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعظیم ہی کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ اب اگر کوئی اس قسم کی تعظیم غیراللہ کی کرے مثلاً کام رکا ہوا ہو یابگڑ رہا ہو اس کو چالو کرنے یاسنوارنے کے لیے غیراللہ کی نذرمان لی جائے، ایسی ہی اولاد کا نام عبدالنبی، امام بخش، پیربخش، رکھائے، کھیت اور باغ کی پیداوار میں ان کا حصہ رکھا جائے، جب پھل تیار ہو کر آئیں تو پہلے ان کا حصہ الگ کرنے کے بعد اسے استعمال میں لایا جائے، جانوروں میں اس کے نام کے جانور مقرر کردیئے جائیں پھر ان کا ادب واحترام کیا جائے، کھانے پینے، پہننے، اوڑھنے میں اسموں کا خیال رکھا جائے کہ فلاں فلاں لوگ فلاں فلاں کھانا نہ کھائیں، فلاں فلاں کپڑے نہ پہنیں، دنیا کی بھلائی برائی کو انہیں کی طرف منسوب کیا جائے کہ فلاں فلاں ان کی لعنت میں گرفتار ہے پاگل ہوگیا ہے، فلاں محتاج ہے انہیں کا راندہ (دھتکارا) ہوا ہے اور دیکھو فلاں کو انہوں نے نوازا تھا آج سعادت واقبال اس کے پاؤں چوم رہی ہے، فلاں تارے کی وجہ سے قحط آیا، فلاں کام فلاں وقت فلاں دن شروع کیا گیا (مثلاً صفر کا مہینہ، چہارشنبہ کا دن وغیرہ) آخر کار پورا نہ ہوا یایہ کہا جائے کہ اگر اللہ تعالیٰ اور رسولﷺ چاہیں گے تو مںن آؤنگا، یاپیر صاحب کی مرضی ہوگی تو ٹھیک ہے، یاگفتگو میں داتا، بے پروا، خداوند، خدائیگاں، مالک الملک، شہنشاہ جیسے الفاظ استعمال کیے جائیں، قسم کی ضرورت پڑجائے تو نبی، علی، امام، پیر یاان کے قبروں کی قسم کھائی جائے، ان تمام باتوں سے شرک پیدا ہوتا ہے اس کو شرک فی العادت کہتے ہیں، یعنی عادت کے کاموں میں اللہ کی طرف غیراللہ کی تعظیم کی جائے۔ (‘‘اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اِنٰثًا وَاِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّاشَیْطٰنًا مَّرِیْدًاo لَّعَنَہُ اللہُ وَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاo وَّلَاُضِلَّنَّھُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّھُمْ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللہِ وَمَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًاo یَعِدُھُمْ وَیُمَنِّیْہِمْ وَمَایَعِدُھُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّاغُرُوْرًا’’ النساء: ۱۱۷،۱۱۸،۱۱۹،۱۲۰۔ ‘‘ہُوَالَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِیَسْکُنَ اِلَیْہَا فَلَمَّا تَغَشّٰہَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِہٖ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللہَ رَبَّہُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَo فَلَمَّآ اٰتٰہُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَہٗ شُرَکَاءَ فِیْمَآ اٰتٰہُمَا فَتَعٰلَى اللہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ’’ الاعراف:۱۸۹،۱۹۰۔ ‘‘وَجَعَلُوْا لِلہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلہِ بِزَعْمِہِمْ وَھٰذَا لِشُرَکَآئِنَا فَمَا کَانَ لِشُرَکَائِہِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللہ وَمَاکَانَ لِلہِ فَہُوَیَصِلُ اِلٰی شُرَکَائِہِمْ سَاءَ مَایَحْکُمُوْنَo وَقَالُوْا ہٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ لَّایَطْعَمُہَآ اِلَّامَنْ نَّشَاءُ بِزَعْمِہِمْ وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُوْرُہَا وَاَنْعَامٌ لَّایَذْکُرُوْنَ اسْمَ اللہِ عَلَیْہَا افْتِرَاءً عَلَیْہِ سَیَجْزِیْہِمْ بِمَاکَانُوْا یَفْتَرُوْنَ’’ الانعام:۱۳۶،۱۳۸۔ ‘‘مَاجَعَلَ اللہُ مِنْۢ بَحِیْرَۃٍ وَّلَا سَائِبَۃٍ وَّلَاوَصِیْلَۃٍ وَّلَاحَامٍ وَّلٰکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ وَاَکْثَرُہُمْ لَایَعْقِلُوْنَ’’ المائدہ:۱۰۳۔ ‘‘وَلَاتَــقُوْلُوْا لِمَاتَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللہِ الْکَذِبَ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ’’ النحل:۱۱۶۔ ‘‘عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنْ اللَّيْلَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ’’ بخاری، باب یستقبل الامام الناس اذاسلم،حدیث نمبر:۸۰۱۔ ‘‘عَنْ صَفِيَّةَ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً’’ مسلم، باب تحریم الکھانۃ واتیان الکھانۃ، حدیث نمبر:۴۱۳۷۔ ‘‘عن قبيصة أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: إن العيافة والطرق والطيرة من الجبت’’ مسنداحمد، باب حدیث قبیصۃ بن مخارق،حدیث نمبر:۲۰۶۲۳۔ ‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِﷺقَالَ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ ثَلَاثًا’’ ‘‘عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِﷺ كَانَ يَقُولُ لَا هَامَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَإِنْ تَكُنْ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ’’ ابوداؤد، باب فی الطیرۃ، حدیث نمبر:۳۴۱۱، ۳۴۲۰۔ ‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓعَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ’’ بخاری، باب لاھامۃ، حدیث نمبر: ۵۳۱۶۔ ‘‘عَنْ جُبیر بن مطعم قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جُهِدَتْ الْأَنْفُسُ وَضَاعَتْ الْعِيَالُ وَنُهِكَتْ الْأَمْوَالُ وَهَلَكَتْ الْأَنْعَامُ فَاسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَى اللَّهِ وَنَسْتَشْفِعُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَكَ أَتَدْرِي مَاتَقُولُ وَسَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَالَ يُسَبِّحُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ ثُمَّ قَالَ وَيْحَكَ إِنَّهُ لَا يُسْتَشْفَعُ بِاللَّهِ عَلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ شَأْنُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَيْحَكَ أَتَدْرِي مَا اللَّهُ إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَاوَاتِهِ لَهَكَذَا وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ مِثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَيَئِطُّ بِهِ أَطِيطَ الرَّحْلِ بِالرَّاكِبِ’’ ابوداؤد، باب فی الجھمیۃ،حدیث نمبر:۴۰۱۰۔ ‘‘عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ’’ مسلم، باب النھی عن التکنی بأبی القاسم، حدیث نمبر:۳۹۷۵۔ ‘‘عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ رَأَى فِي النَّوْمِ أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَالَ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُونَ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ وَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَعْرِفُهَا لَكُمْ قُولُوا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ’’ ابن ماجہ، باب النھی ان یقال ماشاء اللہ وشئت، حدیث نمبر:۲۱۰۹۔ ‘‘أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ لَا وَالْكَعْبَةِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَا يُحْلَفُ بِغَيْرِ اللَّهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ’’ ترمذی، باب ماجاء فی کراھیۃ الحلف بغیراللہ، حدیث نمبر:۱۴۵۵، ہذا حدیث حسن۔ ‘‘عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ’’ بخاری، باب السؤال بأسماء اللہ تعالیٰ والاستعاذۃ بھا، حدیث نمبر:۶۸۵۲۔ ‘‘عَنْ ثَابِتَ بْنُ الضَّحَّاكِ قَالَ نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ قَالُوا لَاقَالَ هَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ قَالُوا لَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْفِ بِنَذْرِكَ فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ’’ ابوداؤد، باب مایؤمر بہ من الوفاء بالنذر، حدیث نمبر:۲۸۸۱۔ ‘‘عن عائشة: ان رسول اللهﷺ كان في نفر من المهاجرين والأنصار فجاء بعير فسجد له فقال أصحابه يارسول الله تسجد لك البهائم والشجر فنحن أحق ان نسجد لك فقال اعبدوا ربكم واكرموا أخاكم’’ مسنداحمد، باب حدیث السیدۃ عائشۃؓ، حدیث نمبر:۲۴۵۱۵۔ ‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَايَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلَامِي وَجَارِيَتِي وَفَتَايَ وَفَتَاتِي’’ مسلم، باب حکم اطلاق لفظۃ العبد والأمۃ، حدیث نمبر:۴۱۷۷۔ ‘‘عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ’’ بخاری، باب قول اللہ واذکر فی الکتب مریم، حدیث نمبر:۳۱۸۹۔ ایمان بالرسل (تمام انبیاء پر ایمان) اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر ایمان لانا یہ ہے کہ اس واقعہ اور حقیقت کا یقین کیا جائے کہ اللہ نے اپنے بندوں کی ہدایت ورہنمائی کے لیے وقتاً فوقتاً اور مختلف علاقوں میں اپنے برگزیدہ بندوں کو اپنی ہدایت اور اپنی رضامندی کا دستور دیکر بھیجا ہے اور انہوں نے پوری امانت ودیانت کے ساتھ خدا کا وہ پیغام بندوں کو پہنچادیا اور لوگوں کو راہِ راست پر لانے کی پوری پوری کوششیں کیں، یہ سب پیغمبر اللہ کے برگزیدہ اور صادق بندے تھے (ان میں سے چند کے نام اور کچھ حالات بھی قرآن کریم میں ہم کو بتلائے گئے ہیں اور بہت سے کے نہیں بتلائے گئے): ‘‘مِنْھُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَمِنْھُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ’’۔ (المؤمن:۷۸) ‘‘جن میں بعض تو وہ ہیں کہ ان کا قصہ ہم نے آپ سے بیان کیا ہے اور بعضے وہ ہیں جن کا ہم نے آپ سے بیان نہیں کیا’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) سب انبیاء علیہم السلام بشر تھے اور اکثر بشری عوارض انہیں لاحق ہوتے وہ کھاتے، پیتے، بیمار ہوتے، تندرست ہوتے، بھول جاتے، یادکرتے، زندہ رہتے اور وفات پاتے؛ مگراللہ تعالیٰ کی مخلوق میں وہ برتراکمل اور افضل تھے؛ بہرحال خدا کے ان سب رسولوں کی تصدیق کرنا اور بحیثیت (پیغمبری) ان کا پورا پورا احترام کرنا ایمان کے شرائط میں سے ہے۔ (‘‘وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللہَ وَاجْتَـنِبُوا الطَّاغُوْتَ’’ النحل:۳۶۔ ‘‘اَللہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلِٕکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ اِنَّ اللہَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ’’ الحج:۷۵۔ ‘‘اِنَّآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ کَـمَآ اَوْحَیْنَآ اِلٰی نُوْحٍ وَّالنَّـبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِہٖ وَاَوْحَیْنَآ اِلٰٓی اِبْرٰہِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْـبَاطِ وَعِیْسٰى وَاَیُّوْبَ وَیُوْنُسَ وَہٰرُوْنَ وَسُلَیْمٰنَ وَاٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاo وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰہُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَیْکَ وَکَلَّمَ اللہُ مُوْسٰى تَکْلِــیْمًاo رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللہِ حُجَّــۃٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ وَکَانَ اللہُ عَزِیْزًا حَکِــیْمًا’’ النساء:۱۶۳،۱۶۵۔ ‘‘النبيون مائة ألف نبى وأربعة وعشرون ألف نبى والمرسلون ثلاثمائة وثلاثة عشر وآدم نبى مكلم’’ الجامع الکبیر للسیوطی، باب حرف النون، حدیث نمبر:۱۰۸۰۳۔ ‘‘عَنْ الْمِقْدَامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَاأَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ’’ بخاری، باب کسب الرجل وعمل بیدہ، حدیث نمبر:۱۹۳۰) خاتم الانبیاء پر ایمان اس بات پر بھی ایمان لانا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلۂ نبوت ورسالت کو حضرت محمدﷺ پر ختم کردیا، جن کا لقب ‘‘النبی الأمی’’ ہے، اسماعیل بن ابراہیم الخلیل علیہما السلام کی نسل سے ہیں، آپ خاتم الانبیاء اور خدا کے آخری رسول ہیں اور اب قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کے لیے نجات وفلاح آپ ہی کی اتباع اور آپ ہی کی ہدایت کی پیروی میں ہے، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور نہ کوئی رسول مقرر کیا جائیگا، معجزات کے ساتھ آپ کی تائید ہوتی ہے اور سب انبیاء علیہم السلام پر آپ کو فضیلت اور برتری حاصل ہے اور آپ کی امت سب امتوں سے شان اور مرتبہ میں زیادہ ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت لازم اور آپ کی اتباع وپیروی فرض قرار دی ہے اور آپ کو ایسی خصوصیات عطا ہوئی ہیں جو کسی اور کو حاصل نہیں ہوئی، جیسے حوضِ کوثر اور مقام محمود وغیرہ۔ (‘‘یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاءَکُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّکُمْ’’ النساء:۱۷۰۔ ‘‘یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَاءَکُمْ رَسُوْلُنَا یُـبَیِّنُ لَکُمْ عَلٰی فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَاجَاءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّلَا نَذِیْرٍ’’ المائدہ:۱۹۔ ‘‘وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ’’ الانبیاء:۱۰۷۔ ‘‘مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّـبِیّٖنَ’’ الاحزاب:۴۰۔ ‘‘اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ’’القمر:۱۔ ‘‘إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ’’ الکوثر:۱۔ ‘‘وَمِنَ الَّیْلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا’’ اسراء:۷۹۔ ‘‘قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ..... وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَاكَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ’’ بخاری، باب من قاددابۃ غیرہ فی الحرب، حدیث نمبر:۲۶۵۲۔ ‘‘وبِہذا الإِسنادِ من أَطاعنِی فقد أَطاع اللہ’’ وباب یقال من وراء الامام ویتقی بہ، حدیث نمبر:۲۷۳۷۔ ‘‘عن عمر بن الخطاب، عن رسول اللهﷺ قال: الجنة حرمت على الأنبياء حتى أدخلها’’ المعجم الاوسط للطبرانی، باب من اسمہ احمد، صفحہ نمبر:۲/۴۵۴، حدیث نمبر:۹۵۵۔ ‘‘عَنْ ابی ابن کعب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلِي فِي النَّبِيِّينَ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَحْسَنَهَا وَأَكْمَلَهَا وَأَجْمَلَهَا وَتَرَكَ مِنْهَا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِالْبِنَاءِ وَيَعْجَبُونَ مِنْهُ وَيَقُولُونَ لَوْ تَمَّ مَوْضِعُ تِلْكَ اللَّبِنَةِ وَأَنَا فِي النَّبِيِّينَ مَوْضِعُ تِلْكَ اللَّبِنَةِ’’ ترمذی، باب فی فضل النبیﷺ، حدیث نمبر:۳۵۴۶، وھذا حدیث حسن صحیح غریب۔ ‘‘عَنْ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ’’ مسلم، باب تفضیل نبیناﷺ علی جمیع الخلائق، حدیث نمبر:۴۲۲۳) ‘‘صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَعَلَی سَائِرِالْأَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلٰی کُلِّ مَنِ اتَّبَعَھُمْ بِاِحْسَانٍ اِلَی یَوْمِ الدِّیْنِ’’۔ ایمان بالملائکہ ملائکہ پر ایمان لانا یہ ہے کہ مخلوقات میں ایک مستقل قسم کی حیثیت سے ان کے وجود کو حق مانا جائے اور یقین کیا جائے کہ وہ اللہ کی ایک پاکیزہ اور محترم مخلوق ہے ‘‘بَلْ عِبَادٌمُّکْرَمُوْنَ’’ (الانبیاء:۲۶) ‘‘بلکہ بندے ہیں معزز’’ (ترجمہ تھانویؒ) جن میں شر اور شرارت اور عصیان وبغاوت کا عنصر (مادہ) ہی نہیں بلکہ ان کا کام صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت ہے اور یہ یقین رکھا جائے کہ فرشتے خدا اور رسولوں کے درمیان قاصد اور سفیر ہیں اور نظام کائنات کو قانون الہٰی کے مطابق چلارہے ہیں اور ہمارے اعمال کے نگران ہیں بعض جنت اور جنت کی نعمتوں پر مقرر ہیں اور بعض جہنم اور عذاب جہنم کے ذمہ دار ہیں، بعض صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کرتے رہتے ہیں جو کبھی نہیں تھکتے؛ نیزان کے متعلق اور بھی کام وڈیوٹیاں (فرائض) ہیں جن کو وہ بخوبی انجام دیتے ہیں؛ بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے، بعض مقرب فرشتے ہیں، جیسے جبرئیل علیہ السلام، میکائیلؑ، اسرافیل علیہ السلام، عزرائیل علیہ السلام اور بعض عام فرشتے ہیں: ‘‘لَایَعْصُوْنَ اللہ مَآاَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَایُؤْمَرُوْنَ’’۔ (التحریم:۶) ‘‘جو خدا کی نافرمانی نہیں کرتے کسی بات میں جو ان کو حکم دیتا ہے اور جو کچھ ان کو حکم دیا جاتا ہے اس کو بجالاتے ہیں’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) (‘‘وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلِٕکَۃِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَالَاتَعْلَمُوْنَo مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلہِ وَمَلِٕکَتِہٖ وَرُسُلِہٖ وَجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰلَ فَاِنَّ اللہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ’’ البقرۃ:۳۰،۹۸۔ ‘‘وَّالْمَلَکُ عَلٰٓی اَرْجَائِہَا وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَہُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ’’ الحاقۃ:۱۷۔ ‘‘وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّامَلٰئِکَۃً وَّمَاجَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا’’ المدثر:۳۱۔ ‘‘لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللہِ’’ الرعد:۱۱۔ ‘‘عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ وَذَكَرَ يَعْنِي رَجُلًا بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَشُقَّ مِنْ النَّحْرِ إِلَى مَرَاقِّ الْبَطْنِ ثُمَّ غُسِلَ الْبَطْنُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا وَأُتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ الْبُرَاقُ فَانْطَلَقْتُ مَعَ جِبْرِيلَ،الخ’’ بخاری، باب ذکرالملائکۃ، حدیث نمبر:۲۹۶۸۔ ‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي فَيَقُولُونَ تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ’’ باب فضل صلاۃ العصر، حدیث نمبر:۵۲۲۔ ‘‘عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِقَتْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ’’ مسلم، باب فی احادیث متفرقۃ، حدیث نمبر:۵۳۱۴) ایمان بالکتب اللہ پاک نے اپنے رسولوں کے ذریعہ وقتاً فوقتاً ہدایت نامے بھیجے، ان میں سب سے آخر اور سب کا خاتم قرآن مجید ہے، جو پہلی سب کتابوں کا مصدق اور ‘‘مہیمن’’ بھی ہے، یعنی ان کتابوں میں جتنی ایسی باتیں تھیں جن کی تعلیم وتبلیغ ہمیشہ اورہرزمانہ میں ضروری ہوتی ہیں وہ سب قرآن میں لے لی گئی ہیں؛ گویا یہ تمام کتب سماویہ کے ضروری مضامین پر حاوی اور سب سے بے نیاز کردینے والی خدا کی آخری کتاب ہے اور چونکہ وہ کتابیں اب محفوظ بھی نہیں رہیں اس لیے اب صرف یہی کتاب ہدایت ہے جو سب کے قائم مقام اور سب سے زیادہ مکمل ہے اور زمانۂ آخر تک اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لی ہے: ‘‘اِنَّانَحْنُ نَزَّلْنَاالذِّکْرَ وَاِنَّالَہٗ لَحٰفِظُوْنَ’’۔ (الحجر:۹) ‘‘ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم اس کے محافظ ہیں’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) الغرض قرآنِ پاک کی مکمل طور پر تصدیق لازم ہے اگر پورے قرآن یااس کے کسی جزء (آیت) کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ نہیں ہے تو ایمان باقی نہیں رہیگا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ‘‘یٰٓایُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللہ وَرَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُط وَمَنْ یَّکْفُرْبِاللہ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاً بَعِیْدًا’’۔ (النساء:۱۳۶)

‘‘اے ایمان والو! تم اعتقاد رکھو اللہ کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور ان کتابوں کے ساتھ جو اس نے اپنے رسول پر نازل فرمائی اور اُن کتابوں کے ساتھ جو کہ پہلے نازل ہوچکی ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا انکار کرے اور اس کے فرشتوں کا اور آسمانی کتابوں کا اور روزِقیامت کا تو وہ شخص گمراہی میں بڑی دور جاپڑا’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) آسمانی کتب میں سب سے بڑی درجِ ذیل چار کتابیں ہیں: (۱)القرآن الکریم: ہمارے نبی حضرت محمدمصطفی ﷺ پر نازل شدہ عظیم کتاب ہے۔ (۲)التوراۃ: جو اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت سیدنا موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام پر نازل ہوئی۔ (۳)الزبور: جو اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت سیدنا داؤد علیہ الصلاۃ والسلام پر نازل ہوئی۔ (۴)الانجیل: اللہ کے بندے اور رسول حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام پر نازل ہوئی۔ قرآنِ پاک ان میں سب سے عظیم کتاب ہے اور ان کے مضامین ومعانی کا محافظ خود باری تعالیٰ ہیں؛ جس نے پہلے سب شریعتوں اور احکامات کو منسوخ (ختم) قرار دیا۔ (‘‘نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَo مِنْ قَبْلُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ’’ آل عمران:۲،۳،۴۔ ‘‘وَاٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا’’ النساء:۱۶۳۔ ‘‘عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَا سَلَفَ قَبْلَكُمْ مِنْ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ أُوتِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ عَجَزُوا فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ثُمَّ أُوتِيَ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ الْإِنْجِيلَ فَعَمِلُوا إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ عَجَزُوا فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ثُمَّ أُوتِينَا الْقُرْآنَ فَعَمِلْنَا إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، الخ’’ بخاری، باب من ادرک رکعۃ من العصر قبل المغرب، حدیث نمبر:۵۲۴) ایمان بالوطم الآخر یوم آخرت پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس حقیقت کا یقین کیا جائے کہ یہ دنیا ایک دن قطعی طور پر فناکردی جائیگی اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی خاص قدرت سے پھرسارے مردوں کو جِلائیگا اور یہاں جس نے جیسا کچھ کیا ہے اسی کے مطابق جزا یاسزا اس کو دی جائیگی؛ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو جنت میں ہمیشہ کی نعمتوں سے نوازیں گے اور نافرمانوں کو جہنم میں ذلیل کرنے والے عذاب میں مبتلا کردیں گے؛ مگراس سے پہلے قیامت کی نشانیاں ظاہر ہونگی، مثلاً: مسیح دجال، یاجوج ماجوج کا نکلنا، عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا، دابہ کا نکلنا اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا وغیرہ وغیرہ؛ چونکہ دین ومذہب کے سارے نظام کی بنیاد اس حیثیت سے جزا وسزا ہی کے عقیدہ پر ہے کہ اگر آدمی اس کا قائل نہ ہو تو پھر وہ کسی دین ومذہب اور اس کی تعلیمات وہدایات کو ماننے اور اس پر عمل کرنے ہی کی ضرورت کا قائل نہ ہوگا، اس لیے ہرمذہب میں خواہ وہ انسانوں کا خودساختہ ہو یااللہ کا بھیجا ہوا ‘‘جزاوسزا کو بطورِ بنیادی عقیدہ کے تسلیم کیا گیا ہے’’ پھر انسانی دماغوں کے بنائے ہوئے مذاہب میں اس کی شکل ختم کرنے کی بھی تجویز رکھی گئی ہے؛ لیکن خدا کی طرف سے آئے ہوئے ادیان ومذاہب کل کے کل اس پر متفق ہیں کہ اس کی صورت وہی حشرونشر کی ہوگی جو اسلام بتلاتا ہے اور قرآن پاک میں اس پر اِس قدر دلائل ہیں کہ کوئی اعلیٰ درجہ کا احمق اور انتہائی قسم کا ناسمجھ ہی ہوگا جو اُن قرآنی دلائل وبراہین کے سامنے آجانے کے بعد بھی حشرونشر اور بعث بعدالموت کو ناممکن ومحال یامستبعد کہے۔ (‘‘کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانo وَّیَبْقٰى وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ’’ الرحمن:۲۶،۲۷۔ ‘‘وَمَاجَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ اَفَاِ۟نْ مِّتَّ فَہُمُ الْخٰلِدُوْنَo کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً وَاِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ’’ الانبیاء:۳۴،۳۵۔ ‘‘زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا قُلْ بَلٰى وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذٰلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیْرٌ’’ التغابن:۷۔ ‘‘ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَہَاo وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَہَاo وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَہَاo یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَہَا’’ الزلزال: ۱۔۴۔ ‘‘عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ اطَّلَعَ النَّبِيُّﷺ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ فَقَالَ مَا تَذَاكَرُونَ قَالُوا نَذْكُرُ السَّاعَةَ قَالَ إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ فَذَكَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَّةَ وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَنُزُولَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَﷺ وَيَأَجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ’’ مسلم، باب فی الآیات التی تکون قبل الساعۃ، حدیث نمبر:۵۱۶۲۔ ‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن عَمْرٍو وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا هَذَا الْحَدِيثُ الَّذِي تُحَدِّثُ بِهِ تَقُولُ إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهُمَا لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَ أَحَدًا شَيْئًا أَبَدًا إِنَّمَا قُلْتُ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا يُحَرَّقُ الْبَيْتُ وَيَكُونُ وَيَكُونُ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْأَرْبَعِينَ شَهْرًا أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ’’الخ، وباب فی خروج الدجال ومکثہ فی الارض ونزول عیسیٰ، حدیث نمبر:۵۲۳۳) ایمان بالقدر خیرہ وشرہ ایمان بالقدر یہ ہے کہ اس بات پر یقین لایا جائے اور مانا جائے کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہورہا ہے (خواہ وہ خیر ہو یاشر) وہ سب اللہ کے حکم اور اس کی مشیت سے ہے؛ حتی کہ بندہ کے اختیاری افعال بھی اس کی مشیت اور حکمت وتقدیر کے تابع ہیں، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں کرتا، جن کو وہ پہلے ہی طے کرچکا ہے ایسا نہیں ہے کہ وہ تو کچھ اور چاہتا ہو اور دنیا کا یہ کارخانہ اس کی منشاء کے خلاف اور اس کی مرضی سے ہٹ کر چل رہا ہو، ایسا ماننے میں خدا کی انتہائی عاجزی اور بیچارگی لازم آئیگی۔ (ملخص من فتح الملہم، باب الایمان والاسلام والاحسان ووجوب الایمان بقدر اللہ سبحانہ: ۱/۴۴۶، مؤلف: حضرت مولاناشبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ، مکتبہ فیصل دیوبند۔ ‘‘إِنَّا کُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنَاہُ بِقَدَرٍ’’القمر:۴۹۔ ‘‘وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَائنُہٗ وَمَا نُنَزِّلُہٗٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ’’ الحجر:۲۱۔ ‘‘عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ قَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ وَيُقَالُ لَهُ اكْتُبْ عَمَلَهُ وَرِزْقَهُ وَأَجَلَهُ وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ فَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ لَيَعْمَلُ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ كِتَابُهُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَيَعْمَلُ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ’’ بخاری، باب ذکر الملائکۃ، حدیث نمبر:۲۹۶۹۔ ‘‘عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِﷺ يَوْمًا فَقَالَ يَا غُلَامُ إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلْ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الصُّحُفُ، قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ’’ ترمذی، باب منہ بعد باب ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض، حدیث نمبر:۲۴۴۰) حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہ ہوگا جب تک کہ تقدیر پر ایمان نہ لائے، اس کی بھلائی پر بھی اور اس کی برائی پر بھی؛ یہاں تک کہ یقین کرے کہ جو بات واقع ہونے والی تھی وہ اس سے ہٹنے والی نہ تھی اور جو بات اس سے ہٹنے والی تھی وہ اس پر واقع ہونے والی نہ تھی۔ (‘‘عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَاأَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ وَأَنَّ مَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ’’ وھذا حدیث غریب، ترمذی، باب ماجاء فی الایمان بالقدر خیرہ وشرہ، حدیث نمبر:۲۰۷۰) تقدیر پر ایمان لانے کا فائدہ تقدیر پر ایمان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ یہ شخص کامیابی میں شکر کریگا اور ناکامی میں صبر کریگا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اس آیت میں بتلایا: ‘‘لِّکَیْلَاتَاْسَوْا عَلٰی مَافَاتَکُمْ وَلَاتَفْرَحُوْا بِمَااٰتٰکُمْ’’۔ (الحدید:۲۳) ‘‘تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے تم اس پر رنج نہ کرو اور تاکہ جو چیز تم کو عطا فرمائی ہے اس پر اتراؤ نہیں’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تقدیر کا بہانہ کرکے شریعت کے موافق ضروری تدبیر کو بھی چھوڑ دے بلکہ یہ شخص تو کمزور تدبیر کو بھی نہ چھوڑیگا اور اس میں بھی امیدرکھے گا کہ خدا تعالیٰ اس میں بھی اثردے سکتا ہے اس لیے کبھی ہمت نہ ہاریگا، جیسے بعض لوگوں کو یہ غلطی ہوجاتی ہے اور دین تو بڑی چیز ہے، دنیا کے ضروری کاموں میں بھی کم ہمتی کی برائی حدیث میں آئی ہے؛ چنانچہ ‘‘عوف بن مالکؓ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مقدمہ کا فیصلہ فرمایا تو ہارنے والا کہنے لگا ‘‘حَسْبِیَ اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل’’ (مطلب یہ کہ خدا کی مرضی میری قسمت) حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کم ہمتی کو ناپسند فرماتا ہے؛ لیکن ہوشیاری سے کام لو (یعنی کوشش اور تدبیر میں کم ہمتی مت کرو) پھر جب کوئی کام تمہارے قابو سے باہر ہوجائے تب کہو ‘‘حَسْبِیَ اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل’’۔ (ابوداؤد، باب الرجل یحلف علی حقہ، حدیث نمبر: ۳۱۴۳) ایمان بالبعث بعدالموت یعنی اس بات پر مکمل اعتماد ہوکہ مرنے کے بعد ایک مقررہ دن میں ساری انسانیت کو اللہ تبارک وتعالیٰ دوبارہ پیدا کریگا اور سب کا حساب وکتاب ہوگا اور جو رائی کے دانہ کے برابر نیکی کیا ہوگا تو اس کا جزا حاصل کریگا اور اور جو ذرّہ برابر برائی کیا ہوگا تو وہ اس پر سزا کا مستحق ہوگا۔ (‘‘یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا لِّیُرَوْا اَعْمَالَہُمْo فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْراً یَرَہُo وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ’’ الزلزال:۶،۷،۸۔ ‘‘زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا قُلْ بَلٰى وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذٰلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیْرٌ’’ التغابن:۷۔ ‘‘وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـیْــــــًٔا وَاِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَابِہَا وَکَفٰى بِنَا حٰسِـبِیْنَ’’ الانبیاء:۴۷) قبر کی جزا وسزا پر ایمان یعنی یہ یقین رکھا جائے کہ قبر کی آسائشیں، راحتیں اور عذاب برحق ہے، فرشتوں کے سوالات حق ہیں اور یہ سب کچھ سچ ہے۔ (بخاری، ‘‘عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّﷺ قَالَ الْعَبْدُ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتُوُلِّيَ وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَأَقْعَدَاهُ فَيَقُولَانِ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍﷺ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَيُقَالُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنْ النَّارِ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنْ الْجَنَّةِ قَالَ النَّبِيُّﷺ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا وَأَمَّا الْكَافِرُ أَوْ الْمُنَافِقُ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ فَيُقَالُ لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ ثُمَّ يُضْرَبُ بِمِطْرَقَةٍ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ’’ باب المیت یسمع خفق النعال، حدیث نمبر:۱۲۵۲۔ ‘‘عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ’’ وباب الدعاء قبل السلام، حدیث نمبر:۷۸۹۔ ‘‘عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّﷺ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ أَوْ مَكَّةَ فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَذَّبَانِ وَمَايُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ ثُمَّ قَالَ بَلَى كَانَ أَحَدُهُمَا لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ وَكَانَ الْآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا كِسْرَةً فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ تَيْبَسَا أَوْ إِلَى أَنْ يَيْبَسَا’’ وباب من الکبائر ان لایستتر من بولہ، حدیث نمبر:۲۰۹)





طہارت طہارت وپاکیزگی کی حقیقت اور دین میں اس کا مقام اسلام میں طہارت وپاکیزگی کی حیثیت صرف یہی نہیں ہے کہ وہ نماز، تلاوتِ قرآن اور طوافِ کعبہ جیسی عبادات کے لیے لازمی شرط ہے؛ بلکہ قرآن وحدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود بھی دین کا ایک اہم شعبہ اور بذاتِ خود بھی مطلوب ہے، قرآن مجید کی آیت: ‘‘اِنَّ اللہ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَo’’ (البقرۃ:۲۲۲) اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاک وصاف رہنے والے اپنے بندوں کو محبوب رکھتا ہے۔ (ترجمہ تھانویؒ) اور قبا کی بستی میں رہنے والے اہل ایمان کی تعریف میں قرآن مجید کا ارشاد ہے: ‘‘فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا وَاللہ یُحِبُّ الْمُطَّھِّرِیْنَo’’۔ (توبہ:۱۰۸) اس میں ہمارے ایسے بندے ہیں جو بڑے پاکیزگی پسند ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب پاک وصاف رہنے والے بندوں سے محبت کرتا ہے۔ (ترجمہ تھانویؒ) صرف ان ہی دو آیتوں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام میں طہارت وپاکیزگی کی بذاتِ خود کتنی اہمیت ہے، اسی طرح صحیح مسلم کی حدیث کے ایک فقرے ‘‘اَلطَّھُوْرُ شَطْرُالْاِیْمَان’’ (مسلم، باب فضل الوضوء، حدیث نمبر:۳۲۸ عن ابی مالک اشعریؓ) کا گویا لفظی ترجمہ ہی یہ ہے کہ طہارت وپاکیزگی حکم شرعی ہی نہیں؛ بلکہ وہ دین وایمان کا ایک اہم جزو ہے اور ایک دوسری حدیث میں اس کو نصف ایمان فرمایا گیا۔ (ترمذی، ‘‘عن رجل مِن بنِی سلیم قال عدہن رسول اللہﷺ فِی یدِی وفِی یدِہِ التسبِیح’’الخ، باب منہ بعد، باب ماجاء فی عقدالتسبیح بالید، ھذا حدیث حسن، حدیث نمبر:۳۴۴۱ عن رجل من بنی سلیمؓ) حقیقت حدث اور طہارت ایک سلیم الفطرت اور صحیح المزاج انسان جب کسی نجاست سے آلودہ ہوجاتا ہے یااس کو پیشاب یاپاخانہ کا سخت تقاضا ہوتا ہے یاوہ جماع وغیرہ سے فارغ ہوتا ہے تو وہ اپنے نفس میں ایک خاص قسم کی کراہت اور گرانی وبے لطفی اور اپنی طبیعت میں سخت انقباض کی کیفیت محسوس کرتا ہے؛ پھرجب وہ اس حالت سے نکل جاتا ہے مثلاً پیشاب پاخانہ کا جو سخت تقاضا تھا اس سے وہ فارغ ہوجاتا ہے اور اچھی طرح استنجاء اور طہارت کرلیتا ہے یااگر وہ جماع سے فارغ ہوا تھا تو غسل کرلیتا ہے اور اچھے صاف ستھرے کپڑے پہن لیتا ہے اور خوشبو لگالیتا ہے تو نفس کی کراہت، گرانی اور طبیعت کے انقباض والی کیفیت جاتی رہتی ہے اور اس کے بجائے اپنی طبیعت میں وہ بشاشت اور سرور وفرحت کی کیفیت محسوس کرتا ہے، بس دراصل پہلی کیفیت اور حالت کا نام ‘‘حدث’’ (ناپاکی) اور دوسری کا نام طہارت (پاکی وپاکیزگی) ہے اور انسانوں میں جن کی فطرت سلیم اور جن کا دل پاک ہو وہ ان دونوں حالتوں اور کیفیتوں کے فرق کو واضح طور پر محسوس کرتے ہیں اور اپنی طبیعت وفطرت کے تقاضہ سے ‘‘حدث’’ کی حالت کو ناپسند اور دوسری (طہارت کی) حالت کوپسند کرتے ہیں۔ انسان کی یہ طہارت کی حالت ملاء اعلیٰ یعنی اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کی حالت سے بہت مشابہت ومناسبت رکھتی ہے؛ کیونکہ وہ دائمی طور پر حیوانی آلودگیوں سے پاک وصاف اور نورانی کیفیات سے شاداں وفرحاں رہتے ہیں اور اسی لیے حسب امکان طہارت وپاکیزگی کا اہتمام ودوام انسانی روح کو ملکوتی کمالات حاصل کرنے اور الہامات کے ذریعہ ملاء اعلیٰ سے استفادہ کرنے کے قابل بنادیتا ہے اور اس کے برعکس جب آدمی حدث اور ناپاکی کی حالت میں ڈوبا رہتا ہے تو اس کو شیاطین سے ایک مناسبت ومشابہت حاصل ہوجاتی ہے اور شیطانی وساوس کی قبولیت کی ایک خاص استعداد اور صلاحیت اس میں پیدا ہوجاتی ہے اور اس کی روح کو تاریکی گھیر لیتی ہے۔ (روح المعانی: ۴/۴۰۳۔۴۰۴، تحت تفسیر الآیۃ:۶ من المائدۃ۔ حجۃ اللہ البالغہ، باب من ابواب الطھارت:۳۶۷،۳۶۶، مصنف: حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ) مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ طہارت اور حدث دراصل انسانی روح اور طبیعت کی مذکورہ بالا دو حالتوں کا نام ہے اور ہم جن چیزوں کو حدث وناپاکی اور طہارت وپاکیزگی کہتے ہیں وہ دراصل ان کے اسباب وموجبات ہیں اور شریعت ان ہی اسباب پر احکام جاری کرتی ہے اور انہی سے بحث کرتی ہے۔ امید ہے کہ طہارت کی حقیقت اور روح انسانی کے لیے اس کی ضرورت واہمیت سمجھنے کے لیے اتنی تفصیل کافی ہوگی؛ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ طہارت وپاکیزگی شریعت کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ طہارت (پاکی) چونکہ نماز کے بیان میں شرائط نماز کے تحت طہارت کا تذکرہ آیا ہے اس لیے نماز کے لیے کن کن چیزوں سے طہارت ضروری ہے اس کو ذکر کیا جارہا ہے: طہارت کی تین قسمیں ہیں: (۱)حدث (نجاست حکمیہ یعنی شریعت کے آنے سے پہلے جو نجاست سمجھی نہیں جاتی تھی، شریعت آنے کے بعد اس نے اس کو نجس قرار دیا) سے طہارت یعنی جن حالتوں میں وضو یاغسل واجب ہوتا ہے ان حالتوں میں وضو یاغسل کرکے پاکی حاصل کرنا۔ (۲)ظاہری گندگی (نجاست ِحقیقیہ: یعنی جو شریعت کے آنے سے پہلے بھی نجس سمجھی جاتی تھی) سے طہارت چاہے وہ بدن پر لگی ہو یاکپڑوں پر یانماز پڑھنے کی جگہ پر۔ (۳)جسم کے مختلف حصوں میں جو میل کچیل پیدا ہوتا ہے اس کی صفائی کرنا، جیسے منہ اور دانتوں کی صفائی، ناک کے نتھنوں کی صفائی، بغل اور ناف کے نیچے کے بال کی صفائی اور ناخن کاٹنا۔ فائدہ: طہارت کی پہلی قسم کا تعلق نیکی کے اصول سے ہے یعنی حدث سے طہارت ایک عبادت ہے، وضو اور غسل شرعی احکام ہیں اور طہارت کی باقی دوقسموں کا تعلق آداب معیشت اور طبیعت کا تقاضا ہے؛ چنانچہ دنیا کی تمام متمدن اقوام ان کا اہتمام کرتی ہیں، وہ انسان کا فطری تقاضا ہے اس لیے وہ تمام اقوام وملل میں رائج ہیں اور وضو اور غسل صرف مسلمانوں میں رائج ہیں۔ (حجۃ اللہ البالغہ، باب من ابواب الطہارت:۱/۳۶۶، مصنف: حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ) حدث کے معنی لغت میں قضاء حاجت کے ہیں،شریعت کی اصطلاح میں وہ تمام باتیں حدث ہیں جن کی وجہ سے وضو یاغسل واجب ہوجائے، اس لیے احکام کے اعتبار سے حدث کی دوقسمیں کی گئی ہیں: (۱)حدثِ اکبر (۲)حدثِ اصغر حدثِ اکبر: جن چیزوں سے غسل واجب ہوجاتا ہے وہ حدثِ اکبر ہے۔ حدثِ اصغر: جن چیزوں سے وضو واجب ہوجاتا ہے وہ حدثِ اصغر ہے۔ حدثِ اکبرواصغر سے پاکی حاصل کرنے کی تین صورتیں ہیں:(۱)وضو (۲)غسل (۳)تیمم۔ (بدائع الصنائع، ‘‘وأَمابیان أَنواعِہا: فالطہارۃُ فِی الأَصلِ نوعانِ: طہارۃٌ عن الحدثِ’’الخ، فصل بیان انواع الطہارۃ:۱/۵) جن چیزوں سے غسل واجب ہوتا ہے وہ چار ہیں (۱)بیداری یا نیند کی حالت میں شہوت سے منی نکلنا (مرد یاعورت کو احتلام ہونا)۱؎۔ (۲)مردکا عضو تناسل (ختنہ کیا ہوا حصہ) عورت کے آگے کی شرمگاہ یا پھر مرد وعورت کے پیچھے کی شرمگاہ میں داخل کرنا(جوکہ سخت حرام اور اللہ کے غضب کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا ہے) چاہے انزال (منی کا نکلنا) ہوا ہو یانہ ہوا ہو۲؎۔ (۳)حیض کا خون آنا بند ہوا ہو۳؎۔ (۴)نفاس کا خون آنا بند ہوا ہو۴؎۔ (۱)‘‘عن علِیؓ قال کُنتُ رَجُلًا مذاء فسئلت رسول اللہ ﷺ فقال اماالمنی ففیہ الغسل’’۔ مسنداحمد، باب مسندعلی، حدیث نمبر:۶۶۲۔ صحیح وہذا سندضعیف۔ ‘‘عن عائِشۃؓ قالت سئِل رسول اللہﷺ عن الرجلِ یَجِدُ الْبَلَلَ وَلَایَذْکُرُ احْتِلَامًا قَالَ یَغْتَسِلُ وَعَنْ الرَّجُلِ یَرَی أَنَّہُ قَدْ احْتَلَمَ وَلَمْ یَجِدْ بَلَلًا قَالَ لَاغُسْلَ عَلَیْہِ قالت أُمُّ سلمَۃَ یَارَسُوْلَ اللہ ھَلْ عَلَی الْمَرْأَۃِ تَرَی ذَلِکَ غُسْلٌ، ترمذی، باب ماجاء فیمن استیقظ فیری بللاولایذکراحتلاماً، حدیث نمبر:۱۰۵، ولہٗ رواۃ۔ ‘‘عن أُمِ سلمۃ قالت جاء ت أم سلیم إِلی النبِیِﷺ فقالت یارسول اللہ إِن اللہ لایستحیِی مِن الحقِ فَھَلْ عَلَی الْمَرْأَۃِ مِنْ غُسْلٍ إِذَااحْتَلَمَتْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِذَارَأَتْ الْمَاءَ’’ مسلم، باب وجوب الغسل علی المرأۃ بخروج المنی منہا، حدیث نمبر:۴۷۱۔ ‘‘عن على قال: كنت رجلا مذاء فسألت النبي صلى الله عليه و سلم فقال إذا حذفت فاغتسل من الجنابة وإذا لم تكن حاذفا فلا تغتسل تعليق شعيب الأرنؤوط: حسن لغيره’’ مسنداحمد، باب مسند علی بن أبی طالبؓ، حدیث نمبر:۸۴۷۔ ‘‘قولہ حذفت.... وھو الرمی وھو لایکن بھذہ الصفۃ الابشھوۃ’’ اعلاء السنن، باب وجوب الغسل بالمنی الخارج بالدفق والشھوۃ: ۱/۰۱۲۔ (۲)‘‘عن أَبِی ہُریرۃَ أَن نبِی اللہﷺ قال إِذا جلس بین شعبِہا الْأَرْبَع ثُمَّ جَھَدَھَا فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ الْغُسْلُ’’ مسلم، باب نسخ الماء من الماء ووجوب الغسل بالتقاء الختانین، حدیث نمبر:۵۲۵ (۳۔۴)‘‘فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاء فِیْ الْمَحِیْضِ وَلاَ تَقْرَبُوہُنَّ حَتَّیَ یَطْہُرْنَ فَإِذَا تَطَہَّرْنَ فَأْتُوہُنَّ’’ البقرۃ:۲۲۲۔ ‘‘عن عائِشۃؓ أَن فاطِمۃؓ بِنت أَبِی حبیش کانت تستحاض فسألت النبِیﷺ فقال ذلکِِ عِرق ولیست بِالحیضۃِ فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَیْضَۃُ فَدَعِی الصَّلَاۃَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِی وَصَلِّی’’ بخاری، باب اقبال المحیض وادبارہ، حدیث نمبر:۳۰۹۔ ‘‘عن معاذِ بنِ جبل عنِ النبِیﷺ قال إِذامضی لِلنفسائِ سَبْعٌ ثُمَّ رَأَتِ الطُّھْرَ فَلْتَغْتَشّلْ وَلْتُصَلِّ’’ دارِقطنی، باب الحیض، حدیث نمبر:۸۷۳۔ وقال الحاکم فی المستدرک، ‘‘عن معاذ بن جبل عن النبیﷺ قال: إذامضی للنفساء سبع، ثم رأت الطہر فلتغتسل ولتصل’’ باب واماحدیث عائشۃؓ، فیہ الاسود بن ثعلبۃ شامی معروف والحدیث غریب، حدیث نمبر:۵۸۶۔ حیض، نفاس اور استحاضہ عورت کو جو خون آتا ہے وہ تین قسم کا ہوتا ہے: (۱)حیض (۲)نفاس (۳)استحاضہ۔ (۱)حیض: عورتوں کو ہرمہینہ (ماہواری) جو خون آتا ہے اس کا نام حیض ہے۔ احکامِ حیض (۱)حیض کی کم از کم مدت تین دن ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔۵؎ (۲)حیض کے دنوں میں عورت کی عادت کے جتنے دن متعین ہوں حیض شمار ہوگا، خالص سفیدی کے علاوہ جو بھی رنگ ہو سب حیض ہے۶؎۔ (۳)حیض ونفاس کے دنوں میں عورت پر نماز بالکل معاف ہے بلکہ نماز پڑھنا حرام ہے، روزہ بھی ساقط ہوجاتا ہے؛ البتہ روزہ کی قضاء ذمہ میں لازم ہے ۷؎۔ (۴)حیض والی عورت اپنے شوہر کے ساتھ ایک برتن میں کھاسکتی ہے، ایک بستر پر لیٹ سکتی ہے؛ البتہ گھٹنے کے مقام سے ناف تک ہاتھ لگانا یااس حصہ سے لطف اندوز ہونا جائز نہیں ہے۸؎۔ (۵)حیض، نفاس والی عورت اور جنبی کا مسجد میں داخل ہونا ناجائز ہے۹؎۔ (۶)حیض، نفاس والی عورت بیت اللہ شریف کا طواف نہیں کرسکتی۱۰؎۔ (۷)حیض، نفاس والی عورت اور جنبی قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرسکتی؛ البتہ ذکر کرسکتے ہیں۱۱؎۔ (۸)حیض، نفاس کی حالت میں صحبت کرنا حرام ہے۱۲؎۔ (۵)‘‘عنِ الحسنِ قال: أَدنی الحیضِ ثلاثٌ’’ سنن الدارمی، باب فی أقل الحیض، حدیث نمبر:۸۷۵۔ ‘‘عن أَنس بن مالک قال: أجل الحیض عشر’’ مصنف عبدالرزاق، باب اجل الحیض، حدیث نمبر:۱۱۵۰، صفحہ نمبر:۱/۲۹۹۔ (۶)بخاری، ‘‘باب اقبال المحیض وادبارہ وکن نساءٌ یبعثن الی عائشۃ بالدرجۃ فیھا الکرسف فِیْہِ الصُّفْرَۃُ فَتَقُوْلُ لَاتَعْجَلْنَ حَتَّی تَرَیْنَ الْقَصَّۃَ الْبَیْضَاءَ تُرِیْدُ بِذَلِکَ الطُّھْرَ مِنْ الْحَیْضَۃِ’’۔ (۷)‘‘عن أبِی سعِید الخدرِیِ… أَلَیْسَ إِذَاحَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ قُلْنَ بَلَی’’، بخاری، باب ترک الحائض الصوم، حدیث نمبر:۲۹۳۔ ‘‘حدثتنِی معاذۃُ أَن امرأَۃ قالت لِعائِشۃ أَتجزِی إِحدانا صلاتہا إِذاطہرت فَقَالَتْ أَحَرُورِیَّۃٌ أَنْتِ کُنَّانَحِیْضُ مَعَ النَّبِیؐ فَلَایَأْمُرُنَا بِہِ أَوْقَالَتْ فَلَانَفْعَلُہُ’’ باب لاتقض الحائض الصلاۃ، حدیث نمبر:۳۱۰۔ ‘‘عن معاذۃ قالت سأَلت عائِشۃَ فقلت مابال الحائِضِ تقضِی الصوم ولاتقضِی الصلاۃ فقالت أحرورِیۃ أنتِ قلت لست بِحرورِیۃ ولِکنِی أسألُ قالت کان یصِیبنا ذلک فنؤمر بِقضائِ الصومِ ولانؤمر بِقضاءِ الصلاِۃِ’’ مسلم، باب وجوب قضاء الصوم علی الحائض دون الصلاۃ، حدیث نمبر:۵۰۸۔ (۸)‘‘عن عائِشۃ قالت کنت أرجِلُ رأس رسولِ اللہﷺ وأَنا حائِضٌ’’ بخاری، باب غسل الحائض رأس زوجھا وترجیلھا، حدیث نمبر:۲۸۶۔ ‘‘عن عائِشۃ قالت کان إِحدانا إِذاکانت حائِضا أَمرہا رَسُوْلُ اللہﷺفَتَأْتَزِرُ بِإِزَارٍ ثُمَّ یُبَاشِرُھَا’’ مسلم، باب مباشرۃ الحائض فوق الازار، حدیث نمبر:۴۴۰۔ ‘‘عن کریب مولی ابنِ عباس قال سمِعت میمونۃ زوج النبِیِﷺ قالت کَانَ رَسُوْلُ اللہﷺیَضْطَجِعُ مَعِیَ وَأَنَا حَائِضٌ وَبَیْنِی وَبَیْنَہُ ثَوْبٌ’’ مسلم، باب الاضطجاع مع الحائض فی لحاف واحد، حدیث نمبر:۴۴۳۔ (۹)‘‘سَمِعْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہ عَنْھَا تَقُوْلُ… فَإِنِّی لَاأُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَاجُنُبٍ’’ ابوداؤد، باب فی الجنب یدخل المسجد، حدیث نمبر:۲۰۱، وھٰکذا فی، صحیح ابن خزیمۃ، باب جماع ابواب فضائل المسجد وبنائھا وتعظیمھا، حدیث نمبر:۱۲۶۳۔ (۱۰)‘‘عن عائِشۃ قالت خرجنا مع النبِیِ ﷺ لانذکر إِلاالحج… فَافْعَلِیْ مَایَفْعَلُ الْحَاجُّ غَیْرَ أَنْ لَاتَطُوفِی بِالْبَیْتِ حَتَّی تَطْھُرِی’’ بخاری، باب تقضی للحائض المناسک کلھا الاالطواف بالبیت، حدیث نمبر:۲۹۴۔ (۱۱)‘‘عن ابنِ عمرؓ عن النبِیؐ قال لاتقرأ الحائِضُ وَلَاالْجُنُبُ شَیْئًا مِنْ الْقُرْآنِ’’ ترمذی، باب ماجاء فی الجنب والحائض انھما لایقرأ ان القرآن، حدیث نمبر:۱۲۱۔ ‘‘والنفساء وإن لم تذکر فی الحدیث لکنھا فی حکم الحائض فالحکم یشملہا’’ اعلاء السنن، باب الحائض والنفساء والجنب لایقرأون شیئاً من القرآن: ۱/۳۷۶۔ ‘‘عن عائِشۃ قالت کان النبِیؐ یذکر اللہ علی کلِ أحیانِہِ’’ مسلم، باب ذکر اللہ تعالیٰ فی حال الجنابۃ وغیرھا، حدیث نمبر:۵۵۸۔ (۱۲)‘‘قُلْ ہُوَ أَذًی فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاء فِیْ الْمَحِیْضِ وَلاَتَقْرَبُوہُنَّ حَتَّیَ یَطْہُرْنَ’’ البقرۃ:۲۲۲۔ ‘‘لان النفاس فی حکم الحیض’’ بدائع الصنائع، باب الاستحاضۃ واحکامھا: ۱/۱۹۹۔ نفاس (۲)نفاس، عورتوں کو ولادت کے بعد جو خون جاری ہوتا ہے، اس کو نفاس کہتے ہیں۔ احکامِ نفاس (۱)نفاس کی کم از کم مدت کے ایام متعین نہیں؛ لیکن زیادہ سے زیادہ چالیس دن تک ہوسکتا ہے، چالیس دن کے بعد جو خون آئے تو وہ نفاس نہیں۔ (‘‘عن أُمِ سلمۃَ قالت کانت النفساءُ تجلِس علی عہدِ رسولِ اللہﷺ أَربعِین یوما’’ ترمذی، باب ماجاء فی کم تمکث النساء، حدیث نمبر:۱۲۹) (نوٹ)نفاس کے احکام حیض کے بیان میں دیکھ لیجئے۔ استحاضہ (۳)استحاضہ وہ ہے جو حیض میں تین دن سے کم اور دس دن سے زیادہ آئے اور نفاس میں چالیس دن سے زیادہ آئے، یہ خون بیماری کا ہوتا ہے، رحم کے اندر کسی باریک رگ کے پھٹ جانے سے خون جاری ہوتا ہے؛ کبھی وقفہ کے ساتھ؛ کبھی مسلسل جاری رہتا ہے۔ (نوٹ)حمل کی حالت میں جو خون آتا ہے وہ بھی استحاضہ کا خون ہے۔ احکامِ استحاضہ (۱)استحاضہ یعنی بیماری والی عورت جس کے ایام حیض معلوم ہوں، وہ ایک بار غسل کرے گی اور ہروقت کی نماز کے لیے نیاوضو کرکے نماز ادا کریگی۱۳؎۔ (۲)استحاضہ والی عورت نماز پڑھ سکتی ہے، قرآن پاک چھوسکتی ہے۱۴؎۔ (۳)مسجد میں بھی جاسکتی ہے۱۵؎۔ (۴)روزہ رکھ سکتی ہے اور شوہر سے مباشرت بھی کرسکتی ہے۱۶؎۔ (۱۳)‘‘عن عدِیِ بنِ ثابِت عن أَبِیہِ عن جدِہِ عن النبِیِﷺ أَنہ قال فِی المستحاضۃِتَدَعُ الصَّلَاۃَ أَیَّامَ أَقْرَائِھَا کَانَتْ تَحِیْضُ فِیھَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ عِنْدکُلِّ صَلَاۃٍ وَتُصَلِّیْ’’ ترمذی، باب ماجاء ان المستحاضۃ تتوضأ لکل صلاۃ، حدیث نمبر:۱۱۷۔ (۱۴۔۱۵۔۱۶)‘‘عن عائِشۃ قالت جاءت فاطِمۃُ بِنت أَبِی حبیش إِلی النبِیِﷺ فقالت یارسول اللہ إِنِی امرأَۃٌ أُستحاض فلا أطہر أفدع الصلاۃ فقال رسول اللہِﷺ لا إِنما ذلِک عِرق ولیس بِحیض فإِذا أقبلت حیضتکِ فدعِی الصلاۃ وإِذا أدبرت فاغسِلِی عنکِ الدم ثم صلِی قال وقال أَبِی ثم توضئِی لِکلِ صلاۃ حتی یجِیء ذلِک الوقت’’ بخاری، باب غسل الدم، حدیث نمبر:۲۲۱۔ غسل (فرائضِ غسل) (۱)خوب حلق تک (روزہ نہ ہو تو) منہ بھرکر کلی کرنا۱۷؎ (۲)ناک میں پانی چڑھانا؛ جہاں تک نرم جگہ ہے۱۸؎ (۳)تمام بدن پر ایک مرتبہ پانی بہانا کہ کوئی جگہ پانی پہونچ نے سے باقی نہ رہے۱۹؎۔ (۱۷۔۱۸)‘‘وَإِن کُنتُمْ جُنُباً فَاطَّہَّرُواْ’’ مائدہ:۶۔ ‘‘والمضمضۃ والاستنشاق ہنا فرض کغسل سائر البدن لأنہ سبحانہ أضاف التطہیر إلی مسمی الواو، وہوجملۃ بدن کل مکلف’’ روح المعانی للآلوسی:۴/۴۰۳۔ ‘‘عن ابنِ عباس قال حدثتنا میمونۃُ قالت… ثم تمضمض واستنشق ثم غسل وجہہ وأفاض علی رأسِہِ’’ بخاری، باب المضمضۃ والاستنشاق فی الجنابۃ، حدیث نمبر:۲۵۱۔ ‘‘عنِ ابنِ سِیرِین قال أمر رسول ﷺ بِالاستِنشاقِ مِن الجنابِۃِ ثلاثا’’ ‘‘عنِ ابنِ عباس قال إِن کان مِن جنابۃ أَعاد المضمضۃ والاِستِنشاق واستأنف الصلاۃ، وقال ابن عرفۃ إذا نسیِ المضمضۃ والاِستِنشاق إِن کان مِن جنابۃ انصرف فمضمض واستنشق وأعاد الصلاۃَ’’ دارقطنی، باب ماروی فی المضمضۃ والاستنشاق فی غسل الجنابۃ، حدیث نمبر:۴۱۹،۴۲۰۔ (۱۹)‘‘عن علِیؓ أن رسول اللہ ﷺ قال من ترک موضِع شعرۃٍ مِن جنابۃ لم یغسِلہا فعِل بِہا کذا وکذا مِن النارِ’’ ابوداؤد، باب فی الغسل من الجنابۃ، حدیث نمبر:۲۱۷۔ واجباتِ غسل (۱)مردوں کو اپنے گندھے ہوئے بالوں کو کھول کر ترکرنا۔ نوٹ: عورتوں کے لیے سرکے گندھے ہوئے بال کھولنا ضروری نہیں؛ جبکہ بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچ جائے۔ (‘‘عن أمِ سلمۃ قالت قُلتُ یارسول اللہ إِنِی امرأَۃٌ أَشدُ ضفر رأسِی فأنقضہ لِغسلِ الجنابۃِ قال لا إِنما یکفِیکِ أن تحثِی علی رأسِکِ ثلاث حثیات ثم تفِیضِین علیِ الماء فتطہرِین’’ مسلم، باب حکم الضفائر المغتسلۃ، حدیث نمبر:۴۹۷۔ ‘‘فقال أما الرجل فلینشر رأسہ فلیغسِلہ حتی یبلغ أصول الشعرِ وأما المرأۃ فلا علیہا أن لاتنقضہ لِتغرِف علی رأسِہا ثلاث غرفات بکِفیہاِ’’ ابوداؤد، باب فی المرأۃ ھل تنقض شعرھا عندالغسل، حدیث نمبر:۲۲۲) غسل کی سنتیں (۱)نیت کرنا یعنی دل میں یہ ارادہ ہو کہ میں نجاست سے پاک ہونے کے لیے (اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور ثواب حاصل کرنے کے لیے) غسل کررہا ہوں، صرف بدن صاف کرنے کی نیت نہ ہو۲۰؎ (۲)اپنے ہاتھوں کا دھونا۲۱؎ (۳)استنجاء کرنا، یعنی بدن پر کہیں نجاست لگی ہو تو اسے پہلے صاف کردینا۲۲؎ (۴)مسنون طریقہ پر وضو کرنا۲۳؎ (۵)پردہ میں رہتے ہوئے اگر بغیر کپڑوں کے غسل کررہا ہو تو ‘‘بِسْمِ اللہ الَّذِیْ لَااِلٰہَ إِلَّاھُوَ’’ پڑھنے سے شیاطین کی آنکھوں اور بنی آدم کے اعضاء مستورہ کے درمیان پردہ ہوجاتا ہے۲۴؎ (۶)بدن رگڑنا۲۵؎ (۷)تمام بدن پر تین بار پانی بہانا پہلے سرپرپانی ڈالنا، پھر داہنے کندھے پر پھر بائیں کندھے پر ۲۶؎۔ (۲۰)‘‘یقول سمِعت عمر بن الخطابِؓ عل المِنبرِ قال سمِعت رسول اللہﷺ یقول إِنما الأعمال بِالنِیاتِ’’ بخاری، باب بدء الوحی، حدیث نمبر:۱ (۲۱۔۲۲)‘‘عن عائِشۃ قالت کان رسول اللہ ﷺ إِذااغتسل مِن الجنابۃِِ یبدأ فیغسِل یدیہِ ثم یفرِغ بِیمِینِہِ علی شِمالِہِ فیغسِل فرجہ’’ مسلم، باب صفۃ غسل الجنابۃ، حدیث نمبر:۴۷۴ (۳۲)‘‘عن عائِشۃ زوجِ النبِیِ ﷺ أَن النبِی ﷺ کان إِذااغتسل مِن الجنابۃِ… ثم یتوضأ کما یتوضأ لِلصلاِۃ’’ بخاری، باب الوضوء قبل الغسل، حدیث نمبر:۲۴۰۔ (۲۴)‘‘ستر مابین أعین الجن وعورات بنی آدم أن یقول الرجل المسلم إذا أراد أن یطرح ثیابہ بسم اللہ الذی لا إلہ إلا ھو’’ جمع الجواجمع ،باب حرف السین، حدیث نمبر:۱۳۰۷۳، صفحہ نمبر:۱/۱۳۲۵۳۔ وھکذا فی عمل الیوم واللیلۃ، باب ستربین اعین الجن وعورات بنی آدم، حدیث نمبر:۲۷۲ (۲۵)‘‘حدثتنِی خالتِی میمونۃ رضی اللہ عنہا قالت أدنیت لِرسولِ اللہ ﷺ غسلہ مِن الجنابۃِ… فدلکہا دلکا شدِیدا ثم توضأ وضوء ہ لِلصلاِۃ’’ مسلم، باب صفۃ غسل الجنابۃ، حدیث نمبر:۴۷۶۔ (۲۶)‘‘عن جبیرِ بنِ مطعِم أنہم ذکروا عِند رسولِ اللہ ﷺ الغسل مِن الجنابۃِ فقال رسول اللہِﷺ أما أنا فأفِیض علی رأسِی ثلاثا وأشار بِیدیہِ کِلتیہِما’’ ابوداؤد،باب فی الغسل من الجنابۃ، حدیث نمبر:۲۰۷۔ ‘‘عن عائِشۃ قالت کنا إِذاأصابت إِحدانا جنابۃ أخذت بِیدیہا ثلاثا فوق رأسِہا ثم تأخذ بِیدِہا عل شِقِہا الأیمنِ وبِیدِہا الأخری علی شِقِہا الأیسرِ’’ بخاری، باب من بداء بشق رأسہ الأیمن فی الغسل، حدیث نمبر:۲۶۸

غسل کے مستحبات (۱)ایسی جگہ غسل کرنا جہاں کسی نامحرم کی نگاہ نہ پہنچے یاتہبند (لنگی وغیرہ) باندہ کرغسل کرنا۲۷؎ (۲)داھنی جانب کو بائیں جانب سے پہلے دھونا۲۸؎ (۳)داڑھی کے دائیں حصہ کا پہلے خلال کرنا؛ پھربائیں حصہ کا خلال کرنا۲۹؎ (۴)تمام جسم پر پانی اس ترتیب سے بہانا کہ پہلے سرپھر داہنے شانے پھر بائیں شانے پر ڈالے۳۰؎ (۵)غسل کے بعد غسل کی جگہ سے ہٹ کر پیروں کو دھلنا؛ اگراس جگہ پانی جمع ہو۳۱؎۔ (۲۷)‘‘عن مالکِ عن أَبِی النضرِ مولی عمر بنِ عبیدِ اللہِ أَن أَبا مرۃ مولی أُمِ ہانِیٔ بِنتِ أبِی طالِب أخبرہ أنہ سمِع أم ہانیٔ بِنت أبِی طالِب تقول ذہبت إِلی رسولِ اللہ ﷺ عام الفتحِ فوجدتہ یغتسِل وفاطِمۃ تسترہ فقال من ہذِہِ فقلت أنا أم ہانیٔ’’ بخاری، باب التستر فی الغسل عندالناس، حدیث نمبر:۲۷۱۔ ‘‘عن جدِی قال قلت یارسول اللہِ عوراتنا مانأتِی مِنہا ومانذر قال احفظ عورتک إلامِن زوجتک أوماملکت یمِینک فقال الرجل یکون مع الرجلِ قال إِن استطعت أن لا یراہا أحد فافعل قلت والرجل یکون خالِیا قال فاللہ أحق أن یستحیا مِنہ’’ ترمذی، باب ماجاء فی حفظ العورۃ، حدیث نمبر:۲۶۹۳، وھذا حدیث حسن (۲۸)‘‘عن عائِشۃ قالت کنا إِذاأصابت إِحدانا جنابۃ أخذت بِیدیہا ثلاثا فوق رأسِہا ثم تأخذ بِیدِہا عل شِقِہا الأیمنِ وبِیدِہا الأخری علی شِقِہا الأیسرِ’’ بخاری، باب من بداء بشق رأسہ الأیمن فی الغسل، حدیث نمبر:۲۶۸ (۲۹)‘‘عن عائِشۃ قالت کان رسول اللہ ﷺ إِذااغتسل مِن الجنابۃ غسل یدیہِ وتوضأ وضوء ہ لِلصلاۃ ثم اغتسل ثم یخلِل بِیدِہِ شعرہُ’’ بخاری، باب تخلیل الشعر حتی اذاظن انہ قداروی بشرتہ افاض علیہ، حدیث نمبر:۲۶۴۔ ‘‘عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ’’ بخاری، باب التیمن فی دخول المسجد وغیرہ، حدیث نمبر:۴۰۸ (۳۰۔۳۱)‘‘عن میمونۃ قالت وضع رسول اللہ ﷺ وضوء ًا لِجنابۃ فأکفا بِیمِینِہِ علی شِمالِہِ مرتینِ أوثلاثا ثم غسل فرجہ ثم ضرب یدہ بِالأرضِ والحائِطِ مرتینِ أوثلاثا ثم مضمض واستنشق وغسل وجہہ وذِراعیہِ ثم أفاض علی رأسِہِ الماء ثم غسل جسدہٗ ثم تنحی فغسل رِجلیہِ’’ بخاری، باب من توضأ فی الجنابۃ ثم غسل سائرجسدہ، حدیث نمبر:۲۶۵۔ ‘‘عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّﷺيُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ’’ بخاری، باب التیمن فی دخول المسجد وغیرہ، حدیث نمبر:۴۰۸۔ وإنما یؤخر غسل رجلیہ لأنھا فی مستنقع الماء المستعمل فلایفسد الغسل حتی لوکان علی لوح لایؤخر، اعلاء السنن، باب صفۃ غسل رسول اللہﷺ: ۱/۱۹۹) غسل کے مکروہات (۱)بلاضرورت ایسی جگہ غسل کرنا جہاں کسی کی نظر پہنچ سکے۳۲؎ (۲)برہنہ نہانے والے کا قبلہ رو ہونا یا غیرضروری بات کرنا۳۳؎ (۳)کچے غسل خانہ میں جہاں پانی جمارہتا ہو پیشاب کرنا۳۴؎ (۴)ضرورت سے زیادہ پانی بہانا۳۵؎۔ (۳۲)‘‘عن یعلی أَن رسولَ اللہ ﷺ رأی رَجلا یغتسِل بِالبرازِ… فإِذا اغتسل أحدکم فلیستتِر’’ نسائی، باب الاستتار عند الاغتسال، حدیث نمبر:۴۰۳۔ (۳۳)‘‘وآداب الاغتسال ھی مثل آداب الوضوء الا أنہ لایستقبل القبلۃ حال اغتسالہ لأنہ یکون غالبا مع کشف العورۃ ویستحب ان لایتکلَّمَ بکلام معہ ولودعاء لأنہ فی مصب الأقذار’’ مراقی الفلاح، آداب الاغتسال، صفحہ نمبر:۱/۴۳ (۳۴)‘‘عن عبدِ اللہ بنِ مغفل أَن النبِی ﷺ نہی أن یبول الرجل فِی مستحمِہِ وقال إِن عامۃ الوسواسِ مِنہ’’ ترمذی، باب ماجاء فی کراھیۃ البول فی المغتسل، حدیث نمبر:۲۱۔ ‘‘وانما نھی عن ذلک اذالم یکن مسلک یذھب فیہ البول اوکان المکان صلباً فیوھم المغتسل أنہ اصابہ منہ شئی فحصل منہ الوسواس’’ تحفۃ الأحوذی، باب ماجاء فی کراھیۃ البول فی المغتسل: ۱/۲۷ (۳۵)‘‘عن أبیِ بنِ کعب عن النبِیِ ﷺ قال إِن لِلوضوِء شیطانا یقال لہ الولہان فاتقوا وسواس الماءِ’’ ترمذی، باب ماجاء فی کراھیۃ الاسراف فی الوضوء بالماء، حدیث نمبر:۵۲، والحدیث یدل علی کراھیۃ الاسراف فی الماء للوضوء وقداجمع العلماء علی النھی عن الاسراف فی الماء ولوعلی شاطئی النہر، تحفۃ الأحوذی، صفحہ نمبر:۱/۶۷۔ ‘‘عن عبدِ اللہِ بنِ عمرو أن رسول اللہِﷺ مر بِسعد وہو یتوضأ فقال ماہذا السرف فقال أفِی الوضوءِ إِسراف قال نعم وإِن کنت علی نہر جار’’ سنن ابن ماجہ، باب ماجاء فی القصد فی الوضوء وکراھۃ التعدی فیہ، حدیث نمبر:۴۱۹۔ غسل کا مسنون طریقہ غسل چاہے فرض ہو یاواجب یاسنت یامستحب، سب کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ غسل کرنے والا سب سے پہلے اللہ کی رضا اور ثواب کی خاطر نجاست سے پاک ہونے کی نیت کرے۳۶؎؛ پھردونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک تین بار دھونا۳۷؎؛ پھربدن پر کسی جگہ منی یاناپاکی لگی ہوئی ہو تو اس کو تین بار صاف کرے اور بڑا استنجاء کرے۳۸؎؛ خواہ ضرورت ہو یا نہ ہو، اس کے بعد مسنون طریقہ پر وضو کرے۳۹؎؛ اگر غسل کا پانی قدموں میں جمع ہوتا ہو تو پیروں کو نہ دھوئے، یہاں سے علاحدہ ہونے کے بعد دھوئے؛ اگر چوکی یاپتھر یاایسی جگہ غسل کررہا ہو کہ وہاں غسل کا پانی جمع نہںی ہورہا ہے تو اسی وقت قدموں کو بھی دھوڈالنا چاہئے۴۰؎، اب پانی پہلے سر پر ڈالے؛ پھردائیں کندھے پر؛ پھربائیں کندھے پر ڈالیں، اتنا پانی ڈالیے کہ سر سے پاؤں تک پہنچ جائے اور بدن کو ہاتھوں سے ملے، یہ ایک مرتبہ ہوا؛ پھراسی طرح پانی ڈالیں کہ پہلے سر؛ پھردائیں کندھے؛ پھربائیں کندھے پر (اور جہاں بدن کے کسی حصہ کے سوکھا رہ جانے کا اندیشہ ہو وہاں ہاتھ سے مل کر پانی بہانے کی کوشش کرے) پھراسی طرح تیسری مرتبہ پانی سر سے پیر تک بہائے۔ (۳۶)‘‘علقمۃ بن وقاص اللیثِی یقول سمِعت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ علی المِنبرِ قال سمِعت رسول اللہ ﷺ یقول إِنما الأعمال بِالنِیات’’ بخاری، باب بدء الوحی، حدیث نمبر:۱/ (۳۹)‘‘عن عائِشۃ زوجِ النبِیِ ﷺ أن النبِی ﷺ کان إِذا اغتسل مِن الجنابِۃ بدأَ فغسل یدیہِ ثم یتوضأُ مایتوضأ لِلصلاِۃِ’’ بخاری، باب الوضو قبل الغسل، حدیث نمبر:۲۴۰ (۳۷)‘‘عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَتْ مَيْمُونَةُ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّﷺ مَاءً لِلْغُسْلِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا’’ بخاری، باب الغسل مرۃ واحدۃ، حدیث نمبر:۲۴۹۔ (۳۸)‘‘عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيبُ بِهِنَّ فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْهُ’’ ابوداؤد، باب الاستنجاء بالحجارۃ، حدیث نمبر:۳۶ (۴۰)‘‘عن عائِشۃ قالت کان رسول اللہ ﷺ إِذا اغتسل مِن الجنابِۃ یبدأ فیغسِل یدیہِ ثم یفرِغ بِیمِینِہِ علی شِمالِہِ فیغسِل فرجہ ثم یتوضأُ وضوء ہ لِلصلاِۃ ثم یأخذ الماء فیدخِل أَصابِعہ فِی أصولِ الشعرِ حتی إِذا رأی أَن قد استبرأَ حفن علی رأسِہِ ثلاث حفنات ثم أفاض عل سائِرِ جسدِہِ ثم غسل رِجلیہِ’’ مسلم، باب صفۃ غسل الجنایۃ، حدیث نمبر:۴۷۴۔ ‘‘حدثتنِی خالتِی میمونۃ قالت أدنیت لِرسولِ اللہ ﷺ غسلہ مِن الجنابۃِ فغسل کفیہِ مرتینِ أوثلاثا ثم أدخل یدہ فِی الإِنائِ ثم أفرغ بِہِ علی فرجِہِ وغسلہ بِشِمالِہِ ثم ضرب بِشِمالِہِ الأرض فدلکہا دلکا شدِیدا ثم توضأ وضوء ہ لِلصلاِۃ’’ مسلم، وباب صفۃ غسل الجنایۃ، حدیث نمبر:۴۷۶۔ ‘‘عن عائِشۃ قالت کان رسول اللہ ﷺ إِذااغتسل مِن الجنابۃ… ثم یخلل بیدہ شعرہ’’ بخاری، باب تخلیل الشعر، حدیث نمبر:۲۶۴۔ ‘‘عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا لِجَنَابَةٍ فَأَكْفَأَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ ثُمَّ ضَرَبَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ أَوْ الْحَائِطِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ ثُمَّ غَسَلَ جَسَدَهُ ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ’’ بخاری، باب من توضأ فی الجنابۃ ثم غسل سائر جسدہ ولم یعدغسل، حدیث نمبر:۲۶۵۔ ‘‘وانما یؤخر غسل رجلیہ لأنھما فی مستنقع المائ المستعمل فلایفید الغسل حتی لوکان علی لوح لایؤخر’’ اعلاء السنن، باب صفۃ غسل رسول اللہﷺ: ۱/۱۹۹۔ ‘‘عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ’’ بخاری، باب التیمن فی دخول المسجد وغیرہ، حدیث نمبر: ۴۰۸۔ نواقضِ وضو (وضو کو توڑدینے والی چیزیں) (۱)پاخانہ، پیشاب کے راستہ سے جو کچھ نکلے۴۱؎ (۲)خون، پیپ، پتلا زرد (پیلا) پانی جسم کے کسی حصہ سے نکل کر اپنی جگہ سے بہہ جائے۴۲؎ (۳)خون تھوک میں ملا ہوا منھ سے نکلے تو جو غالب ہوگا اس کا حکم ہوگا؛ اگر خون غالب (زیادہ) ہو تو وضو کرنا پڑیگا ورنہ نہیں۴۳؎ (۴)ناک سے خون بہنا (نکسیر کا پھوٹنا)۴۴؎ (۵)منھ بھر کر قئے کرنا۴۵؎ (۶)لیٹنے کی حالت میں نیند کا آنا؛ کسی چیز سے تکیہ یاٹیک لگاکر اس طرح سونا کہ اگر اس کو ہٹادیا جائے تو وہ گرجائے یاکروٹ لیکر سونا۴۶؎ (۷)بیہوشی اور جنون (پاگل پن) لاحق ہونا۴۷؎ (۸)رکوع، سجدہ والی نماز میں بالغ نمازی کا قہقہ (اتنی آواز سے ہنسنا کہ ساتھ والا آدمی سن لے) لگانے سے نماز اور وضو ٹوٹ جاتا ہے۴۸؎ (۹)مذی (عضو تناسل سے حالت انتشار میں شہوت کے وقت نکلنے والا کسی قدر گاڑا مادہ ہے) اور ودی (پیشاب کے کرنے کے بعد یاناقابلِ برداشت بوجھ اٹھانے کے بعد قطرہ دو قطرہ نکلتا ہے جس میں گاڑا پن یابونہیں ہوتی) کا نکلنا۴۹؎ (۱۰)خون استحاضہ کا آنا۵۰؎۔ (۴۱)‘‘أَوْ جَاء أَحَدٌ مَّنکُم مِّنَ الْغَائِطِ’’ المائدۃ:۶۔ ‘‘عن عمِہِ قال شکِی إِلی النبِیِﷺ الرجل یجِد الشیء فِی الصلاۃِ فقال لاحتی یجِد رِیحا أو یسمع صوتا’’ ابن ماجہ، باب لاوضوء إلا من حدث، حدیث نمبر:۵۰۶، وھکذا فی النسائی، باب الوضوء من الریح، حدیث نمبر:۱۶۰۔ ‘‘زِرَّبْنَ حُبَیْشٍ یحدِث قال أتیت رجلا یدعی صفوان بن عسال فقعدت علی بابِہِ فخرج… ولکن من غائط وبول ونوم’’ نسائی، باب الوضوء من الغائط والبول، حدیث نمبر:۱۵۸ (۴۲)‘‘عن ابن جریج عن عطاء فی الشجۃ یکون بالرجل قال: إن سال الدم فلیتوضأ وإن ظہر ولم یسل فلا وضوء علیہ’’ مصنف عبدالرزاق، باب الوضوء من الدم، حدیث نمبر:۵۴۵۔ ‘‘عن ابن سیرین فی الرجل یبصف دما قال: إن کان الغالب علیہ الدم توضأ’’ مصنف عبدالرزاق، باب الوضوء من الدم، حدیث نمبر:۵۶۰۔ (۴۳۔۴۴۔۴۵)‘‘عبد الرزاق عن معمر عن أيوب عن ابن سيرين في الرجل يبص دما ، قال : إذا كان الغالب عليه الدم توضأ’’ مصنف عبدالرزاق: ۱/۱۴۸، حدیث نمبر: ۵۷۰۔ ‘‘عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَيْسَ فِى الْقَطْرَةِ وَالْقَطْرَتَيْنِ مِنَ الدَّمِ وُضُوءٌ حَتَّى يَكُونَ دَمًا سَائِلاً’’ سنن دارِقطنی، باب ماجاء فی القیٔ والقلس فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۵۹۲۔ ‘‘عن أَبِی الدرداءِ أَن رسول اللہ ﷺ قاء فأَفطر فتوضأَ’’ترمذی، باب ماجاء فی الوضوء من القیٔ والرعاف، حدیث نمبر:۸۰۔‘‘عن نافِع أَن عبد اللہ بن عمر کان إِذارعف انصرف فتوضأ ثم رجع فبنی ولم یتکلم’’ مؤطاامام مالک رحمہ اللہ، باب ماجاء فی الرعاف، حدیث نمبر:۷۰۔ ‘‘عن أبیِ سعِید الخدرِیِ قال قال رسول اللہِ صل اللہ علیہ وسلم من رعف فیِ صلاتِہِ فلیرجِع فلیتوضأ ولیبنِ علی صلاتِہِ’’ دارِقطنی، باب ماجاء فی القیٔ والقلس فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۵۹۳۔ ‘‘عائشۃ من أصابہ قیٔ أورعاف أوقلس أومذی فلینصرف ولیتوضأ ثم لیبن علی صلاتہ وہوفی ذلک لایتکلم’’ مسندالفردوس للدیلمی،حدیث نمبر:۵۸۸۳ (۴۶)‘‘عن ابنِ عباس… إِن الوضوء لایجِب إِلاعلی من نام مضطجِعا فإِنہ إِذااضطجع استرخت مفاصِلہ’’ ترمذی، باب ماجاء فی الوضوء من النوم، حدیث نمبر:۷۲ وھکذا فی السنن الکبریٰ للبیھقی، باب ماورد فی نوم الساجد، حدیث نمبر:۶۰۸۔ ‘‘عن أبِی ہریرۃ قال: منِ استحق نوما فقد وجب علیہِ الوضوءُ زاد ابن علیۃ: قال الجرِیرِی: فسألنا عنِ استِحقاقِ النومِ؟ فقالوا: إذاوضع جنبہ’’ مصنف ابن ابی شیبہ، باب من کان یقول اذا نام فلیتوضأ، حدیث نمبر:۱۴۲۷۔ ‘‘عن ابنِ عباس… فقال إنما الوضو علی من نام مضطجعا زاد عثمان وہناد فإنہ إذا اضطجع استرخت مفاصلہ’’ ابوداؤد، باب فی الوضو من النوم، حدیث نمبر:۱۷۴ (۴۷)۔ عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِي رَجُلٍ غُشِيَ عَلَيْهِ وَهُوَ جَالِسٌ ، قَالَ : يَتَوَضَّأُ. (مصنف ابن ابي شيبة فِي الرَّجُلِ يُغْشَى عَلَيْهِ فَيُعِيدُ لِذَلِكَ الْوُضُوءَ۱۹۸/۱) ‘‘(وَمِنْهَا) الْإِغْمَاءُ وَالْجُنُونُ وَالسُّكْرُ الَّذِي يَسْتُرُ الْعَقْلَ أَمَّا الْإِغْمَاءُ فَلِأَنَّهُ فِي اسْتِرْخَاءِ الْمَفَاصِلِ، وَاسْتِطْلَاقِ الْوِكَاءِ فَوْقَ النَّوْمِ مُضْطَجِعًا، وَذَلِكَ حَدَثٌ فَهَذَا أَوْلَى . وَأَمَّا الْجُنُونُ فَلِأَنَّ الْمُبْتَلَى بِهِ يُحْدِثُ حَدَثًا، وَلَايَشْعُرُ بِهِ فَأُقِيمَ السَّبَبُ مَقَامَ الْمُسَبِّبِ، وَالسُّكْرُ الَّذِي يَسْتُرُ الْعَقْلَ فِي مَعْنَى الْجُنُونِ فِي عَدَمِ التَّمْيِيزِ وَقَدْ انْضَافَ إلَيْهِ اسْتِرْخَاءُ الْمَفَاصِلِ’’ بدائع الصنائع، فصل بیان ماینقض الوضوء: ۱/۱۳۹۔ (۴۸۔۴۹)بدائع الصنائع، فصل بیان ماینقض الوضوء:۱/۱۳۹۔ فتاویٰ ہندیہ، فصل فی نواقض الوضوء:۱/۱۵۵۔ ‘‘عن علِی، قال: سألت النبِی ﷺ عنِ المذیِ، فقال: مِن المذیِ الوضو، ومِن المنِیِ الغسل’’ ترمذی، باب ماجاء فی المنی والمذی:۱/۳۱ مطبوعہ:فیصل، دیوبند، الہند۔ ‘‘عن عِمران بنِ حصین قال سمِعت رسول اللہ ﷺ یقول من ضحکِ فی الصلاۃ قرقرۃ فلیعد الوضو والصلاة، وقال الحسن بن قتیبۃ إذاقہقہ الرجل عاد الوضو والصلاۃ’’ دارِقطنی، باب فی ماروی فیمن نام قاعداً وقائماً ومضطجعاً، حدیث نمبر:۶۲۲ (۵۰)‘‘عن عائِشۃ قالت جاء ت فاطِمۃ بِنت أَبِی حبیش إِلی النبِیِ ﷺ فقالت یارسول اللہ إِنِی امرأۃ أستحاض… ثم توضئِی لکلِ صلاۃ حتی یجِیء ذلک الوقت’’ بخاری، باب غسل الدم، حدیث نمبر:۲۲۱۔ غیرناقصِ وضو (جن چیزوں سے وضو نہیں ٹوٹتا) (۱)کھڑے کھڑے یابغیرسہارا لگائے یانماز کی کسی ہیئت پر سونا۵۱؎ (۲)ناخن کاٹنا، بال منڈانا۵۲؎ (۳)آگ پر پکی ہوئی چیز کھانا۵۳؎ (۴)ذکر (عضو تناسل) کو چھونا۵۴؎ (۵)عورتوں کو چھونا یاصرف بوسہ لینا؛ بشرطیکہ مذی نہ نکلے۵۵؎ (۶)اس بات میں شک ہونا کہ وضو ہے یانہیں۵۶؎۔ (۵۱)‘‘عن ثابِت البنانِیِ أن أنس بن مالِک قال أقِیمت صلاۃ العِشاِء فقام رجل فقال یارسول اللہِ إِن لِی حاجۃ فقام یناجِیہِ حتی نعس القوم أوبعض القومِ ثم صلی بِہِم ولم یذکر وضوء ا’’ ابوداؤد، باب فی الوضوء من النوم، حدیث نمبر:۱۷۳۔ ‘‘عَنْ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ حَرْبٍ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَيَجِبُ الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ جَالِسًا أَوْ قَائِمًا أَوْ سَاجِدًا حَتَّى يَضَعَ جَنْبَهُ، فَإِنَّهُ إِذَا وَضْعَ جَنْبَهُ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ’’ السنن الکبریٰ للبیہقی، باب ماورد فی نوم الساجد، حدیث نمبر:۶۰۹ (۵۲)‘‘وقال الحسن إِن أَخذ مِن شعرِہِ وأظفارِہِ أوخلع خفیہِ فلاوضوءَ علیہِ وقال أبوہریرۃ لاوضوء إِلامِن حدث’’ بخاری، باب من لم یرالوضوء الامن المخرجین من القبل والدبر:۱/۳۰۱ (۵۳)‘‘عن ابنِ عباس أن رسول اللہ ﷺ أکل کتِف شاۃ ثم صلی ولم یتوضأ’’ ابوداؤد، باب ترک الوضوء ممامست النار، حدیث نمبر:۱۵۹ (۵۴)‘‘عن قیسِ بنِ طلقِ بنِ علِی ہوالحنفِی عن أبِیہِ عن النبِیِﷺ قال وہل ہوإِلامضغۃ مِنہ أوبضعۃ مِنہ’’ ترمذی، باب ماجاء فی ترک الوضوء من مس الذکر، حدیث نمبر:۷۸ (۵۵)‘‘عن عائِشۃ أن النبِیﷺ قبل بعض نِسائِہِ ثم خرج إِلی الصلاۃ ولم یتوضأ’’ ترمذی، باب ترک الوضوء من القبلۃ، حدیث نمبر:۷۹ (۵۶)‘‘عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِﷺ الرَّجُلُ الَّذِي يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ لَايَنْفَتِلْ أَوْ لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا’’ بخاری، باب من لایتوضأ من الشک حتی یستیقن، حدیث نمبر:۱۳۴۔ وضو کے فرائض وضو میں چار فرض ہیں: (۱)ایک مرتبہ پیشانی کے بالوں سے تھوڈی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لوتک منہ دھونا۵۷؎ (۲)ایک ایک بار دونوں ہاتھ کھنیوں سمیت دھونا۵۸؎ (۳)ایک بار چوتھائی سرکا مسح کرنا۵۹؎ (۴)ایک ایک بار دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھونا۶۰؎۔ (۵۷۔۵۸۔۵۹۔۶۰)‘‘یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَاقُمْتُمْ إِلَی الصَّلاۃِ فاغْسِلُواْ وُجُوہَکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ إِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْن’’ المائدۃ:۶۔ ‘‘وحد الوجه عندنا طولاً من مبدأ سطح الجبهة إلى أسفل اللحيين ، وعرضاً ما بين شحمتي الأذن لأن المواجهة تقع بهذه الجملة’’ روح المعانی: ۴/۳۸۹ (۵۹)‘‘عن عروۃ بنِ المغِیرۃ بنِ شعبۃ عن أبِیہِ قال تخلف رسول اللہ ﷺ وتخلَّفْتُ معہ فلما قضی… ومسح بِناصِیتِہِ وعلی العِمامۃِ’’ مسلم، باب المسح عن الناصیۃ والعمامۃ، حدیث نمبر:۴۱۰۔ ‘‘عن أنسِ بنِ مالکِ قال رأیت رسول اللہ ﷺ یتوضأُ وعلیہِ عِمامۃ قِطرِیۃ فأدخل یدہ من تحت العمامۃ فمسح مقدم رأسہ ولم ینقض العمامۃ’’ ابوداؤد، باب المسح علی العمامۃ، حدیث نمبر:۱۲۶’’۔(۵۸،۶۰) عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ عَنْ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ لَهُمْ وُضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكْفَأَ عَلَى يَدِهِ مِنْ التَّوْرِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ(بخاري بَاب غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۱۸۰)

وضو کی سنتیں (۱)اللہ کی خوشنودی اور ثواب حاصل کرنے کی نیت کرنا۶۱؎ (۲)بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا۶۲؎ (۳)وضو کے درمیان ‘‘اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَوَسِّعْ لِیْ فِیْ دَارِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْ رِزْقِیْ’’ پڑھتے رہنا اور وضو سے فارغ ہونے پر ‘‘أَشْھَدُ أَنْ لَاِلٰہَ اِلَّااللہ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ، اللہمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ’’ پڑھنا۶۳؎ (۴)دائیں طرف سے وضو شروع کرنا۶۴؎ (۵)پہلے تین بار دونوں ہاتھ گٹوں تک دھونا۶۵؎ (۶)مسواک کرنا۶۶؎ (۷)تین بار کلی کرنا اور تین بار ناک میں پانی ڈالنا۶۷؎ (۸)ڈاڑھی کا خلال کرنا۶۸؎ (۹)ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا۶۹؎ (۱۰)ہرعضو کا تین بار دھونا۷۰؎ (۱۱)ایک بار تمام سرکامسح کرنا، یعنی بھیگا ہوا ہاتھ پھیرنا۷۱؎ (۱۲)دونوں کانوں کا مسح کرنا۷۲؎ (۱۳)ترتیب سے وضو کرنا۷۳؎ (۱۴)لگاتار وضو کرنا، یعنی ایک عضو خشک ہونے سے پہلے دوسرا دھولینا۷۴؎ (۱۵)آنکھوں کے حلقوں میں ہاتھ پھیرنا۷۵؎ (۱۶)اعضاء کو مل مل کر دھونا۷۶؎ (۱۷)انگوٹھی وغیرہ کو حرکت دینا۷۷؎ (۱۸)وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے کپڑے کے اوپر سے ہی مارنا۷۸؎ (۱۹)وضو کے بعد دعا پڑھنا: ‘‘أَشْھَدُ أَنْ لَاِاِلٰہَ اِلَّااللہ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ، اللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ’’۷۹؎۔ (۶۱)‘‘سمِعت عمر بن الخطابؓ علی المِنبرِ قال سمِعت رسول اللہ ﷺ یقول إِنما العمال بِالنِیاتِ’’ بخاری، باب بدالوحی، حدیث نمبر:۱/ (۶۲)‘‘عن أنس… توضئوا بسم اللہ، نسائی، باب التسمیۃ عند الوضوء، حدیث نمبر:۷۷ (۶۳)‘‘عن عمر بنِ الخطابِ قال قال رسول اللہ ﷺ من توضأ فأحسن الوضوء ثم قال أشہد أن لاإلہ إلااللہ وحدہ لاشریک لہ وأشہد أن محمدا عبدہ ورسولہ اللہم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطہرین فتحت لہ ثمانیۃ أبواب الجنۃ یدخل من أیہا شاء، ترمذی، باب فیما یقال بعد الوضو، حدیث نمبر:۵۰۔ ‘‘عن أبی موسى أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وتوضأ فسمعته يدعو يقول اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي في رزقي’’ سنن الکبری للنسائی: ۶/۲۴، حدیث نمبر:۹۹۰۸ (۶۴)‘‘عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ فِي تَنَعُّلِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَطُهُورِهِ وَفِي شَأْنِهِ كُلِّهِ’’ بخاری، باب التیمن فی الوضو والغسل، حدیث نمبر:۱۶۳(۶۵) أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ… (مسلم بَاب صِفَةِ الْوُضُوءِ وَكَمَالِهِ۳۳۱شاملة موقع الإسلام) (۶۶)‘‘عن أبی ہریرۃ عن النبی ﷺ قال: لولا أن أشق علی أمتی لأمرتہم بالسواک مع الوضوء’’ صحیح ابن حبان، باب ذکر الإخبار عمایستحب، حدیث نمبر:۱۵۳۱، (۶۵۔۶۷۔۷۰۔۷۳۔۷۴)جیسا کہ جملہ احادیث سے یہی بات معلوم ہوتی ہے، علامہ کاسانیؒ لکھتے ہیں: ‘‘الْمُوَالَاةُ، وَهِيَ أَنْ لَايَشْتَغِلُ الْمُتَوَضِّئُ بَيْنَ أَفْعَالِ الْوُضُوءِ بِعَمَلٍ لَيْسَ مِنْهُ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا كَانَ يَفْعَلُ، وَقِيلَ فِي تَفْسِيرِ الْمُوَالَاةِ: أَنْ لَايَمْكُثَ فِي أَثْنَاءِ الْوُضُوءِ مِقْدَارَ مَايَجِفُّ فِيهِ الْعُضْوُ الْمَغْسُولُ، فَإِنْ مَكَثَ تَنْقَطِعُ الْمُوَالَاةُ’’ بدائع الصنائع، باب الموالاۃ فی الوضوء: ۱/۶۹۔ عن الحسن ؛ في الرجل يتوضأ فيجف وضوؤه ، قال : إن كان في عمل الوضوء غسل رجليه ، وإن كان في غير عمل الوضوء استأنف الوضوء.( مصنف ابن ابي شيبة في الرجل يتوضأ فيجف بعض جسده ۲۰۰/۱شاملة ) ‘‘أن حمران مولی عثمان أخبرہ أنہ رأی عثمان بن عفان دعا بإِِناء فأفرغ علی کفیہِ ثلاث مِرار فغسلہما ثم أدخل یمینہ فی الإناء فمضمض واستنشق ثم غسل وجہہ ثلاثا ویدیہ إلی المرفقین ثلاث مرار ثم مسح برأسہ ثم غسل رجلیہ ثلاث مرار إلی الکعبین’’ بخاری، باب الوضوء ثلاثاً ثلاثاً، حدیث نمبر:۱۵۵ (۶۸)‘‘عن حسان بنِ بِلال قال رأیت عمار بن یاسِر توضأ فخلل لِحیتہ فقیل لہ أوقال فقلت لہ أتخلل لحیتک قال ومایمنعنی ولقد رأیت رسول اللہ ﷺ یخلل لحیتہ’’ ترمذی، باب ماجاء فی تخلیل اللحیۃ، حدیث نمبر:۲۸ (۶۹)‘‘عن عاصِمِ بنِ لقِیطِ بنِ صبِرۃ عن أَبِیہِ قال قال النبِی ﷺ إِذاتوضأت فخلِل الأصابع’’ ترمذی، باب ماجاء فی تخلیل الاصابع، حدیث نمبر:۳۶ (۷۱۔۷۲)‘‘عن عمرِو بنِ یحی المازِنِیِ عن أبِیہِ أن رجلا قال لِعبدِ اللہ بنِ زید وہوجد عمرِو بنِ یحی تستطِیع أن ترِینِی کیف کان رسول اللہِﷺ یتوضأ… ثم مسح رأسہ بیدیہ فأقبل بہما وأدبر بدأ بمقدم رأسہ حتی ذہب بہما إلی قفاہ ثم ردہما إلی المکان الذی بدأ منہ ثم غسل رجلیہ’’ بخاری، باب مسح الرأس کلہ، حدیث نمبر:۱۷۹۔ ‘‘عن ابنِ عباس رأی رسول اللہ ﷺ یتوضأُ فذکر الحدِیث کلہ ثلاثا ثلاثا قال ومسح برأسہ وأذنیہ مسحۃ واحدۃ’’ ابوداؤد، باب صفۃ وضوء النبیﷺ، حدیث نمبر:۱۱۴۔ ‘‘عن أبِی أمامۃ وذکر وضوء النبِیِ ﷺ قال کان رسول اللہ ﷺ یمسح المأقینِ قال وقال الأذنان من الرأس’’ ابوداؤد، وباب صفۃ وضوء النبیﷺ، حدیث نمبر:۱۱۵۔ ‘‘عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ أن رجلا أتی النبی ﷺ فقال یا رسول اللہ کیف الطہور… ثم مسح برأسہ فأدخل إصبعیہ السباحتین فی أذنیہ ومسح بإبہامیہ علی ظاہر أذنیہ وبالسباحتین باطن أذنیہ’’(أَبُو دَاوُد بَاب الْوُضُوءِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ۱۱۶شاملة موقع الإسلام ) (۷۵۔۷۶)‘‘حدثتنِی خالتِی میمونۃ قالت أدنیت لِرسولِ اللہ ﷺ غسلہ مِن الجنابۃِ… فدلکہا دلکا شدیدا’’ مسلم، باب صفۃ غسل الجنابۃ، حدیث نمبر:۴۷۶ (۷۷)‘‘عن أبیِ رافِع قال کان النبِی ﷺ إذاتوضأ وضوء ہٗ لِلصلاِۃ حرک خاتمہ فی إصبعِہِ’’ دارقطنی، باب صفۃ وضوء النبی ﷺ، حدیث نمبر:۳۲۰ (۷۸)‘‘عن أبِی ہریرۃ أن النبِی ﷺ قال جاء نِی جِبرِیل فقال یامحمد إذاتوضأت فانتضح’’ ترمذی، باب ماجاء فی النضح بعدالوضوء، حدیث نمبر:۴۶ (۷۹)‘‘عن عمر بنِ الخطابِ قال قال رسول اللہ ﷺ من توضأ فأحسن الوضوء ثم قال أشہد أن لاإلہ إلااللہ وحدہ لاشریک لہ وأشہد أن محمدا عبدہ ورسولہ اللہم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطہرین فتحت لہ ثمانیۃ أبواب الجنۃ یدخل من أیہا شاء’’ ترمذی، باب فیمایقال بعدالوضوء، حدیث نمبر:۵۰۔ وضو کے مستحبات (۱)وضوخودکرنا، بلاضرورت دوسرے سے مدد نہ لینا۸۰؎ (۲)اگر روزہ دار نہ ہو تو پانی ناک میں اچھی طرح چڑھا کر بائیں ہاتھ سے صاف کرنا۸۱؎ (۳)گردن کا مسح کرنا۸۲؎ (۴)ہروقت کا علیحدہ وضو کرنا۸۳؎ (۵)پاؤں دھونے سے پہلے اس کو چھڑکنا۸۴؎ (۶)سرکے مسح کے لیے نیا پانی لینا۸۵؎ (۷)کانو ں کے مسح کے وقت دونوں انگلیوں کا کانوں کے سوراخ میں ڈالنا۸۶؎ (۸)وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہوکر پینا۸۷؎۔ (۸۰)‘‘حدثنا أبوالجنوب، قال: رأیت علیا یستقی ماء لوضوئہ، فبادرتہ أستقی لہ، فقال: مہ یاأبا الجنوب، فإنی رأیت عمر، یستقی ماء لوضوئہ، فبادرتہ أستقی لہ، فقال: مہ یاأباالحسن، فإنی رأیت رسول اللہ ﷺ یستقی ماء لوضوئہ، فبادرتہ أستقی لہ فقال: مہ یاعمر، فإنی أکرہ أن یشرکنی فی طہوری أحد’’ مسند أبی یعلی الموصلی، باب أکرہ أن یشرکنی فی طھوری أحد، حدیث نمبر:۲۱۶ (۸۱)‘‘عن عاصِمِ بنِ لقِیطِ بنِ صبرۃ عن أَبِیہِ قال قلت یارسول اللہ أخبِرنِی عن الوضوِ قال أسبغ الوضوء وبالغ فی الاستنشاق إلاأن تکون صائما’’ نسائی، باب المبالغۃ فی الاستنشاق، حدیث نمبر:۸۶۔ ‘‘عن علِی أَنہ دعا بِوضوئٍ فتمضمض واستنشق ونثر بیدہ الیسری ففعل ہذا ثلاثا ثم قال ہذا طہور نبی اللہ ﷺ’’ نسائی، وباب بای الیدین یستنثر، حدیث نمبر:۹۰ (۸۲)‘‘عن طلح عن أبیہ عن جدہ أنہ: رأی رسول اللہ ﷺ یمسح رأسہ حتی بلغ القذال ومایلیہ من مقدم العنق بمرۃ قال القذال السالفۃ العنق’’ مسنداحمد، باب حدیث جدطلحۃ الأیامیؓ، حدیث نمبر:۱۵۹۹۳ (۸۳)‘‘عن أَنسِ بنِ مالِک قال کان النبِی ﷺ یتوضأ عِند کلِ صلاۃ’’ بخاری، باب الوضوء من غیرحدث، حدیث نمبر:۲۰۷ (۸۴)یہ بطورِ مبالغہ ہے؛ جیسا کہ حضور اکرمﷺ پیردھونے سے پہلے پاؤں پرپانی چھڑکا کرتے تھے ‘‘عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَمَضْمَضَ بِهَا وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَجَعَلَ بِهَا هَكَذَا أَضَافَهَا إِلَى يَدِهِ الْأُخْرَى فَغَسَلَ بِهِمَا وَجْهَهُ ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ..... ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى حَتَّى غَسَلَهَا ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً أُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا رِجْلَهُ يَعْنِي الْيُسْرَى ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ’’ بخاری، باب غسل الوجہ بالیدین، حدیث نمبر:۱۳۷ (۸۵)‘‘حدثہ أَنہ سمِع عبد اللہ بن زیدِ بنِ عاصِم المازِنِی یذکر أَنہ رأی رسول اللہ ﷺ توضأَ فمضمض… ثم أدخل یدہ فاستخرجہا فمسح برأسہ فأقبل بیدیہ وأدبر… سمع عبد اللہ بن زید بن عاصم المازنی یذکر أنہ رأی رسول اللہ ﷺ توضأ… ومسح برأسہ بماء غیر فضل یدہ’’ مسلم، باب فی وضوء النبیﷺ، حدیث نمبر:۳۴۶، ۳۴۷ (۸۶)‘‘عن عبدِ اللہ بنِ محمدِ بنِ عقِیل أن ربیِع بِنت معوِذ ابنِ عفراء أَخبرتہ قالت رأیت رسول اللہ ﷺ یتوضأُ قالت فمسح رأسہ ومسح ماأقبل منہ وماأدبر وصدغیہ وأذنیہ مرۃ واحدۃ’’ ابوداؤد، باب صفۃ وضوء النبیﷺ، حدیث نمبر:۱۱۰ (۸۷)‘‘أَخبرنِی أَبِی علِی أَن الحسین بن علِی قال دعانِی أَبِی علِی بِوضوءٍ… فشرب من فضل وضوئہ قائما’’ نسائی، باب صفۃ للوضوء، حدیث نمبر:۹۴۔ وضو کے مکروہات (۱)ضرورت سے زیادہ پانی خرچ کرنا۸۸؎ (۲)دائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا۸۹؎ (۳)چہرے پر پانی مارنا۹۰؎ (۴)بلاعذر دوسرے سے وضو میں مدد لینا یعنی اعضائے وضو غیر سے دھلانے اور مسح کرانے میں مدد لینا، صرف پانی لانے، یاپانی بہانے میں مدد لینا بلاعذر کوئی حرج نہیں۹۱؎ (۵)تین بار سے زیادہ کسی عضو کا دھونا۹۲؎۔ نوٹ: سورج کے گرم پانی سے برص ہوتا ہے۹۳؎۔ (۸۸)‘‘عن أُبیِ بنِ کعب عن النبِیِ ﷺ قال إِن لِلوضوِء شیطانا یقال لہ الولہان فاتقوا وسواس الماء’’ ترمذی، بَاب مَاجَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْإِسْرَافِ فِي الْوُضُوءِ بِالْمَاءِ، حدیث نمبر:۵۲، والحدیث یدل علی کراھیۃ الاسراف فی الماء للوضوء وقداجمع العلماء علی النھی عن الاسراف فی الماء ولوعلی شاطئی النہر، تحفۃ الأحوذی، صفحہ نمبر:۱/۶۷۔ ‘‘عن عبدِ اللہِ بنِ عمرو أن رسول اللہِ صل اللہ علیہِ وسلم مر بِسعد وہو یتوضأ فقال ماہذا السرف فقال أفِی الوضوئِ إِسراف قال نعم وإِن کنت علی نہر جار’’ سنن ابن ماجہ، باب ماجاء فی القصد فی الوضوء وکراھۃ التعدی فیہ، حدیث نمبر:۴۱۹ (۸۹)‘‘یکرہ لکل أحد أن ینتثر وینقی أنفہ ووسخہ ودرنہ ویخلع نعلہ ویتناول الشیٔ من ید غیرہ، ونحو ذلک بیمینہ، مع القدرۃ علی ذلک بیسارہ’’ الفقہ الاسلامی وأدلتہ، مکروہات الوضوء، صفحہ نمبر:۳۶۴ (۹۰)عن إبراهيم قال : لم يكونوا يلطمون وجوههم بالماء في الوضوء.صلى الله عليه وآله(كنز العمال مكروه الوضوء ۴۷۳/۹) ‘‘لطم الوجه أو غيره بالماء: والكراهة تنزيهية؛ لأنه يوجب انتضاح الماء المستعمل على ثيابه، وتركه أولى، وهو أيضاً خلاف التؤدة والوقار’’ الفقہ الاسلامی وأدلتہ، مکروہات الوضوء، صفحہ نمبر:۳۶۳ (۹۱)‘‘حدثنا أبوالجنوب، قال: رأیت علیا یستقی ماء لوضوئہ، فبادرتہ أستقی لہ، فقال: مہ یاأباالجنوب، فإنی رأیت عمر، یستقی ماء لوضوئہ، فبادرتہ أستقی لہ، فقال: مہ یاأباالحسن، فإنی رأیت رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم یستقی ماء لوضوئہ، فبادرتہ أستقی لہ فقال: مہ یاعمر، فإنی أکرہ أن یشرکنی فی طہوری أحد’’ (۹۲)‘‘عن عمرِو بنِ شعیب عن أَبِیہِ عن جدِہِ قال جاء أَعرابِی إِلی النبِیِ ﷺ فسأَلہ عن الوضوِء فأراہ ثلاثا ثلاثا ثم قال ہذا الوضوء فمن زاد علی ہذا فقد أساء أوتعدی أوظلم’’ ابن ماجہ، باب ماجاء فی القصد فی الوضوء وکراھیۃ التعدی فیہ، حدیث نمبر:۴۱۶ (۹۳)‘‘عن جابِر: أنَّ عمر رضی اللہ عنہ کان یکرہ الاِغتِسال بِالماِء المشمسِ، وقال: إِنہ یورِث البرص’’ السنن الکبریٰ للبیہقی، باب کراھیۃ التطھیربالماء المُشَمَّس، حدیث نمبر:۱۲۔ وضو کا مسنون طریقہ

وضو کرنے والا وضو کرنے سے پہلے دل میں ارادہ کرے کہ وضو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کرتا ہوں۹۴؎؛ پھروضو کرنے کے لیے قبلہ کی طرف منھ کرکے کسی اونچی جگہ بیٹھ جائے کہ چھنٹیں اُڑ کر جسم وکپڑے پر نہ پڑیں۹۵؎ اور وضو شروع کرتے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم کہے۹۶؎، سب سے پہلے تین دفعہ گٹوں تک دونوں ہاتھ دھوئے۹۷؎؛ پھرتین دفعہ کلی کرے۹۸؎ اور مسواک کرے، مسواک نہ ہو تو کسی موٹے کپڑے یاصرف انگلی سے اپنے دانت صاف کرے کہ سب میل کچیل جاتا رہے۹۹؎ اور اگر روزہ دار نہ ہو تو غرغرہ کرکے اچھی طرح سارے منھ میں پانی پہنچائے؛ اگر روزہ سے ہو تو غرغرہ نہ کرے؛ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کچھ پانی حلق میں چلاجائے۱۰۰؎؛ پھرتین بار الگ الگ پانی ناک میں ڈالے اور بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرے؛ لیکن جس کا روزہ نہ ہو تو وہ جتنی دور تک نرم گوشت ہے اس سے اوپر نہ لے جائے۱۰۱؎؛ پھرتین دفعہ منھ دھوئے، سرکے بالوں سے لیکر ٹھوڈی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لوتک سب جگہ پانی بہائے، دونوں ابرؤں کے نیچے بھی پانی پہونچائے؛ کہیں سوکھا نہ رہ جائے۱۰۲؎؛ پھرتین بار داہنا ہاتھ کہنی سمیت دھوئے؛ پھربایاں ہاتھ کہنی سمیت تین بار دھوئے اور ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر خلال کرے اور انگوٹھی، چھلہ، چوڑی جو کچھ پہنے ہو اسے حرکت دے؛ تاکہ کہیں سوکھا نہ رہ جائے۱۰۳؎؛ پھرایک بارپورے سرکا مسح کرے۱۰۴؎؛ پھرکان کا مسح کرے اور کان کے اندر کا مسح شہادت کی انگلی سے اور کان کے باہر کا مسح انگوٹھوں سے کرے۱۰۵؎؛ پھرانگلیوں کی پشت سے گردن کا مسح کرے؛ لیکن گلے کا مسح نہ کرے۱۰۶؎، کان کے مسح کے لیے نیا پانی لینے کی ضرورت نہیں، سرکے مسح کا جو بچا ہوا پانی ہاتھ پر لگا ہوا ہو تو وہی کافی ہے۱۰۷؎ اور تین بار داہنا پیر ٹخنے سمیت دھوئے پھر بایاں پاؤں ٹخنے سمیت تین بار دھوئے اور بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے پیر کی انگلیوں کا اس طرح خلال کرے کے داہنے پیر کی چھوٹی انگلی سے شروع کرے اور بائیں پیر کی چھوٹی انگلی پر ختم کرے۱۰۸؎۔

(۹۴)‘‘سمِعت عمر بن الخطابؓ علی المِنبرِ قال سمِعت رسول اللہﷺ یقول إِنما العمال بِالنِیاتِ’’ بخاری، باب بدء الوحی، حدیث نمبر:۱ (۹۵)‘‘الجلوس فی مکان مرتفع واستقبال القبلۃ’’ الفقہ الإسلامی وأدلتہ، آداب الوضوء، صفحہ نمبر:۳۵۸ (۹۶)‘‘عن أَنس قال طلب بعض أصحابِ النبِیِؐ وضوء ا… ویقول توضئوا بسم اللہ’’ نسائی، باب التسمیۃ عن الوضوء، حدیث نمبر:۷۷ (۹۷۔۹۸۔۱۰۰)‘‘عن ابنِ شِہاب أن عطاء بن یزِید أخبرہ أن حمران مولی عثمان أَخبرہ أَنہ رأی عثمان بن عفان دعا بإِِناء فأَفرغ علی کفیہِ ثلاث مرار فغسلہما ثم أدخل یمینہ فی الإناء فمضمض واستنشق ثم غسل وجہہ ثلاثا’’ بخاری، باب الوضوء ثلاثاً ثلاثاً، حدیث نمبر:۱۵۵۔ (۹۹)‘‘عن أنسِ بنِ مالِک قال قال رسول اللہﷺ قد أکثرت علیکم فِی السِواکِ’’ نسائی، باب الاکثار فی السواک، حدیث نمبر:۶۔ ‘‘عن أبی ہریرۃ عن النبیؐ قال: لولا أن أشق علی أمتی لأمرتہم بالسواک مع الوضوء ولأخرت العشاء إلی ثلث اللیل أوشطر اللیل’’ صحیح ابن حبان، حدیث نمبر:۱۵۳۱ ‘‘عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تُجْزِئُ الأَصَابِعُ مَجْزَى السِّوَاكِ’’ السنن الکبری للبیقہی، باب الاستیاک بالأصابع، حدیث نمبر:۱۸۱ (۱۰۱)‘‘عن عاصِمِ بنِ لقِیطِ بنِ صبرۃ عن أَبِیہِ قال قلت یارسول اللہ أَخبِرنِی عن الوضوِء قال أسبغ الوضوء وبالغ فی الاستنشاق إلا أن تکون صائما’’ نسائی، باب المبالغۃ فی الاستنشاق، حدیث نمبر:۸۶ (۱۰۲)‘‘یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَاقُمْتُمْ إِلَی الصَّلاۃِ فاغْسِلُواْ وُجُوْہَکُمْ’’ المائدہ:۶۔ ‘‘وحد الوجہ عندنا طولاً من مبدأ سطح الجبہۃ إلی أسفل اللحیین، وعرضا مابین شحمتی الأذن لأن المواجہۃ تقع بہذہ الجملۃ’’ روح المعانی:۴/۳۸۹۔ ‘‘عن حمران رأیت عثمانؓ توضأ فأفرغ علی یدیہِ ثلاثا ثم تمضمض واستنثر ثم غسل وجہہ ثلاثا’’ بخاری، باب سواک الرطب والیابس للصائم، حدیث نمبر:۱۷۹۸ (۱۰۳)‘‘عن أَبِی أُمامۃَ وذکر وضوء النبِیِ ﷺ قال کان رسول اللہ ﷺ یمسح المأقینِ’’ ابوداؤد، باب صفۃ وضوء النبیﷺ، حدیث نمبر:۱۱۵۔ ‘‘عن عاصِمِ بنِ لقِیط عن أَبِیہِ قال قال رسول اللہ ﷺ إِذاتوضأت فأَسبِغ الوضوء وخلل بین الأصابع’’ نسائی، باب الأمربتخیل الاصابع، حدیث نمبر:۱۱۳۔ ‘‘حدثنِی أبِی عن عبیدِ اللہ بنِ أبِی رافِع عن أَبِیہِ أَن رسول اللہ ﷺ کان إِذا توضأَ حرّک خاتمہ’’ ابن ماجہ، باب تخلیل الاصابع، حدیث نمبر:۴۴۳ (۱۰۴)‘‘عن عمرِو بنِ یحی المازِنِیِ عن أبِیہِ أن رجلا قال لِعبدِ اللہِ بنِ زید وہوجد عمرِو بنِ یحی تستطِیع أن ترِینِی کیف کان رسول اللہ ﷺ یتوضأ… ثم مسح رأسہ بیدیہ فأقبل بہما وأدبر بدأ بمقدم رأسہ حتی ذہب بہما إلی قفاہ ثم ردہما إلی المکان الذی بدأ منہ’’ بخاری، باب مسح الرأس کلہ، حدیث نمبر:۱۷۹ (۱۰۵)‘‘أَن رُبیِع بِنت معوِذ ابنِ عفراء أَخبرتہ قالت رأیت رسول اللہ ﷺ یتوضأُ قالت فمسح رأسہ ومسح ما أقبل منہ وما أدبر وصدغیہ وأذنیہ مرۃ واحد’’ ابوداؤد، باب صفۃ وضوء النبیﷺ، حدیث نمبر:۱۱۰۔ ‘‘عَنِ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ.... ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ دَاخِلَهُمَا بِالسَّبَّابَتَيْنِ ، وَخَالَفَ بِإِبْهِامَيْهِ عَلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ فَمَسَحَ بَاطِنَهُمَا وَظَاهِرَهُمَا’’ السنن الکبری للبیہقی، باب غسل الیدین، حدیث نمبر:۲۵۶ (۱۰۶)‘‘حدثنی أبی قال ثنالیث عن طلح عن أبیہ عن جدہ أنہ: رأی رسول اللہ ﷺ یمسح رأسہ حتی بلغ القذال ومایلیہ من مقدم العنق بمرۃ قال القذال السالفۃ العنق’’ مسنداحمد، باب حدیث جدطلحہ الأیامی رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر:۱۵۹۹۳۔ ‘‘مصرف عن أبيه عن جده: أن رسول اللهﷺ توضأ فمضمض ثلاثا واستنشق ثلاثا يأخذ لكل واحدة ماء جديدا وغسل وجهه ثلاثا فلما مسح رأسه قال هكذا وأومأ بيده من مقدم رأسه حتى بلغ بهما إلى أسفل عنقه من قبل قفاه’’ المعجم الکبیر، باب کعب بن عمروالیامی، حدیث نمبر:۴۰۹، صفحہ نمبر: ۱۹/۱۸۰۔ ‘‘عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ عُنُقَهُ وَيَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عُنُقَهُ لَمْ يُغَلَّ بِالْأَغْلَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وعَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ بِيَدَيْهِ عَلَى عُنُقِهِ وُقِيَ الْغُلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" وَقَالَ هَذَا إنْ شَاءَ اللَّهُ حَدِيثٌ صَحِيحٌ’’ التلخیص الحبیر المذیل بالحواشی، حدیث نمبر:۹۸، صفحہ نمبر:۱/۲۸۸ (۱۰۷)‘‘عن الربیِعِ أَن النبِیﷺ مسح بِرأسِہِ مِن فضلِ ماء کان فِی یدِہِ’’ ابوداؤد، باب صفۃ وضوء النبیؐ، حدیث نمبر:۱۱۱ (۱۰۸)‘‘عن المستورِدِ بنِ شدادٍ الفِہرِیِ قال رأیت النبِیؐ إِذاتوضأَ ذلک أصابع رجلیہ بخنصرہ’’ ترمذی، باب ماجاء فی تخلیل الاصابع، حدیث نمبر:۳۸۔ وضو محافظ صحت ہے وضو کی ضرورت اور حفظانِ صحت کے تعلق سے اس کی اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ: وضو طہارت (Wazoo-a-taharat) ایک ایسا اسلامی امتیازی عمل ہے جو کسی بھی مذہب میں نہیں پایا جاتا ایسا عمل جس سے بدن کے وہ حصے صاف ہوں جن کے ذریعے امراض جسم میں داخل ہوتے ہیں اور یہی اندام ذریعہ ہیں امراض کے پھیلنے اور پھولنے کا یہی طریقہ ہے امراض کو کنٹرول کرنے کا کہ ان راستوں کی حفاظت کی جائے، وضو محافظ ہے ان راستوں کا جن کے ذریعے صحت کا دشمن جسم میں داخل ہوتا ہے شاید ایسا محافظ (Gaurd) کسی کو ملے۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۲۴، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) وضو سے مختلف بیماریوں کا انسداد آج سائنس کی دنیا کہتی ہے کہ آنکھوں میں موتیا بند ہوجاتا ہے اس کا بنیادی علاج یہ ہے کہ انسان صبح صبح آنکھوں کے اندر پانی کے چھینٹے مارے، جو آدمی تہجد کے لیے اٹھے گا اور وضو کرے گا پھر فجر کے لیے وضو کرے گا تو اس کی آنکھوں کا مرض رفع ہوجاتا ہے’’ الغرض چہرے کا دھونا جہاں دیگر اعضاء کو فوائد دیتا ہے وہاں پلکوں کے گرنے کے مرض کو بھی ختم کرتا ہے، آنکھ کے پپوٹے کے ورم کو بھی ختم کرتا ہے۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۳۱، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) وضو اور ہائی بلڈپریشر (WAZOO AND HIGH BLOOD PRESSURE) شرعی حکم ہے کہ جب غصہ ہو تو وضو کرلو، طبی طریقہ یہ ہے کہ جب بلڈ پریشر زیادہ ہو تو وضو کرلو، اب ان دونوں احکامات اور علامات کو ملائیں تو تحقیق کی نئی راہ کھلتی ہے، غصے مںر بلڈ پریشر ہائی ہوتا ہے اور دل کے مریض کا جب بلڈپریشر ہائی ہوتا ہے تو ان دونوں امراض کا علاج وضو ہے۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۳۵، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) وضو کے ذریعہ نفسیاتی علاج ماہِرنفسیات ڈاکٹر سلامت عزیز کا کہنا ہے کہ وضو نفسیاتی امراض کے خاتمے کا ایک اچھا نسخہ ہے مغربی ماہرین نفسیاتی مریضوں کو روزانہ کئی بار وضو کی طرح بدن پر پانی لگواتے ہیں اور اسلام نے پہلے ہی فرمادیا کہ وضو کرو۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۳۵، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا)

مغربی جرمنی کا سیمینار اور وضو مغربی جرمنی میں ایک سیمینار ہوا جس کا موضوع تھا کہ مایوسی ڈپریشن (Depression) کا علاج دواؤں کے علاوہ اور کن کن طریقوں سے کیا جاسکتا ہے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ اس نے ڈپریشن کے چند مریضوں کے روزانہ پانچ بار منہ دھلائے تو کچھ ماہ کے بعد ان کی بیماری کم ہوگئی، اس ڈاکٹر نے مایوسی کے مریضوں کا دوسرا گروپ لیا جس کے ہاتھ منہ اور پاؤں روزانہ پانچ مرتبہ دھلوائے تو اس گروپ میں مایوسی کے مریضوں کو بہت افاقہ ہوا، اپنے مقالے کے آخر میں اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ مرض مسلمانوں میں کم اس لیے ہے کہ وہ دن میں کئی مرتبہ منہ ہاتھ اور پاؤں دھوتے ہیں، یعنی وضو کرتے ہیں۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۳۷، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) چہرہ دھونے سے چہرے کی گرمی کا ازالہ ایک مریض کا چہرہ ہروقت گرم رہتا تھا ٹھنڈی دوائیں ہرقسم کی انٹی الرجی (Ant Allergy) ادویات استعمال کیں لیکن افاقہ ندارد، اس کو نماز پڑھنے اور ہرنماز کے لیے نیاوضو کرنے کی تاکید کی گئی اور درودشریف پڑھ کر ہاتھوں پر پھونک کر منہ پر پھیرنے کو کہا گیا مریض حیرت انگیز طریقے سے جلد تندرست ہوگیا۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۲۹، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) وضو کے ذریعہ کیمیکلز سے بچاؤ موجودہ ایٹمی دور میں جب کہ ہرطرف ایٹمی دھماکے ہورہے ہیں ماہرین بار بار انتباہ کررہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں اور آلودگی کو کم کیا جائے چہرے اور کھلے اعضاء کو دھویا جائے ورنہ یہ کیمیکلز جو دھوئیں، گردوغبار اور دھول کی شکل میں چہرے پر جمتے رہتے ہیں ان کا واحد علاج صرف اور صرف وضو ہے، دھوئیں میں کئی خطرناک کیمیکلز مثلاً سیسہ (Lead) وغیرہ ہوتے ہیں جو اگر مستقل یاکچھ عرصہ تک جلد پر جمے رہیں تو جلدی امراض اور الرجی کے امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۲۹، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) چہرہ دھونے کے ذریعہ مہاسے اور دانے سے حفاظت چہرہ دھونے سے چہرے پر دانے نہیں نکلتے یاپھر ان کے نکلنے کی شرح کم ہوجاتی ہے، ماہرین حسن وصحت اس بات پر متفق ہیں کہ تمام کریمیں، ابٹن اور لوشن چہرے پر داغ چھوڑتے ہیں، حسن اور خوبصورتی کے لیے چہرے کا کئی باردھویا جانا ازحد ضروری ہے، امریکن کونس (Amrican Council for Beauty) کی سرکردہ ممبرلیڈی بیچرنے عجیب وغریب انکشاف کیا ہے اس کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو کسی قسم کے کیمیاوی لوشن کی ضرورت نہیں ان کے اسلامی وضو سے چہرے کا غسل ہوجاتا ہے اور چہرہ کئی امراض سے بچ جاتا ہے۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۲۹، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) چہرے کی الرجی سے حفاظت (ALLERGY OF FACE) چہرے کی الرجی کے مریض اگرچہرے کو وضو کے وقت اچھی طرح دھوئیں تو الرجی کے نقصانات کم ہوجاتے ہیں، محکمہ ماحولیات کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ الرجی سے بچنے کے لیے چہرے کو بار بار دھویا جائے اور ایسا صرف وضو کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۳۰، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) چہرے کا مساج جب ہم وضو کے لیے چہرہ دھوتے ہیں تو تین دفعہ چہرے دھونے کا حکم ہے تو اس کیفیت میں جب نمازی چہرہ دھوتا ہے تو اس کا ہاتھوں سے چہرے کا مساج ہوجاتا ہے اور دوران خون چہرے کی طرف رواں ہوجاتا ہے مزید یہ کہ جمی ہوئی میل اور گرد اتر جاتی ہے جس سے چہرے کا حسن بڑھ جاتا ہے، چہرے کو تین بار دھونے کی حکمت یہ ہے کہ پہلے چہرے پر پانی ڈالکر میل نرم کریں، دوسرے پانی سے اس کی میل اترے گی اور تیسرے پانی سے چہرہ دھل کر صاف وشفاف ہوجائیگا۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۳۰، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) بھنوؤں میں پانی کارکنا وضو کرنے کے بعد بھنوئیں پانی سے ترہوجاتی ہیں میڈیکل کے اصول کے مطابق اگر بھنوؤں میں نمی رہے تو آنکھوں کے ایک ایسے خطرناک مرض سے انسان بچ جاتا ہے جس میں آنکھ کے اندر رطوبت زجاجیہ کم یاختم ہوجاتی ہے اور مریض آہستہ آہستہ بصارت سے محروم ہوجاتا ہے، بندہ کے پاس علاج کے لیے ایک مریض لایا گیا، جو نابینا تھا اس کے اندھے پن کو کچھ ماہ گذرے تھے مریض کا کہنا تھا کہ میری نگاہ آہستہ آہستہ کم ہوئی، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آنکھوں میں رطوبت اور نمی کم ہوگئی ہے اعصاب کھنچ گئے ہیں۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۳۰، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) آنکھوں کے امراض سے بچاؤ (PROTECTION FROM EYE DISEASES) آپ کے گھر میں اگر کسی کی آنکھ میں تکلیف ہو تو کہتے ہیں کہ آنکھ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارو پانی ایک ایسا تریاق ہے جس سے آنکھوں کی ہرمرض ختم ہوجاتی ہے گردوغبار جہاں چہرے اور ناک کو متاثر کرتے ہیں اس طرح آنکھ کو بھی بہت ہی زیادہ متاثر کرتے ہیں آشوب چشم کی وجہ یہی گردوغبار ہی ہوتی ہے اور اگر آنکھوں کو دھوتے رہیں تو آنکھیں بے شمار امراض سے بچ جاتی ہیں۔ ایک یورپین ڈاکٹر نے ایک مضمون میں لکھا جس کا عنوان تھا: آنکھیں، پانی، صحت (Eye' Water' Health)۔ اس میں اس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اپنی آنکھوں کو روزانہ کئی بار پانی سے دھوتے رہو، ورنہ تمھیں خطرناک امراض سے دوچار ہونا پڑیگا۔ (بحوالہ ہمدردصحت۔ سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۳۱، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) ایک نکتہ وضو میں پہلے ہاتھ دھونا پھرکلی کرنا پھرناک میں پانی ڈالنا پھرچہرہ دھونا اور دیگر اعضا دھونا ہے یہ ایک ایسا امتزاج اور ترتیب ہے کہ اس سے فالج اور لقوہ سے بچاجاسکتا ہے؛ کیونکہ اگر پہلے چہرہ دھونا اور مسح کرنا ہوتا تو جسم بے شمار امراض میں مبتلا ہوسکتا تھا لکنن پانی میں پہلے ہاتھوں کو ڈالا گیا جس سے جسم کا اعصابی نظام مطلع ہوگیا اور پھر آہستہ آہستہ چہرے اور دماغی رگوں کی طرف بڑھتا گیا۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۳۵،۳۶، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا)


ہاتھوں کا دھونا (HAND WASHING) دورانِ وضو سب سے پہلے ہاتھ دھوئے جاتے ہیں کیونکہ ہاتھوں کے بعد کلی کرنی ہے اور اگر ہاتھ ناصاف اور جراثیم (Germs) آلودہ ہوں گے تو یہی جراثیم منہ کے راستے جسم میں متعدد امراض کا باعث بن جائیں گے، موجودہ مشینی دور میں انسان بہت مصروف ہوگیا ہے ایسے مصروف انسان کے لیے ہرکام کرنا ضروری ہے اب بعض اوقات یہی ہاتھ کیمیکلز کو لگتے ہیں اگر یہی کیمیکلز کچھ وقت ہاتھوں کو لگے رہیں تو بہت نقصان پہنچتا ہے؛ بالکل یہی کیفیت ایسے کاروباری حضرات کی ہے جن کے ہاتھ ہروقت کسی نہ کسی چیز میں اٹکے اور بھرے رہتے ہیں اور یہی حالت اگر صبح سے شام تک رہے تو ہاتھ بہت جلد جلدی امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں؛ اگر ہاتھوں کو نماز کے بہانے وضو کے دوران دھویا نہ جائے تو مندرجہ ذیل امراض کے پھیلنے کے قوی خطرات ہوتے ہیں۔ جلد کا رنگ اور اس کی بیماریاں (Skin and diseases of skin) گرمی دانے (Prickly heat) ایگزیما (Eczema) جلدی سوزش (Infections of skin) پھپھوندی کی بیماریاں (Diseases of fungus) الغرض جب ہم وضو کے لیے ہاتھوں کو دھوتے ہیں تو انگلیوں کے پوروں میں سے نکلنے والی شعاعیں (Rays) ایک ایسا حلقہ بنالیتی ہیں جس کے نتیجے میں ہمارے اندر گردش کرنے والا برقی نظام تیز ہوجاتا ہے اور برقی رو (Electric Rays) ایک حد تک ہاتھوں میں سمٹ آتی ہے اس عمل سے ہاتھ خوبصورت ہوجاتے ہیں صحیح طریقہ پر وضو کرنے سے انگلیوں میںایسی لچک پیدا ہوجاتی ہے جس سے آدمی کے اندر تخلیقی صلاحیتوں کو کینوس پر منتقل کرنے کی خفیہ صلاحیتیں بیدار ہوجاتی ہیں۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۲۴،۲۵، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) کلی کرنا (MOUTH WASH) کلی دراصل اس چیز کا نام ہے کہ ہم جو پانی استعمال کررہے ہیں وہ صحت کے لیے نقصان دہ تو نہیں کیونکہ ہاتھ پانی کو چھوتے ہیں اور کلی سے رنگ، بو اور ذائقے کی پہچان ہوجاتی ہے، ہم کھانا کھاتے ہیں تو غذائی ذرات دانتوں میں اٹک کر رہ جاتے ہیں اور پھر وہ غذائی ذرات متعفن (Septic) ہوکر ایک خاص شکل اختیار کرلیتے ہیں اور لعاب دھن کے ذریعے معدے میں پہنچتے رہتے ہیں اور یہی متعفن مادہ (Septic Materiac) دانتوں اور مسوڑوں کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے کلی اور مسواک سے یہ امراض لاحق نہیں ہوتے، ہم ہوا میں بے شمار مہلک امراض کے جراثیموں کو نہیں دیکھ سکتے لیکن وہ جراثیم ہمارے منہ میں ہوا کے راستے جاتے رہتے ہیں اور لعاب کی وجہ سے چپک جاتے ہیں اگر ان کو صاف نہ کیا تو وہ کئی امراض کا باعث بنتے ہیں۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۲۶، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) منہ کی بیماریاں (STOMATITIS THRUSH) ایڈز (Aids) ابتدائی علامات میں منہ پکنا بھی شامل ہے۔ منہ کے کناروں کا پھٹنا (Cheilosis Angular Stomatitis) ہونٹوں اور منہ کی دادقوبا (Candidiasis Moniliasis) منہ میں پھپھوندی کی بیماریاں (چھالے وغیرہ) (Diseases of fungus) الغرض کلی ایک ایسا عمل ہے جس سے انسان ایسے امراض سے بچ جاتا ہے جس مرض میں انسان نہ دین کا رہتا ہے اور نہ دنیا کا؛ مزید یہ کہ کلی کے ساتھ غرارہ ہے جس سے نمازی ٹاشلز اور گلے کے بے شمار امراض سے بچ جاتا ہے حتی کہ گلے میں بار بار پانی پہنچانا آدمی کو گلے کے کینسر سے بچاتا ہے۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۲۷، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) مسواک اور جدید سائنس (MISWAK AND MODERN SCIENCE) اطباء اور اسباب مرض کے ماہرین کے تمام ترتجربے کے مطابق اسی فیصد امراض معدہ اور دانتوں کی خرابی اور امراض کی وجہ سے ہوتے ہیں؛ بلکہ بسااوقات معدے کی خرابی بھی دانتوں میں مرض ہونے کی وجہ سے ہوجاتی ہے وہ اس طرح کہ جب مسوڑھوں کی پیپ غذا کے ساتھ یابغیرغذا کے لعابِ دہن کے ساتھ ملکر معدے میں جاتی ہے تو یہی پیپ سبب مرض بنجاتی ہے اور تمام پاکیزہ غذا کو ذیظ اور متعفن بنادیتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ جملہ امراض سے بچنے اور صحت وتندرستی کے لیے دانتوں کی تندرستی اور حفاظت اشد ضروری ہے؛ کیونکہ کامیاب زندگی صحت مند زندگی ہے اور وہ زندگی کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جس میں حفظانِ صحت کے اصولوں سے بغاوت ہو۔ اب اس اصول کے تحت بہت سارے اطباء کے مشاہدات اور کئی امراض سے شفا مسواک استعمال کرنے کے بعد ہوئی ہے، اسے ہم ترتیب سے بتاتے ہیں؛ تاکہ اس کے ذریعہ مسواک کی اہمیت سمجھ میں آسکے، ایک صاحبِ عقل نے بڑی حکامینہ اور پرلطف بات کہی ہے کہ جب سے ہم نے مسواک چھوڑا ہے اس دن سے ڈینٹل سرجن (Dental Surgeon) کی ابتداء ہوئی ہے۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۱۱، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) رات اور مسواک (MISWAK AND NIGHT) حضور اقدس ﷺ رات کو اُٹھ کر مسواک کرتے تھے۔ (مجمع الزوائد، باب ماجاء فی السواک:۲/۹۹ عن ابی ھریرہؓ) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے معمولات میں تھا کہ آپ رات کو سوتے وقت مسواک کرتے تھے۔ (مجمع الزوائد، باب ماجاء فی السواک:۲/۹۹ عن ابی ھریرہؓ) حضرت پیرذوالفقارصاحب نقشبندی مدظلہٗ اپنا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں: ‘‘واشنگٹن (امریکہ) کا ڈاکٹر مجھے کہنے لگا کہ سوتے ہوئے بھی مسواک کرکے سویاکریں، میں نے کہا وہ کیوں؟ وہ کہنے لگا کہ آج کی ریسرچ یہ ہے کہ انسان جو کھانا کھاتا ہے چیزیں کھاتا ہے تو منہ کے اندر پلازما عام کلی کرنے سے صاف نہیں ہوتا، کہنے لگا کہ (Maximum) جو دانت خراب ہوتے ہیں وہ سونے کے وقت ہوتے ہیں میں نے کہا وہ کیوں؟ کہنے لگا اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان سوجاتا ہے تو اس کا منہ بالکل بند ہوجاتا ہے اور بند منہ کے اندر اس کا (Work) یعنی کام آسان ہوجاتا ہے یوں نہ تو منہ متحرک ہوتا ہے اور پلازما (Plazma) اپنا پورا کام کررہا ہے’’۔ اصل بات یہ ہے کہ دن کے وقت انسان بات کرنے اور کھانے پینے سے پلازمے کو کام کرنے کا موقع ملجاتا ہے، اور رات میں یہ بات نہیں ہوتی اس لیے رات میں سوتے وقت اور کھانے کے بعد اور پانچ وقت کی نماز میں وضو کرنےتے وقت مسواک کی عادت ڈالیں تو سنت کے ساتھ صحت کی حفاظت ہوگی اور ساتھ ہی یہ لازم کرلیں کہ روزانہ مسواک کے ریشے نئے ہوں یعنی روزانہ اس کے ریشوں کو کاٹتے رہیں اور نئے ریشے استعمال کریں؛ ورنہ مطلوبہ فائدہ حاصل نہ ہوگا۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۱۱، ۱۲، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) مسواک سے دانت اور مسوڑھے کا علاج دلبرمنصور صاحب ایک تاجر اور بہت مخلص آدمی ہیں بندہ سے فرمانے لگے کہ میں سوئزرلینڈ میں تھا ایک نومسلم سے ملاقات ہوئی میں نے اس نومسلم کو مسواک (پیلوکی) تحفہ دیا اس نے مسواک لے کر اس کو آنکھوں سے لگایا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور پھر اس نے جیب سے ایک رومال نکالاتو اس میں ایک بالکل چھوٹا تقریباً دوانچ سے کم ایک مسواک لپٹا ہوا تھا کہنے لگا کہ میں جب مسلمان ہوا تھا تو مسلمانوں نے مجھے یہ ہدیہ دیا تھا میں اس کو بڑی احتیاط سے استعمال کرتا رہا اب یہی ٹکڑاباقی بچاہے تو آپ نے میرے ساتھ احسان کیا ہے؛ پھراس نے اپنا واقعہ سنایا کہ مجھے تکلیف تھی اور میرے دانت اور مسوڑھے ایسی مرض میں مبتلا تھے جس کا علاج وہاں کے اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کے پاس کم تھا میں نے یہ مسواک استعمال کرنا شروع کردی کچھ عرصہ کے بعد اپنے ڈاکٹر کو دکھانے گیا تو ڈاکٹر حیران رہ گیا اور پوچھا کہ آپ نے کونسی ایسی دوااستعمال کی ہے جس کی وجہ سے اتنی جلدی صحت یابی ہوگی ہے تو میں نے کہا صرف آپ کی دوائی استعمال کی ہیں کہنے لگا ہرگز نہیں میری دوائی سے اتنی جلدی صحت یابی نہیں ہوسکتی آپ سوچیں تو جب میں نے ذہن پر زور دیا تو فوراً خیال آیا کہ میں مسلمان ہوں اور میں مسواک استعمال کررہا ہوں اور جب میں نے مسواک دکھایا تو ڈاکٹر بہت حیران ہوا اور نئی تحقیق میں پڑگیا۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۱۳، ۱۴، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) مسواک کے کچھ خاص فائدے (۱)پیلو کے مسواک سے منھ کی بدبو دور ہوتی ہے۔ (۲)دل کی جھلیوں میں پیپ بھرنے کا سبب کبھی مسوڑھوں کا خراب ہونا ہوتا ہے اگر ایسے وقت مسواک کی جائے تو یہ مرض ختم ہوجائیگا۔ (۳)منہ کے ذائقہ کی لذت چلی جائے تو پھر لوٹ کر آ:یگی ایسے مریضوں کا کہنا ہے کہ تین روپیے کی مسواک ہزاروں کی ادویات پر بھاری ہے۔ (۴)ٹانسلز (Tonsils) کے مریض اور گلے کے غدود بڑھنے سے پریشان لوگوں کے لیے پیلو کی مسواک مجرب ہے، فوری افاقہ ہوگا۔ (۵)تھائی رائیڈ گلینڈ متاثر (Infected) ہوں تو اس سے پورا متاثر ہوتا ہے اس کے علاج کے لیے بھی مسواک کو ابال لیں پھر اس کے غرارے کریں؛ نیز مسواک مستقل استعمال کرتے رہیں۔ (۶)منھ میں چھالے آنے کے وقت ایک خاص قسم کے جراثیم پھیل جاتے ہیں اس کے لیے تازہ مسواک منھ میں ملیں، انشاء اللہ جلد شفا ہوگا۔ (۷)مسواک دافع تعفن (Antiseptic) ہے اس لیے مسواک کے استعمال سے منھ کی مکمل بیماریاں ختم ہوجاتی ہیں۔ (۸)تحقیقات کے مطابق جس زمین میں کیلشیم اور فاسفورس (Phosphorus) کی زیادتی ہوتی ہے، جیسے قبرستان کی زمین، وہاں کے پیلو کے درخت کی مسواک تازہ اور نرم حالت میں استعمال کریں تو دانتوں کے تمام امراض سے حفاظت ہوتی ہے؛ بشرطیکہ روزانہ ریشوں کو کاٹتے رہیں۔ (۹)کنیر، کیکر، نیم ان کی مسواک بہت مفید ہوتی ہے، پائیوریا جیسے مہلک مریضوں کو خاص کر کنیر کی مسواک بہت مفید ہے۔ (۱۰)اطباء کے مشاہدات کے مطابق جن کے کانوں میں ورم، پیپ، سرخی اور درد ہو تو مسواک کے ذریعہ مسوڑھوں میں پیپ کو دور کرنے سے شفاء حاصل ہوئی ہے۔ (۱۱)آنکھوں کے امراض وغیرہ بھی بعض دفعہ دانتوں کی خرابی کی وجہ سے ہوتی ہیں جب مسواک کے ذریعہ دانتوں کو درست کرایا گیا تو امراضِ چشم سے نجات ملی۔ (۱۲)تحقیق کے مطابق برش کا استعمال اس وقت مضر ہوتا ہے کہ جب اس کے اندر جراثیم کی تہہ جم جاتی ہے اور برش دانتوں کے اوپر چمکیلی اور سفید تہہ جمادیتا ہے، جس کی وجہ سے دانتوں کے درمیان خلاپیدا ہوجاتی ہے پھر اس میں غذا کے ذرّات پھنس کر نقصان کا باعث بنتے ہیں برخلاف کنیر، کیکر اور نیم وغیرہ کے مسواک میں یہ بات نہیں ہوتی۔ (۱۳)کیلشیم اور فاسفورس سے بھراہوا مسواک دماغ کی خوراک اور معاون ہے۔ (۱۴)پتھالوجسٹ (Pathologist) کی تحقیق کے مطابق مسواک دائمی نزلہ کے لیے تریاق ہے؛ حتی کہ اس کے مستقل استعمال سے ناک کے آپریشن اور گلے کے آپریشن کے چانس (Chance) بہت کم ہوجاتے ہیں۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۱۵۔۲۲، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) ناک میں پانی ڈالنا (NOSE WASH) ناک سانس لینے کا واحد راستہ ہے اور جس ہوا میں سانس لیتے ہیں اس کے اندر بے شمار امراض پھلتے پھولتے رہتے ہیں اور ناک کے راستے انسانی جسم میں بآسانی گزرجاتے ہیں اب اگر یہی جراثیم دھول، گردوغبار، جوہروقت ہماری ناک میں سانس کے ذریعے پہنچتی رہتی ہے صبح سے شام تک پہنچتی ہی رہے تو جلد خطرناک امراض پھیلنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں حتی کہ دائمی نزلہ ہوجاتا ہے؛ اسی طرح پھیپھڑوں میں جو ہوا ناک سے پہنچتی ہے یاآنکھ تک ناک سے جوراستہ ہے ان سب کے لیے ناک کا غسل بہت مفید اور مجرب ہے اور ناک میں جن مضرجراثیم کے پلنے اور پھولنے کا خطرہ ہوتا ہے وہ وضو کی برکت سے ختم ہوجاتا ہے، اس لیے پانچ وقت کی نماز کے وضو میں یاجب بھی وضو کریں ناک کی صفائی پر خاص توجہ دیں۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۲۸، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) کھنیوں تک دھونا جسم کا یہ حصہ ہمیشہ ڈھکا رہتا ہے اگر اس حصے کو پانی اور ہوا نہ لگے تو بے شمار دماغی اور اعصابی امراض پیدا ہوتے ہیں، کہنی پر تین قسم کی بڑی رگیں (Veins) ہوتی ہیں جن کا تعلق بالواسطہ دل، دماغ اور جگر سے ہے جب ہم کہنی تک دھوئیں گے تو مذکورہ بالا تینوں اعضاء کو تقویت پہنچے گی اور وہ امراض وعلل سے محفوظ رہیں گے؛ مزید یہ کہ کھنیوں تک ہاتھ دھونے میں یہ مصلحت پوشیدہ ہے کہ اس عمل سے آدمی کا تعلق براہِ راست سینے کے اندر ذخیرہ شدہ روشنیوں سے قائم ہوجاتا ہے اور روشنیوں کا ہجوم ایک بہاؤ کی شکل اختیار کرلیتا ہے اس عمل سے ہاتھوں کے عضلات اور طاقتور ہوجاتے ہیں۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۳۲، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) داڑھی کا خلال داڑھی میں خلال کے ذریعہ عام جراثیم (Comman Germs) اور اچھوتی امراض کے جراثیم (Contagious Germs) ختم ہوجاتے ہیں اسی طرح تھائی رائیڈ گلینڈ (Thyroid Gland) اور گلے کے امراض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ (ریسرچ ڈاکٹر پروفسیرجارج اہل، بحوالہ: سائنسی دنیا۔ سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۳۲، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) گردن کے مسح سے پاگل پن کا علاج قبلہ حضرت پیرذوالفقارنقشبندی مدظلہ العالی نے اپنا ایک واقعہ بیان کیا ہے: ‘‘ہمارے ایک دوست فرانس گئے وہ فرماتے ہیں کہ میں وہاں وضو کررہا تھا کہ ایک آدمی غور سے کھڑا دیکھ رہا تھا میں نے محسوس تو کرلیا لیکن میں وضو کرتا رہا جب میں نے وضو مکمل کرلیا تو اس نے مجھے بلاکرپوچھا: آپ کون ہیں؟ میں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں! کہا: کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا پاکستان سے، کہنے لگا کہ پاکستان میں کتنے پاگل خانے ہیں؟ بڑا عجیب سا سوال تھا، میں نے کہا: کہ دویاچار ہیں؛ بہرحال مجھے تو پتہ ہی نہیں وہ کہنے لگا تم نہیں جانتے، کہنے لگا کہ یہ ابھی تم نے کیا کیا ہے؟ میں نے کہا وضو کیا، کہنے لگا کہ روزانہ کرتے ہو، میں نے کہا روزانہ بلکہ دن میں پانچ بار کرتا ہوں، وہ حیران ہوا اور کہنے لگا: یہاں مینٹل (Mental) دماغی امراض کے لیے ہسپتال ہے میں اس میں سرجن ہوں سوچتا رہتا ہوں تحیق کرتا رہتا ہوں کہ لوگ پاگل کیوں ہوتے ہیں؟ پھر کہنے لگا میری تحقیق یہ ہے کہ انسان کے دماغ سے سگنل پورے جسم میں جاتے ہیں اور ہمارے جسم کے اعضا کام کرتے ہیں اور ہمارا دماغ ہروقت (Fluid) کے اندر (Float) کررہا ہے اس لیے ہم بھاگتے ہیں کودتے ہیں دوڑتے ہیں پھرتے ہیں اور دماغ کو کچھ نہیں ہوتا اگر وہ کوئی (Rigid) چیز ہوتی تو اب تک ٹوٹ چکی ہوتی اللہ تعالیٰ نے اس کو (Fluid) کے اندر رکھا ہے، اس دماغ سے چند باریک باریک رگیں (Conductor) بن کر آرہی ہیں اور رگیں ہماری گردن کی پشت سے پورے جسم کو جاتی ہیں’’۔ ‘‘میں نے جو ریسرچ کی ہے اگر بال بہت بڑھادیئے جائیں اور گردن کی پشت کو خشک رکھا جائے توان رگوں کے اندر کئی دفعہ (Condensation) خشکی پیدا ہوجاتی ہے اور انسان کے جسم پر پھر اس کا اثر ہوتا ہے، کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اس لیے ڈاکٹر نے سوچا اس جگہ (یعنی مسح والی جگہ کو) دن میں دوچار بار ضرور تررکھا جائے کہنے لگا ابھی میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے ہاتھ منہ تو دھویا ہی ہے لیکن یہاں گردن کی پچھلی طرف بھی آپ نے کچھ کیا ہے اس لیے آپ لوگ پھرکیسے پاگل ہوسکتے ہیں؛ مزید یہ کہ مسح سے لولگنا (Sun Stroke) اورگردن توڑ بخار کا خاتمہ ہوتا ہے’’۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۳۳، ۳۴، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) حبل الورید کا راز ماہرین روحانیت نے انسانی جسم کو چھ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ایک حصہ حبل الورید ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ‘‘میں تمہاری شہ رگ سے زیادہ قریب ہوں’’۔ (ق: ۱۶) یہ شہ رگ یارگ جان (حَبْلِ الْوَرِیْدِ) سراور گردن کے درمیان میں واقع ہے گردن کا مسح کرنے سے انسانی جسم کو ایک خاص قسم کی توانائی حاصل ہوتی ہے جس کا تعلق ریڑھ کی ہڈی کو اپنی گزرگاہ بناتے ہوئے جسم کے پورے اعصابی نظام میں پھیل جاتی ہے جس کے ذریعے اعصابی نظام کو توانائی ملتی ہے۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۳۴، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) پاؤں کا دھونا ایک سرجن کا شوگر (Diabetes) کے مریضوں کو کہنا ہے کہ ‘‘آپ جس طرح اپنے چہرے کی حفاظت کرتے ہیں اس طرح پاؤں کی حفاظت کریں’’ کیونکہ شوگر کے مریض کو پاؤں کی انفیکشن (Infection) زیادہ ہوتی ہے اب اگر مریض بند جوتا استعمال کرتا ہے اور صرف صبح وشام جوتا کھولتا ہے تو اگر یورپ کے ترقی یافتہ لوگ کئی کئی دِنوں تک جوتا نہیں کھولتے بلکہ رات کو جوتوں سمیت سوجاتے ہیں ایسے لوگ بہت جلد پاؤں کے امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں، سب سے زیادہ دھول مٹی اور جراثیم سے ہمارے پاؤں آلودہ ہوتے ہیں اورسب سے پہلے جو انفیکشن شروع ہوتا ہے وہ پاؤں کی انگلیوں کے درمیان شروع ہوتا ہے، اب اسلام نے دن میں پانچ دفعہ پاؤں دھونے اورانگلیوں کے خلال کا حکم دیا ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی جرثومہ اٹکا نہ رہ جائے، پاؤں کو دھونے کی وجہ سے بے شمار امراض کا خاتمہ بھی ہوتا ہے، مثلاً ڈپریشن (Depression) بے چینی، بے سکونی، دماغی خشکی اور نیند کی کمی جیسے مہلک امراض ختم ہوتے ہیں۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۳۴، ۳۵، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) وضو کا بچا ہوا پانی کتب احادیث میں لکھا ہے کہ وضو کا بچا ہوا پانی پینا شفا ہے۔ (نسائی، باب صفۃ للوضوء، حدیث نمبر:۹۴ ‘‘أَخبرنِی أَبِی علِیٌ أَن الحسین بن علِی قال دعانِی أَبِی علِی بِوضوءٍ’’) اس ضمن میں (Q.M.C) کے ڈاکٹرفاروق احمد نے اپنی ریسرچ بیان کی جو وضو کا بچا ہوا پانی پیئے گا تو اس کا اثر مندرجہ ذیل اعضاء پر پڑتا ہے: (۱)اس کا پہلا اثر مثانے پر پڑتا ہے اور خوب کھل کر پیشاب آتا ہے اور پیشاب کی رکاوٹ کم ہوجاتی ہے۔ (۲)ناجائز شہوت کو ختم کرنے کے لیے میرا آزمودہ ہے۔ (۳)قطرات بعدازپیشاب کی مرض کے لیے شفا کا ذریعہ ہے۔ (۴)جگر، معدے اور مثانے کی گرمی اور خشکی کو دور کرتا ہے۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۳۶، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) تیمم حدث (ناپاکی) سے پاک ہونے کے لیے شریعت نے وضو اور تیمم دونوں چیزیں رکھی ہیں؛ لیکن وضو اصل ہے اور تیمم اس کا قائم مقام ہے۔ تیمم کرنا کب جائز ہے (۱)اگر کہیں جنگل وبیابان میں ہو اور پانی ایک میل دور ہو۱۰۹؎ (۲)پانی کے استعمال سے مرض بڑھ جانے کا خطرہ ہو اسی طرح پانی موجود ہو؛ لیکن خود معذوری کی وجہ سے اٹھ کر نہ لے سکتا ہو اور نہ کوئی دینے والا موجود ہو۱۱۰؎ (۳)دشمن کی وجہ سے پانی نہ لے سکتا ہو، مثلاً پانی کے پاس موذی جانور ہو یاڈول رسی نہ ہو۱۱۱؎ (۴)پانی اس کے پاس اتنی کم مقدار میں ہو کہ اگر وضو کے لیے استعمال کرلیگا تو پیاسا رہ جانے اندیشہ ہو۱۱۲؎ (۵)چونکہ عیدین اور نمازِ جنازہ کا بدل نہیں ہے اگر وضو کرنے تک ان کے فوت ہوجانے کا خطرہ ہو تو تیمم کرلے۱۱۳؎ (۶)اگرپانی ملنے کی توقع ہو تو اس کو آخر تک انتظار کرکے تیمم کرنا چاہئے؛ اگر تیمم کرکے نماز پڑھ لیا پھر وقت کے اندر ہی پانی مل گیا تو نماز کا اعادہ نہیں ہے۱۱۴؎ (۷)جس کو غسل اور وضو کے لیے پانی اور پاک مٹی دونوں نہ ملے تو اس کی نماز صحیح نہیں ہے، قضا واجب ہے۱۱۵؎۔ (۱۰۹)‘‘عن نافع، قال: تیمم ابن عمر علی رأس میل أومیلین’’ المستدرک للحاکم، باب واماحدیث عائشہ رضی اللہ عنہا، حدیث نمبر:۵۹۹ (۱۱۰)‘‘قال الحسن فی المریض عندہ الماء ولایجد من یناولہ یتیمم وأقبل ابن عمر من أرضہ بالجرف فحضرت العصر بمربد النعم فصلی ثم دخل المدینۃ والشمس مرتفعۃ فلم یعد’’ بخاری، باب التیمم فی الحضر اذالم یجدالماء وخاف فوۃ الصلاۃ:۲/ ۶۱۔ ‘‘عنِ ابنِ عباس فیِ قولِہِ (وإِن کنتم مرضی أَوعلی سفر) قال إِذاکانت بالرجل الجراحۃ فی سبیل اللہ أوالقروح أوالجدری فیجنب فیخاف أن یموت إن اغتسل یتیمم’’ دارقطنی، باب فی ماروی فیمن نام قاعداً وقائماً ومضطجعاً، حدیث نمبر:۶۹۰۔ ‘‘عن علیِ قال إِذاجنب الرجل فیِ السفرِ تلوَّمَ مابینہ وبین آخر الوقت فإن لم یجد الماء تیمم وصلی’’ دارِقطنی، باب فی بیان الموضع الذی یجوز التیمم فیہ وقدرہ من البلد، حدیث نمبر:۷۳۵۔ ‘‘عن عمرِو بنِ العاصِ قال احتلمت فِی لیلۃ بارِدۃ فِی غزوۃِ ذات السلاسل فأشفقت إن اغتسلت أن أہلک فتیممت ثم صلیت بأصحابی الصبح فذکروا ذلک للنبی ﷺ فقال یاعمرو صلیت بأصحابک وأنت جنب فأخبرتہ بالذی منعنی من الاغتسال وقلت إنی سمعت اللہ یقول: (ولاتقتلوا أنفسکم إن اللہ کان بکم رحیما) فضحک رسول اللہ ﷺ ولم یقل شیئا’’ ابوداؤد، باب اذاخاف الجنب البرد أن یتیمم، حدیث نمبر:۲۸۳۔ وھکذا فی الأوسط لابن المنذر، باب ذکر تیمم الجنب اذاخشی علی نفسہ البرد، حدیث نمبر:۵۰۸۔ (۱۱۱۔۱۱۲)بخاری، باب اذاخاف الجنب علی نفسہ المرض اوالموت اوخاف العطش:۲/۷۲ عن عمروبن العاصؓ (۱۱۳)‘‘عنِ ابنِ عباس، قال: إذاخِفت أَن تفوتک الجِنازۃُ وأنت علی غیرِ وضوء فتیمم وصلِ’’ مصنف ابن ابی شیبہ، باب فی الرجل یخاف أن تفوتہ الصلاۃ علی الجنازۃِ وھو غیرمتوضیٔ، حدیث نمبر:۱۱۵۸۶، صفحہ نمبر:۳/۳۰۵ (۱۱۴)‘‘عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا فَصَلَّيَا ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاةَ وَالْوُضُوءَ وَلَمْ يُعِدْ الْآخَرُ ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِﷺ فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ’’ ابوداؤد، باب فی المتیمم یجدالماء بعد مایصل فی الوقت، حدیث نمبر:۲۸۶ (۱۱۵)‘‘عن مصعبِ بنِ سعد قال دخل عبد اللہِ بن عمر علی ابنِ عامِر یعودہ وہومرِیض فقال ألاتدعو اللہ لِی یاابن عمر قال إِنِی سمِعت رسول اللہ ﷺ یقول لاتقبل صلاۃ بغیر طھور’’ مسلم، باب وجوب الطہارۃ للصلاۃ، حدیث نمبر:۳۲۹۔ ‘‘عن عمرِو بنِ العاصِ قال احتلمت فِی لیلۃ بارِدۃ فِی غزوۃِ ذات السلاسل فأشفقت إن اغتسلت أن أہلک فتیممت ثم صلیت بأصحابی الصبح فذکروا ذلک للنبی ﷺ فقال یاعمرو صلیت بأصحابک وأنت جنب فأخبرتہ بالذی منعنی من الاغتسال وقلت إنی سمعت اللہ یقول: (ولاتقتلوا أنفسکم إن اللہ کان بکم رحیما) فضحک رسول اللہ ﷺ ولم یقل شیئا’’ ابوداؤد، باب اذاخاف الجنب البرد أن یتیمم، حدیث نمبر:۲۸۳۔ وھکذا فی الأوسط لابن المنذر، باب ذکر تیمم الجنب اذاخشی علی نفسہ البرد، حدیث نمبر:۵۰۸۔ جن چیزوں پر تیمم کیا جاسکتا ہے (۱)پاک مٹی اور جو اس کی جنس سے ہو مثلاً ریت، چونا، مٹی کے کچے یاپکے برتن جن پر تیل یاچکنائی نہ ہو، مٹی کی کچی یاپکی اینٹیں، گیرو۱۱۶؎ (۲)دیوار۱۱۷؎ (۳)پتھر۱۱۸؎ (۴)غبار جو کپڑے یالکڑی وغیرہ پر لگا ہوا ہو جو ہاتھ مارنے سے اڑنے لگے یا اس پر نشان پڑجائے۱۱۹؎۔ (۱۱۶)‘‘ فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا’’ نساء:۴۳۔ (۱۱۷)‘‘فقال أبوالجہیمِ الأنصارِی أقبل النبِیﷺ مِن نحوِ بِئرِ جمل فلقيه رجل فسلم عليه فلم يرد عليه النبيﷺ حتى أقبل على الجدار فمسح بوجهه ويديه ثم رد عليه السلام’’ بخاری، باب التیمم فی الحضر اذالم یجدالماء وخاف فوت الصلاۃ، حدیث نمبر:۳۲۵۔ (۱۱۸۔۱۱۹)‘‘عن حماد، قال: یتیمم بِالصعِیدِ والجِصِ والجبلِ والرملِ’’ ‘‘عن حماد، قال: كل شيء ضربت عليه بيديك فهو صعيد حتى غبار لبدك’’ مصنف ابن ابی شیبہ، باب مایجزء الرجل فی تیممہ، حدیث نمبر:۱۷۱۶،۱۷۱۷، صفحہ نمبر:۱/۱۶۱ ۔‘‘عن أنس، أن النبیﷺ قال: وجعلت لی کل أرض طيبة مسجدا وطهورا قال أبو بكر : وفي هذا الحديث دليل على أن الذي يجوز أن يتيمم به من الأرض الطيب دون ما هو منها نجس’’ الاوسط لابن المنذر، باب الدلیل علی أنّ الّذی جعل من الأرض طھوراالطاھر، حدیث نمبر:۴۸۶۔ جن چیزوں پر تیمم درست نہیں جو چیزیں آگ میں پگھل جاتی ہیں یاجل کر راکھ ہوجاتی ہیں، ان پر تیمم درست نہیں، مثلاً لکڑی، لوہا، سونا، چاندی، تانبا، پیتل، المونیم، سیسہ، رانگ، جست، گیہوں اور غلے، اسی طرح راکھ ان پر تیمم جائز نہیں؛ کیونکہ یہ زمین کی جنس سے نہیں ہیں۔ (‘‘عن أنس، أن النبیﷺ قال: وجعلت لی کل أرض طیبۃ مسجدا وطھورا’’ الاوسط لابن المنذر، باب الدلیل علی أن الذی جعل من الارض طھوراً الطاھرمنھا، حدیث نمبر:۴۸۶۔ ‘‘وباب ذکر التیمم علی الثلج واختلفوا في التيمم على الثلج فكان الثوري وإسحاق لا يريان التيمم عليه’’ صفحہ نمبر:۲/۲۰۰۔ مدتِ تیمم جب تک پانی نہ ملے یاعذر باقی رہے تیمم جائز ہے؛ اگرچہ اسی حال میں کئی سال گزرجائیں تب بھی کچھ مضائقہ نہیں، تیمم کرتا رہے۔ (‘‘عن أبِی ذر أن رسول اللہﷺ قال إن الصعيد الطيب طهور المسلم وإن لم يجد الماء عشر سنين فإذا وجد الماء فليمسه بشرته فإن ذلك خير’’ ترمذی، باب ماجاء فی التیمم للجنب اذالم یجدالماء، حدیث نمبر:۱۱۵، وقال ہذا حدیث حسن صحیح) تیمم توڑنے والی چیزیں (۱)جن چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے انہیں چیزوں سے تیمم بھی ٹوٹ جاتا ہے؛ اسی طرح جن چیزوں سے غسل ضروری ہوتا ہے ان ہی چیزوں سے تیمم ٹوٹ جاتا ہے۱۲۰؎ (۲)پانی پر قدرت حاصل ہوجانا، چاہے پانی میسر آجانے سے ہو یاپھر جس عذر سے تیمم جائز ہوا تھا وہ عذر ختم ہوجانے سے ہو۱۲۱؎۔ (۱۲۰)‘‘صفوان بن عسال فقعدت علی بابِہِ فخرج فقال ماشأنک قلت أطلب العِلم.... كنا إذا كنا مع رسول اللهﷺ في سفر أمرنا أن لا ننزعه ثلاثا إلا من جنابة ولكن من غائط وبول ونوم’’ نسائی، باب الوضوء من الغائط والبول، حدیث نمبر:۱۵۸۔ ‘‘عن نافِع أن عبد اللہ بن عمر کان إِذارعف انصرف فتوضأ ثم رجع فبنى ولم يتكلم’’ مؤطا مالک، باب ماجاء فی الرعاف، حدیث نمبر:۷۰۔ ‘‘عن عمر بنِ عبدِ العزِیزِ قال قال تمِیم الدارِی قال رسول اللہﷺ الوضوء مِن کلِ دم سائِل’’ دارِقطنی، باب ماجاء فی القیٔ والقلس فی الصلوٰۃ، حدیث نمبر:۵۹۰۔ ‘‘عن أبِی الدردائِ أن رسول اللہﷺ قأء فأفطر فتوضأ’’ ترمذی، باب ماجاء فی الوضوء من القیٔ والرعاف، حدیث نمبر:۸۰۔ ‘‘عن أبِی ہریرۃ أَن نبِیﷺ قال إِذاجلس بین شعبها الأربع ثم جهدها فقد وجب عليه الغسل’’ مسلم، باب نسخ الماء من الماء وجوب الغسل بالتقاء الختانین، حدیث نمبر:۵۲۵۔ ‘‘عن علي بن أبي طالبؓ قال: كنت رجلا مذاء فسألت رسول اللهﷺ فقال أما المنى ففيه الغسل وأما المذي ففيه الوضوء’’ صحیح وھذا سندضعیف، مسنداحمد، باب مسندعلی، حدیث نمبر:۶۶۲۔ (۱۲۱)‘‘عن أبِی ذر أن رسول اللہﷺ قال إِن الصعِید الطيب طهور المسلم وإن لم يجد الماء عشر سنين فإذا وجد الماء فليمسه بشرته فإن ذلك خير’’ ترمذی، باب ماجاء فی التیمم للجنب اذالم یجد الماء، حدیث نمبر:۱۱۵، وھذا حدیث حسن صحیح۔ تیمم کے فرائض (۱)تیمم کی نیت سے ایک مرتبہ پاک مٹی پر ہاتھ مارکر پورے چہرے پر ہاتھ پھیرنا (۲)دوسری بار پھر ہاتھ مارکر دونوں ہاتھوں پر کھنیوں تک ہاتھ پھیرنا۔ (‘‘فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ’’ النساء:۴۳۔‘‘عن عمارِ بنِ یاسِر أنہ کان یحدِث أنہم تمسحوا وہم مع رسولِ اللہﷺ بِالصعِیدِ لِصلاِۃِ الفجرِ فضربوا بأكفهم الصعيد ثم مسحوا وجوههم مسحة واحدة ثم عادوا فضربوا بأكفهم الصعيد مرة أخرى فمسحوا بأيديهم كلها إلى المناكب والآباط من بطون أيديهم’’ ابوداؤد، باب التیمم، حدیث نمبر:۲۷۲۔ ‘‘عن جابِر قال جاء رجل فقال أصابتنِی جنابۃ وإِنیِ تمعکت فى التراب، قال اضرب، فضرب بيده الأرض فمسح بها وجهه ثم ضرب بيديه أخرى فمسح بهما يديه إلى المرفقين’’ دارِقطنی، باب التیمم، حدیث نمبر:۷۱۲۔ ‘‘عن أبي الزبير، عن جابرؓ قال: أتاه رجل فقال: أصابتني جنابة، وإني تمعكت في التراب، فقال: أصرت حمارا، وضرب بيديه إلى الأرض فمسح وجهه، ثم ضرب بيديه إلى الأرض فمسح بيديه إلى المرفقين، وقال: هكذا التيمم’’ شرح معانی الآثار، باب صفۃ التیمم:۱/۱۸۸) تیمم کرنے کا طریقہ تیمم میں نیت فرض ہے، اس لیے یہ نیت کرے کہ میں ناپاکی دور کرنے کے لیے یانماز پڑھنے کے لیے اللہ کی رضا کی خاطر تیمم کرتا ہوں، نیت کے بعد دونوں ہاتھوں کو پاک مٹی پرمارکر ہاتھ مٹی پر آگے پیچھے کرے؛ پھرہاتھ جھاڑ کر پورے چہرہ پر ملے اور جتنا حصہ چہرہ کا دھویا جاتا ہے اتنے حصہ پر ہاتھ لیجائے پھر دوبارہ پہلے کی طرح ہاتھ مارکر ہاتھوں کو کھنیوں تک ملے اور انگلیوں کا خلال بھی کرے۔ نوٹ: وضو اور غسل دونوں کے لیے تیمم کیا جاتا ہے اور دونوں کے لیے تیمم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور جتنی پاکی وضو یاغسل سے ہوتی ہے اتنی ہی تیمم سے ہوتی ہے۔ (‘‘فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ’’ النساء:۴۳۔ ‘‘یقول سمِعت عمر بن الخطابِؓ علی المِنبرِ قال سمِعت رسول اللہﷺ یقول إِنما الأعمال بِالنِیاتِ’’ بخاری، باب بداء الوحی، حدیث نمبر:۱/۔ ‘‘عن عمارِ بنِ یاسِر أَنہ کان یحدِث أنہم تمسحوا وہم مع رسولِ اللہﷺ بِالصعِیدِ لِصلاۃ الفجرِ فضربوا بأكفهم الصعيد ثم مسحوا وجوههم مسحة واحدة ثم عادوا فضربوا بأكفهم الصعيد مرة أخرى فمسحوا بأيديهم كلها إلى المناكب والآباط من بطون أيديهم’’ ابوداؤد، باب التیمم، حدیث نمبر:۲۷۲۔ ‘‘عن جابِر قال جاء رجل فقال أصابتنِی جنابۃ وإِنیِ تمعکت فِی الترابِ قال اضرِب فضرب بيده الأرض فمسح بها وجهه ثم ضرب بيديه أخرى فمسح بهما يديه إلى المرفقين’’ دارِقطنی، باب التیمم، حدیث نمبر:۷۱۲)۔

مسح کا بیان موزوں اور پٹی پر مسح موزہ سے مراد وہ چمڑے کے موزے ہیں جن میں پاؤں ٹخنوں تک چھپے رہیں یا اون، سوت کے بنے ہوئے ایسے موزے کہ جن پر چمڑا لگایا گیا ہو یاچمڑے کی طرح سخت اور موٹے کپڑے کے ہوں ان پر مسح جائز ہے؛ بشرطیکہ ان میں سے ہرموزہ ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے تین انگلی کی بقدر پھٹا ہوا نہ ہو؛ نیزوہ لکڑی، لوہا اور کانچ کے نہ ہوں۔ (‘‘عن سعدِ بنِ أبِی وقاص عن النبِیِﷺ أنہ مسح علی الخفینِ’’ بخاری، باب المسح علی الخفین، حدیث نمبر:۱۹۵۔ ‘‘عن ہمام قال بال جرِیر ثم توضأ ومسح علی خفیہِ فقِیل تفعل ہذا فقال نعم رأیت رسول اللہﷺ بال ثم توضأ ومسح على خفيه’’ مسلم، باب المسح علی الخفین، حدیث نمبر:۴۰۱۔ ‘‘عن المغِیرۃ بنِ شعبۃ أن رسول اللہﷺ مسح علی الجوربینِ والنعلینِ’’ نسائی، باب المسح علی الجوربین والنعلین، حدیث نمبر:۱۲۵۔ ‘‘عن یزِید بنِ أبِی زِیاد، قال: رأیت علی إِبراہِیم جرموقين من لبود، يمسح عليهما’’ مصنف ابن ابی شیبہ، باب فی المسح علی الجرموق، حدیث نمبر:۲۰۱۳۔ ‘‘عنِ الحسنِ وشعبۃ، عن قتادۃ، عن سعِیدِ بنِ المسیِبِ، والحسنِ أنہما قالا: یمسح علی الجوربینِ إِذاکانا صفِیقینِ’’ وباب فی المسح علی الجوربین، حدیث نمبر:۱۹۸۸۔ ‘‘عن ابنِ بریدۃ عن أبِیہِ أَن النجاشِی أہدی إِلی النبِیِﷺ خفینِ أسودینِ ساذجين فلبسهما ثم توضأ ومسح عليهما’’ ترمذی، باب ماجاء فی الخف الاسود، حدیث نمبر:۲۷۴۵، وقال ہذا حدیث حسن) موزوں پر مسح کے صحیح ہونے کے شرائط (۱)دونوں موزے وضو کرکے پہنے گئے ہوں؛ اگر صرف دونوں پیر دھوکر موزے پہن لے تب بھی مسح صحیح ہوجائیگا؛ بشرطیکہ نواقضِ وضو کے پائے جانے سے پہلے مکمل وضو کرلے۱۲۲؎ (۲)دونوں موزے کم از کم اتنے بڑے ہوں کہ وہ دونوں ٹخنوں کو چھپالے۱۲۳؎ (۳)ان دونوں کو پہن کر ایک فرسخ (۵/کیلومیٹر) مسلسل چلاجاسکتا ہو۱۲۴؎ (۴)وہ دونوں پیروں پر بغیر کسی چیز سے باندھے رکے ہوئے ہوں۱۲۵؎ (۵)موزوں میں سے جسم کا حصہ نظرنہ آتا ہو؛ نیز پانی اس کے جسم تک نہ پہنچتا ہو۱۲۶؎۔ نوٹ: اگر غسل واجب ہوجائے تو موزے اتار کر غسل کرنا ضروری ہے۱۲۷؎۔ (۱۲۲۔۱۲۳۔)‘‘أخبرنِی عروۃ بن المغِیرۃِ عن أبِیہِ قال کنت مع النبِیِﷺ ذات لیلۃ فِی مسِیر.... ثم أهويت لأنزع خفيه فقال دعهما فإني أدخلتهما طاهرتين ومسح عليهما’’ مسلم، باب المسح علی الخفین، حدیث نمبر:۴۰۸۔ ‘‘عن عروۃ بنِ المغِیرۃِ عن أبِیہِ قال کنت مع النبِیِﷺ فِی سفر فأہویت لأنزع خفيه فقال دعهما فإني أدخلتهما طاهرتين فمسح عليهما’’ بخاری، باب اذاادخل رجلیہ وھماطاھرتان، حدیث نمبر:۱۹۹۔ (۱۲۳)‘‘فمنها أن يكون خفا يستر الكعبين؛ لأن الشرع ورد بالمسح على الخفين، ومايستر الكعبين ينطلق عليه اسم الخف’’ بدائع الصنائع، باب بیان مدۃ المسح، وأمّا شرائط جواز المسح:۳۶/۱۔ (۱۲۴۔۱۲۵۔۱۲۶)عن عَبْد الرَّزَّاقِ قَالَ سَأَلْتُ مَعْمَرًا عَنِ الْخَرْقِ يَكُونُ فِى الْخُفِّ فَقَالَ : إِذَا خَرَجَ مِنْ مَوَاضِعِ الْوُضُوءِ شَىْءٌ فَلاَ تَمْسَحْ عَلَيْهِ وَاخْلَعْ.( السنن الكبري للبيهقي باب الْخُفِّ الَّذِى مَسَحَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم ۱۳۹۶) ‘‘لبسهما على طهارة، وخلو كل منهما عن الخرق المانع، واستمساكهما على الرجلين من غير شد، ومنعهما وصول الماء إلى الرجل، وأن يبقى من القدم قدر ثلاثة أصابع’’ ردالمحتار، شروط المسح علی الخفین،صفحہ نمبر:۲۷۸/۲ (۱۲۷)‘‘عن زِرِبنِ حبیش قال أتیت صفوان بن عسال المرادِی أسألہ عن المسحِ علی الخفینِ فقال ماجاء بکِ یازِرُّ فقلت ابتِغاء العِلمِ فقال.... نعم!كان يأمرنا إذا كنا سفرا أومسافرين أن لا ننزع خفافنا ثلاثة أيام ولياليهن إلا من جنابة’’ ترمذی، باب فی فضل التوبۃ والاستغفار وماذکر من رحمۃ اللہ، حدیث نمبر:۳۴۵۸، وقال ھذا حدیث حسن صحیح۔ مدتِ مسح مسافر کے لیے تین دن تین رات اور مقیم کے لیے ایک دن ایک رات مسح کرنے کی اجازت ہے۔ نوٹ: موزے پہننے کے بعد حدث لاحق ہونے کے وقت سے مسح کی مدت شروع ہوتی ہے، مدت ختم ہوتے ہی مسح ختم ہوجاتا ہے۔ (‘‘عن شریحِ بنِ ہانیِء قال أتیت عائِشۃَ أسألہا عن المسحِ علی الخفینِ فقالت علیک بابن ابی طالب فسلہ فإنہ کان یسافر مع رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم فسألناہ فقال جعل رسول اللہﷺ ثلاثۃ أیام ولیالیہن للمسافر ویوما ولیلۃ للمقیم’’ مسلم، باب التوقیت فی المسح علی الخفین، حدیث نمبر:۴۱۴۔ ‘‘عن علِیؓ قال جعل رسول اللہﷺ لِلمسافِرِ ثلاثۃ أیام ولیالیہن ویوما ولیلۃ للمقیم یعنی فی المسح’’ نسائی، باب التوقیت فی المسح علی الخفین للمقیم، حدیث نمبر:۱۲۸) موزوں پر مسح کرنے کا طریقہ دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو دائیں موزے کے اگلے حصہ پر اور بائیں ہاتھ کی انگلیوں کو بائیں موزے کے اگلے حصہ پر رکھے یاانگلیوں کو ہتھیلیوں کے ساتھ رکھ کر پنڈلی کی طرف کھینچے۔ (‘‘عن علِیؓ قال لوکان الدِین بِالرأیِ لکان أسفل الخف أولی بالمسح من أعلاہ وقد رأیت رسول اللہ ﷺ یمسح علی ظاہر خفیہ’’ ابوداؤد، باب کیف المسح، حدیث نمبر:۱۴۰۔ وھکذا فی دارقطنی، باب ما فی المسح علی الخفین بغیر توقیت، حدیث نمبر:۷۹۷) زخم پر مسح پھوڑا، زخم یاایسی بیماری جس میں پانی ڈالنے سے نقصان ہو تو وضو کرتے وقت پھوڑے یازخمی جگہ پر مسح کرلیں۔ (‘‘عن جابِر قال خرجنا فِی سفر فأصاب رجلا مِنا حجر فشجہ فی رأسہ ثم احتلم فسأل أصحابہ فقال ہل تجدون لی رخصۃ فی التیمم فقالوا مانجد لک رخصۃ وأنت تقدر علی الماء فاغتسل فمات فلما قدمنا علی النبیﷺ أخبر بذلک فقال قتلوہ قتلہم اللہ ألاسألوا إذلم یعلموا فإنما شفاء العی السؤال إنما کان یکفیہ أن یتیمم ویعصر أویعصب شک موسی علی جرحہ خرقۃ ثم یمسح علیہا ویغسل سائر جسدہ’’ ابوداؤد، باب فی المجروح یتیمم، حدیث نمبر:۲۸۴۔ وھٰکذا فی دارِقطنی، باب جواز التیمم لصاحب الجراح مع استعمال الماء، حدیث نمبر:۷۴۴۔ ‘‘عن أبي أمامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه لما رماه ابن قمئة يوم أحد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذاتوضأ حل عن عصابته ومسح عليها بالوضوء’’ مسندالشامیین، باب ماروی ثور (بن یزید) عن خالد بن معدان، حدیث نمبر:۴۴۱، صفحہ نمبر:۲/۹۰۔ ‘‘شرائط المسح على الجبيرة: يشترط لجوازه ما يأتي..... (۲)ألايمكن غسل أو مسح الموضع نفسه بسبب الضرر، فإن قدر عليه فلا مسح على الجبيرة، وإنمايمسح على عين الجراحة إن لم يضر المسح بها’’ الفقہ الاسلامی وأدلتہ، باب شرائط المسح علی الجبیرۃ: ۱/۴۴۲) پٹی اور جبیرہ پر مسح اگر زخم وغیرہ پر پٹی بندھی ہوئی ہو اور کھولنے سے نقصان ہو تو اوپر سے مسح کریں؛ ورنہ اس کو کھول کر مسح کریں۔ (‘‘عن جابِر قال خرجنا فِی سفر فأصاب رجلا مِنا حجر فشجہ فی رأسہ ثم احتلم فسأل أصحابہ فقال ہل تجدون لی رخصۃ فی التیمم فقالوا مانجد لک رخصۃ وأنت تقدر علی الماء فاغتسل فمات فلما قدمنا علی النبیﷺ أخبر بذلک فقال قتلوہ قتلہم اللہ ألاسألوا إذلم یعلموا فإنما شفاء العی السؤال إنما کان یکفیہ أن یتیمم ویعصر أویعصب شک موسی علی جرحہ خرۃ ثم یمسح علیہا ویغسل سائر جسدہ’’ ابوداؤد، باب فی المجروح یتیمم، حدیث نمبر:۲۸۴۔ وھٰکذا فی دارِقطنی، باب جواز التیمم لصاحب الجراح مع استعمال الماء، حدیث نمبر:۷۴۴۔ عن أبي أمامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه لما رماه ابن قمئة يوم أحد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذاتوضأ حل عن عصابته ومسح عليها بالوضوء، مسندالشامیین، ماروى ثور [بن يزيد] عن خالد بن معدان، حدیث نمبر:۴۴۱، ۲/۹۰۔ شرائط المسح علی الجبیرۃ: یشترط لجوازہ مایأتی..... (۲)ألایمکن غسل اومسح الموضع نفسہ بسبب الضرر فإن قدر علیہ فلایمسح علی الجبیرۃ وانمایمسح علی عین الجراحۃ ان لم یضر المسح بھا، الفقہ الاسلامی، شرائط المسح علی الجبیرۃ:۱/۴۴۲)۔






نماز اہمیتِ نماز حضراتِ انبیاءؑ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات، کمالات واحسانات اور اس کی تقدیس وتوحید کے بارے میں جو کچھ بتلاتے ہیں اس کو مان لینے اور اس پر ایمان لے آنے کا پہلا قدرتی اور بالکل فطری تقاضہ یہ ہے کہ انسان اس کے حضور میں اپنی فدویت وبندگی، محبت وشیفتگی اور محتاجی ودریوزہ گری کا اظہار کرکے اس کا قرب اور اس کی رحمت ورضا حاصل کرنے کی کوشش کرے اور اس کی یاد سے اپنے قلب وروح کے لیے نور اورسرور کا سرمایہ حاصل کرے، نماز کا اصلی موضوع دراصل یہی ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ نماز اس مقصد کے حصول کا بہترین وسیلہ ہے اس لیے ہرنبی کی تعلیم میں اور ہرآسمانی شریعت میں ایمان کے بعد پہلا حکم نماز ہی کا رہا ہے اور اسی لیے اللہ کی نازل کی ہوئی آخری شریعت (شریعت محمدیؐ) میں نماز کے شرائط وارکان اور سنن وآداب اور اسی طرح اس کے مفسدات ومکروہات وغیرہ کے بیان کا اتنا اہتمام کیا گیا ہے اور اس کو اتنی اہمیت دی گئی ہے جو اس کے علاوہ کسی دوسری طاعت وعبادت کو بھی نہیں دی گئی۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ ‘‘حجۃ اللہ البالغہ’’ میں نماز کا بیان شروع کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ‘‘اعلم أن الصلاة أعظم العبادات شأنا وأوضحها برهانا وأشهرها في الناس وأنفعها في النفس، ولذلك اعتنى الشارع ببيان فضلها وتعيين أوقاتها وشروطها وأركانها وآدابها ورخصها ونوافلها اعتناء عظيم لم يفعل في سائر أنواع الطاعات، وجعلها من أعظم شعائر الدين’’۔ (حجۃ اللہ البالغہ، من ابواب الصلاۃ:۱/۳۹۴، مصنف: حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ) ترجمہ:‘‘ نماز تمام عبادتوں میں شان کے اعتبار سے بڑی ہے اور دلیل کے اعتبار سے زیادہ واضح ہے اور عبادت میں سب سے زیادہ لوگوں میں مشہور ہے اور نفس کے لیے سب سے زیادہ مفید ہے اور اسی وجہ سے شارع نے اس کی فضیلت اور اس کے اوقات وشروط اور اس کے ارکان وآداب اور اس کی رخصتوں اور نفلوں کو بیان کرنے کا اس طرح اہتمام کیا ہے، اس کی مانند دیگر طاعات کی انواع میں اتنا اہتمام نہیں کیا اور اس کو دین کے اہم شعائر میں سے شمار کیا ہے’’۔ نماز اسلام کا دوسرا رکن ہے، نماز کی اہمیت اسلام میں بہت آئی ہے، قرآن شریف میں اس کا ذکر آیا ہے اور احادیث میں بھی کثرت سے اس کی تاکید آئی ہے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بسترمرگ پر بھی بیہوشی کی حالت سے ہوش میں آتے تب بھی نماز کی تاکید فرماتے (ابوداؤد، باب فی حق المملوک،حدیث نمبر:۴۴۸۹) نماز کسی بھی حال میں معاف نہیں کی گئی، اچھی طرح وقت پر اور ہمیشہ پڑھنا ضروری قرار دیا گیا؛ اگر باقاعدہ نماز پڑھنے میں کسی دشمن وغیرہ کا اندیشہ ہو تو کھڑے کھڑے یاسواری پر جس طرح بن پڑے خواہ قبلہ کی طرف منھ نہ ہو اسی طرح اگر رکوع وسجدہ صرف اشارہ ہی سے ممکن ہو تو پڑھنا لازم قرار دیا گیا اس کو چھوڑنے کی بالکل گنجائش نہیں دی گئی؛ اگر دشمن کے مقابلہ کے موقع پر اندیشہ ہو کہ سب نماز میں لگ جائیں گے تو دشمن موقع پاکر حملہ کربیٹھے گا تو ایسی حالت میں یوں حکم ہوا کہ جماعت کے دوگروہ ہوجائیں؛ پھر ان میں سے ایک گروہ تو آپ ﷺ کے ساتھ (جب آپ عالم دنیا میں تشریف رکھتے تھے اور آپ کے بعد جو امام ہو اس کے ساتھ نماز میں) کھڑے ہوجائیں اور دوسرا گروہ نگہبانی کے لیے دشمن کے مقابل کھڑے ہوجائیں؛ تاکہ دشمن کو دیکھتے رہیں؛ پھرجب یہ لوگ (آپؐ کے ساتھ) سجدہ کرچکیں (ایک رکعت پوری کرلیں) تو یہ لوگ (نگہبانی کے لیے) تمہارے پیچھے ہوجائیں اور دوسرا گروہ جنہو ں نے ابھی نماز نہیں پڑھی (شروع بھی نہیں کی) وہ پہلے گروہ کی جگہ آجائیں اور آپ کے ساتھ نماز (کی ایک رکعت جو باقی رہی ہے اس کو) پڑھ لیں (یہ دوگروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی) اور جب امام دورکعت پر سلام پھیر دیں تو دونوں گروہ اپنی اپنی ایک ایک رکعت خود ہی پڑھ لیں اور اگر امام چار رکعت پڑھے تو ہرگروہ کو دو دو رکعت پڑھائے اور دودو اپنے طور پر پڑھ لیں اور مغرب میں ایک گروہ کو دورکعت پڑھائے اور ایک گروہ کو ایک رکعت۔ (‘‘الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُـقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ’’ البقرۃ:۳۔ ‘‘حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰى وَقُوْمُوْا لِلہِ قٰنِتِیْنَo فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًا فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَاذْکُرُوا اللہَ کَـمَاعَلَّمَکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ’’ البقرۃ: ۲۳۸،۲۳۹) غور کیجئے کہ نماز کس درجہ ضروری چیز ہے کہ ایسی کشاکشی میں چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی؛ البتہ ہماری مصلحت کے لیے اس کی صورت بدل دی گئی، بیماری کی وجہ سے نماز کے لیے وضو اور غسل دشوار ہو، پانی کا استعمال مضرہو یاکوئی اور عذر ہو تو شریعت میں پانی کے بجائے مٹی کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ (‘‘وَاِنْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْہِکُمْ وَاَیْدِیْکُمْ مِّنْہُ’’ المائدہ:۶) نماز کی اہمیت ہی کی وجہ سے جو چیز اس کو روکنے والی تھی اس کو حرام کردیا تاکہ نماز میں خلل نہ ہو جیسے شراب اور جوئے کے حرام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتلائی گئی کہ (شیطان چاہتا ہے کہ اس شراب اور جوئے کے ذریعہ) اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے (جوکہ اللہ تعالیٰ کی یاد کا سب سے افضل طریقہ ہے) تم کو باز رکھے (المائدہ:۹،۹۱) اور نماز کو اسلام کی علامت فرمایا ہے؛ یہاں تک کہ اگر کسی کافر کو کسی نے کلمہ پڑھتے نہ سنا ہومگر نماز پڑھتے دیکھے تو سب علماء کے نزدیک واجب ہے کہ اس کو مسلمان سمجھیں، اس بات کی طرف یہ آیت رہنمائی کرتی ہے، ‘‘اگر یہ لوگ (کفر سے) توبہ کرلیں (یعنی مسلمان ہوجائیں) اور (اس اسلام کو ظاہر بھی کردیں مثلاً) نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہوجائیں گے۔ (‘‘فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ الصَّلاَۃَ وَآتَوُاْ الزَّکَاۃَ’’ التوبہ:۱۱) حضرت نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی ایک نماز فوت ہوگئی وہ ایسا ہے کہ گویا اس کے گھر کے لوگ اور مال ودولت سب چھین لیا گیا ہو۔ (‘‘عن نوفل بن معاوية أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من فاتته الصلاة فكأنما وتر أهله وماله’’ صحیح ابن حبان، باب ذکر الزجر عن ترک مواظبۃ المرء،حدیث نمبر:۱۴۶۸) نماز کا ضائع کرنا اکثر بال بچوں کی وجہ سے ہوتا ہے کہ ان کی خیرخبر میں مشغول رہے یامال ودولت کمانے کے لالچ میں ضائع کی جاتی ہے، حضور اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ نماز کا ضائع کرنا انجام کے اعتبار سے ایسا ہی ہے؛ گویا بال بچے اور مال ودولت سب ہی چھنر لیا گیا اور اکیلا کھڑا رہ گیا، یعنی جتنا خسارہ اور نقصان اس حالت میں ہے اتنا ہی نماز کے چھوڑنے میں ہے یاجس قدر رنج وصدمہ اس حالت میں ہو، اتنا ہی نماز کے چھوٹنے میں ہونا چاہیے۔ (فتح الباری، باب إثم من فاتتہ العصر: ۲/۳۲۵) فضیلت نماز حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا بتلاؤ اگر کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو اور اس میں وہ ہرروز پانچ بارغسل کیا کرے تو کیا اس کا کچھ میل کچیل باقی رہ سکتا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ کچھ بھی میل نہ رہیگا، تو آپ نے فرمایا: پانچوں وقت نمازوں کی یہی حالت ہے اللہ تعالیٰ ان کے سب گناہوں کو مٹادیتا ہے۔ (‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا مَاتَقُولُ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ قَالُوا لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا قَالَ فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا’’ بخاری، باب الصلوات الخمس کفارۃ، حدیث نمبر:۴۹۷۔ ‘‘عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ قَالَ قَالَ الْحَسَنُ وَمَا يُبْقِي ذَلِكَ مِنْ الدَّرَنِ’’ مسلم، بَاب الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ تُمْحَى بِهِ الْخَطَايَا وَتُرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتُ، حدیث نمبر:۱۰۷۲) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: پانچوں نمازیں؛ جمعہ کی نماز پچھلے جمعہ تک اور رمضان کے روزے پچھلے رمضان تک درمیانی اوقات کے تمام گناہوں کے لیے کفارہ ہیں؛ جبکہ ان اعمال کو کرنے والا کبیرہ گناہوں سے بچے۔ (‘‘عن أبِی ہریرۃ أن رسول اللہﷺ قال الصلاۃ الخمس’’الخ، مسلم، باب الصلوات الخمس والجمعۃ الی الجمعۃ،حدیث نمبر:۳۴۲) حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ سردی کے موسم میں باہرتشریف لائے اور پتے درختوں پر سے گررہے تھے، آپﷺ نے ایک درخت کی ٹہنی ہاتھ میں لی اس کے پتے اور بھی گرنے لگے آپ ﷺ نے فرمایا: ‘‘اے ابوذر! مسلمان بندہ جب اخلاص سے اللہ کے لیے نماز پڑھتا ہے تو اس سے اس کے گناہ ایسے ہی گرتے ہیں جیسے یہ پتے درخت سے گررہے ہیں’’۔ (‘‘عن أبِی ذر أَن النبِیﷺ خرج زمن الشِتاءِ والورق’’الخ، مسنداحمد، حدیث نمبر:۲۱۵۹۶) حضرت ابومسلم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوامامہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ مسجد میں تشریف فرماتھے میں نے عرض کیا کہ مجھ سے ایک صاحب نے آپ کی طرف سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ آپ نے نبی کریمﷺ سے یہ ارشاد سنا ہے کہ جو شخص اچھی طرح وضوکرے اور پھر فرض نماز پڑھے تو حق تعالیٰ شانہ اس دن وہ گناہ جو چلنے سے ہوئے ہوں اور وہ گناہ جن کو اس کے ہاتھوں نے کیا ہو اور وہ گناہ جو اس کے کانوں سے صادر ہوئے ہوں اور وہ گناہ جن کو اس نے آنکھوں سے کیا ہو اور وہ گناہ جو اس کے دل میں پیدا ہوئے ہوں سب کو معاف فرمادیتے ہیں، حضرت ابوامامہ نے فرمایا میں نے یہ مضمون نبی کریمﷺ سے کئی دفعہ سنا ہے۔ (‘‘ثنا أبومسلم قال: دخلت علی أبی أمامۃ وہویتفلی فی المسجد ویدفن القمل’’الخ، مسنداحمد، حدیث نمبر:۲۲۳۲۶) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص ان پانچ فرض نمازوں کو پابندی سے پڑھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل رہنے والوں میں شمار نہیں ہوتے۔ (‘‘عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من حافظ على هؤلاء الصلوات المكتوبات لم يكتب من الغافلين، ومن قرأ في ليلة مائة آية لم يكتب من الغافلين، أو كتب من القانتين’’ صحیح ابن خزیمہ، باب جماع أبواب صلاۃ التطوع باللیل، حدیث نمبر:۱۰۷۹) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریمﷺ نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: جو شخص نماز کا اہتمام کرتا ہے تو نماز اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگی اس (کے پورے ایماندار ہونے) کی دلیل ہوگی اور قیامت کے دن عذاب سے بچنے کا ذریعہ ہوگی، جو شخص نماز کا اہتمام نہیں کرتا اس کے لیے قیامت کے دن نہ نور ہوگا نہ (اس کے پورے ایمان دار ہونے کی) کوئی دلیل ہوگی نہ عذاب سے بچنے کا کوئی ذریعہ ہوگا اور وہ قیامت کے دن فرعون، ہامان اور ابی ابن خلف کے ساتھ ہوگا۔ (صحیح ابن حبان، باب ذکر الزجر عن ترک المرء، حدیث نمبر:۱۴۶۷ ‘‘حدثنی کعب بن علقمۃ عن عیسی بن ہلال الصدفی عن عبد اللہ بن عمرو عن رسول اللہﷺ أنہ ذکر الصلاۃ یوما فقال: من حافظ علیہا کانت لہ نوراً’’الخ۔ مسنداحمد، حدیث نمبر:۶۲۸۸ ‘‘عن بن عمر قال: أدرک رسول اللہﷺ عمر بن الخطاب وہوفی رکب وہویحلف’’الخ۔ دارمی، حدیث نمبر:۲۷۷۷ ‘‘عن عبدِ اللہ بنِ عمرو عنِ النبیﷺ أنہ ذکر الصلاۃ یوما’’الخ) حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جومسلمان فرض نماز کا وقت آنے پر اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے؛ پھرپورے خشوع اور اچھی طرح رکوع وسجود کے ساتھ نماز ادا کرے تو وہ نماز اس کے واسطے پچھلے گناہوں کا کفارہ بن جائیگی جب تک کہ وہ کسی کبیرہ گناہ کا مرتکب نہ ہوا ہو اور نماز کی یہ برکت اس کو ہمیشہ ہمیش حاصل ہوتی رہے گی۔ (مسلم، باب فضل الوضوء والصلاۃ عقبۃ، حدیث نمبر:۳۳۵ ‘‘عن أبِیہِ قال کنت عِند عثمان فدعا بِطہور فقال سمِعت رسول اللہﷺ یقول مامِن امرِیٔ’’الخ۔ صحیح ابن حبان، حدیث نمبر:۱۰۴۴) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کی یہ تاثیر اور برکت ہے کہ وہ سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور پچھلے گناہوں کی گندگی کو دھوڈالتی ہے مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ آدمی کبیرہ گناہوں سے آلودہ نہ ہو؛ کیونکہ ان گناہوں کی نحوست اتنی غلیظ اور اس کے ناپاک اثرات اتنے گہرے ہوتے ہیں جن کا ازالہ صرف توبہ ہی سے ہوسکتا ہے، ہاں اللہ تعالیٰ چاہے تو یونہی معاف فرمادے اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: جو مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کرے پھر اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑے ہوکر پوری قلبی توجہ اور یکسوئی کے ساتھ دورکعت نماز پڑھے تو جنت اس کے لیے ضرور واجب ہوجائیگی۔ (مسلم، باب الذکرالمستحب عقب الوضو، حدیث نمبر:۳۴۵۔ مسنداحمد، حدیث نمبر:۱۶۷۵۲) مذکورہ احادیث کے علاوہ بے شمار احادیث ہیں جو نماز کی فضیلت کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں؛ چونکہ عمل کے لیے اتنی کافی ہیں، اس لیے اسی پر اکتفا کیا گیا ہے۔ افسوس کیسی بدبختی ہے نماز کے بارے میں رسول اللہﷺ کے ان تربیتی اور ترغیبی ارشادات کے باوجود امت کی بڑی تعداد آج نماز سے غافل اور بے پرواہ ہوکر اپنے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے الطاف وعنایات سے محروم اور اپنی دنیاوآخرت کو برباد کررہی ہے ‘‘وَمَاظَلَمَھُمُ اللہ وَلٰکِنْ اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ’’۔ ( آل عمران:۱۱۷) ‘‘ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی اپنے آپ کو ضرر پہنچا رہے تھے’’۔ ترکِ نماز پر وعید حضرت جابرؓ سے رویت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندے اور کفر کو ملانے والی چیز نماز کا چھوڑنا ہے۔

(مسلم، باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلاۃ، حدیث نمبر:۱۱۶۔  ترمذی، حدیث نمبر:۲۵۴۳۔  ابوداؤد، حدیث نمبر:۴۰۵۸)

حضرت عبادہؓ کہتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب حضورﷺ نے سات نصیحتیں کیں، جن میں سے چار یہ ہیں؛ اوّل یہ کہ اللہ کا شریک کسی کو نہ بناؤ چاہے تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں یاتم جلادئیے جاؤ یاسولی چڑھادیے جاؤ، دوسرے یہ کہ جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑو، جو جان بوجھ کر نماز چھوڑدے وہ مذہب سے نکل جاتا ہے، تیسری یہ کہ اللہ کی نافرمانی نہ کرو کہ اس سے حق تعالیٰ ناراض ہوجاتے ہیں، چوتھی یہ کہ شراب نہ پیو کہ وہ ساری خطاؤں کی جڑ ہے۔ (ابن ماجہ، باب الصبر علی البلاء، حدیث نمبر:۴۰۲۴ عن ابی الدرداء۔ مستدرک حاکم علی الصحیحین، باب ذکر أمیمۃ مولاۃ رسول اللہﷺ، حدیث نمبر:۶۸۳۰) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمﷺ کا ارشا دہے کہ جو شخص دونمازوں کو بلاکسی عذر کے ایک وقت میں پڑھے وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازہ پر پہونچ گیا۔ (مستدرک حاکم، باب التامین، حدیث نمبر:۱۰۲۰) جو شخص نماز کا اہتمام کرتا ہے تو حق تعالیٰ شانہ پانچ طرح سے اس کااکرام واعزاز فرماتے ہیں، ایک یہ کہ اس پر سے رزق کی تنگی ہٹادی جاتی ہے، دوسرے یہ کہ اس سے عذابِ قبر ہٹادیا جاتا ہے، تیسرے یہ کہ قیامت کو اس کے اعمال نامے داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے (جن کا حال الحاقہ میں مفصل مذکور ہے: کہ جن لوگوں کے نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ نہایت خوش وخرم ہرشخص کو دکھاتے پھرینگے ‘‘الحاقۃ:۱۹’’) اور چوتھے یہ کہ پل صراط پر سے بجلی کی طرح گزرجائیں گے، پانچویں یہ کہ حساب سے محفوظ رہیں گے اور جو شخص نماز میں سستی کرتا ہے اس کو پندرہ طریقہ سے عذاب ہوتا ہے، پانچ طرح دنیا میں اور تین طرح سے موت کے وقت اور تین طرح قبر میں اور تین طرح قبر سے نکلنے کے بعد، دنیا کے پانچ تو یہ ہیں: اوّل یہ کہ اس کی زندگی میں برکت نہیں رہتی، دوسرے یہ کہ صلحاء کا نور اس کے چہرے سے ہٹالیا جاتا ہے، تیسرے یہ کہ اس کے نیک کاموں کا اجر ہٹادیا جاتا ہے، چوتھے اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں، پانچویں یہ کہ نیک بندوں کی دعاؤں میں اس کا استحقاق نہیں رہتا۔ موت کے وقت کے تین عذاب یہ ہیں: اوّل ذلت سے مرتا ہے، دوسرے بھوکا مرتا ہے، تیسرے پیاس کی شدت میں موت آتی ہے؛ اگر سمندر بھی پی لے تو پیاس نہیں بجھتی۔ قبر کے تین عذاب یہ ہیں: اوّل اس پر قبر اتنی تنگ ہوجاتی ہے کہ پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں، دوسرے قبر میں آگ جلادی جاتی ہے، تیسرے قبر میں ایک سانپ اس پر ایسی شکل کا مسلط ہوتا ہے جس کی آنکھیں آگ کی ہوتی ہیں اور ناخن لوہے کے اتنے لانبے کہ ایک دن پورا چل کر ان کے ختم تک پہونچا جائے، اس کی آواز بجلی کی کڑک کی طرح ہوتی ہے، وہ یہ کہتا ہے کہ مجھے میرے رب نے تجھ پر مسلط کیا ہے کہ تجھے صبح کی نماز ضائع کرنے کی وجہ سے آفتاب کے نکلنے تک مارے جاؤں اور ظہر کی نماز ضائع کرنے کی وجہ سے عصر تک مارے جاؤں اور پھر عصر کی نماز ضائع کرنے کی وجہ سے غروبِ آفتاب تک اور مغرب کی نماز ضائع کرنے کی وجہ سے عشاء تک اور عشاء کی نماز ضائع کرنے کی وجہ سے صبح تک مارے جاؤں، جب وہ ایک دفعہ اس کو مارتا ہے تو اس کی وجہ سے وہ مردہ ستر ہاتھ زمین میں دھنس جاتا ہے، اسی طرح قیامت تک اس کو عذاب ہوتا رہے گا۔ قبر سے نکلنے کے بعد کے تین عذاب یہ ہیں: ایک حساب سختی سے کیا جائیگا دوسرے حق تعالیٰ شانہ کا اس پر غصہ ہوگا، تیسرے جہنم میں داخل کردیا جائیگا (یہ کل میزان چودہ ہوئیں، ممکن ہے کہ پندھواں بھولے سے رہ گیا ہو) اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس کے چہرہ پر تین سطریں لکھی ہوتی ہیں: پہلی سطر: او اللہ کے حق کو ضائع کرنے والے۔ دوسری سطر: او اللہ کے غصے کے ساتھ مخصوص۔ تیسری سطر: جیسا تو نے دنیا میں اللہ کے حق کو ضائع کیا آج تو اللہ کی رحمت سے مایوس ہے۔ (الزواجر عن اقتراف الکبائر، باب الکبیرۃ السابعۃ والسبعون:۱/۳۵۲) نماز کے جسمانی فوائد (PRAYER AND BODY HEALTH) نماز ایک بہترین ورزش ہے سستی کاہلی اور بے عملی کے اس دور میں صرف نماز ہی ایک ایسی ورزش ہے کہ اگر اس کو صحیح طرز پر پڑھا جائے تو دنیا کے تمام دکھوں کا مداوا بن سکتی ہے، نماز کی ورزشیں جہاں بیرونی اعضاء کی خوشنمائی وخوبصورتی کا ذریعہ ہیں وہاں اندرونی اعضاء مثلاً دل، گردے، جگر، پھیپھڑے، دماغ، آنتیں، معدہ، ریڈھ کی ہڈی، گردن، سینہ اور تمام قسم کے (Glands) گلینڈز کی نشوونما کرتی ہیں؛ بلکہ جسم کو سڈول اور خوبصورت بناتی ہیں، یہ ورزشیں ایسی ہیں جن سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور آدمی غیرمعمولی طاقت کا مالک بن جاتا ہے؛ نماز میں بعض ارکان ایسے بھی ہیں جن سے چہرے کے نقش ونگار خوبصورت اور حسین نظر آنے لگتے ہیں۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۴۰،مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) ورزشی نظام میں ہرعمر کے لیے علیٰحدہ ورزشیں ہیں بڑوں کے لیے علیحدہ چھوٹوں کے لیے علیحدہ حتی کہ عورتوں اور مردوں کے لیے ورزشی نظام منفرد ہیں؛ لیکن نماز ایک ایسی ورزش ہے جو ہرعمر اور ہرجنس کے لیے یکساں موزوں اور فائدہ مند ہے۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۴۰،مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) نماز کا ورزشی چارٹ (EXERCISE CHART) آدمی تمام رات سویا رہتا ہے جس کی وجہ سے اعضاء مضمحل اور سست ہوجاتے ہیں جسم کا دوران خون سست ہوجاتا ہے اب اس جسم کو ایسی ورزش کی ضرورت ہے جس سے خون پھرسے پورے جسم میں مکمل طور پر پہنچ سکے اور جسم ازسرنو بالکل چست اور صحت مند ہوجائے تو اس کے لیے تہجد کی نماز ہے اور فجر کی نماز؛ پھروقفہ؛ پھر اشراق کی نماز؛ پھروقفہ کے بعد چاشت کی نماز اور پھر طویل وقفہ اور آدمی کام کاج کرتے کرتے پریشان ہوجاتا ہے تو پھر ظہر کی نماز کے لیے ورزشی پروگرام تیار ہوتا ہے؛ حتی کہ سوتے وقت نمازِ عشاء کا ورزشی پروگرام کچھ طویل ہوتا ہے کہ آدمی کھانا کھاتا ہے کچھ پیتا ہے نمازِ عشاء کی رکعتیں زیادہ ہیں تاکہ کھایا پیا ہضم ہوجائے اور غیرہضم کھانا جسم اور صحت کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنے۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۴۱،مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) ایک غیرمسلم ماہر کی حیرانگی ایک صاحب (اے آرقمر) اپنے یورپ کے سفرنامہ میں لکھتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور ایک انگریز مجھے کچھ دیر کھڑا دیکھتا رہا، جب میں نماز سے فارغ ہوا تو مجھے کہنے لگا کہ یہ ورزش کا طریقہ تم نے میری کتاب سے سیکھا ہے؛ کیونکہ میں نے بھی اسی طریقے سے ورزش کرنے کا طریقہ بتایا ہے جو شخص اسی طریقہ سے ورزش کرے گا وہ کبھی بھی طویل پیچیدہ اور سنسنی خیز امراض میں مبتلا نہ ہوگا؛ پھر اس ماہر نے وضاحت کی کہ اگر کھڑا آدمی فوراً سجدے کی ورزش میں چلا جائے تو اس سے اعصاب اور دل پر برااثر ہوتا ہے اس لیے میں نے اپنی کتاب میں یہ بات خاص طور پر تحریر کی ہے کہ پہلے کھڑے ہوکر ورزش کی جائے جس میں ہاتھ بندھے ہوئے ہوں (یعنی قیام) پھر جھک کر ہاتھوں اور کمر کی ورزشیں کی جائیں یعنی (رکوع) اور پھر سرکو زمین سے لگاکر ورزش کی جائے (یعنی سجدہ) یہ ورزش صرف ماہرین ہی کراسکتے ہیں۔ جب اس نے یہ بات کہی تو نمازی صاحب فرمانے لگے میں مسلمان ہوں اور میرے اسلام نے مجھے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے، میں نے آپ کی کتاب ہرگز نہیں پڑھی اور ایسا عمل دن میں کم از کم پانچ بار کرتا ہوں، اس بات کے سنتے ہی وہ انگریز ماہر حیران رہ گیا اور ان صاحب سے مزید اسلامی معلومات لینے لگا۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۴۱،مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) ایک فزیشن کا ردِعمل ایک مشہور ڈاکٹرنے اپنے اعصاب کی کمزوری، جوڑوں کا درد اور دیگر عضلاتی امراض کے لیے اپنا علاج نماز کے ذریعہ کیا، مسلسل علاج کے بعد وہ صحت مند ہوگیا اور تمام ادویات کا استعمال چھوڑ کر صرف نماز کے زیرِعلاج رہنے لگا، وہ اپنے ہرمریض کو نماز کی پابندی کی تاکید اور نماز کے ہرایک رکن کو سکون، اعتدال اور بالکل شرعی حیثیت کے مطابق کرنے کی خاص تنبیہ کرتا؛ اس طرح اس کے مریض جلد شفایاب ہونے لگے۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۴۲، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) آسٹریلیا کے ماہر کا مشورہ (OF AN AUSTRALAN EXPERT OPINON) ایک پاکستانی مریض دل کے مرض میں مبتلا علاج کراتے کراتے آخرکار جب آسٹریلیا میں علاج کے لیے پہنچا وہاں کے ایک مشہور ماہرِامراضِ قلب نے ان کے مکمل معائنہ کے بعد کچھ ادویات اور ایک ورزش تجویز کی کہ آپ میرے فزیووارڈ میں ورزش میری نگرانی میں آٹھ یوم کریں اسے جب ورزش کرائی گئی تو وہ مکمل خشوع وخضوع اور تسلی والی نماز ہی تھی، اب یہ پاکستانی مریض اس ورزش کو بالکل درست انداز سے کرنے لگے ڈاکٹر صاحب نے پوچھا آپ پہلے مریض ہیں کہ اتنی جلدی میری ورزش سیکھ کر اچھی طرح کرنا شروع کردیا ہے؛ حالانکہ یہاں تو مریض آٹھ یوم میں یہ طریقہ سیکھتا ہے تو مریض نے بتایا کہ میں مسلمان ہوں اور یہ طریقہ بالکل نماز کی طرح ہے اس لیے مجھے اس کے سمجھنے میں بالکل پریشانی نہیں ہوئی تو ڈاکٹر نے دوسرے روز اس مریض کو ادویات اور خاص ہدایت (اس ورزش کے بارے میں) دے کر رخصت کردیا۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۴۳، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) فزیوتھراپسٹ کی ہوشربائی ایک پاکستانی ڈاکٹر (ماجد زمان عثمانی) یورپ میں فزیوتھراپی میں اعلیٰ ڈگری کے لیے گئے جب وہاں ان کو بالکل نماز کی طرح کی ورزش پڑھائی اور سمجھائی گئی تو یہ اس ورزش کو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہم نے تو آج تک نماز کو ایک دینی فریضہ سمجھا اور پڑھ لیا؛ لیکن یہاں تو عجیب وغریب انکشافات ہیں کہ ورزش کے ذریعہ تو بڑے بڑے امراض ختم ہوجاتے ہیں، ڈاکٹرصاحب نے اس کی لسٹ دی کہ جو بیماریاں اس ورزش سے درست ہوسکتی ہیں: (۱)دماغی امراض (Mental Diseases) (۲)اعصابی امراض (Nerve Diseases) (۳)نفسیاتی امراض (Psychics Diseases) (۴)بے سکونی، ڈیپریشن اور بے چینی کے امراض (Restlessness Depression And Anxiety) (۵)دل کے امراض (Heart Diseases) (۶)جوڑوں کے امراض (Arthritis) (۷)یورک ایسڈ سے پیدا ہونے والے امراض (Diseases Due To Uric Acid) (۸)معدے اور السر کی شکایات (Stomach Ulcer) (۹)شوگر اور اس کے مابعد اثرات (Suger And Its After Effects) (۱۰)آنکھوں اور گلے کے امراض (Eye And E.N.T Diseases) (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۴۴، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) خاص تجربہ (SPECIAL EXPERIMENT) یہ بات تجربے میں آئی ہے کہ اگر آپ سارا دن کاروباری مصروفیات میں ڈوبے رہیں اور نماز ظہر میں جلدی پہنچ کر سنتیں پڑھیں اور جماعت کی نماز میں شریک ہوکر نماز مکمل ادا کریں تو اپنے جسم کی سابقہ اور موجودہ کیفیت کا اندازہ لگالیں، بندہ (حکیم طارق محمود صاحب) ایک دفعہ کسی کام کے سلسلے میں کراچی گیا مارکیٹ میں کام کے سلسلے میں گھومتا رہا حتیٰ کہ جسم اور دماغ تھک گیا دوست نے کہا کہ قریب مسجد ہے نماز پڑھ لیں جب میں نے نماز پڑھی تو اپنے آپ کو پھر سے تروتازہ پایا اور وہ احساس آج عرصہ گزرنے کے باوجود بھی محسوس کرتا ہوں۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۴۴، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) پروفیسر ڈاکٹربرتھم جوزف کا تجربہ (EXPERIMENT OF PROF,DR.BURTHOM JOZIF) مشہور امریکن ڈاکٹر کے ایک انٹرویو میں نماز اور اسلام کے متعلق اس کی زندگی کے تجربات شائع ہوئے، اس کا تجربہ ہے کہ نماز ایک مکمل اور متوازن ورزش ہے جس میں کمی اور بیشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا شاید اس ورزش کو ترتیب دینے والے نے موجودہ مشینی اور نفسیاتی دور کو بھانپ کر اس کو ترتیب دیا تھا، اس میں ہاتھوں کا اٹھانا پھرباندھنا اور نگاہ کو جمانا پھرہاتھ چھوڑنا اور جھکنا اور پھر سرکو جھکاکر دل ودماغ کی طرف جلدی اور زیادہ خون مہیا کرنے کا موقع دینا اور وقفے وقفے سے دوزانو بیٹھنا یہ سب کچھ ایک جامع ورزشی طریقہ ہے۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۴۵، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) نماز اور یوگا (PRAYER AND YOUGA) یوگا کے ماہرین نے نماز کو سانس کی مشق کا بالکل آسان طریقہ قرار دیا ہے، اس میں وہ تین مقام خاص طور پر بیان کرتے ہیں ایک قیام اور اس میں سجدہ کی جگہ نگاہ کا ارتکاز، دوسرا رکوع اس میں پاؤں کی جگہ نگاہ کا ارتکاز اور سجدہ میں سانس کی مشق اور سانس کا ارتکاز۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۴۵، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) اٹالین ماہرین کے تجربات (EXPERIMENTS OF ITALIAN EXPERTS) اٹلی کے ایک نومسلم جمال عبدالرحمن ماہرِنفسیات نے نماز کی ورزش کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے: ‘‘ورزش کا یہ عملی اصول ہے کہ اگر آپ کسی ورید، شریان یاکسی اور مخصوص عضو کی سختی دور کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے جسم کو بالکل ڈھیلا چھوڑ دیجئے پھر اس حصہ جسم میں تناؤ پیدا کیجئے اور کچھ دیر تناؤ کی حالت برقرار رکھنے کے بعد پھر ڈھیلا چھوڑ دیجئے میں نے ورزش کے اصول اور ضوابط اور ورزش کے لیے نشستیں بھی تخصیص کی ہیں، الگ الگ امراض کے لیے الگ الگ نشست یاآسن ہیں، مثلاً ریڑھ کی ہڈی کے مرض کو رفع کرنے کے لیے ایک الگ انداز سے نشست ہے اور دل کی تکلیف سے نجات پانے کے لیے دوسرا انداز نشست ہے کوئی گردوں کا مریض ہے تو اس کے لیے ایسا طریقہ تجویز کیا جائیگا جس سے گردے صحت مند ہوجائیں’’۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۴۶، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) امراضِ قلب سے بچاؤ دل کے ماہر ڈاکٹر صاحبان نے کئی سالوں کی محنت کے بعد ایک ورزش دریافت کی ہے جس سے دل کے امراض کم ہوجاتے ہیں اور یہ ورزش نماز سے ملتی جلتی ہے، جب ہم قیام کرتے ہیں تو جسم کے نچلے حصے کو خون زیادہ ملتا ہے اور جب ہم رکوع میں جاتے ہیں تو درمیانی حصے کو فائدہ ہوتا ہے اور جب ہم سجدے میں جاتے ہیں تو جسم کے اوپر والے حصے کو زیادہ خون ملتا ہے؛ لہٰذا نماز کے دوران جسم کے ہرحصے کو موزوں مقدار میں خون میسر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے کئی بیماریاں مثلاً دل کے امراض کم ہوجاتے ہیں، مشاہدے کی بات ہے کہ عابد لوگ اکثر نحیف ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے دل قوی ہوتے ہیں اور وہ دل کے امراض میں کم مبتلا ہوتے ہیں۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۷۱، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا)

خواجہ شمس الدین عظیمی کے افادات، نماز سے ہائی بلڈپریشر کا علاج نماز قائم کرنے کے لیے ہم سب سے پہلے وضو کا اہتمام کرتے ہیں، وضو کے دوران جب ہم اپنا چہرہ اور کھنیوں تک ہاتھ دھوتے ہیں، پاؤں دھوتے ہیں اور سرکا مسح کرتے ہیں تو ہمارے اندر دوڑنے والے خون کو ایک نئی زندگی ملتی ہے جس سے ہمیں سکون ملتا ہے، اس تسکین سے ہمارا سارا اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے، پرسکون اعصاب سے دماغ کو آرام ملتا ہے، اعضائے رئیسہ، سر، پھیپھڑے، دل اور جگر وغیرہ کی کارکردگی بحال ہوتی ہے، ہائی بلڈپریشر کم ہوکر نارمل ہوجاتا ہے، چہرے پر رونق اور ہاتھوں میں رعنائی اور خوبصورتی آجاتی ہے، وضو کرنے سے اعصاب کا ڈھیلاپن ختم ہوجاتا ہے، آنکھیں پرکشش ہوجاتی ہیں، سستی کاہلی دور ہوجاتی ہے، آپ کبھی بھی تجربہ کرسکتے ہیں کہ ہائی بلڈپریشر کے مریض کو وضو کرائیں تو بلڈپریشر کم ہوجائیگا۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۷۲، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) میرا عجیب واقعہ میرے ایک دوست امریکہ میں اپنے جسم کو پتلا کرنے کے علاج کے لیے گئے، امریکہ کے ایک ماہرڈاکٹر نے کہا کہ تم مسلمان ہو تمہارا علاج نماز ہے، نماز پڑھو اس سے تمہارا جسم اسمارٹ ہوجائیگا؛ اگر پھر بھی کوئی کمی رہ جائے تو نماز تہجد پڑھو۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۷۴، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) افادات: حضرت قبلہ حافظ ذوالفقار احمد نقشبندی مدظلہٗ العالی، واشنگٹن کا ڈاکٹر نماز کا قائل ایک دفعہ میری واشنگٹن میں ایک ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی وہ کہتا تھا میرا دل کرتا ہے کہ سارے ملک میں نماز لاگو کردوں، میں نے پوچھا وہ کیوں بھائی؟ کہنے لگا اس کے اندر اتنی حکمت ہے کہ کوئی حد نہیں، وہ جلد اسپیشلسٹ (Skin Specialist) تھا، کہنے لگا اس کی حکمت یہ ہے کہ آپ تو انجینئر ہیں آپ تو سمجھ لیں گے، میں نے کہا فرمائیں، کہنے لگا اگر انسان کے جسم کی فزیالوجی (Physiology) کو دیکھا جائے تو انسان کا دل وہ پمپ ہے جو خون کو لے بھی رہا ہے، وہ Input بھی ہے اور Output بھی کررہا ہے، سارے جسم میں تازہ Fresh خون جارہا ہوتا ہے، اور دوسرا واپس آرہا ہوتا ہے، اس نے کہا کہ جب انسان بیٹھا ہوتا ہے یاکھڑا ہوتا ہے تو جو جسم کے حصے نیچے ہیں ان میں پریشر نسبتاً زیادہ ہوتا ہے، کہنے لگا سمجھنے کے لیے مثلاً تین منزلہ عمارت ہو اور نیچے پمپ لگا ہو تو نیچے تو پانی ہوگا اور دوسری منزل پر بھی کچھ پانی پہنچ جائیگا اور تیسری منزل پر پانی بالکل نہیں پہنچے گا حالانکہ وہی پمپ ہے جو نیچے مکمل پانی دے رہا ہے لیکن تیسری منزل کو بالکل پانی نہیں دے رہا، کہنے لگا کیونکہ پمپ پانی تو دے رہا ہے لیکن اس کا ہیڈ (Head) اتنا نہیں ہے کہ وہ پانی کو مطلوبہ جگہ پہنچاسکے؛ اگر اسی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سوچیں تو انسان کا دل خون پمپ کررہا ہے اوریہ خون نیچے کے اعضاء میں بالکل پہنچ رہاہے، ہرجگہ پر؛ لیکن جو اوپر کے اعضاء ہیں ان میں اتنا نہیں پہنچ رہا ہو تا، جب کوئی ایسی صورت آتی ہے کہ انسان کا سرنیچے ہوتا ہے اور دل اوپر ہوتا ہے تو خون سر کے اندر بھی Flooded ہوکر پہنچتا ہے، مثلاً جب انسان نماز کے سجدے میں جاتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ جیسے پورے چہرے میں گویا خون بھرگیا ہے، آدمی سجدہ تھوڑا سالمبا کرے تو محسوس کرتا ہے کہ چہرے کی باریک رگوں تک مکمل خون پہنچ گیا ہے، تو ڈاکٹر کہنے لگا عام طور پر انسان جب بیٹھا ہوتا، یاکھڑا ہوتا ہے، یالیٹا ہوتا ہے، بیٹھے، کھڑے اور لیٹے انسان کا دل نیچے ہی ہوتا ہے اور سر اوپر ہوتا ہے، کہنے لگا ایک ہی ایسی صورت ہے کہ نماز میں جب انسان سجدے میں جاتا ہے تو اس کا دل اوپر ہوتا ہے اور سرنیچے ہوتا ہے، خون Flooded ہوکر جاتا ہے یاپھر دوسری صورت یہ ہے کہ انسان الٹا سرکے بل کھڑا ہو اور یہ مشکل ہے، نمازی آدمی کے چہرے پر تازگی رہتی ہے کیونکہ نماز اور سجدے کی وجہ سے اس کی تمام شریانوں میں خون پہنچتا رہتا ہے اور جو نماز نہیں پڑھتے ان کے چہرے پر ایک افسردگی سی پھیلی رہتی ہے۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۷۷، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) نماز ایک مکمل اور جامع مراقبہ، موجودہ سائنس کا اعتراف آج مغرب کی دنیا اس کو (Meditation) کے نام دے رہی ہے (Meditation) کے کلب بنے ہوئے ہیں، مرد، عورتیں جاتی ہیں، میں نے فلاڈلفیا کی یونیورسٹی آف پیلوونیا میں لیکچردیا، مجھ سے لوگوں نے سوال کیا کہ یہ (Meditation) کیا ہے؟ میں نے ایک Counter Question کیا کہ آپ کیا جانتے ہیں؟ وہ کہنے لگے کہ ہرجگہ محلہ محلہ Meditation Centre کھلے ہوئے ہیں، مرد، عورتیں جاتی ہیں وہ ان کو بٹھادیتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ اپنی ناک کے سرے پر توجہ مرکوز کرو، کبھی کہتے ہیں اپنی ناف پر توجہ کو مرکوز کرو، ہرچیز بھول جاؤ Feel Relax وغیر وغیرہ؛ وہ لوگ گھنٹہ آدھ گھنٹہ بیٹھے رہتے ہیں، پیسے بھی دیتے ہیں، ٹائم بھی دیتے ہیں اور ان کے احسان مند بھی ہوتے ہیں کہ ہم نے (Feel Relax) کیا، اب سوچئے کہ وہ تھک تھکاکر ہماری راہ پر آرہے ہیں، اس میں شک نہیں کہ اللہ نے جو سکون اپنی یاد کے اندر رکھا ہے وہ کسی چیز میں نہیں ہے۔ (بحوالہ: مواعظ انجینئر صاحب مدظلہ العالی۔ سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۷۹، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) نمازمجموعہ عجائب یورپ میں ایسے کلب موجود ہیں جہاں لوگ رقم دے کر ایسی محفل میں بیٹھتے ہیں جس میں انہیں ہنسایا جاتا ہے اور وہ ہنستے ہوئے غم کو وقتی طور پر بھول جاتے ہیں اور پھر وہی زندگی اور پھر وہی نیاعذاب، یورپ میں ایسے سنٹربھی ہیں جہاں لوگوں کو رولایا جاتا ہے اور لوگ رورو کر اپنا غم زندگی دور کرتے ہیں؛ لیکن غم زندگی کہاں جائے، عقل کی عینک سے دیکھیں کیا یہ خوشی یعنی اللہ تعالیٰ سے نماز میں ملاقات اور نماز کا سکون اور غم یعنی گناہوں کے آنسو، اللہ تعالیٰ کی محبت اور ملاقات کے آنسو نماز میں ممکن ہیں، واقعی نماز خوشی اور غم کی ملی جلی کیفیت ہے، ایسا غم جس کے بعد سکون اور خوشی ہی خوشی محسوس ہوتی ہے اور اس کے بعد غم کی کوئی چیز قریب نہیں آتی۔ (بحوالہ: ویکلی ‘‘سن’’ Weekly Sun۔ سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۷۹، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) خشوع وخضوع سے نفسیاتی امراض کا خاتمہ انسان دنیا میں پھنستا چلاجارہا ہے اور جتنا دنیا میں پھنستا ہے اتنا ہی بے سکون اور بے چین ہوتا ہے، اب پھر سکون کی تلاش میں مزید کوشش کرتا ہے مزید دنیا حاصل کرتا ہے لیکن پھر مزید پھنستا ہے، مکھی شہد کے میٹھے پر آئی، بیٹھی، کچھ کھایا لیکن پھرپھنس گئی اب نکلنے کے لیے کوشش کی تو پھنستی چلی گئی، آخر کار ریشم کے کیڑے کی طرح مرگئی، بالکل اسی طرح انسان کی کیفیت ہے لیکن نماز واحد علاج ہے سکون کا؛ لیکن کونسی نماز؟ میری اور آپ کی، نہیں ہرگز نہیں بلکہ وہ نماز جس کے اندر خشوع وخضوع ہو۔ ‘‘خشوع’’ اندر کے سکون، دھیان اور توجہ کا نام ہے، ‘‘خضوع’’ باہر کی ترتیب اور توجہ کا نام ہے اور یہی دونوں چیزیں مطلوب ہیں ‘‘ٹیلی پیتھی’’ میں؛ یہی دوچیزیں مطلوب ہیں ‘‘ہپناٹزم’’ میں؛ یہی دوچیزیں مطلوب ہیں ‘‘یوگا’’ میں یہ سب مل کر علاج انسانی بن جاتا ہے، ماہر نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ نماز مکمل سکون ہے اور اس وقت نفسیاتی مریضو ںکو نماز دھیان سے پڑھنے کی ترغیب دی جاتی ہے، ایک ماہر نفسیات (Pcshycologist) کہنے لگے کہ اگر لوگوں کو خشوع وخضوع کے فوائد اور محاسن کا علم ہوجائے تو وہ کاروبار چھوڑ کر ایسی نماز پڑھیں کہ وہ پھر دنیا بھول جائیں، کہنے لگے میرے پاس ایک مریض آیا تمام دوائی علاج کرچکا تھا، میں نے کہا میرا صرف اور صرف یہی مشورہ ہے کہ نماز تہجد سے لے کر نماز اوابین تک تمام نفل اور فرض نماز پڑھیں اور پڑھیں اس دھیان اور توجہ سے جس طرح دین کہتا ہے، کچھ عرصہ کے بعد مریض نے بتایا کہ واقعی میرے امراض سے (۳/۱) ایک تہائی حصہ ختم ہوگیا ہے۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۸۱، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) خودکشی کے رحجانات میں کمی کمفرٹ سنٹر آف فرانس (Comfort Centre Of France) کی تحقیق کے مطابق جب خود کشی کی طرف مائل مریضوں کو ایسا مراقبہ کرایا گیا جو نہ صرف نماز سے ملتا جلتا ہے بلکہ اس میں معمول کو ادھر ادھر نہ دیکھنا، دھیان اور توجہ صرف عامل کی طرف رکھنا وغیرہ میں مشغول کرکے مکمل خشوع وخضوع کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے، تو مریض خود بخود خودکشی کی طرف سے متنفرہوجاتے ہیں؛ وہاں ڈاکٹر الیگزنڈر (Dr.Alexander) کا کہنا ہے ہم نے اسلام میں خود کشی کم دیکھی ہے تحقیق پر پتہ چلا کہ وضو اور نماز اور خاص طور پر دھیان والی نماز سے یہ رحجان کم اور آخر کار بالکل ختم ہوجاتے ہیں۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۸۱، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) سرولیم کرکس کی تحقیق مشہور یورپی ماہر روحانیات ایک کتاب (Research In The Phenomenon Of Spiritualism) میں لکھتا ہے: ‘‘حرص، طمع، لالچ، دروغ گوئی، بخل، کینہ، حسد، انتقام وہ ذلیل امراض ہیں جن سے انسان ایسے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوتا ہے؛ جہاں سے نکلنا اس کے بس کا روگ نہیں صرف موت نکالتی ہے؛ لیکن اگر یہی آدمی مسلمانوں کی نماز انتہائی خشوع وخضوع اور دھیان سے پڑھنا شروع کردے تو بہت جلد ان امراض سے نجات حاصل کرسکتا ہے، مشہور مغربی مستشرق وائس ایڈمرل نے اپنی کتاب "Usborne Moor The Voice" میں دھیان اور توجہ کو نماز کا حصہ نہیں بلکہ سکون کا حصہ قرار دیا ہے؛ بلکہ اس نے کہا ہے کہ اگر روحانی مقام تک پہنچنا چاہتے ہو تو نماز پڑھو، نماز پڑھو، نماز پڑھو’’!!!۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۸۲، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) شرائطِ نماز یعنی وہ چیزیں جو نماز میں داخل نہ ہوں؛ لیکن نماز کی درستگی اُس پر موقوف ہو۔ (ردالمحتار، باب شروط الصلاۃ: ۳/۲۴۲) (۱)نجاست اور حدث سے بدن کا پاک ہونا۱۲۸؎ (۲)کپڑوں کا پاک ہونا۱۲۹؎ (۳)جگہ کا پاک ہونا۱۳۰؎ (۴)ستر کا چھپانا۱۳۱؎ (مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنے تک ہے اور عورت کا ستر مکمل جسم ہے، سوائے چہرہ، ہاتھ اور پاؤں کی ہتھیلیوں کے) (۵)وقت کا ہونا۱۳۲؎ (۶)نیت کرنا۱۳۳؎ (۷)قبلہ رُخ کرنا۱۳۴؎۔ (۱۲۸)‘‘یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاۃِ فاغْسِلُواْ وُجُوہَکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ إِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ وَإِن کُنتُمْ جُنُباً فَاطَّہَّرُواْ’’ المائدۃ:۶۔ ‘‘عن مصعبِ بنِ سعد قال دخل عبد اللہِ بن عمر علی ابنِ عامِر یعودہ وہومرِیض فقال ألاتدعو اللہ لی یاابن عمر قال إنی سمعت رسول اللہﷺ یقول لاتقبل صلاۃ بغیر طہور ولاصدقۃ من غلول’’ مسلم، باب وجوب الطہارۃ الصلاۃ، حدیث نمبر:۳۲۹۔ (۱۲۹)‘‘وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ’’ المدثر:۴۔ ‘‘فِیْہِ رِجَالٌ یُحِبُّونَ أَن یَتَطَہَّرُواْ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ’’ التوبہ:۱۰۸۔ ‘‘قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَکَّی’’ الاعلیٰ:۱۴۔ (۱۳۰)‘‘وَإِذْجَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَأَمْناً وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی وَعَہِدْنَا إِلَی إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ أَن طَہِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّائِفِیْنَ وَالْعَاکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ’’ البقرۃ:۱۲۵۔ ‘‘عن عائِشۃ قالت أمررسول اللہِﷺ بِبِنائِ المساجِدِ’’ ترمذی، باب ماذکر فی تطییب المساجد فی الدور وأن تنظف وتطیب، حدیث نمبر:۵۴۲۔ ،وھٰکذا فی ابی داؤد، باب اتخاذ المساجد فی الدور، حدیث نمبر:۳۸۴۔ (۱۳۱)‘‘یَابَنِیْ آدَمَ خُذُواْ زِیْنَتَکُمْ عِندَ کُلِّ مَسْجِدٍ’’ الاعراف:۳۱۔ ‘‘عن عائشۃ عن النبیﷺ أنہ قال لایقبل اللہ صلاۃ حائض إلابخمار’’ ابوداؤد، باب المرأۃ تصلی بغیرحمار، حدیث نمبر:۵۴۶۔ وھٰکذا فی الترمذی، باب ماجاء لاتقبل صلاۃ المرأۃالا بخمار، حدیث نمبر:۳۴۴ وقال ہذا حدیث حسن۔ ‘‘حدثنا عمرو بن شعیب عن أبِیہِ عن جدِہِ قال قال رسول اللہﷺ مروا صِبیانکم… فلا تنظر الأمۃ إلی شیٔ من عورتہ فإن ماتحت السرۃ إلی رکبتہ من العورۃ’’ دارِقطنی، باب الامر بتعلیم الصلوٰت والضرب علیھا وحدالعورۃ التی یجب سترھا، حدیث نمبر:۸۹۹۔ ‘‘عن سعِیدِ بنِ جبیر عنِ ابنِ عباس قال ولایبدِین زینتہن إلاماظہر منہا قال: مافی الکف والوجہ’’ السنن الکبری للبیہقی، باب عورۃ المرأۃ الحرۃ، حدیث نمبر:۳۳۳۹۔ (۱۳۲)‘‘إِنَّ الصَّلاَۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَاباً مَّوْقُوتا’’ النساء:۱۰۳۔ ‘‘حدثنا صاحِب ہذِہِ الدارِ وأشار إِلی دارِعبدِ اللہ قال سألت النبِیؐ أی العملِ أحب إِلی اللہ قال الصلاۃ علی وقتھا’’ بخاری، باب فضل الصلاۃ لوقتھا، حدیث نمبر:۴۹۶۔ (۱۳۳)‘‘وَمَاأُمِرُوا إِلَّالِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَاء’’ البینہ:۵۔ بخاری، ‘‘باب ماجاء إن الأعمال بالنیۃ والحسبۃ ولکل امریٔ مانوی فدخل فیہ الإیمان والوضوء والصلاۃ والزکاۃ والحج والصوم والأحکام وقال اللہ تعالی ‘‘قل کل یعمل علی شاکلتہ’’صفحہ نمبر:۱/۹۳۔ (۱۳۴)‘‘عن أنسِ بنِ مالِک قال قال رسول اللہﷺ من صلی صلاتنا واستقبل قبلتنا وأکل ذبیحتنا فذلک المسلم الذی لہ ذمۃ اللہ وذم رسولہ فلا تخفروا اللہ فی ذمتہ’’ بخاری، باب فضل استقبال القبلۃ یستقبل باطراف رجلیہ، حدیث نمبر:۳۷۸۔ البحرالرائق، باب شروط الصلاۃ:۳/۴۹،۱۴۲۔ فرائضِ نماز چھ (۶) ہیں (۱)تکبیرِ تحریمہ کہنا یعنی پہلی تکبیر کا تلفظ زبان سے کرنا۱۳۵؎ (۲)فرض، واجب نمازوں میں قیام یعنی کھڑا ہونا؛ البتہ کوئی عذر ہوتو اس کے لیے بیٹھ کر یالیٹ کر نماز پڑھنا جائز ہے، جیسے بیماری یابڑھاپا یاننگے بدن ہونا، سنت اور نفل نمازوں میں قیام فرض نہیں ہے بلاعذر بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے؛ لیکن ثواب آدھا ملے گا۱۳۶؎ (۳)قرآن شریف کی تلاوت کرنا۱۳۷؎ (۴)رکوع۱۳۸؎ (۵)دونوں سجدے۱۳۹؎ (۶)قاعدہ آخرہ۱۴۰؎۔ (۱۳۵)‘‘وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّی’’ الاعلیٰ:۱۵۔ ‘‘وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ’’ المدثر:۳۔ ‘‘عن أبِی ہریرۃ قال قال النبِیﷺ إِنما جعِل الإِمام لیؤتم بہ فإذا کبر فکبروا’’ بخاری، باب افتتاح الصلاۃ، حدیث نمبر:۶۹۲۔ ‘‘عن أبِی سعِید قال قال رسول اللہﷺ مِفتاح الصلاِۃ الطہور وتحریمہا التکبیر وتحلیلہا التسلیم’’ ترمذی، باب ماجاء فی تحریم الصلاۃ وتحلیلھا، حدیث نمبر:۲۲۱۔ (۱۳۶)‘‘حَافِظُواْ عَلَی الصَّلَوَاتِ والصَّلاَۃِ الْوُسْطَی وَقُومُواْ لِلّہِ قَانِتِیْنَ’’ البقرۃ:۲۳۸۔ ‘‘عن عِمران بنِ حصینؓ قال کانت بِی بواسِیر فسألت النبِیﷺ عن الصلاۃ فقال صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلی جنب’’ بخاری، باب اذالم یطق قائما صلی علی جنب، حدیث نمبر:۱۰۵۰۔ ‘‘عن عائِشۃ قالت کان رسول اللہﷺ یصلِی لیلا طویلا فإذا صلی قائما رکع قائما وإذا صلی قاعدا رکع قاعدا’’ مسلم، باب جواز النافلۃ قائماً وقاعداً وفعل بعض الرکعۃ قائماً، حدیث نمبر:۱۲۰۲۔ ‘‘قال سألت رسول اللہﷺعن صلاۃ الرجل قاعدا فقال إن صلی قائما فہو أفضل ومن صلی قاعدا فلہ نصف أجر القائم ومن صلی نائما فلہ نصف أجر القاعد’’ بخاری، باب صلاۃ القاعد، حدیث نمبر۱۰۴۸۔ (۱۳۷)‘‘فَاقْرَؤُوا مَاتَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ’’ مزمل:۲۰۔ ‘‘عن أبِی ہریرۃ أن رسول اللہﷺ قال لاصلاۃ إِلابِقِراء ۃٍ’’ مسلم، باب وجوب قرأۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ، حدیث نمبر:۵۹۹۔ (۱۳۸۔۱۳۹)‘‘یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا ارْکَعُوا وَاسْجُدُوا’’ حج:۷۷۔ (۱۴۰)‘‘عن رِفاعۃ بنِ رافِع أن رسول اللہﷺ بینما ہوجالِس… ثم اجلس فاطمئن جالسا ثم قم فإذا فعلت ذلک فقد تمت صلاتک’’ ترمذی، باب ماجاء فی وصف الصلاۃ، حدیث نمبر:۲۷۸۔ العنایۃ: ۱/۴۴۴۔ بدائع الصنائع، فصل ارکان الصلاۃ: ۱/۴۳۹، ۴۴۶۔ واجباتِ نماز تیرہ (۱۳) ہیں (۱) فاتحہ پڑھنا۱۴۱؎ (۲)کوئی سورت یاایک بڑی آیت یاتین چھوٹی آیتیں فرض کی پہلی دورکعت، واجب اور سنن ونفل کی ہررکعت میں پڑھنا۱۴۲؎ (۳)فرض کی پہلی دو رکعتوں کو قرأت کے لیے متعین کرنا۱۴۳؎ (۴) فاتحہ کو سورت پر مقدم کرنا۱۴۴؎ (۵)ارکان میں ترتیب برقرار رکھنا۱۴۵؎ (۶)ارکان کو اطمینان سے ادا کرنا۱۴۶؎ (۷)قعدہ اولیٰ کرنا۱۴۷؎ (۸)قعدہ اولیٰ میں تشہد کا پڑھنا۱۴۸؎ (۹)قعدہ آخرہ میں تشہد کا پڑھنا۱۴۹؎ (۱۰)لفظ سلام کے ذریعہ نماز سے نکلنا۱۵۰؎ (۱۱)وتر کی آخری رکعت میں دعا ئے قنوت پڑھنا۱۵۱؎ (۱۲)عیدین میں چھ تکبیراتِ زائد کہنا۱۵۲؎ (۱۳)فجر، جمعہ اور عیدین کی ہررکعت میں اور مغرب وعشاء کی پہلی دورکعتوں میں جہراً قرأت کرنا بقیہ نمازوں میں سراً قرأت کرنا۱۵۳؎۔ (۱۴۱)‘‘عن عبادۃ بن الصامت أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَاصَلَاۃِ لَمَنْ لَمْ یَقْرَأْبِفَاتِحَۃِ الْکِتَاب’’ بخاری، باب وجوب القرأۃ للامام والماموم فی الصلوات کلھا، حدیث نمبر:۷۱۴۔ (۱۴۲)‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِﷺ أَنْ أُنَادِيَ أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ’’ ابوداؤد، باب من ترک القرأۃ فی صلاتہ بفاتحۃ الکتاب، حدیث نمبر:۶۹۷۔ ‘‘عن عبداللہ بن قتادۃ عن ابیہ قال کان النبیﷺ یقرأ فی الرکعتین الاولین من صلاۃ الظھر بفاتحۃ الکتاب وسورتین وکان یطول فی الأولی وکان یطول فی الرکعۃ الأولی من صلاۃ الصبح ویقصر فی الثانیۃ’’ بخاری، باب القرأۃ فی الظھر، حدیث نمبر:۷۱۷۔ ‘‘عن جابر بن سمرۃ أن رسول اللہﷺ کان یقرأ فی الظہر والعصر بالسماء ذات البروج والسماء والطارق وشبھھما، وقال ہذا حدیث حسن صحیح وروی عنہ انہ کان یقرأ فی الرکعۃ الاولی من الظھر قدرثلاثین آیۃ’’ ترمذی، باب ماجاء فی القرأۃ فی الظھر والعصر، حدیث نمبر:۲۸۲۔ (۱۴۳)‘‘عن ابی قتادۃ قال کان النبیﷺ یَقْرَأُ فِی الرَّکعْتَیْنِ الأولَیَیْنِ مِنْ صَلَاۃِ الظُھر بفاتحۃ الکتاب وسورتین’’ بخاری، باب القرأۃ فی الظہر، حدیث نمبر:۷۱۷۔ (۱۴۴)‘‘عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أُمِرْنَا أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَاتَيَسَّرَ’’ ابوداؤد، بَاب مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، حدیث نمبر:۶۹۵۔ ‘‘تقديم الفاتحة على قراءة السورة، لمواظبة النبي صلّى الله عليه وسلم على ذلك’’ الفقہ الاسلامی وأدلتہ، واجبات الصلاۃ:۲/۳ (۱۴۵)‘‘انہ سمع اباھریرۃؓ یقول کان رسول اللہﷺ اذاقام الی الصلاۃ کبرحین یقوم ثم یکبر حین یرکع ثم یقول سمع اللہ لمن حمدہ حین یرفع صلبہ من الرکعۃ ثم یقول وہو قائم ربنا لک الحمد’’ بخاری، باب التکبیراذاقام من السجود، حدیث نمبر:۷۴۷۔ ‘‘رعاية الترتيب بين القراءة والركوع، وفيما يتكرر في كل ركعة، فيأتي بالسجدة الثانية قبل الانتقال لغيرها من أفعال الصلاة، بدليل المواظبة منه صلّى الله عليه وسلم على مراعاة الترتيب’’ الفقہ الاسلامی وأدلتہ، واجبات الصلاۃ:۲/۴ (۱۴۶)‘‘عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہﷺ دخل المسجد فدخل رجُلٌ فصلی فسلم عل النبی صلی اللہ علیہ وسلم فرد وقال ارجع فصل فإنک لم تصل فرجع یصلی کماصلی ثم جاء فسلم علی النبی ﷺ فقال ارجع فصل فإنک لم تصل ثلاثا فقال والذی بعثک بالحق ماأحسن غیرہ فعلمنی فقال إذاقمت إلی الصلاۃ فکبر ثم اقرأ ماتیسر معک من القرآن ثم ارکع حتی تطمئن راکعا ثم ارفع حتی تعدل قائما ثم اسجد حتی تطمئن ساجدا ثم ارفع حتی تطمئن جالسا وافعل ذلک فی صلاتک کلہا’’ بخاری، باب وجوب القرأۃ للامام والماموم، حدیث نمبر:۷۱۵۔ ‘‘عن أبی ھریرۃ ھکذافی المسلم’’ باب وجوب القرأۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ، حدیث نمبر:۶۰۲۔ (۱۴۷۔۱۴۸)‘‘عن عبداللہ قال کنالاندری مانقول إذاصَلَّیْنَا فَعَلَّمَنَا نَبِیُّ اللہﷺ جَوَامِعَ الْکَلِمِ فقال لنا قولوا التحیات للہ والصلوات والطیبات السلام علیک أیہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین أشہد أن لاإلہ إلااللہ وأشہد أن محمدا عبدہ ورسولہ’’ نسائی، باب کیف التشہد الاوّل، حدیث نمبر:۱۱۵۴۔ ‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا لَانَدْرِي مَانَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ..... فَقَالَ إِذَاقَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَقُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ، الخ’’ نسائی، باب کیف التشھد الأول، حدیث نمبر: ۱۱۵۱ (۱۴۹)‘‘عن شقیق بن سلمۃ قال قال عبداللہ کنا اذاصلینا خلف النبیﷺ قلنا السلام علی جبریل ومیکائیل السلام علی فلان وفلان فالتفت إلینا رسول اللہ ﷺ فقال إن اللہ ہوالسلام فإذا صلی أحدکم فلیقل التحیات للہ والصلوات والطیبات السلام علیک أیہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین فإنکم إذاقلتموہا أصابت کل عبد للہ صالح فی السماء والأرض أشہد أن لاإلہ إلااللہ وأشہد أن محمدا عبدہ ورسولہ’’ بخاری، باب التشہد فی الآخرۃ، حدیث نمبر:۷۸۸۔ ‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا لَانَدْرِي مَانَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ..... فَقَالَ إِذَاقَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَقُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ، الخ’’ نسائی، باب کیف التشھد الأول، حدیث نمبر: ۱۱۵۱۔ ‘‘قراءة التشهد في الجلوس الأخير، لمواظبة النبي صلّى الله عليه وسلم عليه’’ الفقہ الاسلامی وأدلتہ، واجبات الصلاۃ:۲/۵ (۱۵۰)‘‘عن عامر بن سعدؓ عن ابیہ قال کنت أری رسول اللہﷺ يُسَلِّم عَنْ یَمِینِہِ وَعنْ یَسَارِہِ حَتَّی أَرَی بَیَاضَ خَدِّہِ’’ مسلم، باب السلام للتحلیل من الصلاۃ عندفراغھا، حدیث نمبر۹۱۶۔ (۱۵۱)‘‘عن عبدالرحمن بن الأسود عن ابیہ قال: کان عبداللہ لایقنت فی شئی من الصلوات الا فی الوتر قبل الرکعۃ’’ المعجم الکبیر، باب عبداللہ بن مسعود الھذلی، حدیث نمبر۹۱۶۵۔ صفحہ نمبر: ۹/۲۳۸۔ (۱۵۲)‘‘ثم أقبل علینا بوجہہ حین انصرف، قال: لاتنسوا، کتکبیر الجنائز، وأشار بأصابعہ، وقبض إبہامہ’’ شرح معانی الآثار، باب صلاۃ العیدین کیف التکبیر فیھا: ۶/۲۵ فہذا حدیث حسن الاسناد۔ ‘‘أن بن مسعود کان یکبر فی العیدین تسعا تسعا أربعا قبل القراء ۃ ثم کبر فرکع وفی الثانیۃ یقرأ فإذا فرغ کبر أربعا ثم رکع’’ مصنف عبدالرزاق، باب التکبیر فی الصلاۃ یوم العید، حدیث نمبر:۵۶۸۶۔ (۱۵۳)‘‘عن ابی معمرؓ قال قال قلت لخباب بن الأرت أکان النبیﷺ یقرأ فی الظھر والعصر قال نعم قال قلت بأی شیٔ کنتم تعلمون قراء تہ قال باضطراب لحیتہ’’ بخاری، باب القرأۃ فی العصر، حدیث نمبر:۷۱۹۔ ‘‘عن ابن عباس قال ماأدری کان رسول اللہﷺ یقرأ فی الظھروالعصر؟ ولکنا نقرأ’’ مصنف ابن ابی شیبۃ، باب ماتعرف بہ القرأۃ فی الظھر والعصر، حدیث نمبر:۳۶۵۷۔ ‘‘عن جبیر بن مطعم قال سمعت رسول اللہﷺ قرأ فی المغرب بالطور’’ بخاری، باب الجھرفی المغرب، حدیث نمبر۷۲۳۔ ‘‘عن ابی رافع قال صلیت مع ابی ھریرۃؓ العتَمَۃَ فقرأَ إذا السماء انشقت’’ بخاری وباب الجھر فی العشاء، حدیث نمبر:۷۲۴۔ ‘‘عن عبداللہ بن عباسؓ قال انطلق النبیﷺ فی طائفۃ من أصحابہ عامدین إلی سوق عکاظ وقد حیل بین الشیاطین وبین خبر السماء وأرسلت علیہم الشہب فرجعت الشیاطین إلی قومہم… وہویصلی بأصحابہ صلاۃ الفجر فلما سمعوا القرآن استمعوا لہ فقالوا ہذا واللہ الذی حال بینکم وبین خبر السماء فہنالک حین رجعوا إلی قومہم وقالوا یاقومنا، إناسمعنا قرآنا عجبا یہدی إلی الرشد فآمنا بہ ولن نشرک بربنا حدا’’ بخاری وباب الجھر بقرأۃ صلاۃ الفجر وقالتہ ام سلمۃ، حدیث نمبر:۷۳۱۔ ‘‘وعن ابن عباسؓ قال قال قرأ النبیﷺ فیما أمر وسکت فیما أمر’’ بخاری وباب الجھر بقرأۃ صلاۃ الفجر حدیث نمبر:۷۳۲۔ ردالمحتار، باب وجوب الصلاۃ:۳/۴۲۶۔ العنایۃ، باب صفۃ الصلاۃ:۱/۴۵۷۔

نماز کی مکمل سنتیں اکاون (۵۱) ہیں قیام (یعنی نماز میں کھڑا ہونا) کی گیارہ (۱۱) سنتیں ہیں (۱)تکبیرِتحریمہ کے وقت سیدھا کھڑا ہونا یعنی سرکو نہ جھکانا۱؎ (۲)دونوں پیروں کے درمیان چار اُنگل کا فاصلہ رکھنا اور پیروں کی انگلیاں قبلہ کی طرف رکھنا۲؎ (۳)مقتدی کی تکبیرِتحریمہ امام کی تکبیرِتحریمہ کے ساتھ ہونا۳؎ (۴)تکبیرِتحریمہ کے وقت دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اُٹھانا۴؎ (۵)ہتھیلیوں کو قبلہ کی طرف رکھنا۵؎ (۶)اُنگلیوں کو اپنی حالت پر رکھنایعنی نہ زیادہ کھلی ہو اور نہ زیادہ بند۶؎ (۷)داہنے ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کے پشت پر رکھنا۷؎ (۸)چھوٹی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بناکر گٹے (یعنی پہنچے) کو پکڑنا۸؎ (۹)درمیانی تین اُنگلیاں کلائی پر رکھنا۹؎ (۱۰)ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا۱۰؎ (۱۱)ثناء پڑھنا۱۱؎۔ (۱۔۲)عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ(مسند احمد حديث أبى رافع رضي الله عنه ۲۳۹۰۷)عن ابن جريج قال : أخبرني عبد الرحمن بن سابط أن وجه الصلاة أن يكبر الرجل بيديه ، ووجهه ، وفيه ، ويرفع رأسه شيئا حين يبتدئ ، وحين يركع ، وحين يرفع رأسه.( مصنف عبد الرزاق باب تكبيرة الافتتاح ورفع اليدين ۶۷/۲) ‘‘عن ابی عبیدۃ ان عبداللہ رضی اللہ عنہ رأی رجلاً یُصَلّی قَدْصَفَّ بَیْنَ قَدْمَیْہِ فقد خالف السنۃ ولوراوح بینھما کان أفضل’’ نسائی، باب الصف بین القدمین فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۸۸۲۔ ‘‘عن أنس بن مالک قال قال رسول اللہ ﷺ من صلی صلاتنا واستقبل قبلتنا وأکل ذبیحتنا فذلک المسلم الذی لہ ذمۃ اللہ وذمۃ رسولہ فلاتخفروا اللہ فی ذمتہ’’ بخاری، باب فضل استقبال القبلۃ یستقبل بأطراف رجلیہ، حدیث نمبر:۳۷۸۔ ‘‘قال الحنفیۃ: یسن تفریج القدمین فی القیام قدر أربع أصابع؛ لأنہ أقرب إلی الخشوع’’ الفقہ الاسلامی، تفریج القدمین، صفحہ نمبر:۲/۷۰۔ (۳)‘‘عن انسؓ بن مالک أنہ قال خررسول اللہﷺ عن قوس فجحش فصلی لنا قاعدا فصلینا معہ قعودا ثم انصرف فقال إنما الإمام أوإنما جعل الإمام لیؤتم بہ فإذاکبر فکبروا’’ بخاری، باب ایجاب التکبیروافتتاح الصلاۃ، حدیث نمبر۶۹۱۔ (۴)‘‘عن مالک بن الحویرث ان رسول اللہﷺ کان اذاکبررفع یدیہ حتی یحاذی بھما اذنیہ’’ مسلم، باب استحباب رفع الیدین حذوالمنکبین مع تکبیرۃ الاحرام، حدیث نمبر:۵۸۹۔ (۵۔۶)عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « إذا استفتح أحدكم الصلاة فليرفع يديه ، وليستقبل بباطنهما القبلة ، فإن الله أمامه (المعجم الاوسط لطبراني باب من اسمه محمود ۸۰۲۵) ‘‘عن سعید بن سمعان قال: دخل علینا ابوھریرۃ مسجد بنی زریق فقال:ثلاثٌ کان رسول اللہﷺ یعمل بہن ترکہن الناس، کان إذاقام إلی الصلاۃ قال ہکذا واشار ابوعامر بیدہ ولم یفرّج بین اصابعہ ولم یضمھا’’ السنن الکبری للبیہقی، باب کیفیۃ رفع الیدین فی افتتاح الصلاۃ، حدیث نمبر:۲۴۱۰۔ (۷۔۸۔۹)‘‘ان وائل بن حجر اخبرہ قال قلت: لأنظرت الی رسل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیف یصلی قال: فنظرت إلیہ قام فکبر ورفع یدیہ حتی حاذتا أذنیہ ثم وضع یدہ الیمنی علی ظہر کفہ الیسری والرسغ والساعد’’ صحیح ابن خزیمہ، باب وضع بطن الکف الیمنی علی الکف الیسریٰ والرسغ والصاعد جمیعا، حدیث نمبر:۴۸۰۔ (۱۰)‘‘عن ابی جحیفۃ ان علیاؓ قال من السنۃ وضع الکف علی الکف فی الصلاۃ تحت السرّۃ’’ ابوداؤد، باب وضع الیمنی علی الیسری فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۶۴۵۔ (۱۱)‘‘عن ابی سعیدؓ ان النبیﷺ کان اذاافتتح الصلاۃ قال سبحانک اللّٰھُمَّ وبحمدک تبارک اسمک وتعالی جدک ولاإلہ غیر’’ نسائی، باب نوع آخرمن الذکر بین افتتاح الصلاۃ وبین القرأۃ، حدیث نمبر:۸۸۹۔ ردالمحتار، مطلب سنن الصلاۃ: ۳/۴۷۶۔ العنایۃ، باب صفۃ الصلاۃ:۱/۴۶۷۔ قراء ت (نماز میں قرآن پڑھنا) کی سات (۷) سنتیں ہیں (۱)تعوذ یعنی اَعُوْذُبِاللہ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمْ پڑھنا۱۲؎ (۲)تسمیہ یعنی بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ پڑھنا۱۳؎ (۳) فاتحہ کے ختم پر آہستہ سے آمین کہنا۱۴؎ (۴)فجر اور ظہر میں ‘‘طوالِ مفصل’’ یعنی حجرات سے بروج تک، عصر اور عشاء میں ‘‘اوساطِ مفصل’’ یعنی بروج سے لم یکن تک اور مغرب میں ‘‘قصارِ مفصل’’ یعنی لم یکن سے ناس (یعنی ختم قرآن) تک کی سورتوں کا پڑھنا۱۵؎ (۵)فجر کی پہلی رکعت کو دوسری رکعت سے طویل کرنا۱۶؎ (۶)قرآنِ مجید کو نہ زیادہ جلدی پڑھنا اور نہ زیادہ ٹھہر کر پڑھنا بلکہ درمیانی رفتار سے پڑھنا۱۷؎ (۷)فرض کی تیسری اورچوتھی رکعت میں صرف فاتحہ کا پڑھنا۱۸؎۔ (۱۲)‘‘فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم’’ النحل:۹۸۔ (۱۳)‘‘عن انس قال صلیت مع رسول اللہﷺ وابی بکروعمر وعثمان فلم اسمع احداً منھم یقرأ بسم اللہ الرحمن الرحیم’’ مسلم، باب حجۃ من قال لایجھربالبسملۃ، حدیث نمبر:۶۰۵۔ (۱۴)‘‘عن ابی وائل قال: کان عمرؓ وعلیؓ لایجھران بسم اللہ الرحمن الرحیم ولابالتعوّذ ولابالتامین’’ شرح معانی الآثار، باب قرأۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم فی الصلاۃ:۱/۳۴۷۔ (۱۵)‘‘وروی عن عمرؓ انہ کتب الی ابی موسی ان أقرأ فی الصبح بطوال المفصل وروی عن عثمان بن عفان أنہ کان یقرأ فی العشاء بسور من أوساط المفصل’’ ترمذی، باب ماجاء فی القرأۃ فی صلاۃ الصبح، حدیث نمبر:۲۸۱، ۲۸۴۔ (۱۶)‘‘عن ابی قتادۃ ان النبیﷺ… یطول فی الرکعۃ الاولی مالایطوّل فی الرکعۃ الثانیۃ وھکذا فی العصر وھکذا فی الصبح’’ بخاری، باب یقرأ فی الآخریین بفاتحۃ الکتاب، حدیث نمبر:۷۳۴۔ (۱۷)‘‘أَوْزِدْ عَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلاً’’ مزمل:۴۔ (۱۸)‘‘عن ابی قتادۃ ان النبیﷺ کان یقرأ فی الظہر فی الأولیین بام الکتاب وسورتین وفی الرکعتین الأخریین بام الکتاب’’ بخاری، باب یقرأ فی الأخریین بفاتحۃ الکتاب، حدیث نمبر:۷۳۴۔ ردالمحتار، مطلب سنن الصلاۃ: ۳/۴۸۱۔ العنایۃ، باب صفۃ الصلاۃ: ۱/۴۷۰، ۴۷۲۔ رکوع کی آٹھ (۸) سنتیں ہیں (۱)رکوع کی تکبیر کہنا۱۹؎ (۲)رکوع میں دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنا۲۰؎ (۳)گھٹنوں کو پکڑنے میں اُنگلیوں کو کشادہ رکھنا۲۱؎ (۴)پنڈلیوں کو سیدھا رکھنا۲۲؎ (۵)پیٹھ کو بچھا دینا۲۳؎ (۶)سر اور سرین (یعنی کولھے) کو برابر رکھنا۲۴؎ (۷)رکوع میں کم از کم تین بار سُبْحَانَ رَبِّی الْعَظِیْمْ پڑھنا۲۵؎ (۸)رکوع سے اُٹھنے میں امام کو سَمِعَ اللہ لِمَنْ حَمِدَہْ اور مقتدی کو رَبَّنَالَکَ الْحَمْد اور منفرد (تنہا نماز پڑھنے والا) کو دونوں کہنا۲۶؎۔ (۱۹)‘‘عن ابی سلمۃ أن اباھریرۃ کان یصلی بہم کان یکبر فی کل خفض ورفع’’ صحیح ابن حبان، باب ذکر خبرأوھم عالما من الناس أن علی المصلی التکبیر فی کل خفض ورفع من صلاتہ، حدیث نمبر:۱۷۶۶۔ ‘‘عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن ان اباھریرۃؓ کان یصلی لھم فیکبر کلما خفض ورفع’’ مسلم، باب اثبات التکبیر فی کل خفض ورفع فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۵۹۰۔ (۲۰)‘‘مصعب بن سعد یقول صلیت الی جنب ابی فطبقت بین کفی… أمرنا أن نضع أیدینا علی الرکب’’ بخاری، باب وضع الأکف علی الرکب فی الرکوع وقال ابوحمید فی اصحابہ امکن النبیﷺ یدیہ من رکبیتہ، حدیث نمبر:۷۴۸۔ (۲۱۔۲۲۔۲۳۔۲۴)‘‘عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَقُلْنَا بَلَى فَقَامَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ مِنْ وَرَاءِ رُكْبَتَيْهِ وَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ’’ نسائی، باب مواضع اصابع الیدین فی الرکوع، حدیث نمبر:۱۰۲۷۔ ‘‘عن ابی حمید الساعدی رضی اللہ عنہ قال کان النبیﷺ اذارکع اعتدل فلم ینصب رأسہ ولم یقنعہ ووضع یدیہ علی رکبتیہ’’ وباب الاعتدال فی الرکوع، حدیث نمبر:۱۰۲۹۔ ‘‘عن أبی مسعود الأنصاری البدری قال قال رسول اللہ ﷺ لاتجزیٔ صلاۃ لایقیم فیہا الرجل یعنی صلبہ فی الرکوع والسجود’’ ‘‘إن رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم رکع فوضع یدیہ علی رکبتیہ کأنہ قابض علیہما ووتر یدیہ فنحاہما عن جنبیہ’’ ترمذی، باب ماجاء فیمن لایقیم صلبہ فی الرکوع والسجود، حدیث نمبر:۲۴۵،۲۴۱، وقال ھذا حدیث حسن صحیح۔ (۲۵)‘‘عن ابن مسعود ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال اذارکع أحدکم فقال فی رکوعہ سبحان ربی العظیم ثلث مرات’’ ترمذی، باب ماجاء فی التسبیح فی الرکوع والسجود، حدیث نمبر:۲۴۲۔ (۲۶)‘‘عن ابی بکر بن عبدالرحمن انہ سمع اباھریرۃؓ یقول کان رسول اللہﷺ اذا قام الی الصلاۃ یکبر حین یقوم ثم یکبر حین یرکع ثم یقول سمع اللہ لمن حمدہ حین یرفع صلبہ من الرکوع ثم یقول وہوقائم ربنا ولک الحمد’’ مسلم، باب اثبات التکبیر فی کل خفض ورفع فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۵۹۱۔ ردالمحتار، مطلب سنن الصلاۃ:۳/۴۸۴۔ العنایۃ: ۱/۴۸۸۔ سجدہ کی بارہ (۱۲) سنتیں ہیں (۱)سجدہ کی تکبیرکہنا۲۷؎ (۲)سجدہ میں پہلے دونوں گھٹنوں کو رکھنا۲۸؎ (۳)پھردونوں ہاتھوں کو رکھنا۲۹؎ (۴)پھرناک رکھنا۳۰؎ (۵)پھرپیشانی رکھنا۳۱؎ (۶)دونوں ہاتھوں کے درمیان سجدہ کرنا۳۲؎ (۷)سجدہ میں پیٹ کو رانوں سے الگ رکھنا۳۳؎ (۸)پہلوؤں کو بازوؤں سے الگ رکھنا۳۴؎ (۹)کھنیوں کو زمین سے الگ رکھنا۳۵؎ (۱۰)سجدہ میں کم از کم تین بار سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلَیٰ پڑھنا۳۶؎ (۱۱)سجدہ سے اُٹھنے کی تکبیر کہنا۳۷؎ (۱۲)سجدہ سے اُٹھنے میں پہلے پیشانی پھر ناک پھر دونوں ہاتھوں کو پھر دونوں گھٹنوں کو اُٹھانا اور دونوں سجدوں کے درمیان اطمینان سے بیٹھنا۳۸؎۔ (۲۷)‘‘عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن ان اباھریرۃرضی اللہ تعالیٰ عنہ کان یصلی لھم فیکبرکلما حفض ورفع’’ مسلم، باب اثبات التکبیر فی کل خفض ورفع فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۵۹۰۔ (۲۸۔۲۹)‘‘عن وائل بن حجرقال: رأیت رسول اللہﷺ اذاسجد یضع رکبتیہ قبل یدیہ وإذانہض رفع یدیہ قبل رکبتیہ’’ ترمذی، باب ماجاء فی وضع الرکبتین قبل الیدین فی السجود، حدیث نمبر:۲۴۸۔ (۳۰۔۳۱)‘‘عن ابی سلمۃ قال انطلقت الی ابی سعید الخدری فقلت ألاتخرج بنا الی النخل نتحدث… فصلی بنا النبی ﷺ حتی رأیت أثرالطین والماء علی جبہۃ رسول اللہ ﷺ وأرنبتہ تصدیق رؤیاہ’’ بخاری، باب السجود علی الانف والسجود علی الطین، حدیث نمبر:۷۷۱۔ (۳۲)‘‘عن وائل بن حجرؓ عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فی ھذا الحدیث قال فلما سجدوقعتا رکبتاہ الی الأرض قبل ان تقع کفاہ قال فلما سجد وضع جبھتہ بین کفیہ وجافی عن إبطیہ’’ ابوداؤد، باب افتتاح الصلاۃ، حدیث نمبر:۶۲۷، وھکذا فی الترمذی، باب ماجاء این یضع الرجل وجھہ اذاسجد، حدیث نمبر:۲۵۱، حدیث حسن صحیح۔ (۳۳۔۳۴۔۳۵)‘‘عن عبداللہ بن مالک ابن بعینۃ ان النبیﷺ کان إذاصلی فرّج بین یدیہ حتی یبدوبیاض إبطیہ’’ بخاری، باب یبدی ضعبیہ وبجانی فی السجود، حدیث نمبر:۳۷۷۔ ‘‘عن انس بن مالک عن النبی ﷺ قال اعتدلوأ فی السجود ولایبسط احدکم ذراعیہ انبساط الکلب’’ وباب لایفترش ذراعیہ فی السجود، حدیث نمبر:۷۷۹۔ ‘‘فإذاسجد وضع یدیہ غیر مفترش ولاقابضہما واستقبل بأطراف أصابع رجلیہ القبلۃ’’ وباب سنۃ الجلوس فی التشہد، حدیث نمبر:۷۸۵۔ ‘‘عن ابی حمید بھذاالحدیث قال واذاسجد فرج بین فخذیہ غیرحامل بطنہ علی شیٔ من فخذیہ’’ ابوداؤد، باب افتتاح الصلاۃ، حدیث نمبر:۶۲۷۔ (۳۶)‘‘عن ابن مسعود ان النبیﷺ قال… واذاسجد فقال فی سجودہ سبحان ربی الأعلی ثلاث مرات’’۔ ترمذی، باب ماجاء فی التسبیح فی الرکوع والسجود، حدیث نمبر:۲۴۲۔ (۳۷)‘‘عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن ان اباھریرۃؓ کان یصلی لھم فیکبر کلما خفض ورفع’’ مسلم، باب اثبات التکبیر فی کل خفض ورفع فی الصلاۃ، حدیث نمبر۵۹۰۔ (۳۸)‘‘عن وائل بن حجر قال: رایت رسول اللہﷺ اذا سجد… واذانھض رفع یدیہ قبل رکبتیہ’’ ترمذی، باب ماجاء فی وضع الرکبتین قبل الیدین فی السجود، حدیث نمبر:۲۴۸۔ ‘‘وضع الركبتين، ثم اليدين، ثم الوجه عند الهوي للسجود، وعكس ذلك عند الرفع من السجود، هذا عند الجمهور’’ الفقہ الاسلامی وأدلتہ، وضع الرکبتین، ثم الیدین، ثم الوجہ: ۲/۸۰۔ ‘‘عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ..... ثُمَّ أَهْوَى إِلَى الْأَرْضِ سَاجِدًا ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ جَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ إِبْطَيْهِ وَفَتَخَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَيْهَا ثُمَّ اعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا’’ ترمذی، باب منہ، بعد باب ماجاء فی وصف الصلاۃ، حدیث نمبر:۲۸۰۔ ردالمحتار، مطلب سنن الصلاۃ:۳/۴۸۴۔ العنایۃ:۱/۴۹۲،۵۰۰۔ قعدہ (یعنی نماز میں بیٹھنا) کی تیرہ (۱۳) سنتیں ہیں (۱)دائیں پیر کو کھڑا رکھنا اور بائیں پیر کو بچھاکر اُس پر بیٹھنا اور پیر کی اُنگلیوں کو قبلہ کی طرف رکھنا۳۹؎ (۲)دونوں ہاتھوں کو رانوں پر رکھنا۴۰؎ (۳)تشہد میں داہنے ہاتھ کے بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بناکر اَشْھَدُ اَنْ لَااِلَہَ پر شہادت کی اُنگلی اُٹھانا اور اِلَّااللہ پر جھکا دینا۴۱؎ (۴)قعدہ اخیرہ میں درودِ شریف کا پڑھنا۴۲؎ (۵)درودِ شریف کے بعد دعائے ماثورہ ان الفاظ میں جو قرآن اور حدیث کے مشابہ ہو پڑھنا۴۳؎ (۶)دونوں (یعنی دائیں اور بائیں) طرف سلام پھیرنا۴۴؎ (۷)سلام کی دا ہنی (یعنی سیدھے) طرف سے ابتداء کرنا۴۵؎ (۸)امام کو سلام پھیرتے وقت مقتدیوں، فرشتوں اور صالح جنات کی نیت کرنا۴۶؎ (۹)مقتدی کو امام، فرشتوں اور صالح جنات اور دائیں بائیں مقتدیوں کی نیت کرنا۴۷؎ (۱۰)منفرد (یعنی تنہا نماز پڑھنے والا) کو صرف فرشتوں کی نیت کرنا۴۸؎ (۱۱)مقتدی کو امام کے ساتھ سلام پھیرنا۴۹؎ (۱۲)دوسرے سلام کی آواز کو پہلے سلام کی آواز سے پست کرنا۵۰؎ (۱۳)مسبوق (یعنی جس کی رکعت چھوٹی ہو) کو امام کے فارغ ہونے کا انتظار کرنا۵۱؎۔ (فائدہ) رکوع میں ہاتھ کی اُنگلیاں پھیلی ہوئی ہوں اور سجدہ میں یہ اُنگلیاں ملی ہوں۵۲؎، عورت تکبیرِتحریمہ کے وقت اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اُٹھائے لیکن ہاتھوں کو دوپٹہ سے باہر نہ نکالے۵۳؎، عورت سینے پر ہاتھ باندھے اور صرف داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھ دے۵۴؎ اور دونوں بازوؤں کو پہلو سے خوب ملائے رکھے اور دونوں پیرکے ٹخنوں کو بالکل ملادے، سجدہ میں عورتیں پاؤں نہ کھڑے کریں بلکہ دا ہنی طرف کو نکال دیں (اور خوب سمٹ کر اور دب کر سجدہ کریں کہ پیٹ دونوں رانوں سے اور باہیں دونوں پہلو سے ملادے اور دونوں باہوں کو زمین پر رکھ دے)۵۵؎، قعدہ میں جب بیٹھے دونوں پاؤں کو دا ہنی طرف نکال دے اور دونوں ہاتھوں کو ران پر رکھ دیں اور اُنگلیاں خوب ملاکر رکھیں۵۶؎۔ (۳۹)‘‘عن عائشۃ قالت کان رسول اللہﷺ یستفتح الصلاۃ بالتکبیر… وکان یقول فی کل رکعتین التحیۃ وکان یفرش رجلہ الیسری وینصب رجلہ الیمنی’’ مسلم، باب مایجمع صفۃ الصلاۃ ومایفتتح بہ ویختم بہ وصفۃ الرکوع، حدیث نمبر:۷۶۸۔ ‘‘عن أبیہ قال من سنۃ الصلاۃ أن تنصب القدم الیمنی واستقبالہ بأصابعہا القبلۃ والجلوس علی الیسر’’ نسائی، باب الاستقبال بأطراف أصابع القدم القبلۃ عند القعود للتشہد، حدیث نمبر:۱۱۴۶۔ (۴۰)‘‘عن ابن عمرؓ ان رسول اللہﷺ کان إذاقعد فی التشھد وضع یدہ الیسری علی رکبتہ الیسری ووضع یدہ الیمنی علی رکبتہ الیمنی وعقد ثلاثۃ وخمسین وأشار بالسَّبَّابَۃِ’’ مسلم، باب صفۃ الجلوس فی الصلاۃ وکیفیۃ وضع الیدین علی الفخذین، حدیث نمبر:۹۱۲۔ (۴۱)‘‘عن وائل بن حجر قال قلت لانظرن ای صلاۃ رسول اللہﷺ… ثم جلس فافترش رجلہ الیسری… وقبض ثنتین وحلق حلقۃً ورأیتہ یقول ھکذا وحلق بشرٌ الإبھام والوسطیٰ واشار بالسبابۃ’’ ابوداؤد، باب کیف الجلوس فی التشھد، حدیث نمبر:۸۲۰۔ ‘‘عن عبد اللہ بن الزبیر أن النبی ﷺ کان یشیر بأصبعہ إذادعا ولا یحرکہا’’ نسائی، باب بسط الیسری علی الرکبۃ، حدیث نمبر:۱۲۵۳۔ ‘‘والمعتمد أنه يشير بسبابة يده اليمنى عند الشهادة، يرفعها عند نفي الألوهية عما سوى الله تعالى، بقوله: (لا إله) ويضعها عند إثبات الألوهية لله وحده، بقوله: (إلا الله) ليكون الرفع إشارة إلى النفي، والوضع إشارة إلى الإثبات، ولا يعقد شيئاً من أصابعه ودليلهم رواية في صحيح مسلم عن ابن الزبير تدل على ذلك؛ لأنه اقتصر فيها على مجرد الوضع والإشارة’’ الفقہ الاسلامی وأدلتہ، وضع الیدین علی الفخذین:۲/۸۸،۸۹۔ ‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ فِي الصَّلَاةِ جَعَلَ قَدَمَهُ الْيُسْرَى بَيْنَ فَخِذِهِ وَسَاقِهِ وَفَرَشَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ’’ مسلم، بَاب صِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ وَكَيْفِيَّةِ وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْفَخِذَيْنِ، حدیث نمبر:۹۰۹ (۴۲)‘‘عن ابی مسعود الانصاری قال اتانارسول اللہﷺ ونحن فی مجلس سعد بن عبادہ فقال لہ بشیر بن سعد أمرنا اللہ تعالیٰ أن نصلی علیک یارسول اللہ فکیف نصلی علیک قال فسکت رسول اللہ ﷺ حتی تمنینا أنہ لم یسألہ ثم قال رسول اللہ ﷺ قولوا اللہم صلی عل محمد وعل آل محمد کماصلیت علی آل إبراہیم وبارک علی محمد وعلی آل محمد کمابارکت علی آل إبراہیم فی العالمین إنک حمید مجید والسلام کماقد علمتم’’ مسلم، باب الصلاۃ علی النبیﷺ بعد التشھد، حدیث نمبر:۶۱۳۔ ‘‘الصلاة على النبي صلّى الله عليه وسلم وعلى آله في التشهد الأخير: قال الحنفية(۱): الصلاة على النبي وعلى آله ـ الصلوات الإبراهيمية: سنة..... ودليل الحنفية والمالكية على السنية مطلقاً (الصلاة على النبي وآله): أن الأوامر المذكورة في الأحاديث تعلم كيفيته، وهي لا تفيد الوجوب’’ الفقہ الاسلامی وأدلتہ، الصلاۃ علی النبیﷺ:۲/۹۳۔ ‘‘أَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ عِنْدِي مِنْ الْأَدِلَّةِ مَا يَدُلُّ عَلَى مَطْلُوبِ الْقَائِلِينَ بِالْوُجُوبِ، وَعَلَى فَرْضِ ثُبُوتِهِ فَتَرْكُ تَعْلِيمِ الْمُسِيءِ لِلصَّلَاةِ لَا سِيَّمَا مَعَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ} قَرِينَةٌ صَالِحَةٌ لِحَمْلِهِ عَلَى النَّدْبِ. وَيُؤَيِّدُ ذَلِكَ قَوْلُهُ لِابْنِ مَسْعُودٍ وَبَعْدَ تَعْلِيمِهِ التَّشَهُّدَ: {إذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ قَضَيْت هَذَا فَقَدْ قَضَيْت صَلَاتَكَ، إنْ شِئْت أَنْ تَقُومَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ}’’ نیل الأوطار، باب ماجاء فی الصلاۃ علی رسول اللہ:۲/۴۶ (۴۳)‘‘عن ابی بکر الصدیقؓ انہ قال الرسول اللہﷺ علمنی دعاء أدعو بہ فی صلاتی قال قل اللہم إنی ظلمت نفسی ظلما کثیرا ولایغفر الذنوب إلاأنت فاغفر لی مغفرۃ من عندک وارحمنی إنک أنت الغفور الرحیم’’ بخاری، باب الدعاء قبل السلام، حدیث نمبر:۷۹۰۔ ‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ..... ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنْ الثَّنَاءِ مَا شَاءَ’’ بخاری، باب الدعاء فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۵۸۵۳۔ ‘‘الدعاء بعد الصلاة على النبيﷺ: يدعو المصلي بما هو مأثور عن الرسول صلّى الله عليه وسلم عند الحنفية’’ الفقہ الاسلامی وأدلتہ، الصلاۃ علی النبیﷺ: ۲/۹۴۔ (۴۴۔۴۵)‘‘عن عبداللہ عن النبیﷺ انہ کان یسلم عن یمینہ وعن یسارہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ’’ ترمذی، باب ماجاء فی التسلیم فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۲۷۲۔ (۴۶۔۴۷۔۴۸۔)قَالَ سَلْمَانُ : مَا كَانَ رَجُلٍ فِي أَرْضِ قِيٍّ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ، إِلاَّ صَلَّى خَلْفَهُ مِنْ خَلْقِ اللهِ مَا لاَ يُرَى طَرَفَاهُ (مصنف ابن ابي شيبة فِي الرَّجُلِ يَكُونُ وَحْدَهُ فَيُؤَذِّنُ أَوْ يُقِيمُ ۲۱۹/۱)‘‘وقد عرفنا أنہ ینوی بالسلام من عن یمینہ ویسارہ من ملائکۃ وإنس وجن، وینوی الإمام السلام عل المقتدین، وہم ینوون الرد علیہ، إلاأنہ عند الحنفیۃ ینوون الرد علیہ فی التسلیمۃ الأولی إن کانوا فی جہۃ الیمین، وفی التسلیمۃ الثانیۃ إن کانوا فی جہۃ الیسار’’ الفقہ الإسلامی وأدلتہ، الالتفات یمینا ثم شمالا بالتسلیمتین:۲/۹۸۔ (۴۹)‘‘عن انس بن مالکؓ… قال انما جعل الامام لیؤتم بہ’’ بخاری، باب الصلاۃ فی السطوح والمنبر والخشب، حدیث نمبر:۳۶۵۔ (۵۰)‘‘خفض التسلیمۃ الثانیۃ عن الأولی: یسن ذلک عند الحنفیۃ والحنابلۃ؛ لأن الأولی للإعلام، فیجہر بہا’’ الفقہ الإسلامی وأدلتہ، خفض التسلیمۃ الثانیۃ عن الأولی:۲/۹۸۔ (۵۱)‘‘عبدالرزاق عن ابن جریج قال قلت لعطاء تفوتنی رکعۃ مع الإمام فیسلم الامام فأقوم فأقضی أم أنتظر قیامہ قال تنتظر قلیلا فإن احتبس فقم’’ مصنف عبدالرزاق، باب متی یقوم الرجل یقض مافاتہ اذاسلم الامام، حدیث نمبر:۳۱۵۵۔ ردالمحتار، مطلب سنن الصلاۃ: ۳/۴۸۵۔ العنایۃ، باب صفۃ الصلاۃ:۲/۷،۲۵۔ (۵۲)‘‘عَنْ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَكَعَ فَرَّجَ أَصَابِعَهُ وَإِذَا سَجَدَ ضَمَّ أَصَابِعَهُ الْخَمْسَ’’ دارِقطنی، باب التَّأْمِينِ فِى الصَّلاَةِ بَعْدَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَالْجَهْرِ بِهَا، حدیث نمبر:۳۶ (۵۳)‘‘عن وائل بن حجر قال جئت النبیؐ… والمرأۃ تجعل یدیھا حذاء ثدیھا’’ المعجم الکبیر، باب الواو وائل بن حجر الحضرمی، حدیث نمبر:۲۸۔ ‘‘عن عائشۃ قالت قال رسول اللہﷺ لاتقبل صلاۃ الحائض الابخمار’’ ترمذی، باب ماجاء لاتقبل صلاۃ المرأۃ الابخمار، حدیث نمبر:۳۴۴۔ ‘‘واضح رہے کہ دوپٹہ سے باہر نہ کرنے میں زیادہ ستر کی حفاظت ہے اس لیے نہ نکالیں اور عورتوں کی نماز زیادہ ستر والی مطلوب ہے، لکون مبنی احوالھن علی التستر’’ اعلاء السنن، طریق السجود:۳/۳۲ (۵۴)‘‘عن وائل بن حجر قال صلیت مع رسول اللہﷺ وضع یدہ الیمنی علی یدہ الیسری علی صدرہ’’ صحیح ابن خزیمہ، باب وضع الیمین علی الشمال فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۴۶۳۔ ‘‘أماالمرأة فتضع يديها على صدرها من غير تحليق لأنه أستر لها’’ الفقہ الاسلامی وأدلتہ، وضع الید الیمنی علی ظہر الیسری: ۲/۶۲۔ وھکذا فی اعلاء السنن، المرأۃ تصنع الکف علی الکف علی صدرھا فانہ استرلھا:۲/۱۹۹۹ (۵۵)‘‘عن یزید بن ابی حبیب ان رسول اللہﷺ مرّعلی امرأتین تصلیان فقال: إذاسجدتما فضما بعض اللحم إلی الأرض، فإن المرأۃ لیست فی ذلک کالرجل’’ السنن الکبریٰ للبیہقی، باب مایستحب للمرأۃ من ترک، حدیث نمبر:۳۳۲۵۔ ‘‘عن علی رضی اللہ عنہ، ابن عباسؓ، ابراہیم، الحسنؓ‘‘قال: إذاسجدت المرأۃ فلتحتفز، ولتضم فخذیہا’’ مصنف ابن ابی شیبہ، باب المرأۃ کیف تکون فی سجودھا؟، حدیث نمبر:۲۷۹۳۔ ‘‘قَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِىُّ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ تُؤْمَرُ إِذَا سَجَدَتْ أَنْ تَلْزَقَ بَطْنَهَا بِفَخِذَيْهَا كَىْ لاَتَرْتَفِعْ عَجِيزَتُهَا، وَلاَتُجَافِى كَمَايُجَافِى الرَّجُلُ’’ السنن الکبریٰ للبیہقی، باب مایستحب للمرأۃ من ترک التجافی فی الرکوع والسجود، باب نمبر:۳۰۷۔ (۵۶)‘‘عبدالرزاق عن معمر عن قتادہ قال جلوس المرأۃ بین السجدتین متورکۃ علی شقہا الأیسروجلوسھا للتشھد متربعۃ’’ مصنف عبدالرزاق، باب جلوس المرأۃ، حدیث نمبر:۵۰۷۵۔ ‘‘عن ابن عمرؓ ان رسول اللہﷺ کان اذاقعد فی التشھد وضع یدہ الیسریٰ علی رکبتہ الیسری ووضع یدہ الیمنی علی رکبتہ الیمنی وعقد ثلاثۃ وخمسین وأشار بالسبابۃ’’ مسلم، باب صفۃ الجلوس فی الصلاۃ وکیفیۃ وضع الیدین علی الفخذین، حدیث نمبر:۹۱۲۔ العنایۃ، باب صفۃ الصلاۃ: ۱/۴۵۶ ،۴۵۷ ،۴۹۹۔ سائنسی نقطۂ نظر سے پاکی کی اہمیت چونکہ نماز کی ادائیگی ایک مکمل عمل ہے اس لیے اس کے لیے ایسی جگہ ہو جہاں کسی مرض کے جراثیم نہ ہوں؛ کیونکہ بعض اوقات وہ جگہ جسے ہم ناپاک سمجھتے ہیں وہاں پتھالوجی (Pathology) کے مطابق چھوتی امراض (Diseases Contagious) کے جراثیم ہوتے ہیں کیونکہ گوبر میں تشنج (Tetanus) آنتوں کے کیڑوں کے انڈے (Eggs Of Intestinal Worms) ہیضہ (Cholera) اور ٹائی فائڈ (Typhoid) کے جراثیم ہوتے ہیں؛ لیکن یہ تحقیقات تو اب ہوئی ہیں اسلام نے صدیوں پہلے اس سے آگاہ کردیا تھا؛ بالکل یہی کیفیت بدن کے پاک ہونے کی ہے؛ کیونکہ جب مسلمان نمازی مسجد میں نماز کے لیے جائے گا تو اگر اس کے کپڑے اور بدن صاف نہ ہوئے تو اس سے مندرجہ ذیل نقصانات پھیلنے کے خطرات ہیں: نمازی کا بدن اگر صاف نہ ہو اور اس کے بدن پر بے شمار قسم کے جراثیمی مادے لگے ہوئے ہوں گے تو یہی نمازی دوسرے نمازیوں کے لیے ان چھوتی امراض کے پھیلانے کا ذریعہ بن جائیگا؛ یہی نمازی نفرت اور کراہت کا ذریعہ بن جائیگا اور لوگ اس کے قریب نہیں آئیں گے؛ پھراگر ناصاف کپڑوں اور ناپاک وناصاف بدن نمازی جس جگہ بیٹھے گا تو وہاں یہ امراض کے پھیلنے کا ذریعہ بن جائیگا؛ اگر اس نے مسجد کی ٹوپیاں استعمال کیں تو گنج (Baldness) جلدی خارش، بفاء (Dandruff) اور دیگر چھوتی امراض (Contagious Discases) پھیلانے کا ذریعہ بن جائیگا۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۴۸،۴۷، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) قیام کے جسمانی فوائد قیام نماز کی سب سے پہلی کیفیت اور ابتداء ہے اور اس میں جسم بالکل بے حرکت اور ساکن ہوتا ہے ایسی کیفیت سے مندرجہ ذیل اثرات جسم انسانی پر پڑتے ہیں: (۱)جب نمازی قرأت شروع کرتا ہے تو احادیث میں ہے کہ اتنی اونچی قرأت ہو کہ وہ اپنے کان سے سن سکیں، اب ان قرآنی الفاظ کے انوارات پورے جسم میں سرایت کرجاتے ہیں جو امراض کے دفعیے کے لیے اکسیر اعظم ہے۔ (۲)قیام سے جسم کو سکون کی کیفیت محسوس ہوتی ہے؛ چونکہ قرآن پاک کی تلاوت ہورہی ہوتی ہے اس لیے اس کا جسم ایک نور کے حلقے میں مسلسل لپٹتا رہتا ہے اور جب تک وہ اس حالت میں رہتا ہے تو اس وقت وہ نور جسے سائنسی زبان میں In The Language Of Science) غیر مرئی شعائںں اس کا احاطہ کیے ہوئے ہوتی ہیں۔ (۳)قیام میں نمازی جس حالت میں ہوتا ہے اگر روزانہ ۴۵/منٹ ایسی حالت میں کھڑے رہیں تو دماغ اور اعصاب میں زبردست قوت اور طاقت پیدا ہوتی ہے، قوت فیصلہ اور قوت مدافعت بدن میں زیادہ ہوتی ہے۔ سجدہ تین علوم کا مرقع ہے (۱)اصول یوگا (۲)اصول ٹیلی پیتھی (۳)اصول ھائیجین۔ قیام سے موخر دماغ (Pons) (جس کا کام چال، ڈھال اور جسم انسانی کی رفتا رکو کنٹرول کرنا ہوتا ہے) قوی ہوجاتا ہے اور ایک ایسے خطرناک مرض سے بچا رہتا ہے جس سے آدمی اپنا توازن درست نہیں رکھ سکتا۔ ( فزیالوجی ریسرچ، سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۶۴، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) گٹھیا کا علاج قیام کے ذریعہ گٹھیا یاجوڑوں کے دردوں کا علاج نماز میں ممکن ہے، جب ہم وضو کرنے کے بعد نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو پہلے ہمارا جسم ڈھیلا ہوتا ہے لیکن جب نماز کی نیت کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو قدرتی طور پر جسم میں تناؤ پیدا ہوجاتا ہے اس حالت میں آدمی کے اوپر سے سفلی جذبات کا زور ٹوٹ جاتا ہے، سیدھے کھڑے ہونے میں ام الدماغ سے روشنیاں چل کر ریڑھ کی ہڈی سے ہوتی ہوئی پورے اعصاب میں پھیل جاتی ہیں، یہ بات سب جانتے ہیں کہ جسمانی صحت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے اور عمدہ صحت کا دارومدار ریڑھ کی ہڈی کی لچک پر ہے، نماز میں قیام کرنا گھٹنوں، ٹخنوں اور پیروں سے اوپر پنڈلیوں، پنجوں اور ہاتھ کے جوڑوں کو قوی کرتا ہے، گٹھیا کے درد کو ختم کرتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ جسم سیدھا رہے اور ٹانگوں میں خم واقع نہ ہو۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۷۲، مصنف طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) رکوع کے جسمانی فوائد ایک مرتبہ راولپنڈی میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمدنواز صاحب نے فرمایا کہ میرے پاس ایک سرجن ڈاکٹر آیا جس کی بیوی بھی سرجن تھی کہنے لگا ‘‘ڈاکٹر صاحب گھٹنوں اور کمر کا درد بہت زیادہ ہے علاج بہت کیے ہیں لیکن افاقہ نہیں ہوا’’ ڈاکٹر نواز صاحب فرمانے لگے میں نے ڈاکٹر (سرجن) سے پوچھا کہ آپ نماز پڑھتے ہیں؟ سرجن صاحب کہنے لگے ہاں پانچ وقت کی! تو پھر ڈاکٹر نواز صاحب فرمانے لگے کہ آپ رکوع اور سجدہ اچھی طرح نہیں کرتے اور انہیں رکوع اور سجدہ اچھی طرح سنت کے مطابق کرنے کو بتایا، کچھ ہی عرصہ کے بعد ڈاکٹر صاحب صحت مند ہوگئے، رکوع سے حرام مغز (Spinal Cord) کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ مریض جن کے اعضاء سن ہوجاتے ہوں وہ اس مرض سے بہت جلد افاقہ حاصل کرسکتے ہیں، رکوع سے کمرکے درد کے مریض یاایسے مریض جن کے حرام مغز میں ورم (Inflammation Of Spinal Cord) ہوگیا ہو بہت جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں رکوع سے گردوں میں پتھری بننے کا عمل سست پڑجاتا ہے اور پتھری کا مریض جس کے گردوں میں پتھری بن گئی ہو، رکوع کی حرکت سے بہت جلد نکل جاتی ہے، رکوع سے ٹانگوں کے فالج زدہ مریض چلنے پھرنے کے قابل ہوجاتے ہیں، رکوع سے دماغ اور آنکھوں کی طرف دوران خون کے بہاؤ (Circulation Of Blood) کی وجہ سے دماغ ونگاہ کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ رکوع سے جگر کے امراض کا خاتمہ جھک کر رکوع میں دونوں ہاتھ اس طرح گھٹنوں پر رکھے جائیں کہ کمر بالکل سیدھی رہے اور گھٹنے جھکے ہوئے نہ ہوں اس عمل سے معدے کو قوت پہنچتی ہے، نظام انہضام درست ہوتا ہے، قبض دور ہوتا ہے، معدے کی دوسری خرابیاں نیز آنتوں اور پیٹ کے عضلات کا ڈھیلاپن ختم ہوجاتا ہے، رکوع کا عمل جگر اور گردوں کے افعال کو درست کرتا ہے اس عمل سے کمر اور پیٹ کی چربی کم ہوجاتی ہے، خون کا دوران تیز ہوجاتا ہے؛ چونکہ دل اور سر ایک سیدھ میں ہوجاتے ہیں اس لیے دل کے لیے خون کو سر کی طرف پمپ (Pump) کرنا آسان ہوجاتا ہے، اس طرح دل کا کام کم ہوجاتا ہے اور اسے آرام ملتا ہے جس سے دماغی صلاحتیں اجاگر ہونے لگتی ہیں، دوران رکوع چونکہ ہاتھ نیچے کی طرف جاتے ہیں اس لیے کندھوں سے لے کر ہاتھ کی انگلیوں تک پورے حصے کی ورزش ہوجاتی ہے، اس سے بازو کے پٹھے (Muscles) طاقتور ہوجاتے ہیں اور جو فاسد مادے بڑھاپے کی وجہ سے جوڑوں میں جمع ہوجاتے ہیں وہ ازخود خارج ہوجاتے ہیں۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۷۳، مصنف طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) پیٹ کم کرنے کے لیے رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہوکر ہم سجدے میں جاتے ہیں، سجدے میں جانے سے پہلے ہاتھ زمین پر رکھے جاتے ہیں (خاص طور پر خواتین کے لیے) یہ عمل ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط اور لچکدار بناتا ہے اور خواتین کے اندرونی اعصاب کو تقویت بخشتا ہے؛ اگر رکوع کے بعد سجدے میں جانے کی حالت میں جلدی نہ کی جائے تو یہ اندرونی جسمانی اعضاء کے لیے نعمت غیرمترقبہ ورزش ثابت ہوتی ہے، سجدہ کی حالت ایک ورزش ہے جو رانوں کے زائد گوشت کو گھٹاتی ہے اور جوڑوں کو کھولتی ہے؛ اگر کولہوں کے جوڑوں میں خشکی آجائے یاچکنائی کم ہوجائے تو اس عمل سے یہ کمی پوری ہوجاتی ہے اور بڑھاہوا پیٹ کم ہوجاتا ہے، متناسب پیٹ سے جسم سڈول اور خوبصورت لگتا ہے۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۷۳، مصنف طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) سجدے کے جسمانی فوائد السر کا علاج سجدے کے ذریعہ: جن لوگو ں کے معدے میں جلن رہتی ہے اور زخم (Ulcer) ہوتا ہے، صحیح سجدے کے عمل سے یہ مرض ختم ہوجاتا ہے، سجدہ میں پیشانی زمین پر رکھی جاتی ہے اور اس عمل سے دماغی لہریں زمین کے اندر دوڑنے والی برقی رو سے براہِ راست ہم رشتہ ہوکر دماغ کی طاقت میں کئی گنا اضافہ کردیتی ہیں، اس حالت سے دماغ پرسکون اور مطمئن ہوجاتا ہے، پرسکون دماغ معدے کے تیزابی گلینڈز کو زیادہ تیزاب پیدا کرنے سے روکتا ہے اور یوں معدے کی تیزابیت ختم اور زخم مندمل ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۷۴، مصنف طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) جملہ دماغی امراض (BRAIN DISEASES) خشوع وخضوع کے ساتھ دیر تک سجدہ کرنا دماغی امراض کا علاج ہے دماغ اپنی ضروریات کے مطابق خون سے ضروری اجزاء حاصل کرکے فاسد مادوں کو خون کے ذریعہ گردوں کو واپس بھیج دیتا ہے تاکہ گردے انہیں پیشاب کی شکل میں باہر نکال دیں، سجدہ سے اٹھتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ سرجھکا ہوا ہو اور بازو سیدھے اور ان میں قدرے تناؤ ہو، اٹھتے وقت ران پر ہتھیلیاں بھی رکھیں، کمر کو پوری کوشش سے اوپر اٹھائیں اور آہستہ سے کھڑے ہوجائیں یابیٹھ جائیں۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۷۵، مصنف طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) چہرے پر جھریاں (WRINKLES ON FACE) ریڑھ کی ہڈی میں حرام مغز بجلی کی ایک ایسی تار ہے جس کے ذریعہ پورے جسم کو حیات ملتی ہے، سجدہ کرنے سے خون کا بہاؤ جسم کے اوپری حصوں کی طرف ہوجاتا ہے جس سے آنکھیں، دانت اور پورا چہرہ سیراب ہوتا رہتا ہے اور رخساروں پر سے جھریاں دور ہوتی ہیں، یادداشت صحیح کام کرتی ہے فہم وفراست میں اضافہ ہوجاتا ہے آدمی کے اندر تدبر کی عادت پڑجاتی ہے، بڑھاپا دیر تک نہیں آتا سوسال کی عمر تک بھی آدمی چلتا پھرتا رہتا ہے اور اس کے اندر ایک برقی رودوڑتی رہتی ہے جو اعصاب کو تقویت پہنچانے کا سبب بنتی ہے، صحیح طریقہ پر سجدہ کرنے سے بند نزلہ، ثقل سماعت اور سردرد جیسی تکلیفوں سے نجات ملتی ہے۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۷۵، مصنف طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) سجدہ سے ایک اور جسمانی فائدہ جب نمازی سجدہ کرتا ہے تو اس کے دماغ کی شریانوں (Artries) کی طرف خون زیادہ ہوجاتا ہے، جسم کی کسی بھی پوزیشن میں خون دماغ کی طرف زیادہ نہیں جاتا صرف سجدے کی حالت میں دماغ (Brain) دماغی اعصاب (Brain Nerves) آنکھوں (Eyes) اور سرکے دیگر حصوں کی طرف خون (Blood Circulation) متوازن ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے دماغ اور نگاہ بہت تیز ہوجاتی ہے۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۶۷، مصنف طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا)

دائمی خوبصورتی کا راز مولاناپیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی فرماتے ہیں: ‘‘نمازی آدمی کے چہرے پر تازگی رہتی ہے کیونکہ نماز اور سجدہ کی وجہ سے اس کی تمام شریانوں میں خون پہنچتا رہتا ہے، جو نماز نہیں پڑھتا اس کے چہرے پر ایک افسردگی سی پھیلی رہتی ہے اس لیے حدیث پاک میں وارد ہے کہ جو نماز پڑھتا ہے اس کے چہرے پر صالحین کا نور ہوگا’’۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۶۸، مصنف طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) عورتوں کا سجدہ اور واشنگٹن کا ڈاکٹر مولاناپیرذوالفقار نقشبندی فرماتے ہیں میری ملاقات امریکن ڈاکٹر سے ہوئی کہنے لگا کہ یقین جانیں عورتوں کو اگر پتہ چل جائے کہ نماز میں لمبے سجدے کی وجہ سے چہرہ خوبصورت ہوتا ہے اور نور آتا ہے تو وہ سجدے سے سر ہی نہ اٹھائیں۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۶۸، مصنف طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) سجدہ اور ٹیلی پیتھی روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار دوسوبیاسی ۱۸۶۲۸۲/میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے اور زمین کے گرد ایک سیکنڈ میں آٹھ دفعہ گھوم جاتی ہے جب نمازی سجدے کی حالت میں زمین پرسررکھتا ہے تو اس کے دماغ کے اندر کی روشنیوںکا تعلق زمین سے مل جاتا ہے اور ذہن کی رفتار روشنی کی رفتار جیسی ہوجاتی ہے، دوسری صورت یہ واقع ہوتی ہے کہ دماغ کے اندر زائد خیال پیدا کرنے والی بجلی براہ راست زمین میں جذب (Earth) ہو جاتی ہے اور بندہ لاشعوری طور پرپُرکشش ثقل (Force Of Gravity) سے آزاد ہوجاتا ہے، اس کا براہ راست تعلق خالق کائنات سے ہوجاتا ہے، روحانی قوتیں اس حد تک بحال ہو جاتی ہیں کہ آنکھوں کے سامنے سے پردہ ہٹ کر اس کے سامنے غیب کی دنیا آجاتی ہے، جب نمازی فضا اور ہوا کے اندر سے روشنیا ںلیتا ہوا سر، ناک، گھٹنوں، ہاتھوں اور پیروں کی بیس انگلیاں قبلہ رخ زمین سے ملاتا ہوا سجدے میں چلاجاتا ہے تو جسم اعلیٰ کا خون دماغ میں آجاتا ہے اور دماغ کو تعذیہ فراہم کرتا ہے، کیمیائی تبدیلیاں پیدا ہوکر انتقال خیال (Telepathy) کی صلاحیتیں اجاگر ہوجاتی ہیں۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۶۸،۶۹، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) سلام کا جسمانی فائدہ نمازی کو سلام پھیرنے کے لیے سردائیں بائیں کرنا پڑتا ہے اور ایسا کئی بار ایک وقت کی نماز میں کرنا پڑتا ہے تو ایسا کرنے والا امراضِ قلب (Heart Diseases) اور اس کی اندرونی پیچیدگیوں سے ہمیشہ بچتا رہتا ہے اور بہت کم ان امراض میں مبتلا ہوتا ہے۔ (ریسرچ ڈاکٹر قاضی عبدالواحد، نشتر میڈیکل کالج، ملتان۔ سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۶۴، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) سینہ کے امراض (CHEST DISEASES) نماز کے اختتام پر ہم سلام پھیرتے ہیں گردن پھیرنے کے اس عمل سے گردن کے عضلات کو طاقت ملتی ہے اور وہ امراض جن کا تعلق عضلات سے ہے لاحق نہیں ہوتے اور انسان ہشاش بشاش اور توانا رہتا ہے نیز سینہ اور پسلی کا ڈھیلا پن ختم ہوجاتا ہے، سینہ چوڑا اور بڑا ہوجاتاہے، ان سب ورزشوں کا فائدہ اس وقت پہنچتا ہے جب ہم نماز پوری توجہ اور دلجمعی اور اس کے پورے آداب کے ساتھ ادا کریں اور جلد بازی سے کام نہ لیں۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۷۶، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) ہاتھوں کا کانوں تک اٹھانے میں جسمانی فائدہ ہاتھوں کا کانوں تک اٹھانا نماز کی سنت ہے، جب ہم ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے ہیں تو بازوؤں، گردن کے پٹھوں اور شانے کے پٹھوں کی ورزش ہوتی ہے، دل کے مریض کے لیے ایسی ورزش بہت مفید ہے جو کہ نماز پڑھتے ہوئے خود بخود ہوجاتی ہے اور یہ ورزش فالج کے خطرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۵۰، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) تکبیرتحریمہ کے وقت سرکو نہ جھکانے میں جسمانی فائدہ تکبیر تحریمہ میں اگر سرکو نیچے جھکایا جائے یادائیں بائیں جھکایا جائے تو وہ فوائد جو ہاتھوں کے کانوں تک اٹھانے کے ضمن میں واضح ہوئے ہیں کامل میسر نہیں ہوتے اور نماز کا مقصد کہ یہ دنیا اور آخرت کی شفا ہے، فوت ہوجاتا ہے۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۵۱، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے میں جسمانی فائدہ اسلام نے ہراچھے عمل کو کرنے کے لیے دایاں ہاتھ استعمال کرنے کی تاکید کی ہے اور دائیں ہاتھ میں برکت ہے، دراصل انسانی اعضاء کے دائیں اطراف اور بائیں اطراف کی کیفیات الگ الگ ہیں، دائیں حصے خاص طور پر دائیں ہاتھ سے غیرمرئی شعاعیں (Invisible Rays) نکلتی ہیں جو کہ مثبت (Positive) ہوتی ہیں اور بائیں ہاتھ سے جو شعاعیں نکلتی ہیں وہ منفی (Negative) ہوتی ہیں، نماز میں نگاہ سجدے کی جگہ لازم ہوتی ہے چونکہ اوپر کے دائیں ہاتھ سے ہوتی ہوئی نگاہ سجدے کی جگہ جاتی ہے اس لیے اوپر کا ہاتھ دایاں رکھا گیا ہے؛ تاکہ دائیں ہاتھ کی مثبت لہریں پیش نظر رہیں، مزید یہ کہ کام کرتے ہوئے دونوں ہاتھ استعمال ہوتے ہیں اس لیے دائیں ہاتھ کی مثبت شعاعیں (Positive Rays) بائیں ہاتھ میں منتقل ہوکر طاقت، قوت اور تحریک کا باعث بنتی ہیں جس کی وجہ سے انسان معمولات زندگی میں متوازن رہتا ہے اور پریشان نہیں رہتا؛ حتی کہ بعض اوقات دائیں ہاتھ کے فالج زدہ کو یہ ورزش بتائی جاتی ہے کہ وہ بائیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کچھ وقت بیٹھا کرے تاکہ دونوں ہاتھوں کی لہریں اور بجلیاں ایک دوسرے میں منتقل ہوکر طاقت اور تحریک کا باعث بنیں۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۵۱، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) ہاتھ باندھنے میں جسمانی فائدہ عورتیں (Females): عورتیں نیت کے بعد جب سینہ پر ہاتھ باندھتی ہیں تو دل کے اندر صحت بخش حرارت منتقل ہوتی ہے اور وہ غدود نشوونما پاتے ہیں جن کے اوپر بچوں کی غذا کا انحصار ہے، نماز قائم کرنے والی ماؤں کے دودھ میں تاثیر پیدا ہوجاتی ہے کہ بچوں کے اندر انوارات کا ذخیرہ ہوتا رہتا ہے جس سے ان کے اندر ایسا پیٹرن (Pattern) بن جاتا ہے جو بچوں کے شعور کو نورانی بناتا ہے۔ جدید تحقیق میں یہ بات ثابت ہے کہ عورتیں جب سینہ پر ہاتھ رکھ کر ایک خاص مراقبہ کرتی ہیں جس سے دنیا سے کٹ کر کسی پرسکون خیال میں کھو جاتی ہیں (یعنی اللہ کی طرف جب نمازی عورت متوجہ ہوتی ہے) تو ایسی حالت میں ایک خاص قسم کی ریز (Rays) پیدا ہوتی ہیں جو بقول ڈاکٹر ڈارون ہلکے نیلے یاسفید رنگ کی ہوتی ہیں جو اس کے جسم میں داخل اور خارج ہوتی رہتی ہیں اور اس جسم کے اندر قوت مدافعت (Immunity) کے بڑھنے سے وہ جسم کبھی بھی خلیات کے سرطان (Cancer Of Cells) میں مبتلا نہیں ہوتا۔ مرد(Males): مرد جب ناف پر یااسکے نیچے ہاتھ باندھتے ہیں تو جیسا کہ آپ نے پہلے پڑھا کہ دونوں ہاتھوں سے لہریں نکلتی ہیں جو کہ مثبت (Positive) اور منفی (Negative) ہوتی ہے، اب ان لہروں کے امتزاج سے ایک خاص اثر ہوتا ہے جو ناف کے ذریعے اعصاب تک پہنچتا ہے جس سے جنسی قوت قوی اور محرک ہوتی ہے۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۶۵، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) نماز میں مناسب پاؤں کھولنے میں جسمانی فائدہ اگر نمازی نماز میں جس طرح شرعی حکم ہے کہ مناسب پاؤں کھولںق، زیادہ نہ کھولیں؛ اگر یہ پاؤں بہت کم کھولیں گے تو جسمانی طور پر نقصان ہوگا، تنگ پاؤں رکھنے سے اس کے نقصان اعصاب پر زیادہ پڑتے ہیں اور بدن کے زیریں حصے کمزور ہوتے ہیں، تنگ پاؤں سے زیادہ نقصان خصیتین (Testes) پر پڑتا ہے ان کی بیرونی جلد جکڑن کا شکار ہوتی ہے اور اندرونی طور پر گھٹن ہوتی ہے جس سے ان کے اندر تولیدی مواد کے بنانے کا نظام متاثر ہوتا ہے اور ان کا فعل تولید درہم برہم ہوجاتا ہے، اس طرح اگر پاؤں زیادہ کھولے جائیں اور ٹانگوں کو چوڑا کیا جائے تو اس کا نقصان بھی خصیتین (Testes) پر پڑتا ہے اور جسم کے توازن میں خرابی ہوتی ہے اور ایسے آدمی کو موخر دماغ کے ضعف کی وجہ سے لڑکھڑاہٹ، چال ڈھال کی لچک اور غیرمتوازن چال کی شکایت ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، پاؤں کے جوڑوں پر بھی زیادہ پاؤں کھولنے کے نقصان کا اثر ظاہر ہوتا ہے جس سے قدموں کی ایڑی اور بیرونی سطح پر دباؤ زیادہ پڑتا ہے اس لیے جہاں پاؤں کے جوڑ متاثر ہوتے ہیں وہاں جوڑوں کی ہیئت بدلنے کے مرض کا خطرہ ہوتا ہے جس میں ایڑی کے جوڑ پھر جاتے ہیں۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۸۳، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) امام کی تلاوت اور جدید سائنس امام جب تلاوت کرتا ہے اور مقتدی دھیان اور توجہ کے ساتھ سنتے ہیں تو اس پڑھنے اور سننے کے عمل کے درمیان ایک خاص قسم کی لہریں (Rays) پیدا ہوتی ہیں اور یہ لہریں دونوں کے درمیان انوارات منتقل کرتی ہیں؛ اگر ان میں امام کی برقی قوت (Potential Power) تیز اور زیادہ ہوتی ہے تو وہ مقتدیوں میں منتقل ہوتی ہے اور اگر برقی قوت مقتدیوں کی زیادہ قوی ہوتی ہے تو امام میں منتقل ہوتی ہے، ماہرروحانیات لیڈبیٹر لکھتا ہے کہ: ‘‘ہرلفظ ایک یونٹ ہے اس سے ایک تیز روشنی نکلتی ہے جو مثبت (Positive) اور منفی (Negative) ہوتی ہے، قرآن سے نکلا ہوا لفظ مثبت ہوتا ہے اور مقتدیوں پر جب یہ مثبت اثرات (لہریں) پڑیں گی تو ان کے اندر بے شمار امراض ختم ہونگے’’۔ (بحوالہ: ‘‘من کی دنیا’’ ڈاکٹر غلام جیلانی برق) خون کے سرخ ذرات تحقیق کے مطابق غیر مرئی (Invisible) اثرات سے ٹوٹتے رہتے ہیں اور اس کے ٹوٹنے کے عوامل بڑھتے جائیں تو پھر بلڈکینسر (Blood Cancer) کے اثرات بڑھ جاتے ہیں اور نماز میں تلاوت کی لہریں اس مرض سے بہت محفوظ رکھتی ہیں، الاماشاء اللہ۔ نفسیاتی امراض (Pcshylogical Diseases) فی زمانہ انسان کے لیے وبال جان ہیں اور ان سے بچاؤ صرف اور صرف یہی ہے کہ ایسی لہروں کو اپنے اندر منتقل کیا جائے؛ حتی کہ ڈیپریشن (Depression) بے چینی (Anxiety) جیسے امراض اس محفل نماز سے ختم ہوجاتے ہیں اور اگر دھیان خشوع وخضوع زیادہ ہو تو ان امراض کا بالکل خاتمہ ہوجاتا ہے ورنہ عام نمازی کے لیے یہ مرض کم ہوجاتاہے؛ حتیٰ کہ خود کشی کے رحجان ذہنی سطح سے کم ہوکر دھل جاتے ہیں۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۸۳،۸۲، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) نماز کے دوران سجدے میں ہاتھوں کو سیدھا رکھنے میں جسمانی فائدہ حکم یہی ہے کہ سجدے میں ہاتھوں کو بالکل سیدھا رکھا جائے دراصل ہم تمام دن رات اپنے ہاتھوں کو بالکل اکڑا کر نہیں رکھتے بلکہ ہمارے ہاتھ ڈھیلے ڈھالے رہتے ہیں؛ اگر مستقل ایسی حالت میں ہاتھ رہیں تو ایک بیماری ہاتھوں میں ہوجاتی ہے جس کی علامت میں گرفت کا ڈھیلا پن ہے، اس میں ہاتھوں کی گرفت (Grip) ڈھیلی اور سست پڑجاتی ہے، ہاتھوں کی فطری حرکات اور طاقت میں کمی آجاتی ہے اور جب ہم سجدے میں ہاتھ سیدھے رکھتے ہیں تو یہ ہاتھوں، انگلیوں اور جوڑوں کی خاص قسم کی ورزش ہے جس سے ہاتھ مذکور مرض سے محفوظ رہتے ہیں اور ہاتھوں کی فطری طاقت اور قوت باقی رہتی ہے۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۷۹،۸۰، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) سجدوں کے درمیان بیٹھنے میں جسمانی فائدہ جنسی امراض (Sexual Diseases): دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا (جلسہ) گھٹنوں اور پنڈلیوں کو مضبوط بناتا ہے اس کے علاوہ رانوں میں جو پٹھے (Muscles) اللہ تعالیٰ نے نسل کشی کے لیے بنائے ہیں ان کو خاص قوت عطاکرتا ہے جس سے مردانہ اور زنانہ کمزوریاں دور ہوجاتی ہیں تاکہ انسان کی نسلیں دماغی اور جسمانی اعتبار سے صحت مند پیدا ہوں۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۷۶، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا)







مسنون طریقۂ نماز جب نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو پہلے اپنے بدن کو حقیقی اور حکمی نجاست سے پاک کرلو۱؎ اور پاک کپڑے پہن کر۲؎ پاک جگہ پر۳؎ قبلہ کی طرف منہ کرکے۴؎ اس طرح کھڑے ہوکہ دونوں قدم قبلہ کی طرف ہوں۵؎ دونوں قدموں کے درمیان فاصلہ کم رکھو۶؎ پھرجو نماز پڑھنی ہے اس کی نیت دل سے کرے۷؎ مثلاً یہ کہ فجر کی نماز خدا کے واسطے پڑھتا ہوں؛ پھر دونوں ہاتھ کانوں کے برابر اُٹھاؤ۸؎ ہاتھوں کی ہتھیلیاں اور انگلیاں قبلہ رُخ رہیں۹؎ عورتیں دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اُٹھائیں۱۰؎،پہلی مرتبہ کے بعد پھر دونوں ہاتھ نہیں اُٹھائے جائیں گے۔۱۱؎ (۱)مسلم، باب وجوب الطہارۃ للصلاۃ، حدیث نمبر:۳۲۹ عن ابن عمرؓ (۲) مدثر:۴ (۳) البقرۃ:۱۲۵، بخاری، باب فضل استقبال القبلۃ یستقبل باطراف رجلیہ، حدیث نمبر:۳۷۸ عن انس بن مالکؓ (۴) البقرۃ:۱۴۴، بخاری، باب عظۃ الامام الناس فی اتمام الصلاۃ وذکرالقبلۃ، حدیث نمبر:۴۰۱ عن ابی ھریرۃؓ (۵)بخاری، باب فضل استقبال القبَہ باطراف رجلیہ، حدیث نمبر:۳۷۸ عن انسؓ (۶)نسائی، باب الصف بین القدمین فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۸۸۳ عن ابی عبیدۃؓ (۷) البینہ:۵۔ بخاری، باب من ھاجرا وعمل خیراً لتزویج أمرأۃ فلہ مانوی، حدیث نمبر:۴۶۸۲ عن علقمۃ بن وقاصؓ (۸)مستدرک حاکم، باب أما حدیث انس، حدیث نمبر:۷۸۴ عن انسؓ، وھذا اسناد صحیح علی شرط الشیخین، مسلم، باب استحباب رفع الیدین حذوالمنکبین مع تکبیرۃ الاحرام، حدیث نمبر:۵۸۹ عن مالک بن الحویرثؓ۔ نسائی، باب رفع الیدین حیال الاُذنین، حدیث نمبر:۸۶۹ عن وائل بن حجرؓ۔ صحیح ابن حبان، باب ذکر العلۃ التی من اجلھا کان یشیرالمصطفیٰﷺ بالسبابۃ، حدیث نمبر:۱۹۴۵ عن وائل بن حجرؓ (۹)ترمذی، باب ماجاء فی نشر الاصابع عندالتکبیر، حدیث نمبر:۲۲۳،۲۲۲ عن ابی ھریرۃؓ۔ صحیح ابن حبان، باب ذکر الخبرالدال علی أن قولہﷺ ‘‘فلاتفعلوا الا بام الکتاب’’، حدیث نمبر:۱۷۸۷ (۱۰)بخاری، باب رفع الیدین اذا کبرواذارکع، حدیث نمبر:۶۹۴ عن عبداللہ بن عمرؓ، مصنف ابن ابی شیبہ، باب استہاب رفع الدین حذوالمنکبین مع تکبیرۃ الاحرام، حدیث نمبر:۵۸۷ عن ابن عمرؓ (۱۱)ترمذی، باب ماجاء ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم لم یرفع الا فی اوّل مرۃ، حدیث نمبر:۲۳۸ عن عبداللہ بن مسعودؓ۔ ابوداؤد، باب من لم یذکر الرفع عندالرکوع، حدیث نمبر:۶۳۹۔ مسلم، باب الأمربالسکون فی الصلاۃ والنھی عن الاشارۃ بالیدورفعھا، حدیث نمبر:۶۵۱ عن جابر بن سمرہؓ۔ تکبیرتحریمہ یعنی اللہ اکْبَرْ کہہ کر دونوں ہاتھ ناف کے نیچے باندھ لو۱۲؎ خواتین سینہ پر ہاتھ باندھیں۱۳؎ ہاتھ رکھنے کی صورت مردوں کے لیے یہ ہے کہ داہنی ہتھیلی کو بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھے، اس طور پر کہ داہنے انگوٹھے اور کَنْ اُنگلی یعنی سب سے چھوٹی انگلی کا حلقہ بناکر گٹے یعنی پہنچے کو پکڑے اور باقی انگلیاں کلائی پر دراز کرے۱۴؎ عورت حلقہ کیے بغیر داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ لے۱۵؎ نظر سجدہ کی جگہ رہے۱۶؎ ہاتھ باندھ کر آہستہ آہستہ ثناء پڑھے۔۱۷؎ (۱۲)ابوداؤد، باب وضع الیمنی علی الیسری فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۶۴۵ عن علیؓ۔ دارِقطنی، باب ذکر الصلاۃ فی اعطان الابل ومراح الغنم، حدیث نمبر:۱۱۱۲۔ مسنداحمد، مسندعلی، حدیث نمبر:۸۷۵۔ مصنف ابن ابی شیبہ، باب وضع الیمین علی الشمال، حدیث نمبر:۳۹۵۹ عن وائل بن حجرؓ (۱۳)صحیح ابن خزیمہ، باب وضع الیمین علی الشمال فی الصلاۃ قبل افتتاح القرأۃ، حدیث نمبر:۴۶۳ عن وائل بن حجرؓ۔ ابوداؤد، باب وضع الیمین علی الیسری فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۶۴۸ عن طاؤسؒ (۱۴)بخاری، باب وضع الیمین علی الیسری فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۶۹۸ عن سہل بن سعدؓ۔ ابوداؤد، باب وضع الیمین علی السیری فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۶۴۷ عن وائل بن حجرؓ۔ صحیح ابن خزیمہ، باب وضع بطن الکف الیمنی علی الکف الیسری والرسغ والساعد جمیعا، حدیث نمبر:۴۸۰ عن وائل بن حجرؓ (۱۵)‘‘عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فَيَأْخُذُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ’’ ابن ماجہ، باب وضع الیمین علی الشمال فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۸۰۱۔ ‘‘أماالمرأة فتضع يديها على صدرها من غير تحليق لأنه أستر لها’’ الفقہ الاسلامی وأدلتہ، وضع الید الیمنی علی ظہر الیسری: ۲/۶۲۔ وھکذا فی اعلاء السنن، المرأۃ تصنع الکف علی الکف علی صدرھا فانہ استرلھا:۲/۱۹۹۹ (۱۶)سنن کبریٰ للبیھقی، باب لایجاوزبصرہ موضع سجودہ، حدیث نمبر:۳۶۸۶ عن انسؓ (۱۷)مجمع الزوائد، باب مایستفتح بہ الصلاۃ:۲/۱۰۸ عن ابی وائل،ؓانسؓ۔ المعجم الکبیر للطبرانی، باب من اسمہ انس، حدیث نمبر:۷۳۸، عن انسؓ۔ ثناء: ‘‘سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَآاِلٰہَ غَیْرُکَ’’۱۸؎ ترجمہ: ‘‘اے اللہ تیری ذات ہرکمی اور نقصان سے پاک ہے اور توہی ہرتعریف کا مستحق ہے، تیرا نام برکت والا ہے اور تیری شان اُونچی ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں؛ پھر تعوذ پڑھو: ‘‘اَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ’’۔۱۹؎ پھر تسمیہ پڑھو: ‘‘بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ’’۲۰؎ پھر فاتحہ پڑھو:۲۱؎ ‘‘اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِo مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِo اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُo اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَo صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ۵ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ’’ جب فاتحہ ختم کرلو تو آہستہ سے آمین کہو۲۲؎ پھرکوئی سورت مثلاً کوثر، یابڑی ایک آیت یاچھوٹی تین آیتیں پڑھو۲۳؎ قرأت صاف اور صحیح پڑھو اور جلدی نہ کرو۔۲۴؎ (۱۸)نسائی، باب نوع آخر من الذکر بین افتتاح الصلاۃ وبین القرأۃ، حدیث نمبر:۸۸۹ عن ابی سعیدؓ۔ ابن ماجہ، باب افتتاح الصلاۃ، حدیث نمبر:۷۹۶ (۱۹) النحل:۹۸ (۲۰)دارِقطنی، باب مایجزی بہ من الدعاء عندالعجز عن قرأۃ فاتحہ، حدیث نمبر:۱۲۱۶ عن انس بن مالکؓ۔ نسائی، باب ترک قرأۃ بسم اللہ الرحمن، حدیث نمبر:۸۹۷ عن انسؓ (۲۱)بخاری، باب وجوب القرأۃ للامام والماموم فی الصلوٰۃ کلھا فی الحضر، حدیث نمبر:۷۱۴ عن عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ۔ مسلم، باب وجوب قرأۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ وإنہ اذالم یحسن الفاتحۃ، حدیث نمبر:۵۹۵ (۲۲) الأعراف:۵۵۔ مسنداحمد، حدیث نمبر:۱۸۸۶۳ حدیث وائل بن حجرؓ۔ دارِ قطنی، باب التامین فی الصلاۃ بعد فاتحۃ الکتاب والجھربھا، حدیث نمبر:۱۲۸۵ (۲۳)‘‘يجب قراءة سورة قصيرة الكوثر ونحوها، وهو ثلاث آيات قصار، تقدر بثلاثين حرفاً، كقوله تعالى: {ثم نظر، ثم عبس وبسر، ثم أدبر واستكبر} أوآية طويلة أوآيتان بمقدار ثلاثين حرفاً، ودليلهم على الوجوب: حديث أبي سعيد الخدري: أمرنا أن نقرأ بفاتحة الكتاب، وماتيسر، والأمر للوجوب’’ ابوداؤد، باب من ترک القرأۃ فی صلاتہ بفاتحۃ الکتاب، حدیث نمبر:۶۹۵ صحیح ابن حبان، باب ذکر ایقاع النقص علی الصلاۃ اذا لم یقرأ فیھا، حدیث نمبر:۱۷۹۰ (۲۴)‘‘وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا’’ المزمل:۴۔

کوثر: ‘‘اِنَّآاَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَo فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْo اِنَّ شَانئَکَ ھُوَالْابْتَرُo’’ لیکن اگر تم امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہو تو ثناء پڑھ کر خاموش کھڑے رہو، تعوّذ، تسمیہ،  فاتحہ اور سورت کچھ بھی نہ پڑھو۲۵؎ اور جب امام  فاتحہ کی قرأت کرتے وقت ‘‘وَلَاالضَّآلِّیْن’’ پر پہونچے تو امام ومقتدی سب آہستہ سے آمین کہیں۲۶؎ سورت کے ختم پر پھر ‘‘اللہ اَکْبَرْ’’ کہتے ہوئے رکوع کرو۲۷؎ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر اُن سے دونوں گھٹنوں کو پکڑلو، پیٹھ کو بالکل سیدھی رکھو، کُبْ نہ نکالو، سر کو پیٹھ کی سیدھ میں رکھو، نہ اُونچا کرو نہ نیچا رکھو۲۸؎ بازو اور کہنیاں پسلیوں سے علیحدہ رہیں، پنڈلیاں سیدھی کھڑی رہیں۲۹؎ رکوع میں تین، پانچ یاسات مرتبہ ‘‘سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم’’ پڑھو۳۰؎ رکوع سے اُٹھتے وقت تسمیع اور تحمید پڑھو یعنی ‘‘سَمِعَ اللہ لِمَنْ حَمِدَہٗ، رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ’’ کہورکوع سے اُٹھ کر سیدھے کھڑے ہو جاؤ۳۱؎ اس کو قومہ کہتے ہیں، امام صرف ‘‘سَمِعَ اللہ لِمَنْ حَمِدَہٗ’’ کہے گا اور مقتدی صرف ‘‘رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ’’ کہیں گے۳۲؎ منفرد یعنی تنہا پڑھنے والا ‘‘سَمِعَ اللہ لِمَنْ حَمِدَھٗ اور رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ’’ دونوں پڑھے گا؛ پھرتکبیر یعنی اللہ اَکْبَرْ کہتے ہوئے سجدہ میں جاؤ۳۳؎ پہلے دونوں گھٹنے پھر دونوں ہاتھ پھر ناک پھر پیشانی رکھو۳۴؎ چہرہ دونوں ہتھیلیوں کے درمیان۳۵؎ اور انگوٹھے کانوں کے مقابل رہیں، ہاتھوں کی انگلیاں ملی رکھو، تاکہ سب کے سرے قبلہ کی طرف رہیں۳۶؎ کہنیاں پسلیوں سے اور پیٹ رانوں سے علیحدہ رہے۳۷؎ زمین پر مت بچھاؤ۳۸؎ سجدہ میں تین پانچ یاسات مرتبہ ‘‘سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی’’ کہو، یہ ایک سجدہ ہوگیا۳۹؎ اب اللہ اَکْبَرْ کہتے ہوے سجدہ سے سراُٹھائو، پہلے پیشانی پھر ناک پھر دونوں ہاتھ اور اطمینان کے ساتھ اس طرح بیٹھو کہ دایاں پیر اسی طرح کھڑا رہے اور بائیں پیر کو زمین پر بچھادو اور اسی پر بیٹھ جاؤ۴۰؎ دونوں ہاتھ زانوں پر رکھو، انگلیاں کھلی ہوں، رُخ قبلہ کی طرف ہو، انگلیوں کے سرے گھٹنوں کے قریب ہوں۴۱؎ پھردوسرا سجدہ کرو پہلے سجدہ کی طرح۴۲؎ اب دوسری رکعت کے لیے پنجوں کے بل سیدھے اللہ اَکْبَرْ کہتے ہوئے بغیر بیٹھے کھڑے ہوجاؤ۴۳؎ معذور ہو تو بیٹھ کر یاٹیک لگا کر کھڑا ہوسکتا ہے۴۴؎ دونوں ہاتھ باندھ لو، ثناء وتعوذ نہ پڑھو، بسم اللہ اور  فاتحہ اور کوئی سورت پڑھ لو۴۵؎۔

(۲۵) الاعراف:۲۰۴۔ مسلم، باب التشہد فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۶۱۲۔ ابن ماجہ، باب إذا قرأ الامام فانصتوا، حدیث نمبر:۸۳۷۔ نسائی، باب تاویل قولہ عزوجل واذاقرأ القرآن فاستمعوالہ، حدیث نمبر:۹۱۲ عن ابی ھریرۃؓ (۲۶)بخاری، باب جھرالماموم بالتامین، حدیث نمبر:۷۴۰۔ مسلم، باب التشہد فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۶۱۲ عن ابی ھریرۃؓ۔ دارِقطنی، باب التامین فی الصلاۃ بعد فاتحۃ الکتاب والجھربھا، حدیث نمبر:۱۲۸۵۔ مسنداحمد، حدیث وائل بن حجرؓ، حدیث نمبر:۱۸۸۶۳ عن وائل بن حجرؓ۔ شرح معانی الآثار، باب قرأۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم فی الصلاۃ:۱/۳۴۷ (۲۷)بخاری، باب اتمام التکبیر فی الرکوع، حدیث نمبر:۷۴۲ عن عمران بن حصینؓ۔ وباب الصلاۃ فی السطوح والمنبر والخشب، حدیث نمبر:۳۶۵ عن انس بن مالکؓ۔ مسلم، باب ائتمام المأموم بالامام، حدیث نمبر:۶۲۲ (۲۸)مسلم۔ باب مایجمع صفۃ الصلاۃ ومایفتتح بہ ویختم بہ وصفۃ الرکوع، حدیث نمبر:۷۶۸ عن عائشہؓ۔ نسائی، باب مواضع اصابع الیدین فی الرکوع، حدیث نمبر:۱۰۲۷ عن عقبہ بن عمروؓ۔ وباب الاعتدال فی الرکوع، حدیث نمبر:۱۰۲۹ عن ابی حمید الساعدیؓ۔ صحیح ابن حبان، باب ذکر وصف بعض السجود والرکوع للمصلی فی صلاتہ، حدیث نمبر:۱۸۸۷ عن ابن عمرؓ (۲۹)صحیح ابن حبان، باب ذکر البیان بأن علی المصلی رفع الیدین عندارادتہ، حدیث نمبر:۱۸۷۱۔ ترمذی، باب ماجاء أنہ یجافی یدیہ عن جنبیہ فی الرکوع، حدیث نمبر:۲۴۱ قال ابوحمیدؒ (۳۰)ترمذی، باب ماجاء فی التسبیح فی الرکوع والسجود، حدیث نمبر:۲۴۲ عن ابن مسعودؓ (۳۱)بخاری، باب یھوی بالتکبیر حین یسجد، حدیث نمبر:۷۶۲ عن ابی ھریرۃؓ۔ مسلم، باب صلاۃ الکسوف، حدیث نمبر:۱۵۰۰ عن عائشہؓ (۳۲)بخاری، باب اقامۃ الصف من تمام الصلاۃ، حدیث نمبر:۶۸۰۔ مسلم، باب التسمیع والتحمید والتامین، حدیث نمبر:۶۱۷ عن ابی ھریرۃؓ (۳۳)بخاری، باب اتمام التکبیرفی الرکوع، حدیث نمبر: ۷۴۲ عن عمران بن حصینؓ (۳۴)بخاری، باب السجود علی الانف، حدیث نمبر:۷۷۰، مسلم، باب اعضاء السجود والنھی عن کف الشعروالثوب وعقص الرأس، حدیث نمبر:۷۵۹ عن ابن عباسؓ۔ ترمذی، باب ماجاء فی وضع الرکبتین قبل الیدین فی السجود، حدیث نمبر:۲۴۸ عن وائل بن حجرؓ۔ ‘‘وضع الركبتين، ثم اليدين، ثم الوجه عند الهوي للسجود، وعكس ذلك عند الرفع من السجود، هذا عند الجمهور’’ الفقہ الاسلامی وأدلتہ، وضع الرکبتین، ثم الیدین، ثم الوجہ:۲/۸۰ (۳۵)مسلم، باب وضع یدہ الیمنی علی الیسری بعد تکبیرۃ الاحرام، حدیث نمبر:۶۰۸۔ نسائی، باب مکان الیدین من السجود، حدیث نمبر:۱۰۹۰ عن وائل بن حجرؓ (۳۶)بخاری، باب سنۃ الجلوس فی التشھد، حدیث نمبر:۷۸۵ قال ابوحمیدؓ الساعدی۔ صحیح ابن حبان، باب ذکر استحباب للمصلی ان یرفع یدیہ الی منکبیہ عند قیامہ من الرکعتین، حدیث نمبر:۱۸۷۶۔ ‘‘عن وائل بن حجر قال: صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم..... فسجد، ثم وضع وجهه بين كفيه’’ صحیح ابن حبان، باب ذكر ما يستحب للمصلي إخراج اليدين من كميه عند رفعه إياهما في الموضع الذي وصفناه، حدیث نمبر:۱۸۶۲ (۳۷)مسلم، باب مایجمع صفۃ الصلاۃ ومایفتح بہ ویختم بہ، حدیث نمبر:۷۶۴ عن عمروبن الحارثؓ۔ نسائی، باب فتح اصابع الرجلین فی السجود، حدیث نمبر:۱۰۸۹ عن ابی حمید الساعدیؓ (۳۸)بخاری، باب لایفترش ذراعیہ فی السجود، حدیث نمبر:۷۷۹۔ مسلم، باب الاعتدال فی السجود ووضع الکفین علی الأرض ورفع، حدیث نمبر:۷۶۲ عن انسؓ (۳۹)مسلم، باب استحباب تطویل القرأۃ فی صلاۃ الیل، حدیث نمبر:۱۲۹۱ عن حذیفہؓ۔ ترمذی، باب ماجاء فی التسبیح فی الرکوع والسجود، حدیث نمبر:۲۴۲ عن ابن مسعودؓ (۴۰)مسلم، باب مایجمع صفۃ الصلاۃ ومایفتتح بہ ویختم بہ وصفۃ الرکوع، حدیث نمبر:۷۶۸ عن عائشہؓ۔ ابوداؤد، باب من لم یرالجھر ببسم اللہ الرحمن الرحیم، حدیث نمبر:۶۶۵ (۴۱)مسلم، باب صفۃ الجلوس فی الصلاۃ وکیفیۃ وضع الیدین علی الفخذین، حدیث نمبر:۹۱۱ عن ابن عمرؓ۔ نسائی، باب الاستقبال باطراف اصابع القدم القبلۃ عندالقعود للتشھد، حدیث نمبر:۱۱۴۶ عن ابن عمرؓ۔ ترمذی، باب ماجاء کیف الجلوس فی التشھد، حدیث نمبر:۲۶۹ عن ابن حجرؓ (۴۲)بخاری، باب امرالنبیﷺ الذی لایتم رکوعہ، حدیث نمبر:۷۵۱ عن ابی ھریرۃؓ (۴۳)بخاری، باب مایقول الامام ومن خلفہ اذارفع رأسہ من الرکوع، حدیث نمبر:۷۵۳، وباب اتمام الرکوع، حدیث نمبر:۷۴۳ عن ابی ھریرۃؓ۔ نسائی، باب التکبیر للنھوض، حدیث نمبر:۱۱۴۳ عن ابی سلمہؓ (۴۴)ابوداؤد، باب النھوض فی الفرد، حدیث نمبر:۷۱۷ عن ابی قلابہؓ۔ بخاری، باب کیف یعتمد علی الأرض اذا قام من الرکعۃ، حدیث نمبر:۷۸۱ عن ابی قلابہؓ (۴۵)مسلم، باب وجوب قرأۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ وإنہ إذالم یحسن الفاتحۃ، حدیث نمبر:۶۰۰، ابوھریرۃؓ۔ مثلاً سورۂ اخلاص: ‘‘قُلْ ھُوَ اللہ اَحَدٌo اللہ الصَّمَدُo لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْo وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُواً اَحَدٌo’’ اگر امام کے پیچھے ہو تو کچھ نہ پڑھو خاموش کھڑے رہو (ثناء صرف پہلی رکعت میں ہے) فرض نمازوں میں تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف فاتحہ ہے، سورت نہیں ملانا ہے۴۶؎ سُنن ونوافل کی ہررکعت میں فاتحہ اور سورت ملانا ہے، پہلی رکعت کی طرح رکوع، قومہ اور دونوں سجدے کرو۴۷؎ دوسرے سجدہ سے اُٹھ کر بایاں پاؤں بچھاؤ اور اس پر بیٹھ جاؤ، سیدھاپاؤں کھڑا رکھو اور اس کی انگلیاں اس طرح موڑ دو کہ ان کے سرے قبلہ رُخ ہوجائیں۴۸؎ اور دونوں ہاتھ رانوں پر رکھو اس طرح کہ انگلیاں سیدھی رہیں۴۹؎ پھرتشہد پڑھو۵۰؎ تشہد: ‘‘اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ایُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہ وَبَرَکَاتُہٗ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہ الصَّالِحِیْنَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّآاِلٰہَ اِلَّااللہ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ’’ جب ‘‘اَشْھَدُ اَنْ لَّآاِلٰہَ’’ پر پہنچو تو دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور بیچ کی انگلی سے حلقہ باندھ لو اور چھنگلیاں اور اس کے پاس والی انگلی کو بند کرلو، شہادت کی انگلی اٹھا کر اشارہ کرو، لَااِلٰہَ پر انگلی اٹھاؤ اور ‘‘اِلَّااللہ’’ پر جھکادو؛ اسی طرح حلقہ اخیر تک باندھے رکھو۵۱؎ تشہد ختم کر کے اگر دورکعت والی نماز ہے تو درودشریف پڑھو، درود ابراہیمی پڑھنا افضل ہے۵۲؎۔ درود شریف ‘‘اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰیٓ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَاصَلَّیْتَ عَلٰیٓ اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰیٓ اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰیٓ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَابَارَکْتَ عَلٰیٓ اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰیٓ اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ’’۵۲؎۔ (۴۶)بخاری، باب یقرأ فی الأخریین بفاتحۃ الکتاب، حدیث نمبر:۷۳۴ عن ابی قتادہؓ (۴۷)‘‘عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ’’ بخاری، بَاب وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا فِي الْحَضَرِ، حدیث نمبر:۷۱۴۔ ابوداؤد، باب افتتاح الصلاۃ، حدیث نمبر:۶۲۷ ابوحمیدؓ۔ ‘‘عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أُمِرْنَا أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ’’ ابوداؤد، بَاب مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، حدیث نمبر:۶۹۵۔ ‘‘وفي جميع ركعات النافلة؛ لأن كل شفع (أي ركعتين) من النافلة صلاة على حدة’’ الفقہ الاسلامی وأدلتہ، واجبات الصلاۃ:۲/۳ (۴۸)مسلم، باب صفۃ الجلوس فی الصلاۃ وکیفیۃ وضع الیدین علی الفخذین، حدیث نمبر:۹۱۲ عن ابن عمرؓ۔ ترمذی، باب منہ ایضا بعد باب ماجاء کیف الجلوس فی التشھد، حدیث نمبر:۲۷۰ ابوحمیدؓ۔ نسائی، باب الاستقبال باطراف اصابع القدم القبلۃ عند القعود للتشہد، حدیث نمبر:۱۱۴۶ عن عبداللہ بن عمرؓ (۴۹)ترمذی، باب کیف الجلوس فی التشہد، حدیث نمبر:۲۶۹ عن ابن حجرؓ۔ مؤطامالکؒ، باب العمل فی الجلوس فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۱۸۴ عن علی بن عبدالرحمن المعاویؒ (۵۰)بخاری، باب الأخذ بالیدین، حدیث نمبر:۵۷۹۴۔ ترمذی، باب ماجاء فی التشہد، حدیث نمبر:۲۶۶ عن عبداللہ بن مسعودؓ (۵۱)ابوداؤد، باب الاشارۃ فی التشہید، حدیث نمبر:۸۳۹ عن عبداللہ بن الزبیرؓ۔ نسائی، باب صفۃ الجلوس فی الرکعۃ التی یقضی فیھا الصلاۃ، حدیث نمبر:۱۲۴۶ عن وائل بن حجرؓ۔ وباب الاشارۃ بالأصبع فی التشہد، حدیث نمبر:۱۲۵۴ عن نمیرالخزاعی۔ ‘‘والمعتمد أنه يشير بسبابة يده اليمنى عند الشهادة، يرفعها عند نفي الألوهية عما سوى الله تعالى، بقوله: (لا إله) ويضعها عند إثبات الألوهية لله وحده، بقوله: (إلا الله) ليكون الرفع إشارة إلى النفي، والوضع إشارة إلى الإثبات، ولا يعقد شيئاً من أصابعه ودليلهم رواية في صحيح مسلم عن ابن الزبير تدل على ذلك؛ لأنه اقتصر فيها على مجرد الوضع والإشارة’’ الفقہ الاسلامی وأدلتہ، وضع الیدین علی الفخذین:۲/۸۸ (۵۲)مسلم، باب الصلاۃ علی النبیﷺ بعد التشہد، حدیث نمبر:۶۱۳، ترمذی، باب ومن الأحزاب، حدیث نمبر:۳۱۴۴ عن ابی مسعود الانصاریؓ۔ درود شریف کے بعد دُعائے ماثورہ پڑھو۵۳؎۔ دُعائے ماثورہ ‘‘اللہمَّ اِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْراً وَّلَایَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّآاَنْتَ فَاغْفِرْلِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ’’۵۳؎۔ (۵۳)بخاری، باب الدعاء قبل السلام، حدیث نمبر:۷۹۰ عن ابی بکرؓ۔ مسلم، باب استحباب خفص الصوت بالذکر، حدیث نمبر:۴۸۷۶ عن ابی بکرؓ۔ اس کے بعد داہنی طرف سلام پھیرو۵۴؎ اور سلام پھیرتے وقت داہنی طرف کے فرشتوں اور نمازیوں کی نیت کرو؛ پھربائیں طرف سلام پھیرو اور اس طرف کے فرشتوں اور نمازیوں کی نیت کرو؛ اگر امام کے پیچھے ہو تو جس طرف امام ہو اس طرف کے سلام میں امام کی بھی نیت کرو؛ اگر امام کے بالکل پیچھے ہو تو دونوں سلاموں میں امام کی نیت کرو اور امام دونوں سلاموں میں مقتدیوں اور فرشتوں کی نیت کرے۵۵؎۔ (۵۴)مسلم، باب السلام للتحلیل من الصلاۃ عندفراغھا، حدیث نمبر:۹۱۶ عن عامر بن سعدؓ۔ ترمذی، باب ماجاء فی التسلیم فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۲۷۲ عن عبداللہ بن مسعودؓ (۵۵)مؤطامالکؒ، باب النداء فی السفر وعلی غیروضوء، حدیث نمبر:۱۴۶ عن سعید بن المسیبؓ۔ ابن ماجہ، باب ردالسلام علی الامام، حدیث نمبر:۹۱۳۔ ۹۱۱ عن سمرہ بن جندب۔ سلام کے الفاظ سلام کے الفاظ یہ ہیں ‘‘اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہ’’ یہ دو رکعت والی نماز ختم ہوگئی؛ اگر تین یاچار رکعت والی نماز ہے تو ‘‘عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ’’ تک التحیات (تشہد) پڑھ کر فوراً تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہوجاؤ۵۶؎ اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر الحمد شریف پڑھو؛ اگر فرض نماز ہے تو سورت نہ ملاؤ۵۷؎ (اگر امام کے پیچھے ہو تو خاموش رہو۵۷؎) اپنی نیت کے مطابق ایک رکعت یادو رکعت پڑھ کر بیٹھ جاؤ اور التحیات، درودشریف اور دعائے ماثورہ پڑھ کر دونوں طرف سلام پھیر کر نماز مکمل کرو۔ (۵۶)ابوداؤد، باب افتتاح الصلاۃ، حدیث نمبر:۶۲۷ ابو حمیدؓ (۵۷)بخاری، باب یقرأ فی الأخرین بفاتحۃ الکتاب، حدیث نمبر:۷۳۴ عن ابی قتادہؓ۔ ‘‘وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ’’ الاعراف:۲۰۴۔ ‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا’’ نسائی، تَأْوِيلُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذَاقُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ}، حدیث نمبر:۹۱۲۔ ‘‘عن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال: من كان له إمام فقراءته له قراءة’’ باب مسند جابر بن عبداللہؓ، حدیث نمبر:۱۴۶۸۴۔

مرد وعورت کی نماز کا فرق عورتوں کو چہرہ اور دونوں ہاتھ گٹوں تک اور پاؤں ٹخنوں تک کے سوا تمام بدن کا چھپانا فرض ہے، سر کے بال بھی کھلے نہ رہیں۵۸؎۔ خواتین نماز شروع کرنے کے وقت دونوں کندھوں تک ہاتھ اُٹھائیں کانوں تک نہ اٹھائیں۵۹؎۔ خواتین دونوں ہاتھوں کو سینہ پر باندھیں۶۰؎۔ خواتین ہرنماز میں قرأت آہستہ کریں۶۱؎۔ خواتین سجدہ سمٹ کر کریں، یعنی شکم کو رَان سے اور بازؤں کو دونوں پہلوؤں سے ملادیں۶۲؎۔ خواتین دونوں قعدوں میں دونوں پاؤں دا ہنی طرف نکال کر سرین پر بیٹھیں۶۳؎۔ (۵۸)ترمذی، باب ماجاء لاتقبل صلاۃ المرأۃ الابخمار، حدیث نمبر:۳۴۴ عن عائشہؓ۔ ابوداؤد، باب الامرأۃ تصلی بغیرخمار، حدیث نمبر:۵۴۶ (۵۹)مصنف ابن ابی شیبہ، باب فی المرأۃ إذافتحت الصلاۃ الی این ترفع یدیھا، حدیث نمبر:۲۴۸۵ عن عبد ربہ بن زیتون، الزھری، ابن جریج۔ مجمع الزوائد، باب رفع الیدین فی الصلاۃ: ۲/۱۰۳ عن وائل بن حجرؓ۔ المعجم الکبیر، باب الواو، حدیث نمبر:۲۸ عن وائل بن حجرؓ (۶۰)السنن الکبری للبیہقی، باب وضع الیدین علی الصدر، حدیث نمبر:۲۴۲۹ عن وائل بن حجرؓ۔ ‘‘أماالمرأة فتضع يديها على صدرها من غير تحليق لأنه أستر لها’’ الفقہ الاسلامی وأدلتہ، وضع الید الیمنی علی ظہر الیسری: ۲/۶۲۔ وھکذا فی اعلاء السنن، المرأۃ تصنع الکف علی الکف علی صدرھا فانہ استرلھا: ۲/۱۹۹۹ (۶۱)بخاری، باب التصفیق للنساء، حدیث نمبر:۱۱۲۸ عن ابی ھریرۃؓ، مسلم، باب تقدیم الجماعۃ من یصلی بھم اذاتأخرالامام، حدیث نمبر:۶۳۹ عن سہل بن سعد الساعدیؓ (۶۲)مراسل ابی داؤد، باب اذاسجدتمافضما بعض اللحم إلی الأرض فإن المرأۃ لیست فی ذلک کالرجل، حدیث نمبر:۸۴ عن یزید بن ابی حبیبؒ۔ مصنف ابن ابی شیبہ، باب المرأۃ کیف تکون فی سجودھا؟، حدیث نمبر:۲۷۹۳ عن علیؓ، ابن عباسؓ، ابراہیمؒ، الحسنؒ (۶۳)مصنف عبدالرزاق، باب جلوس المرأۃ، حدیث نمبر:۵۰۷۵۔ عبدالرزاق عن معمر عن قتادہ قال جلوس المرأۃ بین السجدتین متورکۃ’’الخ۔ خواتین کی نماز اور سائنسی حقائق عورتوں کو شرعی حکم ہے کہ وہ سجدے میں کھنیوں کو نہ پھیلائیں بلکہ کہنیاں بدن کے ساتھ لگی رہیں، ایسا کرنے سے عورتوں کے اعصاب، دودھ پیدا کرنے والے غدود، سینے کے اعصاب اور حسن نسواں پر بہت گہرے اثرات پڑتے ہیں؛ یہی کفیت سجدے میں رانوں کو جدانہ کرنے کی ہے؛ کیونکہ اگر عورت شرعی حکم کے مطابق سجدہ کرے گی تو وہ بے شمار نسوانی امراض سے محفوظ رہے گی؛ ورنہ ایسی پوشیدہ نسوانی امراض پیدا ہوتی ہیں جو زندگی کے لیے وبال جان بن جاتی ہیں۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۸۴،مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا)






روزہ روزہ کی حقیقت روزہ کے لیے قرآن وحدیث میں ‘‘صوم’’ کا لفظ آیا ہے؛ صوم کے اصل معنی ‘‘رکنے’’ کے ہیں، خاص طور پر کھانے پینے سے رکنا؛ اگرگھوڑا چارہ نہیں کھاتا تو عرب کہا کرتے تھے ‘‘صام الفرس علی آریہ’’۔ (البحرالرائق، کتاب الصوم: ۶/۱۲۵) شریعت میں کھانا، پینا اور جماع سے صبح صادق کے طلوع ہونے کے وقت سے لیکر غروبِ آفتاب تک روزہ کی نیت سے رکے رہنے کا نام ‘‘صوم’’ ہے۔ (جامع الرموز: ۱/۱۵۳) روزہ دراصل اپنے خالق ومعبود سے عشق ومحبت کے تعلق کا مظہر ہے، نماز میں خوف وتعظیم کا پہلو غالب ہے کہ بندہ اپنے آقا کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہے، کبھی جھکتا ہے، کبھی اپنی جبیں بندگی زمین پر رکھ دیتا ہے، روزہ میں اللہ تعالیٰ سے محبت کا اظہار ہے کہ خدا کی خوشنودی کی طلب میں بھوک سے، پیاس سے، دنیا کی چیزوں سے بے تعلقی ہے، لذت لب ودہن سے بے نیازی ہے اور ایک ہی آرزو ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہوجائے، کھانے کے اسباب موجود ہیں؛ لیکن ایک دانہ حلق سے نیچے نہیں جاسکتا، پانی کی کمی نہیں اور پیاس نے لب ودہن کو خشک کررکھا ہے؛ لیکن کیا مجال ہے کہ کوئی گھونٹ حلق کو ترکردے، دن بھر تپنے اور سورج ڈوبنے کے بعد اللہ ہی کے حکم سے روزہ دار کھاتا اور پیتا ہے، یہی روزے کی حقیقت ہے۔ روزہ کی اہمیت توحید ورسالت کی شہادت کے بعد نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج اسلام کے عناصر اربعہ ہیں، روزہ اسلام کی اہم ترین عبادات میں سے ہے، اسلام میں اس کی اہمیت کے پیش نظر مکمل ماہِ رمضان کے روزوں کو فرض قرار دیا گیا؛ نیزسفر یامرض کی وجہ سے روزہ متعذر ہوجائے تو بعد میں اس کی قضا کو لازمی قرار دیا گیا: ‘‘وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْعَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ’’۔ ( البقرۃ: ۱۸۵) ‘‘پھرجوشخص تم میں بیمار ہو یاسفر میں ہو تو دوسرے ایام کا شمار رکھتا ہے’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) نیز عورت کے لیے حالت حیض ونفاس میں نماز جیسی اہم عبادت کو معاف کیا گیا لیکن روزہ کی قضا لازم قرار دی گئی: ‘‘عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَطْهُرُ فَيَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصِّيَامِ وَلَا يَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ’’۔ (ترمذی، باب ماجاء فی قضاء الحائض الصیام دون الصلاۃ، حدیث نمبر:۷۱۷) ‘‘حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم حضورﷺ کے زمانہ میں حالتِ حیض میں ہو؛ پھرجب پاک ہوجاتے تو آپ ﷺ ہمیں روزے کی قضا کا حکم فرماتے اور نماز کی قضا کرنے کا حکم نہ فرماتے’’۔ اور روزہ کی اہمیت ہی کی وجہ سے ایسے بیمار جنہیں صحت کی امید ہی نہ ہو ان کے حق میں شریعت نے یہ حکم دیا کہ یہ روزے کے بجائے اس کا فدیہ ادا کریں۔ (تفسیرمظہری: ۱/۲۳۸، قاضی محمد ثناء اللہ صاحبؒ، مطبوعہ:زکریا، دیوبند، یو پی) روزہ کی فضیلت حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (روزہ کی فضیلت اور قدروقیمت بیان کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا کہ آدمی کے ہراچھے عمل کا ثواب دس گنا سے سات سو گناہ تک بڑھایا جاتا ہے (یعنی اس امتِ مرحومہ کے اعمال خیر کے متعلق عام قانونِ الہٰی یہی ہے کہ ایک نیکی کا اجر اگلی امتوں کے لحاظ سے کم از کم دس گنا ضرور عطا ہوگا اور بعض اوقات عمل کرنے والے کے خاص حالات اور اخلاص وخشت وغیرہ کیفیات کی وجہ سے اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوگا؛ یہاں تک کہ بعض مقبول بندوں کو ان کے اعمال حسنہ کا اجر سات سو گنا عطا فرمایا جائیگا؛ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس عام قانون رحمت کا ذکر فرمایا) مگر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ روزہ اس عام قانون سے مستثنیٰ اور بالاتر ہے وہ بندہ کی طرف سے خاص میرے لیے ایک تحفہ ہے اور میں ہی (جس طرح چاہوں گا) اس کا اجر وثواب دونگا، میرا بندہ میری رضا کے واسطے اپنی خواہش نفس اور اپنا کھانا، پینا چھوڑدیتا ہے (لہٰذا میں خود ہی اپنی مرضی کے مطابق اس کی اس قربانی اور نفس کشی (نفس کو مارنے) کا صلہ دونگا) روزہ دار کے لیے دومسرتیں ہیں (۱)افطار کے وقت (۲)اپنے مالک ومولیٰ کی بارگاہ میں حضوری ملاقات کے وقت، اور قسم ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے (یعنی انسانوں کے لیے مشک کی خوشبو جتنی اچھی پیاری ہے اللہ کے پاس روزہ دار کے منہ کی بو اس سے بھی اچھی ہے) اور روزہ (دنیا میں شیطان ونفس کے حملوں سے بچاؤ کے لیے اور آخرت میں آتشِ دوزخ سے حفاظت کے لیے ڈھال ہے) اور جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو چاہیے کہ وہ بے ہودہ اور فحش باتیں نہ بکے اور شوروشغب نہ کرے اور اگر کوئی دوسرا اس سے گالی گلوج یاجھگڑا کرے تو کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔ (بخاری، باب ھل یقول انی صائم اذاشتم، حدیث نمبر:۱۷۷۱۔ مسلم، حدیث نمبر:۱۹۴۴ ‘‘عن أبِی صالِح الزیاتِ أنہ سمِع أباہریرۃؓ یقول قال رسول اللہﷺ قال اللہ عز وجل کل عملِ ابنِ آدم’’الخ) اس حدیث کے آخر میں رسول اللہ ﷺ نے جو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ‘‘جب کسی کا روزہ ہو تو وہ فحش اور گندی باتیں اور شوروشغب بالکل نہ کرے اور اگر بالفرض کوئی دوسرا اس سے الجھے اور گالیاں دے جب بھی کوئی سخت بات نہ کہے؛ بلکہ صرف اتنا کہدے کہ بھائی میرا روزہ ہے، اس آخری ہدایت میں اشارہ ہے کہ اس حدیث میں روزہ کی جو خاص فضیلتیں اور برکتیں بیان کی گئی ہیں یہ انہی روزوں کی ہیں جن میں شہوت نفس اور کھانے پینے کے علاوہ گناہوں؛ حتی کہ بری اور ناپسندیدہ باتوں سے بھی پرہیز کیا گیا ہے، ایک دوسری حدیث میں آیا ہے، جو شخص روزہ رکھے لیکن برے کاموں اور غلط باتوں سے پرہیز نہ کرے تو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی اللہ کو کوئی احتیاج نہیں ہے۔ (بخاری، باب من لم یدع قول الزور والعمل بہ فی الصوم، حدیث نمبر:۱۷۷۰ ‘‘عن أبِی ہریرۃؓ قال قال رسول اللہﷺ من لم یدع قول الزورِ والعمل بِہِ فلیس لِلہِ حاجۃٌ فِی أَن یدع طعامہ وشرابہ’’) حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت کے دروازوں میں ایک خاص دروازہ ہے جس کو ‘‘باب الریان’’ کہا جاتا ہے، اس دروازے سے قیامت کے دن صرف روزہ داروں کا داخلہ ہوگا، ان کے سوا کوئی اس دروازے سے داخل نہیں ہوسکے گا، اس دن پکارا جائے گا کہ کدھر ہیں وہ بندے جو اللہ کے لیے روزے رکھا کرتے تھے اور بھوک پیاس کی تکلیف اٹھایا کرتے تھے؟ وہ اس پکار پر چل پڑیں گے۔ (بخاری، باب الریان للصائمین، حدیث نمبر:۱۷۶۳۔ مسلم، حدیث نمبر:۱۹۴۷) روزہ میں جس تکلیف کا احساس سب سے زیادہ ہوتا ہے اور جو روزہ دار کی سب سے بڑی قربانی ہے وہ اس کا پیاسا رہنا ہے، اس لیے اس کو جو صلہ اور انعام دیا جائیگا اس میں سب سے زیادہ نمایاں اور غالب پہلو سیرابی کا ہونا چاہیے، اسی مناسبت سے جنت میں روزہ داروں کے داخلہ کے لیے جو مخصوص دروازہ مقرر کیا گیا ہے اس کی خاص صفت ‘‘سیرابی وشادابی’’ ہے۔ ‘‘ریان’’ کے لغوی معنی ہیں ‘‘پورا پورا سیراب’’ (المنجد:۴۲۱) یہ بھرپور سیرابی تو اس دروازہ کی صفت ہے جس سے روزہ داروں کا داخلہ ہوگا، آگے جنت مں پہنچ کر جو کچھ اللہ تعالیٰ کے انعامات ان پر ہوں گے ان کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے، جس کا ارشاد ہے: ‘‘الصوم لی وأنا اجزی بہ’’ بندہ کا روزہ بس میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کا صلہ دونگا۔ (صحیح ابن خزیمہ، باب ذکر طیب خلفۃ الصائم عنداللہ یوم القیامۃ، حدیث نمبر:۱۸۹۶ ‘‘عن ابی صالح الزیات انہ سمع اباھریرۃ یقول’’الخ) حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کسی عمل کا حکم فرمائیے، جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ روزہ رکھا کرو اس کی مثل کوئی بھی عمل نہیں ہے۔ (نسائی شریف، باب ذکرالاختلاف علی محمد بن ابی بعقوب، حدیث نمبر:۲۱۹۰) نماز، روزہ، صدقہ، حج اور اللہ کے مخلوق کی خدمت وغیرہ اعمالِ صالحہ میں یہ بات مشترک ہونے کے باوجود کہ یہ سب تقرّب الی اللہ کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں، ان کی الگ الگ کچھ خاص تاثیرات اور خصوصیات بھی ہیں جن میں یہ ایک دوسرے سے ممتاز اور منفرد ہیں؛ گویا ؎ ‘‘ہرگلے را رنگ وبوئے دیگر است’’۔

ہرپھول کا رنگ اور خشبو الگ ہوا کرتی ہے۔ ان انفرادی اور امتیازی خصوصیات کے لحاظ سے ان میں سے ہرایک کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ ‘‘اس کے مثل کوئی عمل نہیں ہے’’ مثلاً نفس کو مغلوب اور مقہور کرنے اور اس کی خواہشوں کو دبانے کے لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ اس صفت میں کوئی دوسرا عمل روزہ کے مثل نہیں ہے؛ لہٰذا حضرت ابوامامہ کی اس حدیث میں روزہ کے بارے میں جو فرمایا گیا کہ ‘‘اس کے مثل کوئی عمل نہیں ہے’’ اس کی حقیقت یہی سمجھنی چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزہ اور قرآن دونوں بندے کی سفارش کریں گے (یعنی اس بندے کی جو دن میں روزے رکھے گا اور رات میں اللہ کے حضور میں کھڑے ہوکر اس کا پاک کلام قرآن مجید پڑھے گا یاسنے گا) روزہ عرض کریگا: اے میرے پروردگار! میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور نفس کی خواہش پورا کرنے سے روکے رکھا تھا، آج میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما (اور اس کے ساتھ مغفرت ورحمت کا معاملہ فرما) اور قرآن کہیگا کہ میں نے اس کو رات میں سونے اور آرام کرنے سے روکے رکھا تھا، خداوند! آج اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما (اور اس کے ساتھ بخشش اور عنایت کا معاملہ فرما) چنانچہ روزہ اور قرآن دونوں کی سفارش اس بندہ کے حق میں قبول فرمائی جائیگی (اور اس کے لیے جنت اور مغفرت کا فیصلہ فرمادیا جائیگا) اور خاص مراحم خسروانہ سے اس کو نوازا جائیگا۔ (مسنداحمد، مسند عبداللہ بن عمروبن العاصؓ، حدیث نمبر:۶۶۲۶۔ شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر:۱۹۳۸۔ المستدرک للحاکم علی الصحیحین، حدیث نمبر۲۰۳۶) وہ بندے کتنے خوش نصیب ہیں جن کے حق میں ان کے روزوں کی اور نوافل میں ان کے پڑھے ہوئے یاسنے ہوئے قرآن پاک کی سفارش قبول ہوگی، یہ ان کے لیے کیسی مسرت اور فرحت کا وقت ہوگا، اللہ تعالیٰ ہم گنہگاروں کو بھی محض اپنے کرم سے ان خوش بختوں میں شامل کردے (آمین) ماہِ رمضان کی فضیلت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں (اور ایک روایت میں ‘‘ابوابِ جنت’’ کے بجائے ‘‘ابوابِ رحمت’’ کا لفظ ہے)۔ (بخاری، باب صفۃ ابلیس وجنودہ، حدیث نمبر:۳۰۳۵۔ مسلم، باب فضل شھر رمضان، حدیث نمبر:۱۷۹۳) استاذ الاساتذہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ‘‘حجۃ اللہ البالغہ’’ میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے جو کچھ تحریر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے صالح اور اطاعت شعار بندے رمضان میں چونکہ طاعات وحسنات میں مشغول ومنہمک ہوجاتے ہیں وہ دنوں کو روزہ رکھ کے ذکر وتلاوت میں گزارتے ہیں اور راتوں کا بڑا حصہ تراویح وتہجد اور دعا واستغفار میں بسر کرتے ہیں اور ان کے انوار وبرکات سے متاثر ہوکر عوام مؤمنین کے قلوب بھی رمضان مبارک میں عبادات اور نیکیوں کی طرف زیادہ راغب اور بہت سے گناہوں سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں تو اسلام اور ایمان کے حلقے میں سعادت اور تقویٰ کے اس عمومی رحجان اور نیکی اور عبادت کی اس عام فضاء کے پیدا ہوجانے کی وجہ سے وہ تمام طبائع جن میں کچھ بھی صلاحیت ہوتی ہے اللہ کی مرضیات کی جانب مائل اور شر وخباثت سے متنفر ہوجاتی ہیں اور پھر اس ماہِ مبارک میں تھوڑے سے عمل خیر کی قیمت بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سے دوسرے دنوں کی نسبت بہت زیادہ بڑھادی جاتی ہے، تو ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے لیے جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے ان پر بند کردیئے جاتے ہیں اور شااطین ان کو گمراہ کرنے سے عاجز اور بے بس ہوجاتے ہیں۔ (معارف الحدیث:۳۴۴، مصنف:حضرت مولانا محمدمنظور نعمانی صاحبؒ، ولادت:۱۸/شوال ۱۳۲۳ھ، متوفی:۲۶/ذی الحجہ ۱۴۱۷ھ م ۴/مئی ۱۹۹۷ھ، بوقت ۸/بجے شب، مطبوعہ: دارالاشاعت، کراچی، پاکستان) اس تشریح کے مطابق ان تینوں باتوں (یعنی جنت ورحمت کے دروازے کھل جانے، دوزخ کے دروازے بند ہوجانے اور شیاطین کے مقید اور بے بس کردئیے جانے) کا تعلق صرف ان اہل ایمان سے ہے جو رمضان مبارک میں خیروسعادت حاصل کرنے کی طرف مائل ہوتے اور رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے مستفید ہونے کے لیے عبادات وطاعات کو اپنا شغل بناتے ہیں، باقی رہے وہ کفار اور خداناشناس اور وہ خدافراموش اور غفلت شعار لوگ جو رمضان اور اس کے احکام واعمال سے کوئی سروکار ہی نہیں رکھتے اور نہ اس کے آنے پر ان کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو اس قسم کی بشارتوں کا ان سے کوئی تعلق نہیں؛ انھوں نے جب اپنے آپ کو خود ہی محروم کرلیا ہے اور بارہ مہینے شیطان کی پیروی پر وہ مطمئن ہیں تو پھر اللہ کے یہاں بھی ان کے لیے محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنات جکڑ دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے سارے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بھی کھلا نہیں رہتا اور جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، ان کا کوئی دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتا اور اللہ کا منادی پکارتا ہے کہ اے خیر اور نیکی کے طالب! قدم بڑھا کے آ! اور اے بدی اور بدکرداری کے شائق! رک آگے نہ آ! اور اللہ کی طرف سے بہت سے (گنہگار) بندوں کو دوزخ سے رہائی دی جاتی ہے (یعنی ان کی مغفرت کا فیصلہ فرمادیا جاتا ہے) اور یہ سب رمضان کی ہررات میں ہوتا رہتا ہے۔ (ترمذی، باب ماجاء فی فضل شھر رمضان، حدیث نمبر:۶۱۸۔ ابن ماجہ، حدیث نمبر:۱۶۳۲۔ صحیح ابن حبان، حدیث نمبر:۳۴۳۵) اس حدیث کے آخر میں عالم غیب کے منادی کی جس ندا کا ذکر ہے اگرچہ ہم اس کو اپنے کانوں سے نہیں سنتے اور نہیں سن سکتے؛ لیکن اس کا یہ اثر اور یہ ظہور ہم اسی دنیا میں بھی اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ رمضان میں عموماً اہل ایمان کا رحجان خیروسعادت والے اعمال کی طرف بڑھ جاتا ہے؛ یہاں تک کہ بہت سے غیرمحتاط اور آزاد عامی مسلمان بھی ضرورت کے تحت اپنی روش کو کچھ بدلی لیتے ہیں، ہمارے نزدیک یہ ملاء اعلیٰ کی اس ندا اور پکار ہی کا ظہور اور اثر ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماہِ شعبان کی آخری تاریخ میں رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے ایک خطبہ دیا، اس میں آپ ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے، اس مبارک مہینہ کی ایک رات (شبِ قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس مہینہ کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوں میں بارگاہِ خداوندی میں کھڑا ہونے (یعنی نمازِ تراویح پڑھنے) کو نفل عبادت مقرر کیا ہے (جس کا بہت بڑا ثواب رکھا ہے) جو شخص اس مہینہ میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے غرعفرض عبادت (یعنی سنت یانفل) ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانہ کے فرضوں کے برابر اس کا ثواب ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے سترفرضوں کے برابر ہے، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے، یہ ہمدردی اور غمخواری کا مہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مؤمن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے، جس نے اس مہینہ میں کسی روزہ دار کو (اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لیے) افطار کرایا تو اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائیگا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے، آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ یارسول اللہ! ہم میں سے ہرایک کو تو افطار کرانے کا سامان میسر نہیں ہوتا (تو کیا غرباء اس عظیم ثواب سے محروم رہیں گے؟) آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دیگا جو دودھ کی تھوڑی سی لسی پر یاصرف پانی ہی کے ایک گھونٹ پر کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرادے (رسول اللہ ﷺ نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے آگے ارشاد فرمایا) اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پورا کھانا کھلادے اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض (کوثر) سے ایسا سیراب کرے جس کے بعد اس کو کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی؛ تاآنکہ وہ جنت میں پہنچ جائیگا (اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا) اس ماہِ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی ہے (اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا) اور جو آدمی اس مہینہ میں اپنے غلام وخادم کے کام میں تخفیف اور کمی کردیگا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادیگا اور اس کو دوزخ سے رہائی اور آزادی دیگا۔ (شعب الایمان، باب أظلکم شھر رمضان، حدیث نمبر:۳۴۵۵۔ صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر:۱۷۸۰) اس خطبۂ میں ماہِ رمضان کی سب سے بڑی اور پہلی عظمت وفضیلت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس میں ایک ایسی رات ہوتی ہے جو ہزار دنوں اور راتوں سے نہیں بلکہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے، یہ بات جیسا کہ معلوم ہے کہ قرآن مجید میں ‘‘ القدر’’ میں بھی فرمائی گئی ہے؛ بلکہ اس پوری سورت میں اس مبارک رات کی عظمت اور فضیلت ہی کا بیان ہے اور اس رات کی عظمت واہمیت سمجھنے کے لیے بس یہی کافی ہے، ایک ہزار مہینوں میں قریباً تیس ہزار راتیں ہوتی ہیں، اس لیلۃ القدر کے ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے اور اس کے قرب ورضا کے طالب بندے اس ایک رات میں قربِ الٰہی کی اتنی مسافت طے کرسکتے ہیں جو دوسری ہزاروں راتوں میں طے نہیں ہوسکتی، ہم جس طرح اپنی اس مادی دنیا میں دیکھتے ہیں کہ تیز رفتار ہوائی جہاز یاراکٹ کے ذریعہ اب ایک دن بلکہ ایک گھنٹہ میں اس سے زیادہ مسافت طے کی جاسکتی ہے جتنی پرانے زمانے میں برسوں میں طے ہوا کرتی تھی، اسی طرح حصول رضائے خداوندی اور قرب ِالہٰی کے سفر کی رفتار لیلۃ القدر میں اتنی تیز کردی جاتی ہے کہ جو بات صادق طالبوں کو سینکڑوں مہینوں میں حاصل نہیں ہوسکتی، وہ اس مبارک رات میں حاصل ہوجاتی ہے، اسی طرح اس مبارک مہینے میں جو شخص کسی قسم کی نفلی نیکی کریگا اس کا ثواب دوسرے زمانہ کی فرض نیکی کے برابر ملے گااور فرض نیکی کرنے والے کو دوسرے زمانہ کے سترفرض ادا کرنے کا ثواب ملے گا؛ گویا لیلۃ القدر کی خصوصیت تو رمضان المبارک کی ایک مخصوص رات کی خصوصیت ہے؛ لیکن نیکی کا ثواب سترگنا ملنا یہ رمضان المبارک کے ہردن اور ہررات کی برکت اور فضیلت ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں ان حقیقتوں کا یقین نصیب فرمائے اور ان سے مستفید اور متمتع ہونے کی توفیق دے، آمین۔ اس خطبہ میں رمضان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ صبر اور غمخواری کا مہینہ ہے، دینی زبان میں صبر کے اصل معنی ہیں اللہ کی رضا کے لیے اپنے نفس کی خواہشوں کو دبانا اور تلخیوں اور ناگواریوں کو جھیلنا، ظاہر ہے کہ روزہ کا اوّل وآخر بالکل یہی ہے، اسی طرح روزہ رکھ کر ہرروزہ دار کو تجربہ ہوتا ہے کہ فاقہ کیسی تکلیف کی چیز ہے، اس سے اس کے اندر ان غرباء اور مساکین کی ہمدردی اور غمخواری کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے جو بے چارے ناداری کی وجہ سے فاقوں پر فاقے کرتے ہیں، اسی لیے رمضان کا مہینہ بلاشبہ صبر اور غمخواری کا مہینہ ہے، یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اس بابرکت مہینہ میں اہل ایمان کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے ‘‘اس کا تجربہ تو بلااستثناء ہرصاحب ایمان روزہ دار کو ہوتا ہے کہ رمضان المبارک میں جتنا اچھا اور جتنی فراغت سے کھانے پینے کو ملتا ہے باقی گیارہ مہینوں میں اتنا نصیب نہیں ہوتا؛ خواہ اس عالم اسباب میں وہ کسی بھی راستے سے آئے، سب اللہ ہی کے حکم سے اور اسی کے فیصلے سے آتا ہے’’ خطبہ کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ: ‘‘رمضان کا ابتدائی حصہ رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ جہنم سے آزادی کا ہے’’۔ حضرت مولانا محمدمنظور نعمانی رحمہ اللہ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ اس عاجز کے نزدیک اس کی راجح اور دل کو زیادہ لگنے والی توجہیہ اور تشریح یہ ہے کہ رمضان کی برکتوں سے مستفید ہونے والے بندے تین طرح کے ہوسکتے ہیں، ایک وہ اصحاب صلاح وتقویٰ جو ہمیشہ گناہوں سے بچنے کا اہتمام رکھتے ہیں اور جب کبھی ان سے کوئی خطا اور لغزش ہوجاتی ہے تو اسی وقت توبہ واستغفار سے اس کی صفائی وتلافی کرلیتے ہیں، تو ان بندوں پر تو شروع مہینہ ہی سے؛ بلکہ اس کی پہلی ہی رات سے اللہ کی رحمتوں کی بارش ہونے لگتی ہے، دوسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو ایسے متقی اور پرہیزگار تو نہیں ہیں؛ لیکن اس لحاظ سے بالکل گئے گزرے بھی نہیں ہیں تو ایسے لوگ جب رمضان کے ابتدائی حصے میں روزوں اور دوسرے اعمال خیر اور توبہ واستغفار کے ذریعہ اپنے حال کو بہتر اور اپنے کو رحمت ومغفرت کے لائق بنالیتے ہیں، تو درمیانی حصہ میں ان کی بھی مغفرت اور معافی کا فیصلہ فرمادیا جاتا ہے اور تیسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو اپنے نفسوں پر بہت ظلم کرچکے ہیں اور ان کا حال بڑا ابتر رہا ہے اور اپنی بداعمالیوں سے وہ گویا دوزخ کے پورے پورے مستحق ہوچکے ہیں، وہ بھی جب رمضان کے پہلے اور درمیانی حصے میں عام مسلمانوں کے ساتھ روزے رکھ کے اور توبہ واستغفار کرکے اپنی سیاہ کاریوں کی کچھ صفائی اور تلافی کرلیتے ہیں تو اخیر عشرہ میں (جو دریائے رحمت کے جوش کا عشرہ ہے) اللہ تعالیٰ دوزخ سے ان کی بھی نجات اور رہائی کا فیصلہ فرمادیتا ہے، اس تشریح کی بناء پر رمضان مبارک کے ابتدائی حصے کی رحمت، درمیانی حصے کی مغفرت اور آخری حصے میں جہنم سے آزادی کا تعلق بالترتیب امت مسلمہ کے ان مذکورہ بالا تین طبقوں سے ہوگا، واللہ اعلم۔ (معارف الحدیث، کتاب الصوم:۴/۳۴۸، مطبوعہ: دارالاشاعت، پاکستان) بلاعذر رمضان کا روزہ نہ رکھنے کا نقصان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی سفر وغیرہ کی شرعی رخصت اور بیماری جیسے کہ عذر کے بغیر رمضان کا ایک روزہ بھی چھوڑ دیگا وہ اگر اس کے بجائے عمر بھر بھی روزے رکھے تو جو چیز فوت ہوگئی وہ پوری ادا نہیں ہوسکتی۔ (ترمذی، باب ماجاء فی الافطار متعمدا، حدیث نمبر:۶۵۵۔ ابن ماجہ، حدیث نمبر:۱۶۶۲۔ سنن کبریٰ للنسائی، حدیث نمبر:۳۲۷۹) روزہ کے فوائد وحکم روزہ کی بے شمار حکمتیں اور فائدے ہیں، منجملہ ان میں سے ایک خاص حکمت اور فائدہ یہ ہے کہ نفس امارہ کو اس کے تقاضوں اور خواہشات سے روکنے کا عادی بنائے اور نفس کی اصلاح یعنی نفس انسانی قابو میں لے آئے جس سے وہ شرعی احکام جو نفس پر دشوار ہیں وہ نہایت سہل اور آسان ہوجائیں اور ترکِ معاصی اور تقویٰ وپرہیزگاری کی روزہ دار میں صلاحیت پیدا ہوجائے، خدا تعالیٰ فرماتے ہیں: ‘‘یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَاکُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ’’۔ (البقرۃ: ۱۸۳) روزہ روح کی غذا ہے، روزہ سے روح طاقت ور بنتی ہے، نفسانی خواہش کو دبانے اور روح کی صفائی کے لیے روزہ سے زیادہ دوسری کوئی چیز مفید نہیں روزہ سے باب روحانیت مفتوح ہوتا ہے، عبادت میں بہت نشاط اور چستی حاصل ہوتی ہے اسی لیے بندگانِ دین فرماتے ہیں: ‘‘اندر از طعام خالی دار، تادراں نور معرفت بینی’’۔ ترجمہ:پیٹ کو غذا سے خالی رکھا کر؛ تاکہ تجھ کو اس میں معرفتِ الہٰی کا نور نظر آئے۔ روزے سے قرب خداوندی حاصل ہوتا ہے، آنحضرت ﷺ نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کیا، یاالٰہ العالمین بندہ تجھ سے زیادہ قریب کب ہوتا ہے؟ فرمایا کہ جب بندہ بھوکا ہوتا ہے اور جب بندہ سجدہ میں ہوتا ہے (اتحاف الخیرۃ المھرۃ، باب فی الصوم مطلقا، حدیث نمبر:۲۱۸۶، صفحہ نمبر:۳/۱۸۔ بغیۃ الباحث عن زوائد مسند، باب فی فضل الصوم، حدیث نمبر:۳۴۳، صفحہ نمبر:۲/۴۳) روزہ کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ روزے دار صفات خداوندی کے جلوے سے منور ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات کھانے پینے اور خواہشات سے پاک ہے، روزے دار بھی کھانے پینے اور خواہشات سے بے نیاز رہتا ہے، حضرت حق جل مجدہ کی صفات سے مشابہت کے علاوہ ایک حکمت یہ بھی ہے کہ روزہ دار کو فرشتوں سے بھی مشابہت ہوتی ہے، فرشتوں کی غذا ذکر اللہ ہے روزہ سے شکر خداوندی کا موقع ملتا ہے، روزہ سے بھوکے کی قدر اور انسانی ہمدردی کا جذبہ ابھرتا ہے، روزہ سے جسمانی امراض دور ہوجاتے ہیں، بالخصوص بلغمی مزاج کے لیے اکسیر ہے، روزہ خدااور رسول ﷺ کی رضا اور خوشنودی ترقی درجات اور اُخروی نجات کا حتمی ذریعہ ہے؛ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے کہ ‘‘الصوم لی وأنا اجزی بہ’’ یعنی روزے میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ اور عوض دوں گا۔ (حۃب اللہ البالغہ، باب اسرارالصوم: ۱/۱۵۶، مصنف: حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ) روزہ اور جدید سائنس (FASTING AND MOERRN SCIENCE) اسلام نے روزہ کو مؤمن کے لیے شفا قرار دیا ہے (کنزالعمال، حدیث نمبر:۲۳۶۱۰، صفحہ نمبر:۸/۴۵۰) اس ضمن میں سائنس کیا کہتی ہے؟ کچھ واقعات پیش خدمت ہیں: فرانس میں یہودیو ں کے روزے رکھنے کا واقعہ ایک صاحب فرانس گئے وہاں ان کے ایک دوست کہنے لگے کہ رمضان المبارک آیا مجھے روزے رکھنے تھے، تراویح پڑھنی تھی، میں نے اپنے پروفیسر سے کہا کہ مجھے چھٹی دے دو اس نے کہا: کیوں؟ میں نے کہا کہ مجھے روزے رکھنے ہیں، تراویح پڑھنی ہے اس نے کہا کہ تمھیں چھٹی کی کیوں ضرورت ہے؟ میں نے کہا کہ مجھے فلاں جگہ دور جانا ہے اور روزانہ آجا نہیں سکتا، اس نے کہا میں تمھیں بتاتا ہوں، ڈاڑھیاں، عمامے باندھے ہوئے، جبے پہنے ہوئے مسواک سے وضوکررہے ہیں، اذانیں دے رہے ہیں اور نمازیں پڑھ رہے ہیں، ایک آگے قرآن پاک پڑھ رہا ہے دوسرے پیچھے سن رہے ہیں پھرمزے کی بات یہ کہ روزے بھی رکھ رہے ہیں یعنی پورا مہینہ؛ پھراعتکاف بھی بیٹھے، صبح وشام روزے کی سحری وافطاری معمول کے مطابق ہوتی رہی، کہنے لگے کہ پھر میں عیدپڑھ کر واپس آگیا، میں نے پروفیسر سے کہا آپ کی بڑی مہربانی کہ آپ نے مجھے ایسے لوگوں سے ملادیا، میرا رمضان المبارک تو بہت اچھا گزرا تو یہ سن کر وہ پروفیسر مسکرایا، میں نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگا آپ کو معلوم بھی ہے کہ یہ سب یہودی تھے میں نے کہا کہ مجھے تونہیں معلوم کہنے لگا انہوں نے ایک Project کے تحت کام کیا کہ اسلام میں مسلمان مسلسل ایک مہینہ روزے رکھتے ہیں ہم بھی ویسے روزے رکھ کر دیکھتے ہیں کہ اسلام کے اندر کیا اچھائیاں ہیں اور اچھائیاں ہوں گی تو ہم بن کہے اسلام قبول کرلیں گے۔ (علمائے کرام اور ان کی ذمہ داریاں۔ سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۱۶۳، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) امریکی غیرمسلم کا واقعہ مولانا پیرذوالفقار نقشبندی صاحب مدظلہٗ سے ایک صاحب ملے اورکہنے لگے میں روزے رکھتا ہوں! امریکن تھا میں نے کہا وہ کیوں تم توغیرمسلم ہو؟ کہنے لگا وہ ایسے کہ سال میں کچھ وقت انسان پر ایسا گزرنا چاہیے کہ وہ ڈائٹنگ کرکے اپنے نظام ہضم (Digestive System) کو کچھ عرصہ فارغ رکھے، اس طرح اس کے اندر موجود رطوبتیں جو وقت کے ساتھ ساتھ زہر (Poison) میں تبدیل ہوجاتی ہیں، روزے سے ختم ہوجاتی ہیں، ان خطرناک رطوبتوں کے ختم ہونے سے بہت سے پیچیدہ امراض کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور اس طرح نظام ہضم پہلے سے مضبوط ہوجاتا ہے، اس لیے میں نے اور میری بیوی نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم مہےن میں اس طرح روزہ رکھ کر ڈائٹنگ (Dieting) کریں گے، میں نے کہا ہمیں یہ سنت دین میں بتائی گئی ہے کہ ہرمہینے ایام بیض کے تین روزے رکھیں بالخصوص وہ لوگ جو غیرشادی شدہ ہوں ان کے اندر ایک ڈسپلن (Disipline) صبر اور ضبط نفس پیدا ہوتا ہے۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۱۶۴، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی حیرانگی پروفیسر مورپالڈ آکسفورڈ یونیورسٹی کی پہچان ہیں، انہوں نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ میں نے اسلامی علوم کا مطالعہ کیا اور جب روزے کے باب پر پہنچا تو میں چونک پڑا کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اور کچھ نہ دیتا صرف یہی روزے کا فارمولہ ہی دیتا تو پھر بھی اس سے بڑھ کر ان کے پاس اور کوئی نعمت نہ ہوتی، میں نے سوچا کہ اس کو آزمانا چاہیے پھر میں نے روزے مسلمانوں کی طرز پر رکھنا شروع کردئیے میں عرصہ دراز سے معدے کے ورم (Stomach Inflammation) میں مبتلا تھا، کچھ دنوں کے بعد ہی میں نے محسوس کیا کہ اس میں کمی واقع ہوگئی ہے، میں نے روزوں کی مشق جاری رکھی پھر میں نے جسم میں کچھ اور تبدیلی بھی محسوس کی اور کچھ ہی عرصہ بعد میں نے اپنے جسم کو نارمل پایا؛ حتی کہ میں نے ایک ماہ کے بعد اپنے اندر انقلابی تبدیلی محسوس کی۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۱۶۵، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) پوپ ایلف گال کا تجربہ (P.E.G.S ANALYSIS) یہ ہالینڈ کا بڑا پادری گزرا ہے، اس نے روزے کے بارے میں اپنے تجربات بیان کئے ہیں میں اپنے روحانی پیروکاروں کو ہرماہ تین روزے رکھنے کا تلقین کرتا ہوں، میں نے اس طریقہ کار کے ذریعے جسمانی اور وزنی ہم آہنگی محسوس کی میرے مریض مسلسل مجھ پر زور دیتے کہ میں انہں، کچھ اور طریقہ بتاؤں؛ لیکن میں نے یہ اصول وضع کرلیا کہ ان میں وہ مریض جو لاعلاج ہیں ان کو تین یوم نہیں بلکہ ایک ماہ تک روزے رکھوائے جائیں، میں نے شوگر (Dibetese) دل کے امراض (Heart Diseases) اور معدے کے امراض (Stomach Diseases) میں مبتلا مریضوں کو مستقل ایک ماہ روزے رکھوائے، شوگر کے مریضوں کی حالت بہتر ہوئی ان کو شوگر کنٹرول ہوگئی۔ دل کے مریضوں کی بے چینی اور سانس کا پھولنا کم ہوا، معدے کے مریضوں کو سب سے زیادہ افاقہ ہوا۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۱۶۶، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) ڈاکٹرلوتھر جیم آف کیمبرج فارماکالوجی (Pharmacology) کے ماہر تھے، ہرچیزکو غور اور توجہ سے دیکھنا ان کے مزاج میں تھا، انہوں نے سارا دن خالی پیٹ (روزے دار) شحص کے معدے کی رطوبت (Stomach Secretion) لی اور پھر اس کا لیبارٹری ٹیسٹ کیا اس میں اس نے محسوس کیا کہ وہ غذائی متعفن اجزاء (Food Particals Septic) جن سے معدہ امراض کو قبول کرتا ہے، بالکل ختم ہوجاتے ہیں، لوتھر کا کہنا ہے کہ روزہ جسم اور خاص طور پر معدے کے امراض میں صحت کی ضمانت ہے۔ (سنتِ نبویؐ اور جدید سائنس:۱/۱۶۷، مصنف:طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) سگمنڈنرائیڈ (SIGMOND NARAYAD) مشہور ماہر نفسیات ہے اور اس کی تھیوری (Theory) نفسیاتی ماہرین (Pisychologists) کے لیے نشان راہ ہے، موصوف فاقہ اور روزے کا قائل تھا، اس کا کہنا ہے کہ روزے سے دماغی اور نفسیاتی (Mental And Pcshycological) امراض کا کلی خاتمہ ہوتا ہے جسم انسانی میں مختلف ادوار آتے ہیں لیکن روزہ دار آدمی کا جسم مسلسل بیرونی دباؤ (External Pressure) کو قبول کرنے کی صلاحیت پالیتا ہے، روزہ دار کو جسمانی کھچاؤ (Body Congestion) اور ذہنی ڈیپریشن (Mental Deperssion) سے سامنا نہیں ہوتا۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۱۶۷، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا)


وہ دن بھی آئے گا جب ہرانسان روزہ رکھے گا THE DAY WILL COM WHEN EVERYONE WILL FAST ‘‘یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَاکُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْعَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍط فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَہُوَ خَیْرٌلَّہٗط وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo’’۔ (البقرۃ:۱۸۳،۱۸۴) ترجمہ: ‘‘اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا اس توقع پر کہ تم متقی بن جاؤ، تھوڑے دنوں روزہ رکھ لیا کرو؛ پھرجوشخص تم میں بیمار ہویاسفر میں ہو تو دوسرے ایام کا شمار رکھانا ہے اور جو لوگ روزے کی طاقت رکھتے ہوں ان کے ذمہ فدیہ ہے کہ وہ ایک غریب کا کھانا ہے اور جو شخص خوشی سے خیرکرے تو یہ اس شخص کے لیے اور بھی بہتر ہے اور تمہارا روزہ رکھنا زیادہ بہتر ہے اگر تم خبر رکھتے ہو’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) سورۂ بقرہ کی آیات ۱۸۳/ سے ۱۸۷/تک دین کے ایک اہم رکن روزہ کا حکم دیا گیا ہے اور تفصیلات بتائی گئی ہیں، ہم آیت نمبر ۱۸۴/کے آخری حصہ میں بیان کردہ حقائق کا طبی نقطۂ نظر سے مطالعہ کریں گے، اس حصہ میں بتایا گیا ہے کہ روزہ ایک اچھی چیز ہے جس سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں، اس امر کا بھی اعلان کیا گیا ہے کہ ہم اس سے حاصل کردہ رحمتوں کو سمجھ سکتے ہیں اگر ہم سچ کو پہچان سکیں، ابھی کچھ عرصہ قبل تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ روزہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ اس سے نظام ہضم کو آرام ملتا ہے، جیسے جیسے طبی علم نے ترقی کی اس حقیقت کا بتدریج علم حاصل ہوا کہ روزہ تو ایک طبعی معجزہ ہے؛ اسی وجہ سے آیات کریمہ کا آخری حصہ یہ کہتا ہے ‘‘اگر تم سمجھو تو’’ آئیے جیسا کہ ہم پہلی آیات کے سلسلے میں کہہ چکے ہیں اب سائنسی تناظر میں دیکھیں کہ کس طرح روزہ ہماری صحت مندی میں مدد دیتا ہے۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۱۷۱، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا)






روزہ کے جسمانی فوائد (الف)روزہ کا نظام ہضم پر اثر نظام ہضم جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایک دوسرے سے قریبی طور پر ملے ہوئے بہت سے اعضاء پر مشتمل ہوتا ہے اہم اعضاء جیسے منہ اور جبڑے میں لعابی غدود، زبان، گلا، مقوی نالی (Alimentary Canal) (یعنی گلے سے معدہ تک خوراک لے جانے والی نالی) معدہ، بارہ انگشتی آنت، جگراور لبلبہ اور آنتوں سے مختلف حصے وغیرہ تمام نظام اس نظام کا حصہ ہیں، اس نظام کا اہم حصہ یہ ہے کہ یہ سب سے پیچیدہ اعضاء خود بخود ایک کمپیوٹری نظام سے عمل پذیر ہوتے ہیں، جیسے ہی ہم کچھ کھانا شروع کرتے ہیں یاکھانے کا ارادہ کرتے ہیں یہ نظام حرکت میں آجاتا ہے اور ہرعضو اپنا مخصوص کام شروع کردیتا ہے، یہ ظاہر ہے کہ سارا نظام چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر ہونے کے علاوہ اعصابی دباؤ اور غلط قسم کی خوراک کی وجہ سے ایک طرح سے گہس جاتا ہے۔ روزہ ایک طرح اس سے ان سارے نظام ہضم پر ایک ماہ کا آرام طاری کردیتا ہے مگر درحقیقت اس کا حیران کن اثر بطورِ خاص جگر پر ہوتا ہے؛ کیونکہ جگر کے کھانا ہضم کرنے کے علاوہ پندرہ مزید عمل بھی ہوتے ہیں، یہ اس طرح تھکان کا شکار ہوجاتا ہے، جیسے ایک چوکیدار ساری عمر کے لیے پہرے پر کھڑا ہو، اسی کی وجہ سے صفرا کی رطوبت جس کا اخراج ہاضمہ کے لیے ہوتا ہے، مختلف قسم کے مسائل پیدا کرتی ہے اور دوسرے اعمال پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ دوسری طرف روزے کے ذریعے جگر کو چار سے چھ گھنٹوں تک آرام مل جاتا ہے، یہ روزے کے بغیر قطعی ناممکن ہے؛ کیونکہ بے حد معمولی مقدار کی خوارک یہاں تک کہ ایک گرام کے دسویں حصہ کے برابر بھی اگر معدہ میں داخل ہوجائے تو پورا کا پورا نظام ہضم اپنا کام شروع کردیتا ہے اور جگر فوراً مصروف عمل ہوجاتا ہے، سائنسی نقطۂ نظر سے یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ اس آرام کا وقفہ ایک سال میں ایک ماہ تو ہونا ہی چاہیے، جدید دور کا انسان جو اپنی زندگی کی غیرمعمولی قیمت مقرر کرتا ہے متعدد طبی معائنوں کے ذریعہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنا شروع کردیتا ہے؛ لیکن اگر جگر کے خلیے کو قوتِ گویائی حاصل ہوتی تو وہ ایسے انسان سے کہتا کہ: ‘‘مجھ پر ایک عظیم احسان صرف روزے کے ذریعہ سے ہی کرسکتے ہو’’۔ جگر پر روزہ کی برکات میں سے ایک وہ ہے جو خون کے کیمیائی عمل پر اثر اندازی سے متعلق ہے، جگر کے انتہائی مشکل کاموں میں ایک کام اس توازن کو برقرار رکھنا بھی ہے جو غیرہضم شدہ خوراک اور تحلیل شدہ خوراک کے درمیان ہوتا ہے، اسے یاتو ہرلقمے کو اسٹور میں رکھنا ہوتا ہے یاپھر خون کے ذریعے اس کے ہضم ہو کر تحلیل ہوجانے کے عمل کی نگرانی کرنا ہوتی ہے، جبکہ روزے کے ذریعے جگر توانائی بخش کھانے کے اسٹور کرنے کے عمل سے بڑی حد تک آزاد ہوجاتا ہے، اسی طرح جگر اپنی توانائی خون میں گلوبلن (Globulin) (جو جسم کے محفوظ رکھنے والے Immune سسٹم کو تقویت دیتا ہے) کی پیداوار پر صرف کرسکتا ہے، روزے کے ذریعے گلے کو اور خوراک کی نالی کو جو بے حد حساس حصے ہیں، جو آرام نصیب ہوتا ہے اس تحفے کی کوئی قیمت ادا نہیں کی جاسکتی، انسانی معدہ روزہ کے ذریعہ جو بھی اثرات حاصل کرتا ہے وہ بے حد فائدہ مند ہوتے ہیں، اس ذریعہ سے معدہ سے نکلنے والی رطوبتیں بھی بہتر طور پر متوازن ہوجاتی ہیں، اس کی وجہ سے روزہ کے دوران تیزابیت (Acidity) جمع نہیں ہوتی اگرچہ عام قسم کی بھوک سے یہ بڑھ جاتی ہے؛ لیکن روزہ کی نیت اور مقصد کے تحت تیزابیت کی پیدوار رک جاتی ہے، اس طریقہ سے معدہ کی پٹھے اور معدہ کی رطوبت پیدا کرنے والے خلیے رمضان کے مہینے میں آرام کی حالت میں چلے جاتے ہیں، جو لوگ زندگی میں روزے نہیں رکھتے، ان کے دعوؤں کے برخلاف یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ایک صحت مند معدہ شام کو روزہ کھولنے کے بعد زیادہ کامیابی سے ہضم کا کام سرانجام دیتا ہے۔ روزہ آنتوں کو بھی آرام اور توانائی فراہم کرتا ہے، یہ صحت مند رطوبت کے بننے اور معدہ کے پٹھوں کی حرکت سے ہوتا ہے، آنتوں کے شرائین کے غلاف کے نیچے محفوظ رکھنے والے نظام کا بنیادی عنصر موجود ہوتا ہے، جیسے انتڑیوں کا جال، روزے کے دوران ان کو نئی توانائی اور تازگی حاصل ہوتی ہے اس طرح ہم ان تمام بیماریوں کے حملوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں جو ہضم کرنے والی نالیوں پر ہوسکتے ہیں۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۱۷۱،۱۷۳، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) (ب) روزہ کے دوران خون پر فائدہ مند اثرات دن میں روزے کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہوجاتی ہے، یہ اثر دل کو انتہائی فائدہ مند آرام مہیا کرتا ہے، زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سیلوں کے (Intercellular) درمیان مائع کی مقدار میں کمی کی وجہ سے ٹشو یعنی پٹھوں پر دباؤ کم ہوجاتا ہے، پٹھوں پر دباؤ یاعام فہم ڈائسٹالک (Diastolic) دباؤ دل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، روزے کے دوران ڈائسٹالک پریشر ہمیشہ کم سطح پر ہوتا ہے یعنی اس وقت دل آرام یاریسٹ کی صورت میں ہوتا ہے؛ مزیدبراں آج کا انسان ماڈرن زندگی کے مخصوص حالات کی بدولت شدید تناؤ یاہائی پرٹینشن (Hypertension) کا شکار ہے، رمضان کے ایک ماہ کے روزے بطورِ خاص ڈائسٹالک پریشر کو کم کرکے انسان کو بے پناہ فائدہ پہنچاتے ہیں، روزے کا سب سے اہم اثر دورانِ خون پر اس پہلو سے ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اس سے خون کی شریانوں پر کیا اثر ہوتا ہے، اس حقیقت کا علم عام ہے کہ خون کی شریانوں کی کمزوری اور فرسودگی کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک وجہ خون میں باقی ماندہ مادے (Remnants) کا پوری طرح تحلیل نہ ہوسکنا ہے، جب کہ دوسری طرف روزے میں بطورِ خاص افطار کے قریب خون میں موجود غذائیت کے تمام ذرے تحلیل ہوچکے ہوتے ہیں، ان میں سے کچھ بھی باقی نہیں بچتا، اس طرح خون کی شریانوں کی دیواروں پر چربی یادیگر اجزا، جم نہیں پاتے اس طرح شریانیں سکڑنے سے محفوظ رہتی ہیں؛ چنانچہ موجودہ دور کی انتہائی خطرناک بیماریو ںجس میں شریانوں کی دیواروں (Arterioscleresis) کی سختی نمایاں ترین ہے، سے بچنے کی بہترین تدبیر روزہ ہی ہے؛ کیونکہ روزے کے دوران گردے جنھیں دوران خون ہی کا ایک حصہ سمجھا جاسکتا ہے، آرام کی حالت میں ہوتے ہیں، تو انسانی جسم کے ان اہم اعضاء کی بحالی بھی روزے کی برکت سے بحال ہوجاتی ہے۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۱۷۴، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) (ج)خلیہ، سیل (CELL) پر روزے کا اثر روزے کا سب سے اہم اثر خلیوں کے درمیان اور خلیوں کے اندرونی سیال مادوں کے درمیان توازن کو قائم پذیر رکھنا ہے، چونکہ روزے کے دوران مختلف سیال مقدار میں کم ہوجاتے ہیں، خلیوں کے عمل میں بڑی حد تک سکون پیدا ہوجاتا ہے، اسی طرح لعاب دار جھلی کی بالائی سطح سے متعلق خلیے جنھیں ایپی تہلیل (Epithelial) سیل کہتے ہیں اور جو جسم کی رطوبت کے متواتر اخراج کے ذمہ دار ہوتے ہیں ان کو بھی صرف روزے کے ذریعہ بڑی حد تک آرام اور سکون ملتا ہے جس کی وجہ ان کی صحت مندی میں اضافہ ہوتا ہے، خلیاتیات کے علم کے نکتہ نظر سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ لعاب بنانے والے غدود گردن کے غدود تیموسیہ اور لبلبہ (Pencreas) کے غدود شدید بے چینی سے ماہ رمضان کا انتظار کرتے ہیں تاکہ روزے کی برکت سے کچھ سستانے کا موقع حاصل کرسکیں اور مزید کام کرنے کے لیے اپنی توانائیوں کو جلادے سکیں۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۱۷۴، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) (د)روزے کا اعصابی نظام پر اثر (NERVOUS SYSTEM) اس حقیقت کو پوری طرح سمجھ لینا چاہئے کہ روزے کے دوران چند لوگوں میں چڑچڑاپن اور بے دلی کا اعصابی نظام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اس قسم کی صورت حال ان انسانوں کے اندر انانیت (Egotistic) یاطبیعت کی سختی کی وجہ سے ہوتی ہے، اس کے برخلاف روزے کے دوران اعصابی نظام مکمل سکون اور آرام کی حالت میں ہوتا ہے، عبادات کی بجا آوری سے حاصل شدہ تسکین ہماری تمام کدورتوں اور غصے کو دور کردیتی ہے، اس سلسلے میں زیادہ خشوع وخضوع اور اللہ کی مرضی کے سامنے سرنگوں ہونے کی وجہ سے تو ہماری پریشانیاں بھی تحلیل ہوکر ختم ہوجاتی ہیں، اس طرح آج کے دور کے شدید مسائل جو اعصابی دباؤ کی صورت میں ہوتے ہیں تقریباً مکمل طور پر ختم ہوجاتے ہیں، روزے کے دوران ہماری جنسی خواہشات چونکہ علیحدہ ہوجاتی ہیں، چنانچہ اس وجہ سے بھی ہمارے اعصابی نظام پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ روزہ اور وضو کے مشترکہ اثر سے جو مضبوط ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اس سے دماغ میں دوران خون کا بے مثال توازن قائم ہوجاتا ہے جو صحت مند اعصابی نظام کی نشاندہی کرتا ہے، جیسا کہ میں پہلے بیان کرچکا ہوں، اندرونی غدودوں کو جو آرام اور سکون ملتا ہے وہ پوری طرح سے اعصابی نظام پر اثر ہوتا ہے جو روزے کا اس انسانی نظام پر ایک اور احسان ہے، انسانی تحت الشعور جو رمضان کے دوران عبادت کی مہربانیوں کی بدولت صاف شفاف اور تسکین پذیر ہوجاتا ہے اعصابی نظام سے ہرقسم کے تناؤ اور الجھن کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۱۷۵، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) (ح) خون کی تشکیل اور روزے کی لطافتیں خون ہڈیوں کے گودے میں بنتا ہے جب کبھی جسم کو خون کی ضرورت پڑتی ہے ایک خودکار نظام ہڈی کے گودے کو حرکت پذیر (Stimulate) کردیتا ہے اور لاغرلوگوںمیں یہ گودہ بطورِ خاص سست حالت میں ہوتا ہے، یہ کیفیت بڑے بڑے شہروں میں رہنے والوں کے ضمن میں بھی پائی جاتی ہے اسی کی وجہ سے پژمردہ اور پیلے چہروں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہاہے، روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں، ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہوجاتا ہے، اس کے نتیجے میں لاغر لوگ روزہ رکھ کر آسانی سے اندر زیادہ خون پیدا کرسکتے ہیں؛ بہرحال یہ تو ظاہر ہے کہ جو شخص خون کی پیچیدہ بیماری میں مبتلا ہو اسے طبی معائنہ اور ڈاکٹر کی تجویز کو ملحوظ خاطر رکھنا ہی پڑے گا؛ چونکہ روزے کے دوران جگر کو ضروری آرام مل جاتا ہے یہ ہڈی کے گودے کے لیے ضرورت کے مطابق اتنا مواد مہیا کردیتا ہے جس سے آسانی سے اور زیادہ مقدار میں خون پیدا ہوسکے، اس طرح روزے سے متعلق بہت سی اقسام کی حیاتیاتی برکات کے ذریعے ایک پتلا دبلا شخص اپنا وزن بڑھا سکتا ہے اسی طرح موٹے اور فربہ لوگ بھی صحت پر روزے کی عمومی برکات کے ذریعے اپنا وزن کم کرسکتے ہیں، ہاں مہربان قاری! آئیے اب آیت نمبر ۱۸۴/ کے آخری حصے کو دوبارہ یاد کریں اور قرآن کے پاک معجزے کی مسرت سے لطف اندوز ہوں: ‘‘اگر تم سمجھو (یعنی اگر تم جسم کے حیاتیاتی علم کو سمجھو) تو تمہارے حق میں یہ اچھا ہے کہ تم روزے رکھو’’ (چاہے اس میں تمھیں مشکلات بھی نظر آئیں)۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۱۷۶، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) روزے کے معاشرتی اثرات اسلام انصاف، عدل اور غریب پروری سکھاتا ہے، جب پیٹ بھرا ہوا ہوتا ہے تو دوسروں کی بھوک کا احساس نہیں ہوتا، روزہ مسلمان کو ترس، رحم اور غریب پروری سکھاتا ہے، یہ چیزیں اسلامی معاشرے کا حصہ ہیں، یورپ غریبوں کی امداد اور احساس کے لیے بے شمار قوانین مرتب کررہا ہے؛ لیکن استحصال کی دنیا شاید یورپ میں زیادہ آباد ہے۔ ماوزے تنگ چین کا قائد اعظم تھا، اس کے سامنے چین کے معاشرتی مسائل تھے، اس نے اپنے خطبات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ خود کھانا کھاتے ہوئے اپنے پڑوسی اور دیکھنے والوں کو بھی شامل کرلیا کرو، خود بھوکے رہ کر بھوکوں کا احساس پیدا کرو، مذکورہ تعلیمات دراصل ماوزے تنگ کی نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات ہیں، اسلام غریبوں کا مذہب ہے، اسلام امیروں کو امن دیتا ہے، اسلام دولت کا مخالف نہیں بلکہ اس کے کمانے اور خرچ کرنے کی احتیاط بتاتا ہے۔ (سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۱۷۷، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا) غیرملکی ماہرین کی پاکستان میں سروے رپورٹ جرمنی، انگلینڈ اور امریکہ کے ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم رمضان المبارک میں اس بات کی تحقیق کرنے کے لیے آئی کہ رمضان المبارک میں (E.N.T) کان، ناک اور گلے کے امراض کم ہوجاتے ہیں، اس تحقیق کے لیے انہوں نے پاکستان کے تین شہروں کا انتخاب کیا، کراچی، لاہور اور فیصل آباد، اس سروے کے بعد انہو ںنے جو رپورٹ مرتب کی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ: ‘‘چونکہ مسلمان نماز پڑھتے ہیں اور خاص طور پر رمضان المبارک میں زیادہ پابندی کرتے ہیں اس لیے وضو کرنے سے (E.N.T) کان، ناک اور گلے کے امراض کم ہوجاتے ہیں۔ کھانا کم کھانے سے معدے اور جگر (Liver) کے امراض کم ہوجاتے ہیں؛ چونکہ مسلمان ڈائیٹنگ کرتا ہے اس لیے وہ اعصاب اور دل کے امراض میں بھی کم مبتلا ہوتا ہے۔ (فائل روزنامہ جنگ: ۱۹۸۸ء۔ سنتِ نبویﷺ اور جدید سائنس:۱/۱۷۷، مصنف: طارق محمود، مطبوعہ:مکتبہ امدادیہ، سہارنپور، یوپی، انڈیا)





زکوٰۃ اہمیتِ زکوٰۃ یہ ایک معلوم ومعروف حقیقت ہے کہ شہادت توحید ورسالت اور اقامت صلوٰۃ کے بعد زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے، اسلام میں زکوٰۃ کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید میں ۳۲/مقامات پر صراحتاً اور ۱۵/مقامات پر صدقہ کا ذکر آیا ہے جو زکوٰۃ کو بھی شامل ہے؛ نیز قرآن مجید میں ستر سے زیادہ مقامات پر اقامت صلوٰۃ اور اداء زکوٰۃ کا ذکر اس طرح ساتھ ساتھ کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں ان دونوں کا مقام اور درجہ قریب قریب ایک ہی ہے، اسی لیے جب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بعض علاقوں کے ایسے لوگوں نے جو بظاہر اسلام قبول کرچکے تھے اور توحید ورسالت کا اقرار کرتے اور نمازیں پڑھتے تھے زکوٰۃ سے انکار کیا تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف جہاد کا اسی بنیادپر فیصلہ کیا تھا کہ یہ نماز اور زکوٰۃ کے حکم میں تفریق کرتے ہیں جو اللہ اور رسولؐ کے دین سے انحراف اور ارتداد ہے، بخاری کی مشہور روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جواب دیتے ہوئے انہو ں نے فرمایا: ‘‘وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ’’۔ (بخاری، باب وجوب الزکوٰۃ، حدیث نمبر:۱۳۱۲۔ مسلم، حدیث نمبر: ۲۹) خدا کی قسم! نماز اور زکوٰۃ کے درمیان جو لوگ تفریق کریں گے، میں ضرور ان کے خلاف جہاد کروں گا۔ پھر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان کے اس نقطہ نظر کو قبول کرلیا اور اس پر سب کا اجماع ہوگیا، اس کے علاوہ بہت ساری احادیث ایسی ہیں کہ جن میں آپ ﷺ نے اسلام کے ارکان اور بنیادی احکام ومطالبات کا ذکر کرتے ہوئے توحید ورسالت کی شہادت کے بعد اقامت صلوٰۃ اور ایتاء زکوٰۃ کا ذکر عموماً اس طرح ساتھ ساتھ کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونو ںکا درجہ قریب قریب ایک ہی ہے اور ان دونوں کے درمیان کوئی خاص رابطہ ہے۔ زکوٰۃ کا حکم پچھلی شریعتوں میں زکوٰۃ کی اس غیرمعمولی اہمیت کی وجہ سے اس کا حکم پچھلے پیغمبروں کی شریعتوں میں بھی نماز کے ساتھ ہی ساتھ برابر رہا ہے، انبیاء میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسحاق اور پھر ان کے صاحبزادے حضرت یعقوب علیہم السلام کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے: ‘‘وَاَوْحَیْنَآ اِلَیْھِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَآئَ الزَّکٰوۃِج وَکَانُوْا لَنَاعٰبِدِیْنَ’’۔ (الانبیاء: ۷۳) اور ہم نے ان کو حکم بھیجا نیکیوں کے کرنے کا (خاص کر) نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔ اور سورۂ مریم میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا ہے: ‘‘وکَانَ یَاْمُرُاَھْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ’’۔ (مریم: ۵۵) ‘‘اور وہ اپنے گھروالوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے ہیں’’۔ اور اسرائیلی سلسلے کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے فرمایا: ‘‘قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللہ اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّاo وَّجَعَلَنِیْ مُبٰرَکًا اَیْنَ مَاکُنْتُص وَاَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَادُمْتُ حَیًّاo’’۔ (مریم: ۳۰،۳۱) ‘‘میں اللہ کا ایک بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور نبی بنایا ہے اور جہاں کہیں میں ہوں مجھے اس نے بابرکت بنایا ہے اور جب تک میں زندہ رہوںگا مجھے نماز اور زکوٰۃ کی وصیت فرمائی ہے’’۔ اور بقرہ میں جہاں بنی اسرائیل کے ایمانی میثاق اور بنیادی احکام کا ذکر کیا گیا ہے ان میں ایک حکم یہ بھی بیان کیا گیا ہے: ‘‘وَّاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکوٰۃَ’’۔ (البقرۃ:۸۳) ‘‘اور نماز قائم کرتے رہنا اور زکوٰۃ ادا کیا کرنا’’۔ اسی طرح جہاں مائدہ میں بنی اسرائیل کے اس عہد ومیثاق کا ذکر کیا گیا ہے وہاں یہ بھی فرمایا گیا ہے: ‘‘وَقَالَ اللہ اِنِّیْ مَعَکُمْط لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَیْتُمُ الزَّکٰوۃَ وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ’’۔ (المائدۃ:۱۲) ‘‘اور اللہ نے فرمایا: میں (اپنی مدد کے ساتھ) تمہارے ساتھ ہوں؛ اگر تم نماز قائم کرتے رہے اور زکوٰۃادا کرتے رہے اور میرے رسولوں پر ایمان لاتے رہے’’۔ قرآن مجید کی ان آیات سے ظاہر ہے کہ نماز اور زکوٰۃ ہمیشہ سے آسمانی شریعتوں کے خاص ارکان اور شعائر رہے ہیں، ہاں ان کے حدود اور تفصیلی احکام وتعینات میں فرق رہا اور یہ فرق تو خود ہماری شریعت کے بھی ابتدائی اور آخری تکمیلی دور میں بھی رہا ہے، مثلاً یہ کہ پہلے نماز تین وقت کی تھی پھر پانچ وقت کی ہوگئی اور مثلاً یہ کہ پہلے ہرفرض نماز صرف دورکعت پڑھی جاتی تھی پھر فجر کے علاوہ باقی چار وقتوں میں رکعتیں بڑھ گئیں۔ (نسائی شریف، باب کیف فرضت الصلاۃ، حدیث نمبر:۴۴۹۔۴۵۳ عن عائشہؓ، ابن عباسؓ) اور مثلاً یہ کہ ابتدائی دور میں نماز پڑھتے ہوئے سلام کلام کی اجازت تھی اس کے بعد اس کی ممانعت ہوگئی (‘‘زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ إِنْ كُنَّا لَنَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا صَاحِبَهُ بِحَاجَتِهِ حَتَّى نَزَلَتْ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ، بخاری، بَاب مَا يُنْهَى عَنْهُ مِنْ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ’’ حدیث نمبر:۱۱۲۵) اسی طرح ہجرت سے پہلے مکہ کے زمانہ قیام میں زکوٰۃ کا حکم تھا؛ چنانچہ مؤمنون، نمل اور لقمان کی بالکل ابتدائی آتیوں میں اہل ایمان کی لازمی صفات کے طور پر اقامت صلوٰۃ اور ایتاء زکوٰۃ کا ذکر موجود ہے؛ حالانکہ یہ تینوں سورتیں مکی دور کی ہیں؛ لیکن اس دور میں زکوٰۃ کا مطلب صرف یہ تھا کہ حاجت مند بندوں پر اور خیر کی دوسری راہوں میں اپنی کمائی صرف کی جائے، (روح المعانی:۱۲/۴۳۲، الانبیاء، آیت:۳۷) نظام زکوٰۃ کے تفصیلی احکام اس وقت نہیں آئے تھے وہ ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں آئے (الدرالمختار علی الرد، کتاب الزکاۃ:۶/۴۴۵) ورنہ زکوٰۃ کا مطلق حکم تو یقینا اسلام کے ابتدائی دور میں ہجرت سے کافی پہلے آچکا تھا، یہ بات قرآن مجید کی منقولہ بالا مکی سورتوں کی ان آیات کے علاوہ (جن کی طرف ابھی اشارہ کیا گیا ہے) ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے بھی ثابت ہوتی ہے جن میں انہوں نے حبشہ کی ہجرت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی اس گفتگو کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے سوال کے جواب میں اسلام اور رسول اللہﷺ کے تعارف میں کی تھی، اس میں رسول اللہﷺ کی دعوت وتعلیم کے بارے میں ان کے یہ الفاظ بھی ہیں: ‘‘وَيَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ’’ الخ۔ (مسند احمد، حدیث جعفر، حدیث نمبر:۱۶۴۹) ‘‘اور وہ ہمیں نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے ہیں’’۔ یہ معلوم ہے کہ حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء رسول اللہ ﷺ کی ہجرت مدینہ سے بہت پہلے اسلام کے ابتدائی دور میں حبشہ جاچکے تھے، اسی طرح صحیح بخاری وغیرہ کی روایت کے مطابق شاہ روم کے سوال کے جواب میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق (اس وقت کے آپ ﷺ کے شدید دشمن) ابوسفیان کا یہ بیان کہ: ‘‘يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصَّدْقِ وَالْعَفَافِ’’ الخ۔ (بخاری، باب بدء الوحی، حدیث نمبر:۶۔ مسلم، حدیث نمبر:۳۳۲۲) ‘‘وہ نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے ہیں اور سچائی اور پاکدامنی کی ہدایت کرتے ہیں’’۔ اس کا واضح ثبوت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہجرت سے پہلے بھی مکہ معظمہ کے زمانہ قیام میں بھی نماز اور زکوٰۃ کی دعوت دیتے تھے، ہاں نظام زکوٰۃ کے تفصیلی مسائل اور حدود وتعینات ہجرت کے بعد آئے اور مرکزی طور پر اس کی تحصیل کا نظام تو سنہ۸ھجری کے بعد قائم ہوا (تاریخ طبری، ذکرالخبر عن غزوۃ تبوک:۲/۱۹۱) الغرض اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اسلام میں زکوٰۃ کی حددرجہ اہمیت ہی کی وجہ سے ہرزمانہ میں زکوٰۃ کا رواج رکھا گیا۔ فضیلت زکوٰۃ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ زکوٰۃ اسلام کا (بہت بڑا مضبوط) پل ہے۔ (معجم کبیر للطبرانی، باب قطعۃ من المفقود، حدیث نمبر:۱۷۹۵۔ شعب الایمان، حدیث نمبر:۳۱۵۹) کسی جگہ جانے کا ذریعہ اور سہولت سے بھرپور سبب مضبوط پل ہے اسی طرح اسلام کی حقیقت تک سہولت سے پہنچنے کا یااللہ جل شانہ کے عالی دربار تک رسائی کا ذریعہ اور راستہ زکوٰۃ ہے۔ حضرت جابرؓ نے بیان کیا کہ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص مال کی زکوٰۃ ادا کردے تو اس مال کا شر اس سے دور ہوتا رہتا ہے۔ (المعجم الاوسط للطبرانی، باب من اسمہ احمد، حدیث نمبر:۱۶۳۹) یعنی مال بہت سے شرور کا سبب ہوتا ہے لیکن اس کی زکوٰۃ اگر اہتمام سے ادا ہوتی رہے تو اس کے شر سے حفاظت رہتی ہے، آخرت کے اعتبار سے تو ظاہر ہے کہ اس مال پر عذاب نہیں ہوتا، دنیا میں اس لحاظ سے کہ زکوٰۃ کا ادا کرنا مال کے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہے جیسا کہ اس حدیث میں آیا ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اپنے مالوں کو زکوٰۃ کے ذریعہ محفوظ بناؤ اور اپنے بیماروں کا صدقہ سے علاج کرو اور بلاومصیبت کی موجوں کا دعا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی سے استقبال کرو۔ (المعجم الکبیر لطبرانی، حدیث نمبر:۱۰۰۴۴۔ شعب الایمان، حدیث نمبر:۳۳۹۹) اس حدیث میں ‘‘حَصِّنُوْا أَمْوَالَکُمْ بِالزَّکَاۃِ’’ (اپنے مالوں کو زکوٰۃ کے ذریعہ محفوظ بناؤ) حصنوا، تحصین کے معنی اپنے چاروں طرف قلعہ بنالینے کے ہیں، یعنی جیسا کہ آدمی قلعہ میں بیٹھ جانے سے ہرطرف سے محفوظ ہوجاتا ہے ایسا ہی زکوٰۃ کا ادا کردینا اس مال کو ایسا محفوظ کردیتا ہے جیسا کہ وہ مال قلعہ میں محفوظ ہوگیا ہو۔ حضرت عبداللہ بن معاویہ غاضری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص تین کام کرلے اس کو ایمان کا مزہ آجائے، صرف اللہ جل شانہ کی عبادت کرے اور اس کو اچھی طرح جان لے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور زکوٰۃ کو ہرسال خوشدلی سے ادا کرے (بوجھ نہ سمجھے) اس (جانوروں کی زکوٰۃ) میں بوڑھا جانور یاخارشی جانور یامریض یاگھٹیا قسم کا جانور نہ دے بلکہ متوسط جانور دے اللہ جل شانہ زکوٰۃ میں تمہارے بہترین مال نہیں چاہتے؛ لیکن گھٹیا مال کا بھی حکم نہیں فرماتے۔ (ابوداؤد، باب فی زکاۃ السائمۃ، حدیث نمبر:۱۳۴۹۔ سنن کبریٰ للنسائی، حدیث نمبر:۷۵۲۵) اس حدیث میں تذکرہ گرچہ جانوروں کی زکوٰۃ کا ہے لیکن ضابطہ ہرزکوٰۃ کا یہی ہے کہ نہ تو بہترین مال واجب ہے نہ گھٹیا مال جائز ہے؛ بلکہ درمیانی مال ادا کرنا اصل ہے؛ البتہ کوئی اپنی خوشی سے ثواب حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے عمدہ مال ادا کرے تو اس کی سعادت ہے، اس کی خوش قسمتی ہے۔ زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر وعید حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دولت عطا فرمائی پھر اس نے اس کی زکوٰۃ نہیں ادا کی تو وہ دولت قیامت کے دن اس آدمی کے سامنے ایسے زہریلے ناگ کی شکل میں آئیگی جس کے انتہائی زہریلے پن سے اس کے سرکے بال جھڑگئے ہونگے اور اس کی آنکھوں کے اوپر دوسفید نقطے ہونگے (جس سانپ میں یہ دوباتیں پائی جائیں، وہ انتہائی زہریلا سمجھا جاتا ہے) پھر وہ سانپ اس (زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے بخیل) کے گلے کا طوق بنادیا جائیگا (یعنی اس کے گلے میں لپٹ جائیگا) پھر اس کے دونوں جبڑے پکڑے گا اور کہے گا کہ میں تیری دولت ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں… یہ فرمانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی: ‘‘وَلَایَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَآاٰتٰھُمُ اللہ مِنْ فَضْلِہٖ ھُوَخَیْرًالَّھُمْط بَلْ ھُوَشَرٌّلَّھُمْط سَیُطَوَّقُوْنَ مَابَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِط’’۔ ( آل عمران: ۱۸۰) ‘‘اور نہ گمان کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس مال ودولت میں جو اللہ نے اپنے فضل وکرم سے ان کو دیا ہے (اور اس کی زکوٰۃ نہیں نکالتے) کہ وہ مال ودولت ان کے حق میں بہتر ہے؛ بلکہ انجام کے لحاظ سے وہ ان کے لیے بدتر ہے اور شر ہے قیامت کے دن ان کے گلوں میں طوق بناکے ڈالا جائیگا وہ دولت جس میں انہوں نے بخل کیا (اور جس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی)۔ (بخاری، باب اثم مانع الزکاۃ، حدیث نمبر:۱۳۱۵۔ نسائی، باب مانع زکاۃ مالہ، حدیث نمبر:۲۴۳۵۔ مسنداحمد، حدیث نمبر:۸۶۴۶) اس حدیث میں نیز آل عمران کی مندرجہ بالا آیت میں یوم القیامۃ کا جو لفظ ہے، اس سے مفہوم ہوتا ہے کہ یہ عذاب دوزخ یاجنت کے فیصلے سے پہلے حشر میں ہوگا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی کی ایک دوسری حدیث میں (جس کو امام مسلم نے روایت کیا ہے) زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے ایک خاص طبقہ کے اسی طرح کے ایک خاص عذاب کے بیان کے ساتھ آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں: ‘‘حَتٰی یُقْضٰی بَیْنَ الْعِبَادِ فیُرٰی سَبِیْلَہٗ إِمَّا اِلی الْجَنَّۃِ وَإِمَا الی النَّارِ’’۔ (مسلم، باب اثم مانع الزکاۃ، حدیث نمبر:۱۶۴۷) اس عذاب کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ حساب کتاب کے بعد بندوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائیگا، اس فیصلہ کے بعد یہ آدمی یاجنت کی طرف چلاجائیگا یادوزخ کی طرف (جیسا بھی اس کے حق میں فیصلہ ہوگا)۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ مال زکوٰۃ جب دوسرے مال میں مخلوط ہوگا تو ضرور اس کو تباہ کردیگا۔ (سنن کبری للبیہقی، باب الھدیۃ للوالی بسبب، حدیث نمبر:۷۹۱۶۔ شعب الایمان، حدیث نمبر:۳۳۶۷) امام حمیدی رحمہ اللہ جو امام بخاری رحمہ اللہ کے استاذ ہیں انہوں نے اپنی مسند میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت نقل کر کے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اگر کسی آدمی پر زکوٰۃ واجب ہو اور وہ اس کو ادا نہ کرے تو بے برکتی سے اس کا باقی مال بھی تباہ ہوجائیگا۔ (مسندحمیدی، باب مسند عائشۃ، حدیث نمبر:۲۵۲ عن عائشہؓ) فوائدِ زکوٰۃ وصدقات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک تفصیلی حدیث ‘‘وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَایُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللہ’’ الخ (توبہ:۳۴) کے بارے میں نقل فرمائی ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ہے کہ اللہ پاک نے زکوٰۃ تو اسی لیے فرض کی ہے کہ اس کی ادائیگی کے بعد جو مال باقی رہ جائے وہ پاک ہوجائے۔ (ابوداؤد، باب فی حقوق المال، حدیث نمبر:۱۴۱۷۔ شعب الایمان، حدیث نمبر:۳۱۵۶) (پہلا فائدہ) اس روایت سے معلوم ہوا کہ جس مال کی زکوٰۃدیجائے تو اس مال میں برکت ہوجاتی ہے اور اس کی نحوست وگندگی دور ہوجاتی ہے، صدقہ وخیرات سے مال میں برکت کیسے ہوتی ہے؟ اس سلسلہ میں حدیث شریف میں ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص جنگل میں کھڑا تھا اس نے بادل میں سے ایک آواز سنی، جو بادل کو حکم دے رہی تھی کہ فلاں شخص کے باغ کو سیراب کر، بادل کا ایک ٹکڑا علیحدہ ہوکر چلا، وہ شخص بھی اس کے پیچھے ہولیا، بادل پتھریلی زمین پر برسا، وہاں سے ایک نالی میں سارا پانی اکٹھا ہوگیا، وہ شخص اس نالی کے ساتھ ہولیا، پانی ایک باغ میں پہنچا، وہاں ایک شخص ہاتھ میں بیلچہ لیے ہوئے سینچائی کررہا تھا، اس شخص نے باغ والے سے پوچھا کہ اے اللہ کے بندے! آپ کا نام کیا ہے؟ اس نے اپنا وہ نام بتایا جو اس شخص نے بادل میں سنا تھا، باغ والے نے اس شخص سے پوچھا کہ آپ میرا نام کیوں پوچھتے ہو؟ اس نے سارا ماجرا سنایا اور دریافت کیا کہ آپ کیا عمل کرتے ہیں، جو خصوصی طور پر آپ کے باغ کے لیے بارش برسی؟ باغ والے نے کہا کہ جب میرا راز تجھے معلوم ہوگیا تو سن! میں باغ کی پیداوار کے تین حصے کرتا ہوں، ایک تہائی خیرات کرتا ہوں، ایک تہائی اپنی ضروریات میں خرچ کرتا ہوں اور ایک تہائی باغ کی ترقی میں خرچ کرتا ہوں۔ (مسلم، باب الصدقۃ فی المساکین: ۵۲۹۹۔ مسنداحمد، ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ: ۷۹۲۵) (دوسرا فائدہ) زکوٰۃ کی ادائیگی سے بندے پر رحمتِ خداوندی کا فیضان ہوتا ہے اور اللہ کی ناراضگی دور ہوتی ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: خیرات یقینا پروردگار کے غصہ کو بجھاتی ہے اور بری موت کو ہٹاتی ہے جس طرح دنیا کی مادی چیزوں جڑی بوٹیوں تک کے خواص اور اثرات ہوتے ہیں، اسی طرح انسانوں کے اچھے برے اعمال واخلاق کے بھی خواص اور اثرات ہیں جو انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ ہی معلوم ہوتے ہیں۔ (ترمذی، باب ماجاء فی فضل الصدقۃ، حدیث نمبر:۶۰۰، شعب الایمان، حدیث نمبر:۳۲۰۲) (تیسرا فائدہ) بخل وحرص پر آخرت میں جو عذاب ہونے والا ہے زکوٰۃ اس کو ہٹادیتی ہے؛ کیونکہ صحیح زکوٰۃ ادا کرنے والے میں حرص وبخل کے رذائل پنپ نہیں سکتے، انہیں دیرسویر اس شخص کا پیچھا چھوڑنا ہے اور جب یہ رذائل ختم ہوگئے تو آخرت میں عذاب کا سوال بھی باقی نہیں رہتا۔ (حجۃ اللہ البالغہ، باب اسرارالزکاۃ:۱/۱۵۵، مصنف: حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ) (چوتھا فائدہ) ملأاعلی کے وہ فرشتے جو زمین کے احوال سنوارنے کی محنت کرتے ہیں وہ صدقہ خیرات کرنے والے کے حق میں دعائیں کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ہرصبح دوفرشتے آسمان سے اترتے ہیں ایک کہتا ہے: ‘‘اللّٰھُمَّ اَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفاً’’۔ (اے اللہ! خرچ کرنے والے کو عوض دے)۔ اور دوسرا کہتا ہے : ‘‘اللّٰھُمَّ اَعْطِ مُمْسِکًا تَلَفًا’’ (اے اللہ! مال روکے رکھنے والے کا مال تباہ کردے)۔ (بخاری، باب قول اللہ تعالیٰ فاما من اعطی، حدیث نمبر:۱۳۵۱۔ مسلم، حدیث نمبر:۱۶۷۸) (پانچواں فائدہ) زکوٰۃ وصدقہ وغیرہ کی ایک برکت قیامت کے دن یہ ظاہر ہوگی کہ صدقہ کرنے والے کے لیے اس کا صدقہ سائبان بن جائیگا، جو اس دن کی تپش اور تمازت سے اس کو بچائے گا۔ حضرت مرثد بن عبداللہ تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسو ل اللہؐ کے بعض اصحاب کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی ہے کہ قیامت کے دن مؤمن پر اس کے صدقہ کا سایہ ہوگا۔ (مسنداحمد، باب حدیث رجل من اصحاب النبیﷺ، حدیث نمبر:۱۸۰۷۲۔ صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر:۲۲۳۶) اللہ تعالیٰ ان حقیقتوں کا یقین اور اس کے مطابق عمل نصیب فرمائے، آمین۔ (چھٹا فائدہ) اللہ کی راہ میں جتنا صدقہ کریگا اس کو اس کا کئی گنا اللہ تعالیٰ عطا فرمائیگا، حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عر ض کیا حضرت ﷺ بتلائیے کہ صدقہ کیا ہے؟ (اللہ کی طرف سے اس کا کیا اجرملنے والا ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا: چند درچند (جتنا کوئی اللہ کی راہ میں صدقہ کرے اس کا کئی گنا اس کو ملے گا) اور اللہ کے ہاں بہت ہے۔ (مسنداحمد، باب حدیث ابی امامۃ، حدیث نمبر:۲۲۳۴۲) صدقہ کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہئے کہ مقررہ زکوٰۃ (فاضل سرمایہ کا چالیسواں حصہ) ادا کردینے کے بعد آدمی پر اللہ کا کوئی مالی حق اور مطالبہ باقی نہیں رہتا اور وہ اس سلسلہ کی ہرقسم کی ذمہ داریوں سے بالکل سبکدوش ہوجاتا ہے، ایسا نہیں ہے بلکہ خاص حالات میں زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد بھی اللہ کے ضرورت مند بندوں کی مدد کی ذمہ داری دولت مندوں پر باقی رہتی ہے، مثلاً ایک صاحبِ ثروت آدمی حساب سے پوری زکوٰہ ادا کرچکا ہو اس کے بعد اسے معلوم ہوکہ اس کے پڑوس میں فاقہ یا اس کا فلاں قریبی رشتہ دار سخت محتاجی کی حالت میں ہے یاکوئی شریف مصیبت زدہ مسافر ایسی حالت میں اس کے پاس پہنچے جس کو فوری امداد کی ضرورت ہو تو ایسی صورتوں میں ان ضرورتمندوں، محتاجوں کی امداد اس پر واجب ہوگی۔ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘‘مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی (اللہ کا) حق ہے؛ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ‘‘لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالْکِتٰبِ وَالنَّبِیّٖنَ ج وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ لا وَالسَّآئِلِیْنَ وَفِیْ الرِّقَابِ ج وَاَقَامَ الصَّلٰوۃ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَج وَالْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِذَاعٰھَدُوْاج وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ ط أُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاج وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَo’’۔ (البقرۃ:۱۷۷) ترجمہ:‘‘کچھ سارا کمال اسی میں نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق کو کرلو یامغرب کو لیکن کمال تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتب پر اور پیغمبروں پر اور مال دیتا ہو اللہ کی محبت میں رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور گردن چھڑانے میں اور نماز کی پابندی رکھتا ہو اور زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہو’’الخ۔ (ترمذی، باب ماجاء ان فی المال حقا سوی الزکاۃ، حدیث نمبر:۵۹۵۔ ابن ماجہ، حدیث نمبر:۱۷۷۹۔ دارِقطنی، حدیث نمبر:۱۹۷۶) رسول اللہ ﷺ نے اپنی بات کے لیے بطورِ استشہاد سورۂ بقرہ کی مندرجہ بالا آیات تلاوت فرمائی اس آیت میں نیکی کے کاموں کے ذیل میں ایمان کے بعد یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سائلوں وغیرہ حاجت مند طبقوں کی مالی مدد کا ذکرکیا گیا ہے، اس کے بعداقامت الصلاۃ اور اداء زکوٰۃ کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ان کمزور اور ضرورت مند طبقوں کی مالی مدد کا جو ذکر یہاں کیا گیا ہے وہ زکوٰۃ کے علاوہ ہے؛ کیونکہ زکوٰۃ کا مستقلاً ذکر اس آیت میں آگے موجود ہے۔ فضیلتِ صدقہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہربندے کو اللہ کا پیغام ہے کہ اے آدم علیہ السلام کے فرزند! تو (میرے ضرورت مند بندوں پر) اپنی کمائی خرچ کر، میں اپنے خزانہ سے تجھ کو دیتا رہوں گا۔

(بخاری، باب فضل النفقۃ علی الاھل، حدیث نمبر:۴۹۳۳، مسلم، حدیث نمبر:۱۶۵۸)

گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضمانت ہے کہ جو بندہ اس کے ضرورت مند بندوں کی ضرورتوں پر خرچ کرتا رہیگا اس کو اللہ تعالیٰ کے خزانۂ غیب سے ملتا رہیگا۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم اللہ کے بھروسہ پر اس کی راہ میں کشادہ دستی سے خرچ کرتی رہو اور گنومت (اس فکر میں نہ پڑو کہ میرے پاس کتنا ہے اور اس میں کتنا راہِ خدا میں دوں) اگر تم اس کی راہ میں اس طرح حساب کرکے دوگی تو وہ بھی تمہیں حساب ہی سے دیگا (اور اگر بے حساب دوگی تو وہ بھی اپنی نعمتیں تم پر بے حساب انڈیلے گا) اور دولت جوڑ جوڑ کر اور بند کرکے نہ رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہارے ساتھ یہی معاملہ کریگا (کہ رحمت اور برکت کے دروازے تم پر خدا نخواستہ بند ہوجائیں گے) لہٰذا تھوڑا بہت کچھ ہوسکے اور جس کی توفیق ملے راہِ خدا میں کشادہ دستی سے دیتی رہو۔ (بخاری، باب ھبۃ المرأۃ لغیر زوجھا، حدیث نمبر:۲۴۰۲، مسلم، حدیث نمبر:۱۷۰۹) حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے آدم علیہ السلام کے فرزندو! اللہ کی دی ہوئی دولت جو اپنی ضرورت سے فاضل ہو اس کا راہِ خدا میں صرف کردینا تمہارے لیے بہتر ہے اور اس کا روکنا تمہارے لیے برا ہے اور ہاں! گزارے کے بقدر رکھنے پر کوئی ملامت نہیں اور سب سے پہلے ان پر خرچ کرو جن کی تم پر ذمہ داری ہو۔ (مسلم، باب بیان أن الید العلیا خیر من الید السفلی، حدیث نمبر:۱۷۱۸۔ ترمذی، حدیث نمبر:۲۲۶۵) اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ آدمی کے لیے بہتر یہ ہے کہ جو دولت وہ کمائے یاکسی ذریعہ سے اس کے پاس آئے اس میں سے اپنی زندگی کی ضروت کے بقدر تو اپنے پاس رکھے باقی راہِ خدا میں اس کے بندوں پر خرچ کرتا رہے اور اس پر پہلا حق ان لوگوں کا ہے جن کا اللہ نے اس کو ذمہ دار بنایا ہے اور جن کی کفالت اس کے ذمہ ہے، مثلاً اس کے اہل وعیال اور حاجت مند قریبی اعزہ وغیرہ۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک بکری ذبح کی گئی (اور اس کا گوشت للہ تقسیم کردیا گیا، رسول اللہؐ تشریف لائے اور) آپ نے دریافت کیا: بکری میں سے کیا باقی رہا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: صرف ایک شانہ اس کا باقی ہے (اس کے علاوہ سب ختم ہوگیا) آپ ﷺ نے فرمایا: اس شانہ کے علاوہ جو لِلّٰہ تقسیم کردیا گیا دراصل وہی سب باقی ہے اور کام آنے والا ہے (آخرت میں انشاء اللہ اس کا اجر ملے گا)۔

(ترمذی، باب منہ بعد باب ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض، حدیث نمبر:۲۳۹۴۔ مسنداحمد، حدیث نمبر:۲۴۲۸۶) ضرورت مندوں پر صدقہ کا اجروثواب حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس مسلم نے کسی دوسرے مسلم بھائی کو جس کے پاس کپڑا نہیں تھا، پہننے کو کپڑا دیا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا سبزلباس پہنائیگا اور جس مسلم بھائی نے دوسرے مسلم بھائی کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلایا اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھل اور میوے کھلائیگا اور جس مسلم نے پیاس کی حالت میں دوسرے مسلم بھائی کو پانی پلایا تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت کی مہرلگی ہوئی شرابِ طہور پلائیگا۔ (ترمذی، باب ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض، حدیث نمبر:۲۳۷۳۔ ابوداؤد، حدیث نمبر:۱۴۳۲) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپؐ فرماتے تھے، جس بندے نے کسی مسلم کو کپڑا پہنایا وہ یقینا اس وقت تک اللہ کے حفظ وامان میں رہیگا جب تک کہ اس کے جسم پر اس کپڑے میں سے کچھ بھی رہے۔ (ترمذی، باب منہ بعد ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض، حدیث نمبر:۲۴۰۸) جانوروں کو کھلانا بھی صدقہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدچلن عورت اس عمل پر بخش دی گئی کہ وہ ایک کنویں کے پاس سے گزری اور اس نے دیکھا کہ ایک کتا زبان نکالے ہوئے ہے (اور اس کی حالت ایسی ہے کہ) گویا وہ پیاس سے مرہی جائیگا (اس عورت کے دل میں ترس آیا، وہاں پانی نکالنے کے لیے رسی، ڈول کچھ موجود نہیں تھا) اس نے اپنے چمڑے کا موزہ پاؤں سے نکالا اور (کسی طرح اس کو) اپنی اوڑھنی سے باندھا اور (محنت مشقت کرکے) اس کے ذریعہ کنویں سے پانی نکال کر اس کو پلایا، وہ عورت اپنے اسی عمل کی وجہ سے بخش دی گئی… کسی نے عرض کیا: یارسول اللہ (ﷺ) کیا جانوروں کو کھلانے پلانے میں بھی ثواب ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں! ہرحساس جانور (جس کو بھوک پیاس کی تکلفی ہوتی ہو) اس کو کھلانے پلانے میں اجروثواب ہے۔ (بخاری، باب اذاوقع الذباب فی شراب احدکم فلیغمسہ، حدیث نمبر:۳۰۷۴۔ مسلم، حدیث نمبر:۴۱۶۴) حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان بندہ کوئی درخت لگائے یاکھیتی کرے تو اس درخت یااس کھیتی سے جو پھل اور جو دانہ کوئی انسان یاکوئی پرندہ یاکوئی چوپایہ کھائیگا وہ اس بندہ کے لیے صدقہ اور اجروثواب کا ذریعہ ہوگا۔ (بخاری، باب فضل الزرع والغرس اذا اکل منہ، حدیث نمبر:۲۱۵۲۔ مسلم، حدیث نمبر:۲۹۰۰) اہل وعیال پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے اپنے اہل وعیال کی ضروریات پر اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کم وبیش خرچ تو سب ہی کرتے ہیں لیکن اس خرچ کرنے سے لوگوں کو وہ روحانی خوشی حاصل نہیں ہوتی جو اللہ کے نیک بندوں، دوسرے ضرورت مندوں اور مساکین وفقراء پر صدقہ کرنے سے ہوتی ہے؛ کیونکہ اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے کو لوگ کارِ ثواب نہیں سمجھتے؛ بلکہ اس کو مجبوری کا ایک تاوان یانفس کا ایک تقاضا سمجھتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ اپنے اہل وعیال اور اعزہ واقارب پر بھی لوجہ اللہ اور ثواب کی نیت سے خرچ کرنا چاہیے اس صورت میں جو خرچ اس مد میں ہوگا وہ سب صدقہ کی طرح آخرت کے بینک میں جمع ہوگا؛ بلکہ دوسرے لوگوں پر صدقہ کرنے سے زیادہ اس کا ثواب ہوگا۔ (بخاری، باب ماجاء ان الاعمال بالنیۃ والحسبۃ، حدیث نمبر:۵۳، مسلم، حدیث نمبر:۱۶۶۹) ایک اور حدیث میں ہے کہ سب سے افضل وہ دینار ہے جس کو اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے۔ (مسلم، باب فضل النفقۃ علی العیال والمملوک، حدیث نمبر:۱۶۶۰) رسول اللہ ﷺ کی اس تعلیم سے ہمارے لیے خیروسعادت کا ایک بہت بڑا دروازہ کھل جاتا ہے اب ہم جو کچھ اپنے بیوی بچوں کے کھانے، کپڑے پر حتی کہ ان کے جوتوں پر جائز حدودمیں خرچ کریں وہ ایک طرح کا صدقہ اور کارِ ثواب ہوگا، بس شرط یہ ہے کہ ہم اُس ذہن سے اور اس نیت سے خرچ کریں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میرے پاس ایک دینار ہے (بتائیے کہ میں وہ کہاں خرچ کروں اور کس کو دے دوں؟) آپ ﷺ نے فرمایا (سب سے مقدم یہ ہے) کہ اپنی ضرورتوں پر خرچ کرو، اس نے کہا کہ اس کے لیے میرے پاس اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا تو اس کو اپنی اولاد کی ضروریات پر خرچ کرو، اس نے کہا: اس کے لیے میرے پاس اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو اس کو اپنی بیوی کی ضروریات پر خرچ کرو، اس نے کہا: اس کے لیے مر ے پاس اور ہے، آپ نے فرمایا: پھر اس کو اپنے غلام اور خادم پر صرف کردو، اس نے کہا: اس کے لیے میرے پاس اور ہے، آپ نے فرمایا: پھر تم ہی زیادہ واقف ہو (کہ تمہارے اہل قرابت میں کون زیادہ ضرورت مند اور مستحق ہے)۔ (ابوداؤد، باب فی صلۃ الرحم، حدیث نمبر:۱۴۴۱۔ نسائی، حدیث نمبر:۲۴۸۸) غالباً ان صاحب کے ظاہری حال سے رسول اللہؐ نے یہ اندازہ کیا تھا کہ یہ خود ضرورت مند اور تنگ حال ہیں اور ان کے پاس بس ایک دینار ہے اور یہ اس کو ثواب آخرت اور اللہ کی رضا کے لیے کہیں خرچ کرنا چاہتے ہیں اور ان کو یہ معلوم نہیں کہ مؤمن بندہ جو کچھ اپنی ضرورتوں پر خرچ کرے یا اپنی بیوی بچوں پر اور غلاموں پر (جن کی اس پر ذمہ داری ہے) خرچ کرے وہ سب بھی صدقہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب کا وسیلہ ہے، اس لیے آپؐ نے ان کو بالترتیب یہ مشورہ دیا، عام اصول اور حکم یہی ہے کہ آدمی پہلے ان حقوق اور ان ذمہ داریوں کو ادا کرے جن کا وہ ذاتی اور شخصی طور پر ذمہ دار ہے اس کے بعد آگے بڑھے، ہاں وہ خاصان خداجن کو توکل واعتماد علی اللہ کا بلند مقام حاصل ہو اور ان کے اہل وعیال کو بھی اس دولت میں سے حصہ ملا ہو ان کے لیے یہ صحیح ہے کہ خود وہ فاقہ سے رہیں، پیٹوں پر پتھر باندھںا اور گھر میں جو کھانا ہو وہ دوسرے اہل حاجت کو کھلادیں، خود رسول اللہ ﷺ اور خواص صحابہ کا حال اور طرزِ عمل یہی تھا: ‘‘وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْکَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ’’۔ (الحشر:۹) ترجمہ: ‘‘اپنے سے مقدم رکھتے ہیں؛ اگرچہ اُن پر فاقہ ہی ہو’’۔

رشتہ داروں پر صدقہ میں دوہرا ثواب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک خطبہ میں خاص طور سے عورتوں کو مخاطب کرکے) فرمایا: اے خواتین! تم کو چاہیے کہ راہِ خدا میں صدقہ کیا کرو؛ اگرچہ تم کو اپنے زیورات میں سے دینا پڑے (آگے زینب باون کرتی ہیں کہ) میں نے جب حضورﷺ کا یہ ارشاد سنا تو میں اپنے شوہر عبداللہ بن مسعود کے پاس آئی اور میں نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہم عورتوں کو خاص طور سے صدقہ کی تاکید فرمائی ہے (اور میں چاہتی ہوں کہ میرے پاس جو کچھ ہے اس میں سے راہِ خدا مںض خرچ کرنے کی سعادت حاصل کروں) اور تم بھی تنگ حال اور خالی ہاتھ ہو اب تم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر دریافت کرو (اگر میں تم کو ہی دے دوں تو کیا میرا صدقہ ادا ہوجائیگا) اگر میرا تم کو دینا صحیح ہو تو میں تم ہی کو دے دوں گی ورنہ دوسرے ضرورت مند پر خرچ کردوگی، کہتی ہیں کہ عبداللہ بن مسعود نے مجھ سے کہا: تم خود ہی جاکر حضور ﷺ سے دریافت کرو میں خود گئی، وہاں پہنچی تو دیکھا کہ انصار میں سے ایک عورت آپ کے دروازے پر کھڑی اور اس کی غرض بھی وہی ہے جو میری غرض ہے (وہ بھی یہی مسئلہ معلوم کرنے کے لیے حاضر ہوئی تھی) اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص ہیبت دی تھی (جس کی وجہ سے ہرایک کو آپ سے دوبدو بات کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی اس لیے ہمیں خود آپ کے قریب پہنچ کر پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی) اتنے میں (آپ کے خاص خادم اور مؤذن) حضرت بلال رضی اللہ عنہ باہر نکلے ہم دونوں نے ان سے کہا کہ آپ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیجئے کہ دوعورتیں دروازے پر کھڑی ہیں اور آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہیں کہ اگر وہ اپنے ضرورت مند شوہروں اور یتیموں پر جو خود ان کی گود میں پرورش پاتے ہیں صدقہ کریں تو کیا یہ صدقہ ادا ہوجائیگا (اور ہم کو اس صدقہ کا ثواب ملے گا) اور رسول اللہ ﷺ کو یہ نہ بتانا کہ ہم کون دوعورتیں ہیں؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان دونوں عورتوں کا سوال آپ کی خدمت میں عرض کیا، آپ ﷺ نے پوچھا: وہ کون عورتیں ہیں؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ایک عورت تو انصار میں سے ہے اور دوسری زینب ہے آپ نے پوچھا: کونسی زینب؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب، آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ہاں! (ان کا صدقہ ادا ہوجائیگا؛ بلکہ اس صورت میں) ان کو دوہرا ثواب ملے گا، ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا ثواب۔ (بخاری، باب الزکاۃ علی الزوج والایتام فی الحجر، حدیث نمبر:۱۳۷۳۔ مسلم، حدیث نمبر:۱۶۶۷) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کھجور کے باغات کے لحاظ سے مدینہ کے انصار میں سب سے زیادہ دولت مند حضرت ابوطلحہ انصاری تھے اور انہیں اپنے باغات اور جائیدادوں میں سب سے زیادہ محبوب ‘‘بیرحاء’’ تھا (یہ ان کے ایک قیمتی باغ کا نام تھا) اور یہ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا اور رسول اللہ ﷺ اس میں تشریف لے جایا کرتے تھے اور اس کا نفیس پانی (شوق سے) نوش فرماتے تھے، حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی ‘‘لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّاتُحِبُّوْنَ’’ (آل عمران:۹۲) (نیکی اور مقبولیت کا مقام تم کو اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک اپنی محبوب چیزوں کو تم راہِ خدا میں خرچ نہ کرو) حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ‘‘لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّاتُحِبُّوْنَ’’ (آل عمران:۹۲) اور مجھے اپنی ساری مالیات میں سب سے زیادہ محبوب ‘‘بیرحاء’’ ہے اس لیے اب وہی میری طرف سے اللہ کے لیے صدقہ ہے، مجھے امید ہے کہ آخرت میں مجھے اس کا ثواب ملے گا اور میرے لیے ذخیرہ ہوگا؛ لہٰذا آپ ﷺ اس کے بارے میں وہ فیصلہ فرمادیں جو اللہ تعالیٰ آپ کے ذہن میں ڈالے (جو مصرف اس کا مناسب سمجھیں معین فرمادیں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: واہ واہ! یہ تو بڑی نفع مند اور کارآمد جائیداد ہے، میں نے تمہاری بات سن لی (اور تمہارا منشاء سمجھ لیا) میں سمجھتا ہوں کہ تم اس کو اپنے ضرورت مند قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ (ﷺ)! میں یہی کروں گا؛ چنانچہ انہوں نے وہ باغ اپنے قریبی رشتہ داروں میں اور چچازاد بھائیوں میں تقسیم کردیا۔ (بخاری، باب اذا قال الرجل لوکیلہ ضعہ، حدیث نمبر:۲۱۵۰۔ مسلم، حدیث نمبر:۱۶۶۴) بعض روایات میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنا یہ باغ رسول اللہ ﷺ کی ہدایت کے مطابق اپنے خاص اقارب ابی بن کعب، حسان بن ثابت، شداد بن اوس اور نبیط بن جابر پر تقسیم کردیا تھا، یہ باغ کس قدر قیمتی تھااس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ بعد میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے صرف حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا حصہ ایک لاکھ درھم میں خریدا تھا۔ (بخاری، باب من تصدق الی وکیلہ ثم ردالوکیل الیہ، حدیث نمبر:۲۵۵۲،۔ مسلم، باب فضل النفلۃ والصدقۃ علی الاقربین والزوج، حدیث نمبر:۱۶۶۵) چونکہ آدمی کا زیادہ واسطہ اپنے عزیزواقارب ہی سے رہتا ہے اور زیادہ ترمعاملات انہیں سے پڑتے ہیں، اس لیے اختلافات اور تنازعات بھی زیادہ تراقارب ہی سے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اس دنیا کی زندگی بھی عذاب بن جاتی ہے اور آخرت بھی برباد ہے؛ اگر رسول اللہﷺ کی اس تعلیم وہدایت پر عمل کیا جائے اور لوگ اپنے قرابت داروں پر اپنی کمائی خرچ کرنا اللہ کی رضا کا وسیلہ سمجھیں تودنیا اور آخرت کے بڑے بڑے عذاب سے محفوظ رہیں، کاش دنیا رسول اللہؐ کی تعلیم وہدایت کی قدر سمجھے اور اس سے فائدہ اٹھائے۔ مرنے والوں کی طرف سے صدقہ صدقہ کیا ہے؟ اللہ کے بندوں کے ساتھ اس نیت سے اور اس امید پر احسان کرنا کہ اس کے صلہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا، رحمت اور مہربانی نصیب ہوگی اور بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا کرم واحسان حاصل کرنے کا خاص الخاص وسیلہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی بتایا کہ جس طرح ایک آدمی اپنی طرف سے صدقہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے ثواب وصلہ کی امید کرسکتا ہے اسی طرح اگر کسی مرنے والے کی طرف سے صدقہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ اِس کا ثواب وصلہ اس مرنے والے کو عطا فرمائے گا؛ لہٰذا مرنے والوں کی خدمت اور ان کے ساتھ ہمدردی واحسان کا ایک طریقہ ان کے لیے دعا واستغفار کے علاوہ یہ بھی ہے کہ ان کی طرف سے صدقہ کا جائے یااسی طرح ان کی طرف سے دوسرے اعمال خیر کرکے ان کو ثواب پہنچایا جائے، اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کی مندرجہ ذیل حدیثیں پڑھئے: حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ ایک صاحب نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا میری والدہ کا بالکل اچانک اور دفعۃً انتقال ہوگیا اور میرا گمان ہے کہ اگر وہ موت واقع ہونے سے پہلے کچھ بول سکتیں تو وہ ضرور کچھ صدقہ کرتیں تو اب اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کاک اس کا ثواب ان کو پہنچ جائیگا؟ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں! پہنچ جائیگا۔ (بخاری، باب موت الفجأۃ البغتۃ، حدیث نمبر:۱۲۹۹۔ مسلم، حدیث نمبر:۱۶۷۲) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ کی والدہ کا انتقال ایسے وقت ہوا کہ خود سعد موجود نہیں تھے (رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں گئے ہوئے تھے جب ان کی واپسی ہوئی) تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں انہوں نے عرض کاا: میری عدم موجودگی میں میری والدہ کا انتقال ہوگیا، تو اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا وہ ان کے لیے نفع مند ہوگا؟ (اور ان کو اس کا ثواب پہنچے گا؟) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں! پہنچے گا، انہوں نے عرض کیا: میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا باغ ‘‘مخراف’’ اپنی والدہ مرحومہ کے لیے صدقہ کردیا۔ (بخاری، باب اذاقال أرض وبستانی صدقۃ للہ عن أمی، حدیث نمبر:۲۵۵۱۔ سنن کبریٰ للبیھقی، حدیث نمبر:۱۳۰۰۷) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: حضرت! میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے اور انہوں نے ترکہ میں کچھ مال چھوڑا ہے اور (صدقہ وغیرہ کی) کوئی وصیت نہیں کی ہے، تو اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا میرا یہ صدقہ ان کے لیے کفارہ سیئات اور مغفرت ونجات کا ذریعہ بن جائیگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں! (اللہ تعالیٰ سے اس کی امید ہے)۔ (مسلم، باب وصول ثواب الصدقات الی المیت، حدیث نمبر:۳۰۸۱۔ ابن ماجہ، حدیث نمبر:۲۷۰۷) حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے دادا عاص بن وائل نے زمانۂ جاہلیت میں سواونٹ قربان کرنے کی نذرمانی تھی (جن کو وہ پورا نہیں کرسکے تھے) تو ان کے ایک بیٹے ہشام بن عاص نے تو پچاس اونٹوں کی قربانی (اپنے باپ کی اس نذر کے حساب میں) کردی اور دوسرے بیٹے عمروبن عاص نے (جن کو اللہ نے اسلام کی توفیق دیدی تھی) رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہارے باپ ایمان لے آئے ہوتے اور پھر تم ان کی طرف سے روزے رکھتے یاصدقہ کرتے تو ان کے لےی نفع مند ہوتا (اور اس کا ثواب ان کو پہنچتا؛ لیکن کفر وشرک کی حالت میں مرنے کی وجہ سے اب تمہارا کوئی عمل ان کے لیے کام نہیں آسکتا)۔ (مسنداحمد، مسند عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ، حدیث نمبر:۶۷۵۴) رسول اللہ ﷺ نے ان حدیثوں میں (او ران کے علاوہ بھی بہت سی حدیثوں میں جو کتب حدیث کے مختلف ابواب میں مروی ہیں) یہ بات پوری صراحت کے ساتھ بیان فرمائی ہے کہ صدقہ وغیرہ جو قابل قبول نیک عمل کسی مرنے والے کی طرف سے کیا جائے یعنی اس کا ثواب اس کو پہنچایا جائے وہ اس کے لیے نفع مند ہوگا اور اس کو ثواب پہنچے گا۔ ‘‘سُبْحَانَ اللہ وَبِحَمْدِہِ’’ اللہ تعالیٰ کا کتنا عظیم فضل واحسان ہے کہ اس راستے سے ہم اپنے ماں باپ اور دوسرے عزیز واقارب اور دوست واحباء اور محسنین کی خدمت ان کے مرنے کے بعد بھی کرسکتے ہیں اور اپنے ہدیہ اور تحفے ان کو برابر بھیج سکتے ہیں۔





حج حقیقتِ حج حج کے اصل معنی ارادے کے ہیں، کسی چیز کا ارادہ کیا جائے تو کہا جاتا ہے ‘‘حججت الشئی’’۔ شریعت کی اصطلاح میں بیت اللہ شریف کی ازراہِ تعظیم مخصوص اعمال کے ساتھ زیارت کا ارادہ کرنے کا نام حج ہے۔ (عمدۃ القاری: ۱۴/۱۷۱، ۱۷۲) حج ‘‘ح’’ کے زبر اور ‘‘ح’’ کے زیر دونوں طرح یہ لفظ نقل کیا گیا ہے اور قرآن مجید میں بھی دونوں طریقوں پر قرأت جائز ہے۔

(عمدۃ القاری: ۱۴/۱۷۲)

اسلام کے پانچ ارکان میں سے آخری اور تکمیلی رکن ‘‘حج بیت اللہ’’ ہے۔ حج کیا ہے؟ ایک معین اور مقررہ وقت پر اللہ کے دیوانوں کی طرح اس کے دربار میں حاضر ہونا اور اس کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اداؤں اور طور طریقوں کی نقل کرکے ان کے سلسلہ اور مسلک سے اپنی وابستگی اور وفاداری کا ثبوت دینا اور اپنی استعداد کے بقدر ابراہیحک جذبات اور کیفیات سے حصہ لینا اور اپنے آپ کو ان کے رنگ میں رنگنا۔ مزیدوضاحت کے لیے کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک شان یہ ہے کہ وہ ذوالجلال والجبروت، احکم الحاکمین اور شہنشاہ کل ہے اور ہم اس کے عاجزومحتاج بندے اور مملوک ومحکوم ہیں اور دوسری شان اس کی یہ ہے کہ ان تمام صفات جمال سے بدرجہ اتم (مکمل طورپر) متصف ہے جس کی وجہ سے انسان کو کسی سے محبت ہوتی ہے اور اس لحاظ سے وہ بلکہ صرف وہی محبوب حقیقی ہے۔ اس کی پہلی حاکمانہ اور شاہانہ شان کا تقاضہ یہ ہے کہ بندے اس کے حضور میں ادب ونیاز کی تصویر بن کر حاضر ہوں، ارکانِ اسلام میں پہلا عملی رکن نماز اسی کا خاص مرقع ہے اور اس میں یہی رنگ غالب ہے اور زکوٰۃ بھی اسی نسبت کے ایک دوسرے رخ کو ظاہر کرتی ہے اور اسی کی دوسری شان محبوبیت کا تقاضہ یہ ہے کہ بندوں کا تعلق اس کے ساتھ محبت ووارفتگی کا ہو، روزے میں بھی کسی قدر یہ رنگ ہے، کھانا، پینا چھوڑ دینا اور نفسانی خواہشات سے منہ موڑلینا عشق ومحبت کی منزلوں میں سے ہے؛ مگر حج اس کا پورا پورا مرقع ہے، سلے کپڑوں کے بجائے ایک کفن نما لباس پہن لینا، ننگے سررہنا، حجامت نہ بنوانا، ناخن نہ ترشوانا، بالوں میں کنگھا نہ کرنا، تیل نہ لگانا، خوشبو کا استعمال نہ کرنا، میل کچیل سے جسم کی صفائی نہ کرنا، چیخ چیخ کے لبیک لبیک پکارنا، بیت اللہ کے گرد چکر لگانا، اس کے ایک گوشہ میں لگے ہوئے سیاہ پتھر (حجراسود) کو چومنا اور اس کے درودیوار سے لپٹنا اور آہ وزاری کرنا پھر صفاومروہ کے پھیرے کرنا، پھر مکہ شہر سے بھی نکل جانا اور منیٰ کبھی عرفات اور کبھی مزدلفہ کے صحراؤں میں جاپڑنا پھر جمرات پر بار بار کنکریاں مارنا، یہ سارے اعمال وہی ہیں جو محبت کے دیوانوں سے سرزد ہوا کرتے ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام گویا اس رسمِ عاشقی کے بانی ہیں، اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادائیں اتنی پسند آئیں کہ اپنے دربار کی خاص الخاص حاضری حج ووعمرہ کے ارکان ومناسک ان کو قرار دیدیا، انہی سب کے مجموعہ کا نام گویا حج ہے اور اسلام کا آخری اور تکمیلی رکن ہے۔ اہمیتِ حج حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے آخری اور تکمیلی رکن ہے، شریعت میں اس کی جو اہمیت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ارکانِ حج کی ادائیگی کے مواقع (جگہیں) صرف شہر مکہ ہی میں ہے، دنیا کے جس حصہ میں بھی کوئی مسلمان صاحبِ نصاب ہو تو کسی طرح وہ شہر مکہ متعین وقت میں پہنچ کر اس کو اسلام کے اہم رکن کو ادا کرنا ضروری ہے، شریعت میں اس عمل کے علاوہ کسی اور عمل کی ادائیگی کے لیے اتنی مشکلات بالکل نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ ان تمام مشکلات کا مکمل علم رکھنے کے باوجود اس عمل کو زندگی میں ایک بار کرنے کو فرض قرار دیا ہے۔ فرضیت حج حج کب فرض ہوا؟ شارحین اور مفسرین کی رائیں اس بارے میں مختلف ہیں، حج کی فرضیت کا حکم راجح قول کے مطابق سن ۹/ہجری میں آیا اور اس کے اگلے سال سن ۱۰/ہجری میں اپنی وفات سے صرف تین مہینے پہلے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بڑی تعداد کے ساتھ حج فرمایا، جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے (معارف السنن:۶/۳، للشیخ السید محمدیوسف الحسینی البنوریؒ، المتوفی:۱۳۹۷ھ، مطبوعہ: دارالکتاب دیوبند) اور اسی حجۃ الوداع میں خاص عرفات کے میدان میں آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ‘‘اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا’’ (المائدۃ:۳) ‘‘ترجمہ: آج کے دن تمہارے لیے تمہارے دین کو میں نے کامل کردیا اور میں نے تم پر اپنا انعام تمام کردیا اور میں نے اسلام کو تمہارے دین بننے کے لیے پسند کرلیا’’ اس میں اس طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ حج اسلام کا تکمیلی رکن ہے؛ اگر بندہ کو صحیح اور مخلصانہ حج نصیب ہوجائے جس کو دین وشریعت کی زبان میں ‘‘حج مبرور’’ کہتے ہیں اور ابراہیمی ومحمدیؐ نسبت کا کوئی ذرّہ اس کو عطا ہوجائے تو گویا اس کو سعادت کا اعلیٰ مقام حاصل ہوگیا اور وہ نعمت عظمیٰ اس کے ہاتھ آگئی جس سے بڑی کسی نعمت کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، اس کو حق ہے کہ تحدیث نعمت کے طور پر کہے اور مست ہوہو کر کہے ؎ نازم بچشم خود کہ جمال تو دیدہ است افتم بہ پائے خود کہ مکویت رسیدہ است ہردم ہزار بوسہ زنم دست خویش را کہ دامنت گرفتہ بسویم کشیدہ است میں اپنی آنکھ پر فخرکرتا ہوں کہ اس نے تیرے جمال کا مشاہدہ کرلیا ہے۔ میں اپنے قدم پر گرپڑتا ہوں؛ کیونکہ وہ تیری گلی کوچہ کا سیر کرچکا ہے۔ میں ہروقت اپنے ہاتھ کو ہزاروں بار چومتا ہوں۔ اس لیے کہ وہ تیرا دامن تھامے ہوئے مجھے کھینچ لایا ہے ۔ فضیلت حج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس آدمی نے حج کیا اور اس میں نہ تو کسی شہوانی اور فحش بات کا ارتکاب کیا اور نہ اللہ کی کوئی نافرمانی کی تو وہ گناہوں سے ایسا پاک وصاف ہوکر واپس ہوگا جیسا اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا۔ (بخاری، باب فضل الحج المبرور، حدیث نمبر:۱۴۲۴۔ مسلم، حدیث نمبر:۲۴۰۴) قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے:


‘‘اَلْحَجُّ اَشْھُرٌمَّعْلُوْمٰتٌج فَمَنْ فَرَضَ فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَلَارَفَثَ وَلَافُسُوْقَلا وَلَاجِدَالَ فِی الْحَجِّ’’۔ (البقرۃ:۱۹۷) ‘‘ترجمہ: حج چند مہینے ہیں جو معلوم ہیں؛ سو جو شخص ان میں حج مقرر کرے تو پھر نہ کوئی فحش بات ہے نہ کوئی بے حکمی ہے اور نہ کوئی قسم کا نزاع زیبا ہے’’۔ اس آیت میں حج کرنے والوں کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ خاص کر زمانۂ حج میں وہ شہوت کی باتوں اور اللہ کی نافرمانی والے سارے کاموں اور آپس کے جھگڑے سے بچیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں اس ہدایت پر عمل کرنے والوں کو بشارت سنائی گئی ہے کہ جو شخص حج کرے اور ایام حج میں نہ شہوت کی باتیں کرے اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی کوئی ایسی حرکت کرے جو فسق کی حد میں آتی ہو تو حج کی برکت سے اس کے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور وہ گناہوں سے بالکل ایسا پاک وصاف ہوکر واپس ہوگا جیسا کہ وہ اپنی پیدائش کے دن بے گناہ تھا، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے یہ دولت نصیب فرمائے، آمین۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عمرہ کے بعد عمرہ درمیان کے گناہوں کے لیے کفارہ ہے اور حج مبرور (پاک اور مخلصانہ حج) کا بدلہ تو بس جنت ہے۔ (بخاری، باب وجوب العمرۃ وفضلھا، حدیث نمبر:۱۶۵۰۔ مسلم، حدیث نمبر:۲۴۰۳) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: پے در پے حج اور عمرہ کیا کرو؛کیونکہ حج اور عمرہ دونوں فقر ومحتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور کردیتے ہیں جس طرح لوہار اور سنار کی بھٹی لوہے اور سونے چاندی کا میل کچیل دور کردیتی ہے اور ‘‘حج مبرور’’ کا صلہ اور ثواب تو بس جنت ہی ہے۔ (ترمذی، باب ماجاء فی ثواب الحج والعمرۃ، حدیث نمبر:۷۳۸۔ سنن نسائی، حدیث نمبر:۲۵۸۴) جو شخص اخلاص کے ساتھ حج یاعمرہ کرتا ہے وہ گویا اللہ تعالیٰ کے دریائے رحمت میں غوطہ لگاتا اور غسل کرتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ گناہوں کے گندے اثرات سے پاک صاف ہوجاتا ہے اور اس کے علاوہ دنیا میں بھی اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہوتا ہے کہ فقرومحتاجی وپریشان حالی سے اس کو نجات مل جاتی ہے اور خوش حالی اور اطمینان کی دولت نصیب ہوجاتی ہے اورمزید برآں ‘‘حج مبرور’’ کے صلہ میں جنت کا عطا ہونا اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں؛ اگر وہ اللہ سے دعا کریں تو وہ ان کی دعا قبول فرمائے اور اگر وہ اس سے مغفرت مانگیں تو ہ ان کی مغفرت فرمائے۔ (ابن ماجہ، باب فضل دعاء الحاج، حدیث نمبر:۲۸۸۳۔ سنن کبریٰ للبیھقی، حدیث نمبر:۱۰۶۹۱) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کسی حج کرنے والے سے تمہاری ملاقات ہو تو اس کے اپنے گھر میں پہنچنے سے پہلے اس کو سلام کرو اور مصافحہ کرو اور اس سے مغفرت کی دعا کے لیے کہو؛ کیونکہ وہ اس حال میں ہے کہ اس کے گناہو ں کی مغفرت کا فیصلہ ہوچکا ہے (اس لیے اس کی دعا قبول ہونے کی خاص توقع ہے)۔ (مسنداحمد، باب مسندعبداللہ بن عمرؓ، حدیث نمبر:۵۳۷۱۔ مسندفردوس للدیلمی، حدیث نمبر:۱۰۹۸) حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ اللہ کا جو بندہ حج یاعمرہ کی نیت سے یاراہِ خدا میں جہاد کے لیے نکلا؛ پھرراستہ ہی میں اس کو موت آگئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے واسطے وہی اجر وثواب لکھ دیا جاتا ہے جو حج وعمرہ کرنے والوں کے لیے اور جہاد کرنے والوں کے لیے مقرر ہے۔ (شعب الایمان، باب من خرج حاجاً اومعتمراً اوغازیا ثم مات فی طریقۃ، حدیث نمبر:۳۹۴۵۔ جمع الجوامع اوالجامع الکبیر للسیوطی: ۴۸۵۳) اللہ تعالیٰ کے اس کریمانہ دستور وقانون کا اعلان خود قرآن مجید میں بھی کیا گیا ہے: ‘‘وَمَنْ یَّخْرُجْ مِنْ بَیْتِہٖ مُھَاجِرًا اِلَی اللہ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللہ ط وَکَانَ اللہ غَفُوْرًارَّحِیْمًا’’۔ (النساء:۱۰۰) ‘‘اور جو بندہ اپنا گھر اور بار چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی نیت سے نکل پڑے؛ پھر آجائے اس کو موت (راستہ ہی میں) تو مقرر ہوگیا اس کا اجر اللہ کے ہاں اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے’’۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی بندہ اللہ کی رضا کا کوئی کام کرنے کے لیے گھر سے نکلے اور اس کے عمل میں آنے سے پہلے راستہ ہی میں اس کی زندگی ختم ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس عمل کا پورا اجر اس بندہ کے لیے مقرر ہوجاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی شانِ رحمت کا تقاضا ہے ‘‘وَکَانَ اللہ غَفُوْرًارَّحِیْمًا’’۔ (النساء:۱۰۰) حج ادا نہ کرنے پر وعید حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس شخص کے پاس اتنا خرچ ہو اور سواری کا انتظام ہو کہ بیت اللہ شریف جاسکے اور پھر وہ حج نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں کہ وہ یہودی ہوکر مرجائے یانصرانی ہوکر، اس کے بعد حضورؐ نے اپنے اس ارشاد کی تائید میں یہ آیت پڑھی ‘‘وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًاط وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللہ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ’’ (آل عمران:۹۷) اور اللہ تعالیٰ کے (خوش کرنے کے) واسطے لوگوں کے ذمہ اس مکان (بیت اللہ) کا جو (فرض) ہے اس شخص کے ذمہ ہے جو وہاں جانے کی سبیل رکھتا ہو اور جو منکر ہو تو (اللہ جل شانہ کا کیا نقصان ہے) اللہ تعالیٰ تمام جہاں سے غنی ہیں (ان کو کیا پروا)۔ (ترمذی، باب ماجاء فی التغلیظ فی ترک الحج، حدیث نمبر:۷۴۰) حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے لیے کوئی واقعی مجبوری حج سے روکنے والی نہ ہو، ظالم بادشاہ کی طرف سے روک نہ ہو یاایسا شدید مرض نہ ہو جو حج سے روک دے؛ پھر وہ بغیر حج کئے مرجائے تو اس کو اختیار ہے کہ چاہے یہودی ہوکر مرے یانصرانی ہوکر۔ (دارمی، باب من مات ولم یحج، حدیث نمبر:۱۸۳۹۔ جمع الجوامع اوالجامع الکبیر للسیوطی، حدیث نمبر:۶۶۱۱) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ جو بندہ ایسا ہو کہ میں نے اس کو صحت عطا کررکھی ہو اور اس کی روزی میں وسعت دے رکھی ہو اور اس کے اوپرپانچ سال ایسے گزرجائیں کہ وہ میرے دربار میں حاضر نہ ہو وہ ضرور محروم ہے۔ (صحیح ابن حبان، باب ذکر اوأخبار عن اثبات الحرمان لمن وسع، حدیث نمبر:۳۷۰۳۔ شعب الایمان، حدیث نمبر:۳۹۷۵) اس حدیث کا تقاضا یہ تھا کہ ہرصاحب ثروت پر اگر اس میں حج کی طاقت ہو تو ہرپانچ سال میں ایک مرتبہ حج فرض ہوتا؛ لیکن چونکہ دوسری احادیث میں حضور اقدس ﷺ سے صاف لفظوں میں یہ ثابت ہوگیا کہ حج عمربھر میں ایک ہی مرتبہ فرض ہے اس لیے اس حدیث کو فرض پر تو مومیل نہیں کیا جاتا؛ لیکن خیروبرکت کی محرومی سے کیا انکار ہے جب کہ اللہ جل شانہ کا ارشاد بھی ہے اور اس کی عطا کی ہوئی صحت اور رزق کی وسعت بھی ہے؛ ایسی حالت میں اگر کوئی دوسری دینی ضرورت مقدم نہ ہو تو پھر حاضر ہونا ہی چاہئے۔

فوائد وحکم (پہلا فائدہ)حج رواجی برائیوں سے بچاتا ہے یعنی ہرشخص ہروقت حج کے لیے فکر مند رہے تو وہ رسوم کی آفتوں سے بچ جاتا ہے فضول خرچی نہیں کرتا، شادی بیاہ میں پیسہ نہیں اڑاتا، عیش وعشرت میں دولت برباد نہیں کرتا، ہروقت اس پر حج کے لیے رقم جمع کرنے کی فکر سوار رہتی ہے اس لیے وہ بہت سی رواجی برائیوں سے بچ جاتا ہے اور جب زندگی گزارنے کا ایک نہج بن جاتا ہے تو وہ حج کے بعد بھی رسوم میں پیسہ برباد نہیں کرتا۔ (دوسرا فائدہ) حج اکابر ملت کے احوال یاد دلاتا ہے اور ان کو اپنانے کی ترغیب دیتا ہے، ملت اسلامیہ کے اکابر سیدنا ابراہیم، سیدنااسماعیل اور سیدالمرسلین خاتم النبیین حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہم اجمعین ہیں، یہ حضرات امت اسلامیہ کے لیے اسوہ ہیں، حج میں ان بزرگوں کے احوال کی یادتازہ ہوتی ہے اور ان کی پیروی کا جذبہ ابھرتا ہے، حرمین میں پہنچ کر حضورﷺ کی زندگی کا ایک ایک واقعہ اور آپ کی تریسٹھ سالہ زندگی کے شب وروز نگاہوں کے سامنے آجاتے ہیں اور شدت سے یہ جذبہ دل میں ابھرتا ہے کہ آپﷺ کی پیروی ہی میں دونوں جہاں کی سعادت مضمر ہے۔ (تیسرافائدہ)حج مبرور سے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں؛ چونکہ حج کے لیے دوردراز کا سفر کرنا پڑتا ہے، بڑی رقم خرچ کرنی پڑتی ہے اور طرح طرح کی مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، اس لیے اگر انسان خالص اللہ تعالیٰ کے لیے حج کرے اور تمام آداب کی رعایت کے ساتھ کرے تو حج سے تمام سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں، بہرحال حج کفارۂ سیئات ہونے میں ایمان اور ہجرت کی طرح ہے، ایمان قبول کرنا بھی معمولی عمل نہیں ہے، بڑے دل گُردے کا کام ہے، نومسلموں کو ایمان لانے کے بعد بے انتہاء سختیوں سے گزرنا پڑتا ہے؛ یہی حال ہجرت کا ہے، اعزاء واقربائ، مال ودولت اور وطن کو خیرباد کہنا پڑتا ہے، یہ کوئی معمولی حوصلہ کا کام نہیں ہے، اس لیے تینوں اعمال کا صلہ یہ ہے کہ وہ سابقہ تمام گناہوں کو ڈھادیتا ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ، باب اسرارالحج: ۱/۱۵۹، مصنف: حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ) حج کے مقاصد حج کے مختلف مقاصد ہیں، ذیل میں حج کے چار اہم مقاصد ذکر کئے جاتے ہیں: (پہلا مقصد) حج سامانِ تطہیر ہے، حج آدمی کو گناہوں سے تو پاک صاف کرتا ہی ہے اس کے باطن کو بھی پاکیزہ بنادیتا ہے، کیونکہ باطن کی پاکی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ایسی جگہوں میں پہنچنا ہے جن کی نیک لوگ ہمیشہ تعظیم کرتے رہے ہوں، وہاں پہنچتے رہے ہوں اور ذکر اللہ سے ان جگہوں کو آباد کرتے رہے ہوں، ایسی بابرکت جگہوں میں پہنچ کر آدمی زمینی فرشتوں کی کامل توجہات کا مرکز بن جاتا ہے اور اہل خیرکے لیے ملأاعلیٰ (آسمانی فرشتوں) کی عمومی دعاؤں کا رخ بھی اس کی طرف مڑجاتا ہے، ایسی جگہوں پر پہنچ کر آدمی پر ملکوتی انوار چھاجاتے ہیں۔ (دوسرامقصد)حج ذکر الہٰی ہے، دین کی یادگاروں کو دیکھنا اور ان کی تعظیم کرنا بذات خود اللہ کا ذکر ہے؛ کیونکہ جب شعائر الہٰیہ نظر آتے ہیں تو خود بخود اللہ تعالیٰ یاد آجاتے ہیں خاص طور پر جبکہ آدمی اپنی شکل وصورت بھی ایسی بنائے ہوئے ہوں جس سے تعظیم ٹپکتی ہو اور ایسی شرائط وقیود کی پابندی کررہا ہو جو نفس کو بہت زیادہ چوکنا کرنے والی اور غفلت دور کرنے والی ہو۔ (تیسرامقصد)حج ‘‘وصل حبیب’’ (حبیب سے ملنے) کی ایک شکل ہے، کبھی آدمی کے دل میں اللہ سے ملنے کا بے پناہ جذبہ ابھرتا ہے، وہ شوق ملاقات میں تڑپتا ہے مگر عالم ناسوت میں وصال ممکن نہیں ہوتا تو اس کے جذبہ کی تسکین کے لیے کوئی ایسی چیز ضروری ہوتی ہے جس سے وہ دل بہلائے، ایسی چیز حج کی عبادت ہے اس کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں جو اس کے جذبہ کی تسکین کرسکے۔ (چوتھا مقصد) حج ملی شان وشوکت اور باہمی تعارف کا ذریعہ ہے، ہرحکومت وقفہ وقفہ سے دربار عام منعقد کرتی ہے اور اس میں مملکت کے چیدہ لوگوں کو مدعو کرتی ہے اور اجتماع کے مقاصد مثال کے طور پر درجِ ذیل ہوتے ہیں: (۱)بادشاہ اور حکومت کی شہرت کرنا۔ (۲)باشندگان مملکت کا باہم ملنا اور ایک دوسرے سے متعارف ہونا۔ اسی طرح ملت اسلامیہ کے لیے حج کی ضرورت ہے، حج کے عالمگیر اجتماع میں مثال کے طور پر درجِ ذیل فوائد ہیں: ۱۔مخلص ومنافق میں امتیاز کرنا جو ایمان میں سچا ہوگا وہ بدنی ومالی حیثیت سے جب بیت اللہ تک پہنچنے کی قدرت رکھتا ہوگا تو ضرور حاضری دیگا اور جو ایمان کا دعوے دار یہ زحمت اٹھانے سے انکار کریگا؛ گوعملاً ہی سہی وہ دعوئے محبت میں جھوٹا ہے۔ ۲۔دنیا جہاں کے لوگوں کے سامنے مسلمانوں کی تعداد کا آنا کہ وہ دنیا میں کتنے ہیں؟ اور کہاں رہتے ہیں؟ اور وہ اس طرح کہ جو لوگ ہرسال حج کے لیے آتے ہیں وہ مسلمانوں کی مجموعی تعداد کا ہزارواں حصہ بھی نہیں ہوتے؛ لہٰذا لوگ حاجیوں کی تعداد سے اندازہ کرلیں گے کہ دنیا میں مسلمانوں کی تعداد کتنی ہوسکتی ہے اور وہ کہاں کہاں رہتے ہیں؟۔ ۳۔حج کے اجتماع میں دنیا کے بڑے بڑے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے اور ایک دوسرے سے تمدنی سیاسی اور علمی مسائل پر تبادلۂ خیال ہوتا ہے، علوم وفنون اور خصوصی کمالات وامتیازات میں لوگ ایک دوسرے سے استفادہ کرتے ہیں۔ (حجۃ اللہ البالغہ علی رحمۃ اللہ الواسعۃ: ۱/۷۶۵، مصنف: حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، مطبوعہ: مکتبہ حجاز دیوبند) فرائضِ حج حج کے دو رکن ہیں، وقوفِ عرفات اور طوافِ زیارت بحالتِ احرام ان دوامور کے ادا کرلینے سے حج ادا ہوجائیگا، قولہ تعالیٰ: ‘‘وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا’’۔ (آل عمران:۹۷) ‘‘ترجمہ: اور اللہ کے واسطے لوگوں کے ذمہ اس مکان کا حج کرنا ہے یعنی اس شخص کے جو کہ طاقت رکھے وہاں تک کی سبیل کی’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) ثُمَّ فَسَّرَ النَّبِیِّﷺ اَلْحَجَّ بِقَوَلِہِ (اَلْحَجُّ عَرَفَۃٌ) أَیِ الْحَجُّ الوُقُوْفِ بِعَرَفَۃَ ‘‘ترجمہ: اور حضور ﷺ نے حج کی تفسیر اپنے اس قول سے کی کہ حج وقوفِ عرفہ کا نام ہے’’۔ (بدائع الصنائع، للامام علاء الدین ابی بکرؒ، فصل: امارکن الحج فشیئان: ۲/۳۰۲، مطبوعہ: مکتبہ زکریا، دیوبند) ‘‘عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ نَاسٌ فَسَأَلُوهُ عَنْ الْحَجِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ عَرَفَةُ’’ الخ۔


‘‘ترجمہ:حضرت عبدالرحمن بن یعمر سے روایت ہے کہ میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ چند لوگ آپ کے پاس تشریف لائے اور حج کے متعلق دریافت کرنے لگے آپ نے جواب دیا کہ حج عرفہ کو کہتے ہیں’’۔

(نسائی شریف، باب فرض الوقوف بعرفۃ، حدیث نمبر:۲۹۶۶۔ دارقطنی، باب الحج، حدیث نمبر:۲۵۴۷۔ صحیح ابن خزیمۃ، باب جماع ابواب ذکر افعال، حدیث نمبر:۲۶۱۰) حج کے واجبات پانچ ہیں (۱)صفا ومروہ کے درمیان سعی (۲)وقوف مزدلفہ (۳)رمی جمار (۴)حلق یاقصر کرنا (۵)طواف صدر یعنی طواف وداع جو بیت اللہ شریف سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔ (۱)وقوفِ مزدلفہ: یوم النحر کی صبح صادق اور طلوع شمس کے درمیانی حصہ میں مزدلفہ میں وقوف کرنا واجب ہے۔ ‘‘وَفِی حَدِیْثِ جَابِرٍ رَضِیَ اللہ عَنْہٗ ثُمَّ اَضْطَجَعَ رَسُوْلُ اللہﷺ حَتّٰی طَلَعَ الْفَجْرُ وَصَلّٰی الْفَجْرَ حِیْنَ تَبَیَّنَ لَہٗ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَاِقَامَۃٍ ثُمَّ رَکِبَ الْقَصْوَائَ حَتّٰی اَتی المَشَعَرَ الْحَرَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَدَعَاہٗ وَکَبَّرَہٗ وَھَلّٰلَہ وَوَحَّدَہٗ فَلَمْ یَزَلْ وَاقِفًا حَتّٰی اسْفَرَّجِداً فَدَفَعَ قَبْلَ اَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ’’۔ ‘‘ترجمہ: پھرجب فجرتک لیٹے رہے؛ پھرجب اچھی صبح ہوگئی تو اذان واقامت کے ساتھ فجر کی نماز ادا کئے؛ پھرقصواء اوٹنی پر سوار ہوکر مشعرحرام تشریف لائے اور وہاں قبلہ کی جانب رُخ کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ اکبر کہا اور لاالہ الااللہ کہا اور اس کی توحید بیان فرمائی اور وہیں ٹھیرے رہے؛ یہاں تک کہ خوب روشنی ہوگئی پھر وہاں سے طلوع آفتاب سے پہلے لوٹ گیا۔ (مسلم، باب حجۃ النبیﷺ، حدیث نمبر:۲۱۳۷۔ ابوداؤد، باب صفۃ حجۃ النبیﷺ، حدیث نمبر:۱۶۲۸۔ سنن ابن ماجہ، باب حجۃ رسول اللہﷺ، حدیث نمبر:۳۰۶۵) (۲)صفاومروہ کے درمیان سعی کرنا: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک واجب ہے۔ ‘‘إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْىَ فَاسْعَوْا’’۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی، باب وُجُوبِ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا، حدیث نمبر:۹۶۳۹) ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی کو ضروری قرار دیا ہے، اس لیے تم سعی کیا کرو۔ (۳)جمرات کی رمی کرنا واجب ہے: جمرات کی رمی کرنا واجب ہے؛ لہٰذا ایک دن کی رمی ترک کردی ہو یاتینوں دن کی رمی ترک کردی ہو تو دم واجب ہوگا۔ ‘‘عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ وَيَقُولُ لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَاأَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ’’۔

‘‘ترجمہ: حضرت ابوالزبیرنے حضرت جابرؓ سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں حضورﷺ کو قربانی کے دن دیکھا کہ آپ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر جمرۂ عقبہ کو کنکری مارتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ مجھ سے اپنے حج کے مناسک سیکھ لو اس لیے کہ میں نہیں جانتا کہ اس کے بعد حج کرسکوں گا’’۔

(مسلم، باب استحباب رمی جمرۃ العقبۃ یوم النحر، حدیث نمبر:۲۲۸۶۔ ابوداؤد، باب فی رمی الجمار، حدیث نمبر:۱۶۸۰۔ صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر:۲۶۵۹۔ الفقہ الاسلامی وادلتہ، الجنایۃ التی توجب دماً واحداً:۳/۶۲۴) (۴)حلق یاقصر: سرکے بال حلق کرنا یعنی پورے بال نکال دینا یاقصر کرنا واجب ہے اور اگر بغیرحلق یاقصر کے احرام کھول دیگا تو دم دینا لازم ہوجائیگا۔ ‘‘قولہ تعالیٰ: ‘‘لَقَدْ صَدَقَ اللہ رَسُوْلَہُ الرُّءْ یَا بِالْحَقِّ ج لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللہ اٰمِنِیْنَ لا مُحَلِّقِیْنَ رُءُ وْسَکُمْ وَمُقَصِّرِیْنَ لا لَاتَخَافُوْنَ’’۔ (الفتح:۲۷) ‘‘بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھلایا جو مطابق واقعہ کے ہے، تم لوگ مسجد حرام میں ان شاء اللہ ضرور جاؤگے، امن وامان کے ساتھ، کہ تم میں کوئی سرمونڈھتا ہوگا، کوئی بال کتراتا ہوگا، کسی طرح اندیشہ نہ ہوگا’’۔ (ترجمہ تھانویؒ) ‘‘عَنْ أبی ھُرَیْرَۃؓ قَالْ! قَالَ رَسُوْلُ اللہﷺ اللّٰھُمَّ إِغْفِرْلِلْمُحَلِّقِیْنَ قَالُوْا وَلِلْمُقَصِّرِیْنْ قَالَ اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِلْمُحَلِّقِیْنَ قَالُوْا وَلِلْمُقَصِّرِیْنَ قَالَھَا ثَلَاثًا قَالَ وَلِلْمُقَصِّرِیْنَ’’۔ ‘‘حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی: اے اللہ! سرمنڈوانے والوں کی مغفرت فرما، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا اور کتروانے والوں کے لیے بھی (یہ دعا فرمادیجئے) لیکن آنحضرت ﷺ نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا، اے اللہ! سرمنڈوانے والوں کی مغفرت فرما؛ پھرصحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا اور کتروانے والوں کی بھی، تیسری مرتبہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اور کتروانے والوں کی بھی مغفرت فرما’’۔ (بخاری، باب الحلق والتقصیر عندالاحلال، حدیث نمبر:۱۶۱۳۔ مسلم، باب تفضیل الحلق علی التقصیر، حدیث نمبر:۲۲۹۵۔ الفقہ الاسلامی وادلتہ، الجنایۃ التی توجب دماً واحداً:۳/۶۲۴،۶۲۵) (۵)طوافِ وداع: آفاقی پر وطن روانہ ہوتے وقت طوافِ وداع کرنا واجب ہے، اس کے ترک سے دم واجب ہوجائیگا۔ ‘‘عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ النَّاسُ یَنْصَرِفُوْنَ فِیْ کُلِّ وَجْہٍ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہﷺ لَایَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّی یَکُوْنَ آخِرُعَھْدِہِ بِالْبَیْتِ’’۔

‘‘ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ لوگ ادھر ادھر چل پھر رہے تھے کہ حضورﷺ نے فرمایا: کوئی شخص واپس نہیں ہوگا جب تک کہ وہ رخصتی کے وقت بیت اللہ کا طواف نہ کرے’’۔ (مسلم، باب وجوب طواف الوداع وسقوطہ عن الحائض، حدیث نمبر:۲۳۵۰۔ ابوداؤد، باب الوداع، حدیث نمبر:۱۷۱۱۔ مسنداحمد، مسندعبداللہ بن عباسؓ، حدیث نمبر:۱۹۳۶۔ الفقہ الاسلامی وادلتہ، الجنایۃ التی توجب دماً واحداً:۳/۶۲۴) حج کا مسنون طریقہ حج کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ جو شخص حج کا ارادہ کرے وہ میقات سے اور اگر چاہے تو اس سے پہلے بھی احرام باندھے، احرام باندھنے سے پہلے مستحب یہ ہے کہ اپنے ناخن کاٹے اور مونچھ ترشوادے، پھرغسل یاوضو کرے ۱؎ (غسل بہتر ہے) اور دوچادر نئی یاپرانی صاف دھلی ہوئی پہن لے (اور سفید نئی ہو تو بہتر ہے) اور عطر (خوشبو) موجود ہو تو بدن پر لگائے ۲؎ دورکعت نفل نماز پڑھ کر یہ نیت کرلے ‘‘اللّٰھُمَّ إِنِّیْ أُرِیْدُ الحَجَّ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَتَقَبَّلْہُ مِنِّیْ’’ (اے اللہ! میں حج کا ارادہ کرتا ہوں، اس کو میرے لیے آسان کردیجئے اور اسے قبول فرمائیے) اور اگر دل سے نیت کرے تب بھی کافی ہے؛ پھرنماز کے بعد تیہو پڑھے ‘‘لَبَّیْکَ اَللَّھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ۳؎، اِنَّ اَلْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْک لَاشَرِیْکَ لَکْ’’ پھر جب نیت اور تلبیہ پڑھ لیا تو وہ محرم ہوگیا اور تلبیہ کے بعد مستحب ہے کہ حضورﷺ پر درود پڑھے اور جو چاہے دعا کرے۴؎ اور جب محرم ہوگیا تو ہرشہوانی، فحش بات، جھگڑے، کسی جانور کے قتل، سلے ہوئے کپڑے، عمامہ، موزے، سراور چہرے کو ڈھانکنے، خوشبولگانے، سراور دیگر جگہ کے بال نکالنے اور ناخن نکالنے سے احتراز کریگا؛۵؎ البتہ غسل کرسکتا ہے اور نمازوں کے بعد کسی بلندی پر چڑھنے یاپستی میں اترنے، سواری چڑھنے اور صبح اٹھنے پر تلبیہ کی کثرت کرتا رہے گا اور جب شہرمکۃ المکرمۃ میں داخل ہو تو سامان وغیرہ قرینے سے رکھنے کے بعد پہلے مسجد حرام جائے اور باب السلام سے مسجدِحرام میں داخل ہو، جب کعبۃ اللہ پر نظر پڑے تو تکبیر، تہلیل کہے اور حجراسود کے پاس آکر اس کے مقابل ٹھہرکر تکبیر، تہلیل کہتے ہوئے اپنے ہاتھوں کونماز میں تکبیرِتحریمہ کی طرح کانوں تک اٹھائے؛ اگرممکن ہو تو حجراسود کا بوسہ لے یا اس کو اپنے ہاتھ سے چھولے اگر نہ چھوسکے تو اس کی طرف اشارہ کرے ہاتھ کو چوم لے؛ پھرطوافِ قدوم سات شوط حطیم کے پیچھے سے کرے، پہلی تین شوط میں رمل کرے (رمل: ایک خاص انداز کی چال کو کہتے ہیں جس میں طواف کے دوران سینہ تان کر ہاتھوں کو ہلاتے ہوئے قدموں کو قریب قریب رکھ کر اکڑ کر تیزی سے چلنا ہوتا ہے) اور باقی چار شوط میں معمول کے مطابق چلے اور ہرشوط میں حجراسود کو بوسہ یاہاتھ سے چھوئے ورنہ اس کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرکے چوم لیا کرے اور طواف کے ختم ہونے کے بعد بھی حجر اسود کا استلام کرے پھر مقام ابراہیم کے قریب یاجہاں مسجد حرام کے حصہ میں سہولت ہو دورکعت اداکرلے پھرواپس آکر حجراسودکا استلام کرکے سعی کے لیے صفاومروہ کی طرف نکلے اور صفاومروہ کے درمیان سات چکر لگائے اور دوہری بتیوں کے درمیان دوڑے، صفا سے شروع کرے اور مروہ پر ختم کردے؛ پھرمکہ میں حالت احرام میں قیام کرے؛ اگر وہ قارن ہو؛ پھراس دوران جتنا بھی ہوسکے بیت اللہ شریف کا طواف کرتا رہے؛ پھریوم الترویہ یعنی ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ کو صبح فجر کی نماز کے بعد منی کے لیے روانہ ہوجائیں (مگر آج کل معلم کے لوگ حاجیوں کو ساتویں اور آٹھویں کی درمیانی شب میں ہی منیٰ لیجاتے ہیں لہٰذا انہیں کے ساتھ منی چلے جانا چاہیے؛ ورنہ پریشانی پیش آسکتی ہے) اور منی ہی میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور نویں ذی الحجہ کی فجر ادا کرے؛ پھرمیدان عرفات کا رخ کرے اور ممکن ہو تو جبلِ رحمت کے قریب ٹھیرے، آفتاب ڈھلنے کے بعد مسجدِنمرہ آجائے اور امیر کے ساتھ ظہروعصر کو جمع کرکے ظہر کے وقت ادا کرے اس موقعہ سے امیرِحج دوخطبہ دیگا اور دونوں کے درمیان بیٹھے گا، یہ دونوں نمازیں ایک اذان اور دواقامت کے ساتھ ادا کی جائیگی، ظہر کے بعد میدان عرفات میں وقوف کریگا، اس وقت غسل کرلینا مستحب ہے، تکبیر، تہلیل، تلبیہ اور دعا میں مصروف رہے؛ پھراسی دن سورج ڈوبنے کے بعد امام کے ساتھ مزدلفہ کے لیے روانہ ہوجائیں؛ جہاں موقع ہو تو تیز چلے، جہاں موقع نہ ہو اعتدال کے ساتھ چلے، مزدلفہ پہنچ کر ہی مغرب وعشاء کی نمازیں جمع کرکے عشاء کے وقت ادا کرے اور اس وقت اذان اور اقامت دونوں ایک ہی دفعہ کہی جائے، جبل قزح کے قریب پڑاؤ ڈالنے کی کوشش کرے، پوری رات مزدلفہ ہی میں بسر کرنی ہے اور بکثرت دعائیں کرنی ہے اور مزدلفہ ہی سے یاراستہ سے رمی کے لیے کنکری چن لے؛ پھر۱۰/ذی الحجہ یوم النحر کی فجر ابتدائے وقت میں پڑھ کر آفتاب نکلنے سے دورکعت کے بقدر پہلے منیٰ کی طرف روانہ ہوجائے، منیٰ پہنچنے کے زوال سے پہلے یااگرکوئی عذر ہو تو سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے بعد زوال سے پہلے یااگرکوئی عذر ہو توسورج غروب ہونے سے پہلے پہلے جمرۂ عقبہ کی سات کنکری کے ساتھ رمی کرے اور ہررمی پر تکبیر کہے اور پہلی کنکری پر ہی تلبیہ کو ترک کردے اس کے بعد قربانی کرے (اگر متمتع یاقارن ہو تو ضروری ہے) پھر قصر یاحلق کرے (اور حلق کرنا بہتر ہے) اب احرام کی ساری ممنوعات سوائے عورت کے ختم ہوجائیں گی اس کے بعد اسی دن یادوسرے یاتیسرے دن مکہ جاکر طوافِ زیارت کرلے یہ طواف حج کا دوسرا رکن ہے اور ان تین دنوں سے زیادہ مؤخر کرنا مکروہ تحریمی ہے اور جب طوافِ زیارت کرلیگا تو عورت کی ممانعت بھی باقی نہیں رہے گی؛ پھرمنیٰ واپس آکر رات گزارے۶؎۔ (۱)‘‘عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجَرَّدَ لِإِهْلَالِهِ وَاغْتَسَلَ’’ ترمذی، باب ماجاء فی الاغتسال عندالاحرام، حدیث نمبر:۷۶۰ (۲)‘‘عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ بِذَرِيرَةٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ’’ بخاری، باب الذریرۃ، حدیث نمبر:۵۴۷۵ (۳)‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ’’ بخاری، باب التلبیہ، حدیث نمبر:۱۴۴۸۔ ‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ فَقَالَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ قَالُوا وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ’’ ‘‘وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ’’ مسلم، باب التلبیہ وصفتھا ووقتھا، حدیث نمبر:۲۰۳۰، ۲۰۳۱۔ (۴)‘‘عَنْ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابتٍ أَنَّ النَّبِىَّﷺ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ تَلْبِيَتِهِ سَأَلَ اللَّهَ تَعَالَى مَغْفِرَتَهُ وَرِضْوَانَهُ وَاسْتَعَاذَ بِرَحْمَتِهِ مِنَ النَّارِ’’ دارِقطنی، باب الحج، حدیث نمبر:۲۵۳۷ (۵)‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنْ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا الْبَرَانِسَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْ أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ وَلَاتَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلَا الْوَرْسُ وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ’’ بخاری، باب ماینھی من الطیب للمحرم والمحرمۃ، حدیث نمبر:۱۷۰۷۔ (۶)‘‘عَنْ جَابِرْ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِﷺ حَاجٌّ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الخ بطولہ’’ مسلم، باب حجۃ النبیﷺ، حدیث نمبر:۲۱۳۷۔ ۱۱/ذی الحجہ کو زوال کے بعد بالترتیب جمرۂ اولیٰ، جمرۂ ثانیہ اور جمرۂ عقبہ پر سات سات کنکریاں پھینکنی ہیں، رات پھر منیٰ میں بسرکرنی ہے اور ۱۲/ذی الحجہ کو بھی گیارہ ہی کی طرح تینوں جمرات پر رمی کرنا ہے، اس کے بعد مکہ آجائے، حج مکمل ہوگیا، چاہے تو آج بھی رات منیٰ میں گزارسکتا ہے؛ تاہم ۱۳/ذی الحجہ کی صبح منیٰ میں ہوگئی تو اب ۱۳/کو بھی رمی واجب ہوگئی، آج زوال سے پہلے بھی رمی کی جاسکتی ہے؛ بہتر زوال کے بعد ہے، اب مکہ جائے اور راستہ میں مکہ اور منی کے درمیان ‘‘محصب’’ نامی ایک کھلا میدان تھا (اس کو ابطح، بطحاء اور خیف بنی کنانہ بھی کہتے ہیں) وہاں کچھ دیر کے لیے توقف کرتا ہوا جائے۔ اب جب کہ حج کے افعال پورے ہوگئے تو حدود میقات سے باہر رہنے والوں کے لیے مکہ سے رخصت ہونے سے پہلے طوافِ وداع کرنا ہے، جب یہ طواف کرلے تو زم زم کے پاس آکر خوب سیراب ہوکر پانی پئے؛ پھربابِ کعبہ پر چوکھٹ کے پاس آئے؛ پھر ملتزم کے پاس آکر اپنے پیٹ کو کعبۃ اللہ سے چمٹا دے اور اپنے دائیں گال کو بھی اس سے لگادے اور کعبۃ اللہ کے غلاف کو تھام کر خوب دعائیں کرے اور رورو کر مانگے اور کعبۃ اللہ کو دیکھتے ہوئے پیچھے کی طرف لوٹ جائے۔ (‘‘عَنْ جَابِرْ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الخ بطولہ’’ مسلم، باب حجۃ النبیﷺ، حدیث نمبر:۲۱۳۷۔ ‘‘عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنَّمَا كَانَ مَنْزِلٌ يَنْزِلُهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ يَعْنِي بِالْأَبْطَحِ’’ بخاری، باب المحصب، حدیث نمبر:۱۶۴۴۔ ‘‘عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنْ الْحَائِضِ’’ بخاری، باب طواف الوداع، حدیث نمبر:۱۶۳۶۔ ‘‘عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كُنْتُ أَطُوفُ مَعَ أَبِى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَرَأَيْتُ قَوْمًا قَدِ الْتَزَمُوا الْبَيْتَ فَقُلْتُ لَهُ: انْطَلَقْ بِنَا نَلْتَزِمُ الْبَيْتَ مَعَ هَؤُلاَءِ فَقَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ الْتَزَمَ مَا بَيْنَ الْبَابِ وَالْحِجْرِ قَالَ: هَذَا وَاللَّهِ الْمَكَانُ الَّذِى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِﷺ الْتَزَمَهُ’’ السنن الکبریٰ للبیھقی، باب الملتزم، حدیث نمبر:۹۶۰۱) عورت بھی مرد ہی کی طرح تمام ارکان اداکریگی، چند امور میں فرق ہے، عورت اپنے چہرے کو کھلا رکھے گی نہ کہ سرکو، اپنی آواز کو تلبیہ میں بلند نہ کرے، رمل نہ کرے، حلق نہ کرے، سلے ہوئے کپڑے پہنے؛ اگرمرد لوگ ہوں تو حجراسود کا استلام نہ کرے، احرام میں حیض آجائے تو غسل کرلے، حالت احرام ہی میں ارکان ادا کرتی رہے؛ مگرطوافِ زیارت پاک ہونے کے بعد ادا کرے۔ (‘‘عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِىَّﷺ قَالَ لَيْسَ عَلَى الْمَرْأَةِ حَرَمٌ إِلاَّ فِى وَجْهِهَا’’ دارِقطنی، باب الحج، حدیث نمبر:۲۷۹۳۔ ‘‘عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ رَمَلٌ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ’’ دارقطنی، باب الحج، حدیث نمبر:۲۷۹۹۔ ‘‘عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ حَلْقٌ إِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيرُ’’ ابوداؤد، باب الحلق والتقصیر، حدیث نمبر:۱۶۹۳۔ ‘‘عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّﷺ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّﷺ فَقَالَ انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي النَّبِيُّﷺ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ هَذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ قَالَتْ فَطَافَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا’’ بخاری، باب کیف تھل الحائض والنفساء، حدیث نمبر:۱۴۵۴)








ذکر اللہ ذکراللہ کی تاکید وترغیب قرآنِ کریم میں قرآن شریف میں بہت سی جگہوں پر اللہ کے ذکر کی تاکید وترغیب آئی ہے: (۱)‘‘بعض آیات میں اہلِ ایمان کو حکم دیا گیا؛ اے ایمان والو! اللہ کی بہت یاد کیا کرو اور صبح وشام اس کی پاکی بیان کرو’’ (الاحزاب: ۴۱،۴۲) ‘‘اور اپنے جی میں گڑگڑا کر اور خوف کی کیفیت کے ساتھ اپنے رب کا ذکر کرو’’ (الاعراف:۲۰۵) (۲)بعض آیات میں اللہ کو بھولنے اور اس کی یاد سے غافل ہونے سے شدت کے ساتھ منع فرمایاگیا ہے (یہ بھی ذکر اللہ کی تاکید ہی ہے) فرمایا: ‘‘اور تم غفلت والوں میں سے نہ ہونا’’ (الاعراف:۲۰۵) ‘‘اور تم ان میں سے نہ ہوجاؤ؛ جنہوں نے اللہ کو بھلادیا پھر (اس کی پاداش میں) اللہ نے ان کو ان کے نفس بھلادئیے (اور خدا فراموشی کے نتیجہ میں وہ خود فراموش ہوگئے)’’ (الحشر:۱۹) (۳)بعض آیات میں فرمایا گیا ہے کہ فلاح اور کامیابی اللہ کے ذکر کی کثرت کے ساتھ وابستہ ہے، ارشاد ہے: ‘‘اور کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرو پھر تم فلاح وکامیابی کی امید کرسکتے ہو’’ (الانفال:۴۵۔ الجمعہ:۱۰) (۴)بعض آیات میں حق تعالیٰ کی طرف سے اہلِ ذکر کی تعریف کی گئی ہے اور بتایا گیا کہ ذکر کے صلہ میں ان کے ساتھ رحمت ومغفرت کا خاص معاملہ کیا جائیگا اور ان کو اجرِعظیم سے نوازا جائیگا؛ چنانچہ احزاب میں ایمان والے بندوں اور بندیوں کے چند دوسرے ایمانی اوصاف بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا گیا: ‘‘اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے اس کے بندے اور اس کی بندیاں، اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں اور بندیوں کے لیے خاص بخشش اور عظیم ثواب تیار کررکھا ہے’’ (الاحزاب:۳۵) (۵)اسی طرح بعض آیات میں آگاہی دی گئی کہ جو لوگ دنیا کی بہاروں اور لذتوں میں منہمک اور مست ہوکر اللہ کی یاد سے غافل ہوجائیں گے وہ ناکام اور نامراد رہیں گے، فرمایا گیا: ‘‘اے ایمان والو! تمہاری دولت اور تمہاری اولاد تم کو اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو لوگ اس غفلت میں مبتلا ہوں گے وہ بڑے گھاٹے اور نقصان میں رہیں گے’’۔ (المنافقون:۹) یہ تینوں عنوان بھی ذکر اللہ کی تاکید اور ترغیب کے لیے بلاشبہ بڑے موثر ہیں۔ (۶)بعض آیات مںب فرمایا گیا کہ جو بندے ہمیں یاد کریں گے ہم ان کو یادکریں گے اور یادرکھیں گے، فرمایا: ‘‘اے بندو! تم مجھے یادکرو میں تم کو یادرکھونگا اور میرا احسان مانو اور ناشکری نہ کرو’’۔ (البقرہ:۱۵۲) ‘‘سُبْحَانَ اللہ وَبِحَمْدِہٖ’’ بندے کی اس سے بڑی سعادت وکامیابی اور کیا ہوسکتی ہے کہ پوری کائنات کا خالق ومالک اس کو یادکرے اور یادرکھے۔ (۷)بعض آیات میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے ذکر کو ہرچیز کے مقابلہ میں عظمت وفوقیت حاصل ہے اور اس کائنات میں وہ ہرچیز سے بالاتر اور بزرگ تر ہے، فرمایا:: ‘‘اور یقین کرو کہ اللہ کا ذکر ہرچیز سے بزرگ ترہے’’ (العنکبوت:۴۵) (بے شک اگر بندے کو عرفان نصیب ہوجائے تو اللہ کا ذکر اس کے لیے ساری کائنات سے عظیم ترہے)۔ (۸)بعض آیات میں بڑے اونچے درجہ کے اعمال کے بارے میں ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ان کے اختتام پر اللہ کا ذکر ہونا چاہےک؛ گویاذکر اللہ ہی کو ان اعمال کا ‘‘خاتمہ’’ بنانا چاہیے، مثلاً نماز کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا: ‘‘جب تم نماز اداکرو تو (ہرحال میں) کھڑے بیٹھے اور اپنے پہلوؤں کے بل لیٹے اللہ کا ذکر کرو’’ (النساء:۱۰۳) خاص جمعہ کی نماز کے بارے میں لکھا ہے: ‘‘جب جمعہ کی نماز ختم ہوجائے تو (اجازت ہے) کہ تم (سجدے سے نکل کر اپنے کام کاج کے سلسلہ میں) زمین میں چلو پھرو اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اس حالت میں بھی اللہ کا خوب ذکر کرو؛ پھر فلاح کی امید کرسکتے ہو’’ (الجمعہ:۱۰) اور حج کے بارے میں ارشاد ہے: پھرجب تم اپنے مناسک ادا کرکے فارغ ہوجاؤ تو اللہ کا ذکر کرو جیسا کہ تم (تفاخر کے طورپر) اپنے باپ داداؤں کا ذکر کیا کرتے تھے؛ بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ اللہ کا ذکر کرو (البقرۃ:۲۰۰) ان آیات سے معلوم ہوا کہ نماز اور حج جیسی اعلیٰ درجہ کی عبادات سے فارغ ہونے کے بعد بھی بندہ کے لیے اللہ کے ذکر سے غافل ہونے کی گنجائش نہیں ہے؛ بلکہ ان سے فراغت کے بعد بھی اس کے دل میں اور اس کی زبان پر اللہ کا ذکر ہونا چاہیے اور اسی کو ان اعمال کا خاتمہ بننا چاہیے۔ (۹)بعض آیات میں ذکر اللہ کی ترغیب اس عنوان سے دی گئی ہے کہ دانشمند اور صاحبِ بصیرت بندے وہی ہیں جو ذکر اللہ سے غافل نہیں ہوتے، جس کا لازمی مفہوم یہ ہے کہ جو ذکر اللہ سے غافل ہوں وہ عقل وبصیرت سے محروم ہیں، مثلاً آل عمران کے آخری رکوع میں ارشاد فرمایا گیا ہے: ‘‘یقینا زمین وآسمان کی تخلیق میں اور رات ودن کی تبدیلیوں میں کھلی نشانیاں ہیں ان اربابِ دانش کے لیے جو کھڑے بیٹھے اور لیٹنے کی حالت میں بھی اللہ کو یاد کرتے ہیں (اور اس سے غافل نہیں ہوتے)’’۔ (آل عمران:۱۹،۱۹۱) (۱۰)بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اونچے سے اونچے اعمالِ صالحہ کا مقصد اور ان کی روح ذکر اللہ ہے، مثلاً نماز کے بارے میں ارشا دہے: میری یاد کے لیے نماز قائم کرو’’ (طٰہٰ:۱۴) اور مناسکِ حج کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: بیت اللہ کا طواف اور صفاومروہ کے درمیان سعی اور جمرات کی رمی یہ سب چیزیں ذکر اللہ ہی کے لیے مقرر ہوئی ہیں۔ (ابوداؤد، باب فی الرمل، حدیث نمبر:۱۶۱۲ عن عائشہؓ۔ مسنداحمد، حدیث السیدۃ عائشۃؓ، حدیث نمبر:۲۴۳۹۶ عن عائشہؓ۔ صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر:۲۶۶۴) جہاد کے بارے میں ارشادِ خداوندی ہے: اے ایمان والو! جب تمہاری کسی دشمن فوج سے مڈبھیڑ ہوجائے، تو ثابت قدم رہو (اور قدم جماکے جنگ کرو) اور اللہ کا ذکر کرو، امید ہے کہ تم فلاح یاب ہوگے (الانفال:۴۵) اور ایک حدیث قدسی میں ہے: میرا بندہ مکمل بندہ وہ ہے جو اپنے حریف مقابل سے جنگ کے وقت بھی مجھے یاد کرتا ہے۔ (ترمذی، باب فی دعاء الضیف، حدیث نمبر:۳۵۰۴) قرآن وحدیث کے ان نصوص سے ظاہر ہے کہ نماز سے لے کر جہاد تک تمام اعمالِ صالحہ کی روح اور جان ذکر اللہ ہے اور یہی ذکر اور دل وزبان سے اللہ کی یاد وہ پروانۂ ولایت ہے جس کو عطا ہوگیا وہ واصل ہوگیا اور جس کو عطا نہیں ہوا وہ دور اور مہجور رہا، یہ ذکر اللہ والوں کے قلوب کی غذا اور ذریعۂ حیات ہے؛ اگر وہ ان کو نہ ملے تو جسم ان قلوب کے لیے قبور بن جائیں اور ذکر ہی سے دلوں کی دنیا کی آبادی ہے اگر دلوں کی دنیا اس سے خالی ہوجائے تو بالکل ویرانہ ہوکر رہ جائے اور ذکر ہی ان کا وہ ہتھیار ہے جس سے وہ روحانیت کے رہزنوں سے جنگ کرتے ہیں اور وہی ان کے لیے وہ ٹھنڈا پانی ہے جس سے وہ اپنے باطن کی آگ بجھاتے ہیں اور وہی ان کے بیماریو ںکی وہ دوا ہے کہ اگر ان کو نہ ملے تو ان کے دل گرنے لگیں اور وہی وسیلہ اور ربط ہے ان کے اور ان کے علام الغیوب رب کے درمیان، کیا خوب کہا گیا ہے ؎ اِذَا مَرِضْنَا تَدَاوَیْنَا بِذِکْرِکُمْ فَنَتُرْکُ الذِکْرَ أَحْیَانًا فَنَنْتَکسُ (اصلاح القلوب: ۱/۳۴) ‘‘ترجمہ: جب ہم بیمار ہوجاتے ہیں تو تمہاری یاد سے اپنا علاج کرتے ہیں اور جب کسی وقت یاد سے غافل ہوجائیں تو مرنے لگتے ہیں’’۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح بینا یعنی آنکھوں کو روشنی اور بینائی سے منور کیا ہے اسی طرح ذکر کرنے والی زبانوں کو ذکر سے مزین فرمایا ہے؛ اِسی لیے اللہ کی یاد سے غافل زبان اس آنکھ کی طرح ہے جو بینائی سے محروم ہے اور اس کان کی طرح ہے جو شنوائی کی صلاحیت کھوچکا ہے اور اس ہاتھ کی طرح ہے جو مفلوج ہوکر بیکار ہوگیا ہے، ذکراللہ ہی وہ راستہ اور دروازہ ہے جو حق جل جلالہ اور اس کے بندے کے درمیان کھلا ہوا ہے اور اس سے بندہ اس کی بارگاہِ عالی تک پہنچ سکتا ہے اور جب بندہ اللہ کے ذکر سے غافل ہوتا ہے تو یہ دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ (ملخصا من کلام الشیخ ابن قیم فی مدارک السالکین، فصل ومن منازل ایاک نعبدوایاک نستعین منزلۃ الذکر:۲/۵۵) مندرجہ بالا اقتباس میں ذکر اللہ کی تاکید وترغیب کے جن دس عنوانات کا ذکر کیا گیا ہے قرآن مجید میں ان کے علاوہ بھی بعض عنوانات سے ذکر اللہ کی ترغیب دی گئی ہے، مثلاً فرمایا گیا: قلوب کو (اللہ سے رابطہ رکھنے والوں کے دلوں اور ان کی روحوں کو) اللہ کے ذکر ہی سے چین واطمینان حاصل ہوتا ہے۔ (الرعد:۲۸) عظمت وبرکات ذکر اللہ کی عظمت اور برکات کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے ارشادات پڑھیے۔ حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب بھی اور جہاں بھی بیٹھ کے کچھ بندگانِ خدا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں تو لازمی طور پر فرشتے ہرطرف سے ان کے گرد جمع ہوجاتے ہیں اور ان کو گھیرلیتے ہیں اور رحمتِ الٰہی ان پرچھاجاتی ہے اور ان کو اپنے سایہ میں لے لیتی ہے اور ان پر سکینہ کی کیفیت نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے ملائکہ مقربین میں ان کا ذکر فرماتا ہے۔ (مسلم، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن، حدیث نمبر:۴۸۶۸۔ مسنداحمد، حدیث ابی سعید الخدریؓ، حدیث نمبر:۱۱۸۹۳) اس حدیث سے یہ بھی اشارہ ملا کہ اگر اللہ کا کوئی ذاکر بندہ اپنے قلب وباطن میں ‘‘سکینت’’ کی کیفیت محسوس نہ کرے (جو ایک محسوس کی جانے والی چیز ہے) تو اس کو سمجھنا چاہیے کہ ابھی وہ ذکر کے اس مقام تک نہیں پہنچ سکا ہے جس پر یہ نعمتیں موجود ہیں، یااس کی زندگی میں کچھ ایسی خرابیاں ہیں جو آثارِ ذکر کے حصول میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں؛ بہرحال اسے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے، رب کریم کے وعدے برحق ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مسجد میں قائم ایک حلقہ پر پہنچے تو آپ نے ان اہل حلقہ سے پوچھا ‘‘تم یہاں کس لیے بیٹھے ہو’’؟ انہوں نے کہا ‘‘ہم بیٹھ کر اللہ کو یاد کررہے ہیں’’ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اللہ کی قسم!تم صرف ذکر اللہ ہی کے لیے بیٹھے ہو؟ انہو ں نے کہا: قسم بخدا! ہمارے بیٹھنے کا کوئی اور مقصد اللہ کے ذکر کے سوا نہیں ہے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں نے کسی بدگمانی کی بناء پر آپ لوگوں سے قسم نہیں لی ہے، اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے جس درجہ کا تعلق اور قرب مجھے حاصل تھا اس درجہ کے تعلق والا کوئی آدمی آپ کی حدیثیں مجھ سے کم بیان کرنے والا نہیں ہے (یعنی میں روایت حدیث میں بہت زیادہ احتیاط کرتا ہوں اس لیے اپنے جیسے دوسرے لوگوں کی بہ نسبت بہت کم حدیثیں بیان کرتا ہوں مگر اس وقت ایک حدیث ذکر کرتا ہوں) اور میں نے اسی کی پیروی میں آپ لوگوں سے قسم لی ہے، وہ حدیث یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن اپنے اصحاب کے ایک حلقہ کے پاس پہنچے، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: آپ لوگ یہاں کیوں جڑے بیٹھے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: ہم اللہ کو یاد کررہے ہیں اور اس نے جو ہم کو ہدایت سے نوازا اور ایمان واسلام کی توفیق دے کر احسانِ عظیم فرمایا، اس پر اس کی حمد وثناء کررہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا اللہ کی قسم؟ تم صرف ذکراللہ ہی کے لیے بےٹھ ہو؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جواب دیا: قسم بخدا! ہمارے بیٹھنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر کر ہے؛ پھرآپ ﷺ نے فرمایا: تمھیں معلوم ہو کہ میں نے تمہارے ساتھ کسی بدگمانی کی بناء پر تم سے قسم نہیں لی؛ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ابھی جبرئلم امین میرے پاس آئے اور انہو ں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فخرومباہات کے ساتھ فرشتوں سے تم لوگوں کا ذکر فرما رہا ہے۔ (مسلم، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن، حدیث نمبر:۴۸۶۹۔ ترمذی، باب ماجاء فی القوم یجلسون فیذکرون اللہ، حدیث نمبر:۳۳۰۱) حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘‘کیا میں تم کو وہ عمل بتاؤں جو تمہارے سارے اعمال میں بہتراور تمہارے مالک کی نگاہ میں پاکیزہ رہے اور تمہارے درجوں کو دوسرے تمام اعمال سے زیادہ بلند کرنے والا ہے اور راہِ خدا میں سونا اور چاندی خرچ کرنے سے بھی زیادہ ہو اور اس جہاد سے بھی زیادہ تمہارے لیے اس میں ثواب ہو جس میں تم اپنے دشمنوں اور خدا کے دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارو اور وہ تمھیں ذبح کریں اور شہید کریں؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: ہاں! یارسول اللہ! ایسا قیمتی عمل ضرور بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا ‘‘وہ اللہ کا ذکر ہے’’۔ (ترمذی، باب منہ، بعدباب ماجاء فی فضل الذکر، حدیث نمبر:۳۲۹۹۔ ابن ماجہ، باب فضل الذکر، حدیث نمبر:۳۷۸۰۔ مسنداحمد، باب باقی حدیث ابی الدردائؓ، حدیث نمبر:۲۱۷۵۰) کچھ خاص اذکار حضور اکرم ﷺ نے جن کلمات کے ذکر کی تلقین فرمائی ہے وہ اختصار کے باوجود اللہ تعالیٰ کی تنزیہ وتقدیس اور تحمید وتوحید اور اس کی شانِ کبریائی وصمدیت کے بیان میں بلاشبہ معجزانہ شان رکھتے ہیں اور اس کی معرفت کے گویا دروازے ہیں۔ یہاں اختصار کے ساتھ پوری حدیث بیان کئے بغیر صرف الفاظ ذکر کیئے جارہے ہیں: (۱)تمام کلموں میں افضل یہ چار کلمہ ہیں: ‘‘سُبْحَانَ اللہ، الْحَمْدُلِلّٰہِ، لَااِلٰہَ اِلَّااللہ اور اللہ اَکْبَرْ’’ ‘‘اللہ تعالیٰ پاک ہیں، تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ تعالیٰ سب کے بڑے ہیں’’۔ (بخاری، باب اذاقال واللہ لاأتکلم الیوم۔ مسلم، باب کراھۃ التسمیۃ بالاسماء القبیحۃ، حدیث نمبر:۳۹۸۵) (۲)سُبْحَانَ اللہ وَبِحَمْدِہٖ ‘‘میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں اس کی (تمام) تعریفوں کے ساتھ’’۔ (بخاری، باب فضل التسبیح، حدیث نمبر:۵۹۲۶۔ مسلم، باب فضل التھلیل والتسبیح والدعاء، حدیث نمبر:۴۸۵۷) (۳)سُبْحَانَ اللہ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہ الْعَظِیْم۔ ‘‘اللہ تعالیٰ کی میں تعریف بیان کرتا ہوں اس کی (تمام) تعریفوں کے ساتھ، اللہ تعالیٰ (ہرعیب سے) پاک ہے جو بڑی عظمت والا ہے’’۔ (بخاری، باب فضل التسبیح، حدیث نمبر:۵۹۲۷۔ مسلم، باب فضل التھلیل والتسبیح والدعاء، حدیث نمبر:۴۸۶۰) (۴)سُبْحَانَ اللہ وَبِحَمْدِہٖ عَدَدَخَلْقِہِ وَزِنَۃَ عَرْشِہٖ وَرِضٰی نَفْسِہٖ وَمِدَادَ کَلِمَاتِہٖ۔ ‘‘میں خدا کی پاکی بیان کرتا ہوں اس کی (تمام) خوبیوں کے ساتھ ا سکی مخلوقات کی تعداد کے برابر اور اس کی رضامندی اور خوشنودی کے برابر اس کے عرش کے وزن کے برابر اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر (یعنی بے انتہا اس لیے کہ خدا کے کلموں کی کوئی حد نہیں سارا سمندر اگرسیاہی ہو وہ ختم ہوجاوے اور خدا کے کلمہ تمام نہ ہو)’’۔ (مسلم، باب التسبیح أول النھار وعندالنوم، حدیث نمبر:۴۹۰۵۔ ابوداؤد، باب التسبیح بالحصیٰ، حدیث نمبر:۱۲۸۵) (۵)سب سے افضل ذکر ‘‘لَااِلٰہَ الَّااللہ’’۔ (ترمذی، باب ماجاء أن دعوۃ المسلم مستجابۃ، حدیث نمبر:۳۳۰۵۔ ابن ماجہ، باب فضل الحامدین، حدیث نمبر، حدیث نمبر:۳۷۹۰) (۶)‘‘لَااِلٰہَ الَّااللہ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَعَلَی کُلِّ شَیْیٍٔ قَدِیْر’’ ‘‘اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کا ہے اور تمام تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے’’۔ (بخاری، باب صفۃ ابلیس وجنودہ، حدیث نمبر:۳۰۵۰۔ مسلم، باب فضل التھلیل والتسبیح والدعاء، حدیث نمبر:۴۸۵۷) (۷)لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللہ۔ (بخاری، باب قول لاحول ولاقوۃ الاباللہ، حدیث نمبر:۵۹۳۰۔ مسلم، باب استحباب خفض الصوت بالذکر، حدیث نمبر:۴۸۷۳) اس کے علاوہ بہت سارے اذکار ہیں، سب کا احاطہ کرنے میں تفصیل ہوجائیگی؛ نیزہرذکر کی الگ الگ فضیلت اور ذکر کے اوقات کی تعیین بھی احادیث میں آئی ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت قرآن مجید کی تلاوت بھی ‘‘ذکراللہ’’ کی ایک قسم ہے اور بعض حیثیتوں سے سب سے افضل اور اعلیٰ قسم ہے، اس میں بندے کی مشغولیت اللہ تعالیٰ کو بے حد محبوب ہے، حضرت مولانا محمدمنظور رنعمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بلاشبہ اللہ تعالیٰ تشبیہ اور مثال سے وراء الورا (پاک) ہے لیکن ناچیز راقم سطور نے اس حقیقت کو اپنے ذاتی تجربہ سے خوب سمجھا ہے کہ جب کبھی کسی کو اس حال میں دیکھا کہ وہ میری لکھی ہوئی کوئی کتاب قدر اور توجہ سے پڑھ رہا ہے تو دل سرور سے بھرگیا اور اس شخص سے ایک خاص تعلق اور لگاؤ پیدا ہوگیا، اب تعلق اور لگاؤ جو بہت سے قریبی عزیزوں، دوستوں سے بھی نہیں ہوتا؛ بہرحال میں نے تو اپنے اسی تجربہ سے یہ سمجھا کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو اپنے پاک کلام قرآن مجید کی تلاوت کرتے سنتا اور دیکھتا ہوگا تو اس بندہ پر اس کو کیسا پیار آتا ہوگا (الا یہ کہ اپنے کسی شدید جرم کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے پیار اور نظرکرم کا مستحق ہی نہ ہو)۔ (معارف الحدیث، کتاب الاذکار والدعاء: ۳/۶۷، مطبوعہ: دارالاشاعت، پاکستان) قرآن کریم کی عظمت وفضیلت قرآن مجید کی بے انتہا عظمت کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ وہ کلام اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی حقیقی صفت ہے واقعہ یہ ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ بھی ہے؛ یہاں تک کہ زمینی مخلوقات میں کعبۃ اللہ اور انبیاء علیہم السلام کی مقدس ہستیاں اور عالم غیب کی مخلوقات میں عرش، کرسی، لوح وقلم، جنت اور جنت کی نعمتیں اور اللہ کے مقرب ترین فرشتے یہ سب اپنی معلوم ومسلم عظمت کے باوجود غیراللہ اور مخلوق ہیں؛ لیکن ذاتِ عالی کے ساتھ قائم ہیں، یہ اللہ پاک کا بے انتہاء کرم اور اس کی عظیم ترنعمت ہے کہ اس نے اپنے رسول امینﷺ کے ذریعہ وہ کلام ہم تک پہنچایا اور ہمیں اس لائق بنایا کہ اس کی تلاوت کرسکیں اور اپنی زبان سے اس کو پڑھ سکیں؛ پھراس کو سمجھ کر اپنی زندگی کا راہنمابناسکیں، قرآن مجید میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طورسناک کی مقدس وادی میں ایک مبارک درخت سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلام سنوایا تھا، کتنا خوش قسمت تھا وہ بے جان درخت جس کو حق تعالیٰ نے اپنا کلام سنوانے کے لیے بطورِ آلہ استعمال فرمایا تھا، جو بندہ اخلاص اور عظمت واحترام کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے اس کو اس وقت شجرۂ موسوی والا یہ شرف نصیب ہوتا ہے اور گویا وہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے کلامِ مقدس کا ریکارڈ ہوتا ہے، حق یہ ہے کہ انسان اس سے آگے کسی شرف کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس مختصر تمہید کے بعد قرآن مجید کی عظمت وفضیلت کے بیان میں رسول اللہ کی مندرجہ ذیل چند احادیث پڑھیے: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس شخص کو قرآن نے میرے ذکر سے اور مجھ سے سوال اور دعا کرنے سے باز رکھا، میں اس کو اس سے افضل عطا کرونگا جو سائلوں اور دعا کرنے والوں کو عطا کرتا ہوں اور دوسرے اور کلاموں کے مقابلہ میں اللہ کے کلام کو ویسی ہی عظمت وفضیلت حاصل ہے جیسی اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق کے مقابلہ میں۔ (ترمذی، باب ماجاء کیف کانت قرأۃ النبیﷺ، حدیث نمبر:۲۸۵۰۔ شعب الایمان، باب من شغلہ قرأۃ القرآن، حدیث نمبر:۱۹۵۹) حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے ایک دن فرمایا: ‘‘آگاہ ہوجاؤ ایک بڑا فتنہ آنے والا ہے’’ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! اس فتنہ کے شر سے بچنے اور نجات پانے کا ذریعہ کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: کتاب اللہ، اس میں تم سے پہلے امتوں کے (سبق آموز) واقعات ہیں اور تمہارے بعد کی اس میں اطلاعات ہیں (یعنی اعمال واخلاق کے جو دنیوی واخروی نتائج وثمرات مستقبل میں سامنے آنے والے ہیں، قرآن مجید میں ان سب سے بھی آگاہی دے دی گئی ہے) اور تمہارے درمیان جو مسائل پیدا ہوں قرآن میں ان کا حکم اور فیصلہ موجود ہے (حق وباطل اور صحیح وغلط کے بارے میں) وہ قول فیصل ہے، وہ فضول بات اور یادہ گوئی نہیں ہے، جو کوئی جابروسرکش اس کو چھوڑے گا (یعنی غرور وسرکشی کی راہ سے قرآن سے منہ موڑے گا) اللہ تعالیٰ اس کو توڑ کے رکھ دے گا اور جو کوئی ہدایت کو قرآن کے بغیر تلاش کرے گا اس کے حصہ میں اللہ کی طرف سے صرف گمراہی آئیگی (یعنی وہ ہدایت حق سے محروم رہے گا) قرآن ہی حبل اللہ المتین یعنی اللہ سے تعلق کا مضبوط وسیلہ ہے اور محکم نصیحت نامہ ہے اور وہی صراطِ مستقیم ہے، وہی وہ حق مبین ہے جس کے اتباع سے خیالات کجی سے محفوظ رہتے ہیں اور زبانیں اس کو گڑبڑ نہیں کرسکتیں (یعنی جس طرح اگلی کتابوں میں زبانوں کی راہ سے تحریف داخل ہوگئی اور محرفین (تحریف کرنے والوں) نے کچھ کا کچھ پڑھ کے اس کو محرف کردیا اس طرح قرآن میں کوئی تحریف نہیں ہوسکے گی، اللہ تعالیٰ نے تاقیامت اس کے محفوظ رہنے کا انتظام فرمادیا ہے) اور علم والے کبھی اس کے علم سے سیر نہیں ہوں گے (یعنی قرآن میں تدبر کا عمل اور اس کے حقائق ومعارف کی تلاش کا سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ جاری رہیگا اور کبھی ایسا وقت نہیں آئیگا کہ قرآن کا علم حاصل کرنے والے محسوس کریں کہ ہم نے علم قرآن پر پورا عبور حاصل کرلیا اور اب ہمارے حاصل کرنے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا؛ بلکہ قرآن کے طالبین علم کا حال ہمیشہ یہ رہیگا کہ وہ علم قرآن میں جتنے آگے بڑھتے رہیں گے اتنی ہی ان کی طلب ترقی کرتی رہے گی اور ان کا احساس یہ ہوگا کہ جو کچھ ہم نے حاصل کیا ہے وہ اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہے جو ابھی ہم کو حاصل نہیں ہوا ہے) اور وہ قرآن کثرت مزاولت سے کبھی پرانا نہیں ہوگا (یعنی جس طرح دنیا کی دوسری کتابوں کا حال ہے کہ بار بار پڑھنے کے بعد ان کے پڑھنے مں) آدمی کو لطف نہیں آتا، قرآن مجید کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے وہ جتنا پڑھا جائیگا اس میں تفکر وتدبر کیا جائیگا اتنا ہی اس کے لطف ولذت میں اضافہ ہوگا) اور اس کے عجائب (یعنی اس کے دقیق ولطیف حقائق ومعارف) کبھی ختم نہیں ہوں گے، قرآن کی یہ شان ہے کہ جب جنوں نے اس کو سنا تو بے اختیار بول اٹھے ‘‘اِنَّاسَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا یَّھْدِیٰٓ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّابِہٖ’’ (الجن:۲،۱) ہم نے قرآن سنا جو عجیب ہے، رہنمائی کرتا ہے پس ہم اس پر ایمان لے آئے، جس نے قرآن کے موافق بات کہی اس نے سچی بات کہی اور جس نے قرآن پر عمل کیا وہ مستحق اجروثواب ہوا اور جس نے قرآن کے موافق فیصلہ کیا اس نے عدل وانصاف کیا اور جس نے قرآن کی طرف دعوت دی اس کو صراطِ مستقیم کی ہدایت نصیب ہوگئی۔ (ترمذی، باب ماجاء فی فضل القرآن، حدیث نمبر:۲۸۳۱۔ المعجم الکبیر، باب معاذبن جبل الأنصاری، عقبی بدری یکنی ابی عبدالرحمن، حدیث نمبر:۱۶۰) قرآن کا معلم اورمتعلّم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر اور افضل بندہ وہ ہے جو قرآن کا علم حاصل کرے اور دوسروں کو اس کی تعلیم دے۔ (بخاری، باب خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ، حدیث نمبر:۴۶۳۹۔ ترمذی، باب ماجاء فی النھی عن سب الریاح، حدیث نمبر:۲۱۸۹) حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صرف دوآدمی قابلِ رشک ہیں (اور ان پر رشک آنا برحق ہے) ایک وہ جس کو اللہ نے قرآن کی نعمت عطا فرمائی؛ پھروہ دن رات اس میں لگارہتا ہے اور دوسرا وہ خوش نصیب آدمی جس کو اللہ نے مال ودولت سے نوازا اور وہ دن اور رات راہِ خدا میں اس کو خرچ کرتا رہتا ہے۔ (بخاری، باب قول النبیﷺ رجل آتاہ، حدیث نمبر:۶۹۷۵۔ مسلم، باب فضل من یقوم بالقرآن ویعلمہ، حدیث نمبر:۱۳۵۰) قرآن کے خاص حقوق حضرت عبیدہ ملیکی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے قرآن والو! قرآن کو اپنا تکیہ اور سہارا نہ بنالو بلکہ دن اور رات کے اوقات میں ان کی تلاوت بھی کیا کرو جیسا کہ اس کا حق ہے اور اس کو پھیلاؤ اور اس کو دلچسپی سے اور مزہ لے لے کر پڑھا کرو اور اس میں تدبر کرو امید رکھو کہ تم اس سے فلاح پاجاؤ گے اور اس کا عاجل (دنیا میں) معاوضہ لینے کی فکر نہ کرو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا عظیم ثواب اور معاوضہ (اپنے وقت پر) ملنے والا ہے۔ (شعب الایمان، باب یااھل القرآن لاتوسدواالقرآن، حدیث نمبر:۱۹۵۱۔ جمع الجوامع اوالجامع الکبیر للسیوطی، باب حرف المیاء، حدیث نمبر:۵۹۵) حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جن بندوں کو قرآن کی دولت نصیب فرمائی ہے وہ اسی پر تکیہ کرکے نہ بیٹھ جائیں کہ ہمارے پاس قرآن ہے اور ہم قرآن والے ہیں؛ بلکہ انہیں چاہیے کہ قرآن مجید کے حقوق ادا کریں، رات اور دن کے اوقات میں اس کو حق کے مطابق اس کی تلاوت کیا کریں، اس کو اور اس کے پیغام ہدایت کو دوسروں تک پہنچائیں اس کو مزہ لے لے کر پڑھیں، اس کے احکام، اس کے ہدایات، اس کے قصص اور نصائح پر غوروفکر کیا کریں؛ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کی فلاح کی پوری امید ہے اور انہیں چاہیے کہ وہ قرآن کے اس پڑھنے اور پڑھانے اور اس کی خدمت کا معاوضہ دنیا ہی میں نہ چاہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو اپنے وقت پر اس کا بڑا غیرمعمولی معاوضہ اور عظیم صلہ ملنے والا ہے۔ قرآن اور قوموں کا عروج وزوال حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کتابِ پاک (قرآن مجید) کی وجہ سے بہت سوں کو اونچا کریگا اور بہت سوں کو نیچے گرائیگا۔ (مسلم، باب فضل من یقوم بالقرآن ویعلمہ، حدیث نمبر:۱۳۵۳۔ ابن ماجہ، باب فضل من تعلم القرآن وعلمہ، حدیث نمبر:۲۱۴) قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی صفت قائمہ اور بندوں کے لیے اس کا فرمان اور عہدنامہ ہے اس کی وفاداری اور تابعداری اللہ تعالیٰ کی وفاداری اور تابعداری ہے، اسی طرح اس سے انحراف اور بغاوت اللہ تعالیٰ سے انحراف اور سرکشی ہے اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ جو قوم اور جو امت خواہ وہ کسی نسل سے ہو اس کا کوئی بھی رنگ اور کوئی زبان ہو، قرآن مجید کو اپنا راہنما بناکر اپنے کو اس کا تابعدار بنادیگی اور اس کے ساتھ وہ تعلق رکھے گی جو کلام اللہ ہونے کی حیثیت سے اس کا حق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو دنیا اور آخرت میں سربلند کریگا اور اس کے برعکس جو قوم اور امت اس سے انحراف اور سرکشی کریگی وہ اگر بلندیوں کے آسمان پر بھی ہوگی تو نیچے گرادی جائیگی۔ اسلام اور مسلمانوں کی پوری تاریخ اس حدیث کی صداقت کی گواہ اور اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کی آئینہ دار ہے، اس حدیث میں ‘‘قواما’’ کے لفظ سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ عروج وزوال کے اس الٰہی قانون کا تعلق افراد سے نہیں بلکہ قوموں اور امتوں سے ہے۔ تلاوتِ قرآن کا اجروثواب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘‘جس نے قرآن پاک کا ایک حرف پڑھا اس نے ایک نیکی کمالی اور یہ کہ ایک نیکی اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق دس نیکیوں کے برابر ہے (مزید وضاحت کے لیے آپ نے فرمایا) میں یہ نہیں کہتا (میرا مطلب یہ نہیں ہے) کہ ‘‘الٓم’’ ایک حرف ہے بلکہ ‘‘الف’’ ایک حرف ہے ‘‘لام’’ ایک حرف ہے اور ‘‘میم’’ ایک حرف ہے (اس طرح ‘‘الٓم’’ پڑھنے والا بندہ تیس نیکیوں کے برابر ثواب حاصل کرنے کا مستحق ہوگا)۔ (ترمذی، باب ماجاء فیمن قرأ حرفا من القرآن، حدیث نمبر:۲۸۳۵۔ شعب الایمان، باب من قرأحرفاً من القرآن کتب اللہ لہ حسنۃ، حدیث نمبر:۱۹۲۷) اللہ تعالیٰ کا یہ کریمانہ قانون کہ ایک نیکی کرنے والے کو دس نیکیوں کے برابر ثواب عطا ہوگا، واضح طور پر قرآن مجید میں بھی بیان فرمایا گیا: ‘‘مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُاَمْثَالِھَا’’۔ (الانعام:۱۲۰) ‘‘جو بندہ ایک نیکی لیکر آئیگا اس کو اس جیسی دس نیکیوں کا ثواب دیا جائیگا’’۔ اس حدیث سے ایک واضح اشارہ یہ بھی ملاکہ قرآن مجید کی تلاوت پر ثواب کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ تلاوت کے معنی مفہوم سمجھ کر ہی ہو؛ کیونکہ ‘‘الٓم’’ اور سارے حروفِ مقطعات کی تلاوت معنی مفہوم سمجھے بغیر ہی کی جاتی ہے اور حدیث نے صراحتاً بتلایا کہ ان حروف کی تلاوت کرنے والوں کو بھی ہرحرف پر دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔ تلاوتِ قرآن کا فائدہ حضرت عبداللہ ابن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنی آدم کے قلوب پر اس طرح زنگ چڑھ جاتا ہے، جس طرح پانی لگ جانے سے لوہے پر زنگ آجاتا ہے، عرض کیا گیا کہ حضورﷺ! دلوں کے اس زنگ کو دور کرنے کا ذریعہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایاکہ موت کو زیادہ یادکرنا اور قرآن کریم کی تلاوت۔ (شعب الایمان، باب القلوب تصدأ، حدیث نمبر:۱۹۵۸۔ مسندالشھاب القضاعی، حدیث نمبر:۱۰۹۰) قلب کا زنگ یہ ہے کہ وہ اللہ سے اور آخرت کے انجام سے غافل اور بے فکر ہوجائے، یہ سارے چھوٹے بڑے گناہوں کی جڑ اور بنیاد ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن میں مہارت حاصل کرلی ہو (اور اس کی وجہ سے وہ اس کو حفظ یاناظرہ بہتر طریقے پر اور بے تکلف رواں پڑھتا ہو) وہ معزز اور وفادار وفرمانبردار فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو بندہ قرآن پاک (اچھا یاد اور رواں نہ ہونے کی وجہ سے زحمت اور مشقت سے) اس طرح پڑھتا ہو کہ اس میں اٹکتا ہو تو اس کو دواجر ملیں گے (ایک تلاوت کا اور دوسرے زحمت ومشقت کا)۔ (مسلم، باب فضل الماھرفی القرآن والذی یتتعتع فیہ، حدیث نمبر:۱۳۲۹۔ بخاری، باب قول النبیﷺ الماھربالقرآن) حضرت معاذ جھنی سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے قرآن پڑھا اور اس میں جو کچھ ہے اس پر عمل کیا، قیامت کے دن اس کے ماں باپ کو ایساتاج پہنایا جائیگا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بھی زیادہ حسین ہوگی، جب کہ وہ روشنی دنیا کے گھروں میں ہو اور سورج آسمان سے ہمارے پاس ہی اتر آئے (اس کے بعد حضورﷺ نے فرمایا) پھر تمہارا کیا گمان ہے خود اُس آدمی کے بارے میں جس نے خود یہ عمل کیا ہو؟۔ (ابوداؤد، باب فی ثواب قرأۃ القرآن، حدیث نمبر:۱۲۴۱۔ شعب الایمان، باب من قرأ القرآن وعمل بمافیہ ألبس والداہ، حدیث نمبر:۱۸۹۳) حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ارشاد فرماتے تھے کہ قرآن پڑھا کرو، وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا شفیع بن جائیگا (خاصکر) ‘‘زہراوین’’ یعنی اس کی دواہم نورانی سورتیں البقرۃ اور اٰل عمران پڑھاکرو، وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کو اپنے سایہ میں لیے اس طرح آئیں گے جیسے کہ وہ ابرکے ٹکڑے ہیں یاسائبان ہیں یاصف باندھے پرندوں کے پر ہیں یہ دونوں سورتیں قیامت میں اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے مدافعت کریں گی (آپ ﷺ نے فرمایا) بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اس کو حاصل کرنا بڑی برکت والی بات ہے اور اس کو چھوڑنا بڑی حسرت اور ندامت کی بات ہے اور اہل بطالت اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ (مسلم، باب فضل قرأۃ القرآن و البقرۃ، حدیث نمبر:۱۳۳۷۔ مسنداحمد، حدیث ابی امامۃ الباھلی، حدیث نمبر:۲۲۲۰۰) اس حدیث کے بعض راویوں نے کہا ہے کہ اہل بطالت سے مراد ‘‘ساحرین’’ ہیں اور مطلب یہ ہے کہ بقرۃکی تلاوت کا معمول رکھنے والے پر کبھی کسی کا جادو نہیں چلے گا۔ (ھامش شعب الایمان، باب اقرأ والقرآن فانہ یاتی شفیعا لصاحبہ، حدیث نمبر:۱۹۲۴) مذکورہ احادیث میں تلاوت قرآن کے فوائد میں اخروی اکرام واعزاز کے علاوہ دنیوی فوائد دل کا میل اور زنگ کا دور ہونا وغیرہ بتایا گیا ہے اس کے علاوہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے ایک فائدہ یہ بتلایا کہ جب آدمی بغور تلاوت کرتا ہے یاوعظ ونصیحت سنتا ہے اور اس کو دل میں اتارتا ہے تو اللہ کا ڈر اور اللہ سے امید اور عظمت الہٰی کے سامنے حیرانی طاری ہوتی ہے؛ نیزاحساناتِ خداوندی جو قرآن کریم میں جگہ جگہ بیان کئے گئے ہیں اور قدرت کی کرشمہ سازی جس کا بار بار تذکرہ آتا ہے، آدمی کا نفس ان مضامین میں ڈوب جاتا ہے اور خوابیدہ طبیعت جاگ اٹھتی ہے اور نفس میں ملکوتی انوار کے فیضان کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، اسی وجہ سے یہ دونوں باتیں موت کے بعد انسان کے لیے بے حد نفع بخش ثابت ہوتی ہیں اور قبر میں نکیرین کے سوالات کے صحیح جوابات دینے میں ان دونوں باتوں سے بڑی مدد ملتی ہے، حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص فرشتوں کے سوالات کے صحیح جوابات نہیں دیگا، فرشتے اس سے کہیں گے کہ ‘‘تونے نہ تو حق کو پہچانا اور نہ تونے قرآن کریم کی تلاوت کی؛ پھرتو صحیح جوابات کیسے دے سکتا ہے؟ تجھے امتحان میں فیل ہونا تھا جو ہوگیا’’۔ (بخاری، باب المیت یسمع خفق النعال، حدیث نمبر:۱۲۵۲۔ ابوداؤد، باب فی المسألۃ فی القبر وعذاب القبر، حدیث نمبر:۴۱۲۶۔ حجۃ اللہ البالغہ، باب اسرار انواع من البر، ومنھا تلاوۃ القرآن:۱/۱۵۹، مصنف: حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ) حقوق پیغمبروں اور فرشتوں کے حقوق چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی رضا وناراضگی کی پہچان ہمیں حضراتِ انبیاءؑ کے ذریعہ ہوئی اور ان حضرات کے پاس فرشتے وحی لایا کرتے تھے؛ نیزبہت سے دنیوی فائدے اور نقصانات انبیاء علیہم السلام کے واسطے سے معلوم ہوئے اور بہت سے ملائکہ ہمارے فائدے کے کاموں پر متعین ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ان کاموں کو انجام دے رہے ہیں، اس لیے حضراتِ انبیاء علیہم السلام وحضراتِ ملائکہ علیہم السلام کا حق اللہ تعالیٰ کے حق میں داخل ہے؛ بہرحال فرشتوں کے حقوق میں سے چند یہ ہیں: حضراتِ ملائکہ علیہم السلام کے حقوق یہ ہیں (۱)ان کے وجود کا اعتقاد رکھے۱؎ (۲)ان کو گناہوں سے پاک سمجھے۲؎ (۳)جب ان کا نام آئے تو علیہ السلام کہے۳؎ (۴)مسجد میں بووالی چیزیں جیسے کچا لہسن، پیاز مولی، پان، تمباکو وغیرہ کھاکر جانے سے یامسجد میں ریح خارج کرنے سے ملائکہ کو تکلیف ہوتی ہے، اس سے احتیاط کرے اور بھی جن امور سے ملائکہ کو تکلیف ونفرت ہو ان سے بچنا ضروری سمجھے، مثلاً تصویر رکھنا، بلاضرورتِ شرعی کتا پالنا، جھوٹ بولنا، سستی کی وجہ سے جنابت ہی کی حالت میں پڑے رہنا کہ نماز بھی جاتی رہے، بلاضرورتِ شرعی برہنہ رہنا؛ گرچہ اکیلے میں ہی کیوں نہ ہو۴؎۔ (۱)‘‘وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَo وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَo وَإِنْ كَانُوا لَيَقُولُونَo لَوْ أَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِنَ الْأَوَّلِينَo لَكُنَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ’’ الصافات:۱۶۵۔۱۶۹ ‘‘عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِﷺ يَقُولُ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَنْزِلُ فِي الْعَنَانِ وَهُوَ السَّحَابُ فَتَذْكُرُ الْأَمْرَ قُضِيَ فِي السَّمَاءِ فَتَسْتَرِقُ الشَّيَاطِينُ السَّمْعَ فَتَسْمَعُهُ فَتُوحِيهِ إِلَى الْكُهَّانِ فَيَكْذِبُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ’’ بخاری، باب ذکر الملائکۃ، حدیث نمبر:۲۹۷۱۔ (۲)‘‘وَمَانَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَابَيْنَ أَيْدِينَا وَمَاخَلْفَنَا وَمَابَيْنَ ذَلِكَ وَمَاكَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا’’ مریم:۶۴۔ (۳)‘‘عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّﷺ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِﷺ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ’’ بخاری، باب التشھد فی الآخرہ، حدیث نمبر:۷۸۸۔ (۴)‘‘عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّﷺ قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي الثُّومَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا’’ بخاری، باب ماجاء فی الثوم النی والبصل والکراث، حدیث نمبر:۸۰۶۔ ‘‘عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِﷺ يَقُولُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةُ تَمَاثِيلَ’’ بخاری، باب ذکر الملائکۃ، حدیث نمبر:۲۹۸۶) پیغمبروں کے حقوق (۱)ان حضرات کی نبوت ورسالت پر اعتماد کریں۱؎ (۲)ان حضرات کی عظمت واحترام کا خیال رکھیں۲؎ (۳)ان حضرات کی قربانیوں کو اپنے لیے نمونہ بنائیں۳؎۔ (۱)‘‘رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا’’ النساء:۱۶۵۔ (۲)‘‘ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ كَذَلِكَ نَطْبَعُ عَلَى قُلُوبِ الْمُعْتَدِينَ’’ یونس:۷۴۔ (۳)‘‘أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ’’ الانعام:۹۰۔ حضورﷺ کے حقوق حضورﷺ کے احسانات ہم پر بہت زیادہ ہیں اس لیے آپ کا حق ہم پر بہت ہے، چند حقوق یہ ہیں: (۱)آپﷺ کی رسالت کا اعتقاد رکھے۱؎ (۲)تمام احکام میں آپ کی اطاعت کرے۲؎ (۳)آپ کی عظمت اور محبت کود ل میں جگہ دے۳؎ (۴)آپ پر درود پڑھا کرے۴؎ (۵)ہروقت ہرعمل میں آپ کی سنتوں کو اپنانے کی کوشش کرے۵؎ (۶)آپﷺ کا تذکرہ ہو تو آپ پر درود بھیجے۶؎۔ (۱۔۲)‘‘قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌo قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ’’ آل عمران:۳۱،۳۲۔ (۳)‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِﷺ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَايُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ’’ بخاری، باب حب الرسول اللہﷺ من الایمان، حدیث نمبر:۱۳۔ (۴)‘‘إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا’’ احزاب:۵۶۔ (۵)‘‘لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا’’ الاحزاب:۲۱۔ (۶)‘‘عن مالک بن الحویرث قال صعد رسول اللهﷺ المنبر فلما رقي عتبة قال آمين ثم رقي عتبة أخرى فقال آمين ثم رقي عتبة ثالثة فقال آمين ثم قال أتاني جبريل فقال يامحمد من أدرك رمضان فلم يغفر له فأبعده الله قلت آمين قال ومن أدرك والديه أو أحدهما فدخل النار فأبعده الله قلت آمين فقال ومن ذكرت عنده فلم يصل عليك فأبعده الله قل آمين فقلت آمين’’ صحیح ابن حبان، باب حق الوالدین، حدیث نمبر:۴۰۹۔ صحابہ واہلِ بیت کے حقوق حضراتِ صحابہ واہل بیت رضی اللہ عنہم اجمعین کو چونکہ حضور ﷺ کے ساتھ دینی اور دنیوی دونوں طرح کا تعلق ہے اس لیے آپ ﷺ کے حق میں اِن حضرات کے حقوق بھی داخل ہوگئے اور وہ یہ ہیں: (۱)ان حضرات کی اطاعت کرے۱؎ (۲)ان حضرات سے محبت کرے۲؎ (۳)ان کے عادل ہونے کا اعتقاد رکھے۳؎ (۴)ان کے چاہنے والوں سے محبت اور ان سے بغض وعداوت رکھنے والوں سے بغض رکھے۴؎۔ (۱)‘‘يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ’’ النساء:۵۹۔ ‘‘والصحبة مع الصحابة وأهل بيته رضي الله عنهم بالترحم عليهم، وتقديم من قدموه، وحسن القول فيهم، وقبول قولهم في الأحكام والسنن’’ آداب الصحبۃ، باب الصحبۃ مع اللہ ورسولہﷺ: ۱/۱۷۴۔ (۲)‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَاتَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ’’ ترمذی، باب فیمن سب اصحاب النبیﷺ، حدیث نمبر:۳۷۹۷۔ (۳)‘‘يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَايَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ’’ المائدہ:۵۴۔ ‘‘مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا’’ الفتح:۲۹۔ ‘‘وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ’’ التوبہ:۱۰۰۔ ‘‘عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّﷺ لَاتَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَانَصِيفَهُ’’ بخاری، باب قول النبیﷺ لوکنت متخذا خلیلا، حدیث نمبر:۳۳۹۷۔ (۴)‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَاتَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ’’ ترمذی، باب فیمن سب اصحاب النبیﷺ، حدیث نمبر:۳۷۹۷۔ علماء اور مشائخ کے حقوق علماء ظاہر وباطن میں سرورِعالم ﷺ کے وارث اور مسند نشین ہیں، اس لیے ان حضرات کے حقوق بھی حضور ﷺ کے حق میں داخل ہیں اور وہ یہ ہیں: (۱)فقہاء مجتہدین، علمائے محدثین، اساتذہ، مشائخِ طریقت اور مصنفین دینیات کے لیے دعائے خیر کرتا رہے۱؎ (۲)شرعی ضابطہ کے مطابق ان کا اتباع کرے۲؎ (۳)جو اِن میں زندہ ہوں ان سے تعظیم ومحبت سے پیش آئے، ان سے بغض، مخالفت نہ کرے۳؎ (۴)وسعت وضرورت کے بقدر ان حضرات کی مالی خدمات بھی کرتا رہے۴؎۔ (۱)‘‘عَنْ أبی الدَّرْدَاءِ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَبْتَغِي فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضَاءً لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَإِنَّ الْعَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْمَاءِ وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَادِرْهَمًا إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَ بِهِ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ’’ ترمذی، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، حدیث نمبر:۔ (۲)‘‘يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ’’ النساء:۵۹۔ (۳۔۴)‘‘والصحبة مع العلماء بملازمة حرماتهم، وقبول قولهم، والرجوع إليهم في المهمات والنوازل، وتعظيم ما عظم الله من محلهم حيث جعلهم خلفا لنبيهﷺ وورثته’’ آداب الصحبۃ، الصحبۃمع الاخوان: ۱/۱۷۸۔ والدین کے حقوق یہ حضرات علماء ومشائخ تو دینی نعمتوں میں واسطہ تھے، اس لیے ان کا حق لازم تھا، بعضے لوگ دنیوی نعمتوں کے لیے ذریعہ ہیں، ان کا حق بھی شرعاً ثابت ہے، مثلاً ماں، باپ کہ ولادت اور پرورش ان کے واسطہ سے ہوتی ہے، ان کے حقوق یہ ہیں: (۱)ان کو تکلیف نہ پہنچائی جائے؛ اگرچہ کہ ان کی طرف سے کوئی زیادتی ہو۱؎ (۲)زبان اور دوسرے اعضاء سے ان کی تعظیم کرے۲؎ (۳)شرعی کاموں میں ان کی اطاعت کرے۳؎ (۴)اگر ان کو ضرورت ہو تو مال سے بھی ان کی خدمت کرے؛ اگرچہ وہ دونوں کافر ہوں۴؎ (۵)ان سے دلی محبت رکھے۵؎ (۶)ان کے متعلقین اور احباب سے حسنِ سلوک کرے۶؎۔ (۱)‘‘وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّاتَعْبُدُوا إِلَّاإِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّايَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْكِلَاهُمَا فَلَاتَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَاتَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا’’ الأسراء:۲۳۔ (۲)‘‘وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرً’’ الاسراء:۲۴ (۳)‘‘عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ قَالُوا بَلَى يَارَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ’’ ترمذی، باب ماجاء فی عقوق الوالدین، حدیث نمبر:۱۸۲۳۔ ‘‘لَاطَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَاالطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ’’ بخاری، باب ماجاء فی إجازۃ خبرالواحد، حدیث نمبر:۶۷۱۶۔ (۴)‘‘عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِﷺ فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِﷺ قُلْتُ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُ أُمِّي قَالَ نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ’’ بخاری، باب الھدیۃ للمشرکین، حدیث نمبر:۲۴۲۷۔ ‘‘والصحبة مع الوالدين ودهما بالنفس والمال’’ آداب الصحبۃ، الصحبۃ مع الوالدین:۱/۱۷۹۔ (۵)‘‘والصحبة مع الوالدين ودهما بالنفس والمال’’ آداب الصحبۃ، الصحبۃ مع الوالدین:۱/۱۷۹۔ (۶)‘‘عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ’’ ترمذی، باب ماجاء فی اکرام صدیق الوالد، حدیث نمبر:۱۸۲۵۔ ‘‘وحفظ عهدهما بعد الممات، وإنجاز عداتهما، وإكرام أصدقائهما’’ آداب الصحبۃ، باب الصحبۃ مع الوالدین:۱/۱۷۹۔ والدین میں کس کی اطاعت مقدم جب کسی جائز امر کو باپ منع کرے اور ماں کرنے کا حکم دے تو چونکہ عورت خود شرعاً شوہر کی محکوم (تابع) ہے اس کا شوہر کے خلاف حکم کرنا معصیت ہے اور معصیت میں اطاعت نہیں ہوتی اس لیے اس صورت میں باپ کا حکم مانا جائیگا۔ (‘‘الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ’’ النساء:۳۴۔ ‘‘لَاطَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ’’ بخاری، باب ماجاء فی اجازۃ خبرالواحد، حدیث نمبر:۶۷۱۶ عن علیؓ) ماں باپ کے انتقال کے بعد ان کے حقوق (۱)ان کے لیے دعائے مغفرت ورحمت کرتا رہے، نوافل وصدقات مالیہ کا ثواب ان کو پہنچاتا رہے۱؎ (۲)ان کے رشتہ دار اور دوست احباب کے ساتھ خدمت مالی وبدنی کرتا رہے، ان کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئے۲؎ (۳)ان کے ذمہ قرضہ ہو تو اس کو ادا کرے۳؎ (۴)کبھی کبھی ان کی قبر کی زیارت کرے۴؎۔ (۱۔۲۔۳)‘‘عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ السَّاعِدِيِّ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا قَالَ نَعَمْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا’’ ابوداؤد، باب فی برالوالدین، حدیث نمبر:۴۴۷۶۔ (۴)‘‘محمد بن النعمان، يرفع الحديث إلى النبيﷺ قال: من زار قبر أبويه أو أحدهما في كل جمعة غفر له وكتب برا’’ شعب الایمان، باب فصل فی حفظ حق الوالدین بعد موتھما، حدیث نمبر:۷۶۶۱۔ دادا، دادی، نانا، نانی کے حقوق دادا، دادی، نانا، نانی کا حکم شرعاً ماں باپ کی طرح ہے؛ لہٰذا ان کے حقوق ماں باپ کی طرح سمجھنا چاہیے؛ اسی طرح خالہ اور ماموں، ماں کی طرح، چچا اور پھوپھی باپ کی طرح ہیں۔ (‘‘وَقَالَ الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ’’ بخاری، باب کیف یکتب ہذا ماصالح فلان بن فلان وفلان بن فلان، حدیث نمبر:۲۵۰۱۔ ‘‘قَالَ زِيَادُ بْنُ أَبِى سُفْيَانَ لِجَلِيسِهِ هَلْ تَدْرِى كَيْفَ قَضَى عُمَرُ فِى الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ قَالَ لاَ. قَالَ إِنِّى لأَعْلَمُ خَلْقِ اللَّهِ كَيْفَ كَانَ قَضَى فِيهِمَا عُمَرُ جَعَلَ الْخَالَةَ بِمَنْزِلَةِ الأُمِّ وَالْعَمَّةَ بِمَنْزِلَةِ الأَبِ’’ دارِقطنی، باب الفرائض والسنن وغیرذلک، حدیث نمبر:۴۲۰۵۔ ‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الأُمِّ وَالْعَمَّةُ بِمَنْزِلَةِ الأَبِّ وَابْنَةُ الأَخِ بِمَنْزِلَةِ الأَخِ وَكُلُّ ذِى رَحِمٍ بِمَنْزِلَةِ الرَّحِمِ الَّتِى تَلِيهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ وَارِثٌ ذُو قَرَابَةٍ’’ سنن الکبری للبیھقی، باب من قال بتوریث ذوی الأرحام، حدیث نمبر:۱۲۵۸۳۔ ‘‘الْجَدُّ أَبٌ مَا لَمْ يَكُنْ دُونَهُ أَبٌ كَمَا أَنَّ ابْنَ الاِبْنِ ابْنٌ مَا لَمْ يَكُنْ دُونَهُ ابْنٌ’’ السنن الکبریٰ للبیہقی، باب لایرث مع الأب أبواہ، حدیث نمبر:۱۲۶۴۹) اولاد کے حقوق جس طرح ماں باپ کے حقوق اولاد پر ہیں؛ اسی طرح ماں باپ پر اولاد کے حقوق ہیں، وہ یہ ہیں: (۱)ان کی پیدائش ہوتے ہی کان میں اذان دینا، اقامت کہنا اور ان کا اچھا نام رکھنا۱؎، اس کا عقیقہ کرنا، اس کی ختنہ کرنا۲؎، اس کو دینی تعلیم دینا۳؎، بچپن میں محبت کے ساتھ ان کی پرورش کرنا کہ اولاد کو پیار کرنے کی بھی فضیلت آئی ہے، خاص کر لڑکیوں سے دل تنگ نہ کرنا، ان کی پرورش کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے۴؎؛ اگر کسی کا دودھ پلانا پڑے تو دیندار اور اچھے اخلاق والی (انّا) تلاش کرنا؛ کیونکہ دودھ کا اثر بچہ کے اخلاق میں ہوتا ہے۵؎ (۲)ان کو علم دین وآداب سکھلانا۶؎ (۳)جب نکاح کے قابل ہو ان کا نکاح کردینا؛ اگر لڑکی کا شوہر مرجائے تو نکاح ثانی ہونے تک اس کو اپنے گھر آرام سے رکھنا، اس کے ضروری اخراجات کا برداشت کرنا۷؎ (۴)نیک نصیب عورت سے نکاح کرنا؛ تاکہ اولاد اچھی پیدا ہو۸؎ (۵)اولاد غیرتندرست ہو جیسے اندھا، اپاہج ہو تو اس کا خرچہ ماں باپ کے ذمہ ہیں؛ اگر ماں باپ نہ ہوں تو رشتہ داروں کے ذمہ ہے، چاہے کتنی ہی عمر ہوجائے۹؎ (۶)ہربچہ کے ساتھ مساوات وبرابری کرنا۱۰؎۔ (۱)‘‘عَنْ أَبِیْ رَافِعِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ’’ ترمذی، باب الأذان للمولود،حدیث نمبر:۱۴۳۶۔ (۲)‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً الْفِطْرَةُ خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنْ الْفِطْرَةِ الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ’’ بخاری، باب قص الشارب، حدیث نمبر:۵۴۳۹۔ ‘‘عَنْ أَبِي بُرَيْدَةَ يَقُولُ كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا وُلِدَ لِأَحَدِنَا غُلَامٌ ذَبَحَ شَاةً وَلَطَخَ رَأْسَهُ بِدَمِهَا فَلَمَّا جَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ كُنَّا نَذْبَحُ شَاةً وَنَحْلِقُ رَأْسَهُ وَنُلَطِّخُهُ بِزَعْفَرَانٍ’’ ابوداؤد، باب فی العقیقۃ،حدیث نمبر:۲۴۶۰۔ (۳)‘‘يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَايَعْصُونَ اللَّهَ مَاأَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَايُؤْمَرُونَ’’ التحریم:۶۔ ‘‘عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ لَأَنْ يُؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِصَاعٍ’’ ترمذی، باب ماجاء فی أدب الولد،حدیث نمبر:۱۸۷۵۔ (۴)‘‘عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَتْ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْأَلُ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنْ النَّارِ’’ بخاری، باب اتقوا النار ولوبشق تمرۃ، حدیث نمبر:۱۳۲۹۔ (۵)‘‘عن عائشة، عن النبيﷺ، قال: حق الولد على والده أن يحسن اسمه، ويحسن من مرضعه، ويحسن أدبه’’ شعب الایمان، باب الستون من شعب الایمان وھو باب فی حقوق الاولاد والأھلین، حدیث نمبر:۸۴۱۴۔ (۶۔۷)‘‘عن عائشة، عن النبيﷺ، قال: حق الولد على والده أن يحسن اسمه، ويحسن من مرضعه، ويحسن أدبه’’ شعب الایمان للبیھقی،حدیث نمبر:۸۴۱۳۔ (۸)‘‘إِنَّ الْمَرْأَۃَ تُنْکَحُ عَلَی دِیْنِھَا وَمَالِھَا وَجَمَالِھَا فَعَلَیْکَ بِذَاتِ الدِّیْنِ تَرِبَتْ یَدَاکَ’’ مسلم، باب استحباب نکاح ذات الدین، حدیث نمبر:۲۶۶۲۔ (۹)‘‘عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَكْرِمُوا أَوْلَادَكُمْ وَأَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ’’ ابن ماجہ، باب برالوالد والاحسان الی البنات، حدیث نمبر:۳۶۶۱۔ (۱۰)‘‘عَنْ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِﷺ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هَذَا قَالَ لَا قَالَ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ قَالَ فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ’’ بخاری، باب الاشھاد فی الھبۃ،حدیث نمبر:۲۳۹۸۔ دودھ پلانے والی ‘‘انا’’ کے حقوق انا بھی دودھ پلانے کی وجہ سے ماں کی طرح ہے، اس کے حقوق بھی وارد ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: (۱)اس کے ساتھ ادب واحترام سے پیش آنا۱؎ (۲)اگر اس کو مالی حاجت ہو اور خود کو وسعت ہو تو اس کی مالی حاجت کو پورا کرے؛ اگر میسر ہو تو ایک غلام یاباندی خرید کر اس کو خدمت کے لیے دینا۲؎ (۳)اس کا شوہر اس کا مخدوم ہے اور یہ اس کی مخدومہ ہے تو اس کے شوہر کو مخدوم المخدومہ سمجھ کر اس کے ساتھ بھی احسان کرنا۳؎۔ (۱)‘‘عَنْ أَنَس بْن مَالِكٍ يَقُولُ جَاءَ شَيْخٌ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَأَ الْقَوْمُ عَنْهُ أَنْ يُوَسِّعُوا لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّﷺ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا’’ ترمذی، باب ماجاء فی رحمۃ الصبیان، حدیث نمبر:۱۸۴۲۔ (۲)‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ الْقَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ’’ بخاری، باب فضل النفقۃ علی الاھل، حدیث نمبر:۴۹۳۴۔ (۲۔۳)‘‘عَنْ أبِیْ الطفیلِ قالَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِیِّﷺ إِذَاأَقْبَلَتْ امْرَأَۃ فبَسَطَ النَّبِیﷺ رداءہ حتی قَعَدَتْ عَلَیْہِ فَلَمَّا ذَھَبَتُ قِیْلَ ھِیَ کَانَتْ أرْضَعَتَ النَّبِیِّﷺ’’ ترمذی، باب ماجاء مایذہب مذمۃ الرضاع، حدیث نمبر:۱۰۷۳۔ سوتیلی ماں کے حقوق سوتیلے ماں باپ کے ساتھ اور باپ کے دوستوں کے ساتھ احسان کرنے کا حکم آیا ہے، اس لیے سوتیلی ماں کے بھی کچھ حقوق ہیں: ماں باپ کے انتقال کے بعد ان کے دوستوں اور اہل تعلق کے تحت جو کچھ ذکر ہوا وہ سب ان کے ساتھ بھی کرے ہے۔ بہن بھائی کے حقوق حدیث میں ہے کہ بڑا بھائی باپ کی طرح ہے (شعب الایمان، فصل بعد فصل فی حفظ حق الوالدین بعد موتھما، حدیث نمبر۷۶۹۴ عن سعید بن العاصؓ) اس سے یہ معلوم ہوا کہ چھوٹا بھائی اولاد کی طرح ہے؛ لہٰذا ان میں باہمی حقوق ویسے ہی ہوں گے جیسے والدین اور اولاد کے درمیان ہوتے ہیں؛ اسی پر بڑی بہن اور چھوٹی بہن کو قیاس کرلینا چاہیے۔ رشتہ داروں کے حقوق حضورﷺ کا ارشاد ہے: ‘‘جو شخص رشتہ داروں سے بدسلوکی کرے وہ جنت میں داخل نہ ہوگا’’۔ (‘‘عَنْ جُبَيْربْن مُطْعِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّﷺ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ’’ بخاری، باب إثم القاطع،حدیث نمبر:۵۵۲۵) اسی طرح باقی رشتہ داروں کے بھی حقوق آئے ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے: (۱)اپنے ذی رحم محرم (جن سے خونی رشتہ ایسا ہو کہ ان سے نکاح حرام ہو ۱؎) رشتہ دار اگر محتاج ہوں اور کھانے کمانے کی قدرت نہ رکھتے ہوں تو بقدرِ کفالت ان کے نان ونفقہ کی خبرگیری کرتا رہے ان خرچہ واجب تو نہیں لیکن کچھ خدمت کرنا ضروری ہے اور کبھی کبھی ان سے ملتا رہے۲؎ (۲)ان سے رشتہ نہ توڑے بلکہ اگر کسی قدر ان سے تکلیف بھی پہنچے تو صبر افضل ہے۳؎۔ (۱)‘‘ذو الْمَحرم : من لا يَحِلُّ له نكاح المرأة من أقاربها كالأبِ والابن والأخ والعم ومن يَجْري مَجْراهُم’’ ہامش المطالب العالیۃ، باب مایحرم من النساء، حدیث نمبر:۱۵۹۹۔ (۲)‘‘وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ’’ البقرۃ:۱۷۷۔ ‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ قَالَ أُمُّكَ ثُمَّ أُمُّكَ ثُمَّ أُمُّكَ ثُمَّ أَبُوكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ’’ مسلم، باب برالوالدین وأنھااحق بہ، حدیث نمبر:۴۶۲۲۔ (۳)‘‘عَنْ النَّبِيِّﷺ قَالَ لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ وَلَكِنْ الْوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا’’ بخاری، باب لیس الواصل بالمکافیٔ، حدیث نمبر:۵۵۳۲۔ استاد کے حقوق (۱)ان کے پاس مسواک کرکے صاف کپڑے پہن کر جائے (۲)ادب کے ساتھ پیش آئے (۳)عزت واحترام کی نگاہ سے ان کو دیکھے (۴)جو بتلائے اس کو خوب توجہ سے سنے (۵)اس کو خوب یاد رکھے (۶)جو بات سمجھ میں نہ آئے اپنا قصور سمجھے (۷)اس کے روبرو کسی اور کاقول مخالف ذکر نہ کرے (۸)اگر کوئی استاذ برابھلا کہے تو جہاں تک ہوسکے اس سے عذر معذرت کرے ورنہ وہاں سے چلاجائے (۹)جب درسگاہ کے قریب پہنچے توسب حاضرین کو سلام کرے پھر استاذ کو خاص کر سلام کرے لیکن وہ اگر تقریر وغیرہ میں مشغول ہو اس وقت سلام نہ کرے (۱۰)استاذ کے روبرو نہ ہنسے، نہ بہت باتیں کرے، اِدھر اُدھر نہ دیکھے، نہ کسی او رکی طرف متوجہ ہو، بالکل استاد کی طرف توجہ رکھے (۱۱)استاد کی بدخلقی کو نظر انداز کردے (۱۲)اس کی سختی سے اس کے پاس جانا نہ چھوڑے، نہ اس کے کمال سے بداعتقاد ہو؛ بلکہ اس کے اقوال اور افعال کی تاویل کرے (۱۳)جب استاد کسی کام میں لگا ہو یاملول ومغموم ہو یابھوکا پیاسا ہو یااونگھ رہا ہو یااور کوئی عذر ہو جس سے تعلیم دشوار ہو یاحضور قلب نہ ہو ایسے وقت نہ پڑھے (۱۴)اس کے دور ہونے پر یااس کے نہ ہونے پر بھی اس کے حقوق کا خیال رکھے (۱۵)کبھی کبھی تحفہ تحائف، خط وکتابت سے اس کا دل خوش کرتا رہے، حقوق اور بہت ہیں مگر ذہین آدمی کے لیے اس قدر کافی ہیں وہ اس سے باقی حقوق بھی سمجھ جائیگا۔ (‘‘فمن صفته لإرادته في طلب العلم: أن يعلم أن الله عز وجل فرض عليه عبادته، والعبادة لا تكون إلابعلم، وعلم أن العلم فريضة عليه، وعلم أن المؤمن لايحسن به الجهل، فطلب العلم لينفي عن نفسه الجهل، وليعبد الله كما أمره، ليس كما تهوى نفسه. فكان هذا مراده في السعي في طلب العلم، معتقدا للإخلاص في سعيه، لايرى لنفسه الفضل في سعيه، بل يرى لله عز وجل الفضل عليه ، إذ وفقه لطلب علم ما يعبده به من أداء فرائضه، واجتناب محارمه’’ اخلاق العلماء، باب ذکرصفتہ فی طلب العلم:۱/۴۰۔ ‘‘يمشي برفق وحلم، ووقار، وأدب، مكتسب في مشيه كل خير، تارة يحب الوحدة، فيكون للقرآن تاليا، وتارة بالذكر مشغولا، وتارة يحدث نفسه بنعم الله عز وجل عليه، ويقتضي منها الشكر، يستعيذ بالله من شر سمعه، وبصره، ولسانه، ونفسه، وشيطانه، فإن بلي بمصاحبة الناس في طريقه’’الخ بطولہ وباب صفتہ فی مشیہ الی العلماء: ۱/۴۱۔ ‘‘فإذا أحب مجالسة العلماء جالسهم بأدب، وتواضع في نفسه، وخفض صوته عن صوتهم، وسألهم بخضوع، ويكون أكثر سؤاله عن علم ما تعبده الله به، ويخبرهم أنه فقير إلى علم ما يسأل عنه، فإذا استفاد منهم علما أعلمهم: أني قد أفدت خيرا كثيرا، ثم شكرهم على ذلك’’ الخ بطولہ وباب صفتہ مجالستہ للعلماء:۱/۴۲) پیر (روحانی تربیت کرنے والے) کے حقوق جو حقوق استاد کے لکھے گئے ہیں وہی پیر کے بھی حقوق ہیں اور کچھ حقوق جو زائد ہیں وہ یہ ہیں: (۱)یہ اعتقاد رکھے کہ میرا مطلب اسی مرشد سے حاصل ہوگا اور اگر دوسری طرف توجہ کریگا تو مرشد کے فیض وبرکات سے محروم رہیگا (۲)ہرطرح مرشد کا مطیع ہو اور جان ودل سے اس کی خدمت کرے؛ کیونکہ پیر کی محبت کے بغیر کچھ نہیں ہوتا اور محبت کی پہچان یہی ہے (۳)مرشد جو کچھ کہے اس کو فوراً بجالائے اور بغیراجازت اس کے فعل کی اقتداء نہ کرے؛ کیونکہ بعض اوقات وہ اپنے حال اور مقام کے مناسب ایک کام کرتا ہے کہ مرید کو اس کا کرنا زہر قاتل ہے (۴)جودرود وظیفہ مرشد تعلیم کرے اسی کو پڑھے اور تمام وظیفے چھوڑ دے؛ خواہ اس نے اپنی طرف سے پڑھنا شروع کیا ہو یاکسی اور نے بتلایا ہو (۵)مرشد کی موجودگی میں مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ رہنا چاہیے؛ یہاں تک کہ سوائے فرض وسنت کے نفل نماز اور کوئی وظیفہ اس کی اجازت کے بغیر نہ پڑھے (۶)حتیٰ الامکان ایسی جگہ نہ کھڑا ہوکہ اس کا سایہ مرشد کے سایہ پر یااس کے کپڑے پر پڑے (۷)اس کے مصلیٰ پر پیر نہ رکھے، اس کی طہارت اور وضو کی جگہ طہارت یاوضو نہ کرے (۸)مرشد کے برتنوں کو استعمال میں نہ لائے (۹)اس کے سامنے نہ کھانا کھائے نہ پانی پئے او رنہ وضو کرے، ہاں! اجازت کے بعد کرسکتے ہیں (۱۰)اس کے روبرو کسی سے بات نہ کرے؛ بلکہ کسی کی طرف متوجہ بھی نہ ہو (۱۱)جس جگہ مرشد بیٹھا ہو اس طرف پیر نہ پھیلائے اگرچہ سامنے نہ ہو (۱۲)اور اس کی طرف نہ تھوکے (۱۳)جو کچھ مرشد کہے یاکرے اس پر اعتراض نہ کرے؛ کیونکہ مرشد جو کچھ کرتا ہے یاکہتا ہے الہام سے کرتا اور کہتا ہے، اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئے (تو اسے اپنی سمجھ کا قصور سمجھے جب تک کہ شریعت کے بالکل ہی خلاف نہ ہو اور کوئی تاویل نہ ہوسکتی ہو؛ کیونکہ کبیرہ گناہوں میں مبتلا آدمی تو پیر ہی نہیں ہوسکتا، اللہ کے ولی صرف متقی ہی ہوتے ہیں؛ لیکن خلافِ شرع قرار دینے میں جلدی نہ کرے، علماء متقین سے معلوم کرے، حقیقی پیر تو اسی طرح کا ہوتا ہے، آج کل بناوٹی پیر دھوکہ باز بہت مل رہے ہیں) تو حضرت موسیٰ اور خضر علیہماالسلام کا واقعہ یاد کرے (۱۴)اپنے مرشد سے کرامت کی خواہش نہ کرے (۱۵)اگر کوئی شبہ دل میں گزرے فوراً عرض کرے اور اگر وہ شبہ حل نہ ہو تو اپنے فہم کا نقصان سمجھے اور اگر مرشد اس کا کچھ جواب نہ دے تو جان لے کہ میں اس کے جواب کے لائق نہ تھا (۱۶)خواب میں جو کچھ دیکھے وہ مرشد سے عرض کرے اور اگر اس کی تعبیر ذہن میں آئے تو اسے بھی عرض کردے (۱۷)مرشد کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرے اور بآواز بلند اس سے بات نہ کرے اور بقدر ضرورت مختصر کلام کرے اور نہایت توجہ سے جواب کا منتظر رہے (۱۸)مرشد کے کلام کو دوسروں سے اس قدر بیان کرے جس قدر لوگ سمجھ سکیں اور جس بات کو یہ سمجھے کہ لوگ نہ سمجھیں گے تو اسے بیان نہ کرے (۱۹)مرشد کے کلام کو رد نہ کرے؛ اگرچہ حق مرید ہی کی جانب ہو؛ بلکہ یہ اعتقاد کرے کہ شیخ کی خطا میرے صواب (درستگی) سے بہتر ہے (۲۰)جو کچھ اس کا حال ہو، بھلا یابُرا، اسے مرشد سے عرض کرے؛ کیونکہ مرشد طبیب (ڈاکٹر) قلبی ہے، اطلاع کے بعد اس کی اصلاح کریگا، مرشد کے کشف پر اعتماد کرکے سکوت (خاموش) نہ کرے (۲۱)اس کے پاس بیٹھ کر وظیفہ میں مشغول نہ ہو اگر کچھ پڑھنا ضروری ہے تو اس کی نظر سے پوشیدہ بیٹھ کر پڑھے (۲۲)جو کچھ فیض باطی اسے پہنچے اسے مرشد کا طفیل سمجھے؛ اگرخواب میں یامراقبہ میں دیکھے کہ دوسرے بزرگ سے پہنچا ہے، تب بھی یہ جانے کہ مرشد کا کوئی لطیفہ اس بزرگ کی صورت سے ظاہر ہوا ہے۔ (المعجم الکبیر، باب صدی بن عجلان ابوامامۃ الاباھلی،حدیث نمبر:۷۸۸۰۔ آداب الصحبیۃ، باب الصحبۃ مع اولیاء اللہ: ۱/۱۷۵) شاگرد اور مرید کے حقوق چونکہ شاگرد اور مرید اولاد کے درجہ میں ہے، اس لیے شفقت ودلسوزی میں ان کا حق اولاد کے حق کی طرح ہے۔ بیوی کے حقوق (۱)اپنی وسعت کے موافق اس کے نان ونفقہ (خرچہ وغیرہ) میں کمی نہ کرے، اعتدال (درمیانی حالت) سے خرچ کرے، نہ تنگی کرے اور نہ فضول خرچی کی اجازت دے، رہنے کے بقدر گھر دے، ان کودینی مسائل سکھلاتا رہے اور نیک عمل کی تاکید کرتا رہے، حیض وغیرہ کے مسائل سیکھ کر اس کو سکھلائے، نماز اور دین کی تاکید کرے، بدعات اور ممنوعات سے روکے۱؎ (۲)اس کے خونی رشتہ دار (جن سے نکاح حرام ہے) سے کبھی کبھی ملنے دے، اس کی کم فہمیوں پر اکثر صبروسکوت اختیار کرے؛ اگر کبھی ضرورت تادیب (ادب سکھلانے) کی ہو تو توسط (اعتدال) کا لحاظ رکھے۲؎ (۳)اچھے اخلاق سے پیش آئے؛ لیکن اس کی خواہش اتنی نہ سنے کہ اس کا مزاج بدل جائے اور اپنا رعب باقی رکھے۳؎ (۴)اگر کئی بیویاں ہوں تو ان کے حقوق برابر ادا کرے۴؎ (۵)ضرورت کے بقدر اس سے صحبت کرے۵؎ (۶)بغیر ضرورت کے طلاق نہ دے۶؎ (۷)جماع وغیرہ کے راز ظاہر نہ کرے۷؎ (۸)حد سے زیادہ نہ مارے۸؎۔ (۱)‘‘عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ’’ البقرۃ:۲۳۶۔ ‘‘يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ’’ تحریم:۶۔ ‘‘وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى’’ طٰہٰ:۱۳۲۔ ‘‘عَنْ عَبْد اللَّهِ بْن عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ الْإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ’’ بخاری، باب الجمعۃ فی القری والمدن، حدیث نمبر:۸۴۴۔ ‘‘عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ’’ ترمذی، باب ماجاء فی استکمال الإیمان وزیادتہ، حدیث نمبر:۲۵۳۷۔ ‘‘والصحبة مع الأهل والولد بالمداراة، وحسن الخلق، وسعة النفس، وتمام الشفقة، وتعليم الأدب والسنة ، وحملهم على الطاعات’’ آداب الصحبۃ، الصحبۃ مع الأھل والولد:۱/۱۷۷۔ (۲۔۳)‘‘حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ شَهِدَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَذَكَّرَ وَوَعَظَ فَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ قِصَّةً فَقَالَ أَلَا وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّمَا هُنَّ عَوَانٌ عِنْدَكُمْ لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا غَيْرَ ذَلِكَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ فَإِنْ فَعَلْنَ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا أَلَا إِنَّ لَكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ حَقًّا وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ فَلَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِمَنْ تَكْرَهُونَ أَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ أَنْ تُحْسِنُوا إِلَيْهِنَّ فِي كِسْوَتِهِنَّ وَطَعَامِهِنَّ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَمَعْنَى قَوْلِهِ عَوَانٌ عِنْدَكُمْ يَعْنِي أَسْرَى فِي أَيْدِيكُمْ’’ ترمذی، باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ، حدیث نمبر:۱۰۸۳۔ ‘‘عَنْ مُعَاوِیَۃ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ قَالَ أَنْ يُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمَ وَأَنْ يَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَى وَلَا يَضْرِبْ الْوَجْهَ وَلَا يُقَبِّحْ وَلَا يَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ’’ ابن ماجہ، باب حق المرأۃ علی الزوج، حدیث نمبر:۱۸۴۰۔ ‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا وَإِنْ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ’’ بخاری، باب المداراۃ مع النساء، حدیث نمبر:۴۷۸۶۔ (۴)‘‘وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ وَإِنْ تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا’’ النساء:۱۲۹۔ ‘‘عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ قَالَ السُّنَّةُ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا’’ بخاری، باب العدل بین النساء، حدیث نمبر:۴۸۱۲۔ (۵)‘‘عَنْ عَبْداللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ الْإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ’’ بخاری، باب الجمعۃ فی القری والمدن، حدیث نمبر:۸۴۴۔ (۶)‘‘وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا’’ النساء:۳۔ (۷)‘‘عَنْ أَبِی سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا’’ مسلم، باب تحریم افشاء سرالمرأۃ، حدیث نمبر:۲۵۹۷۔ (۸)‘‘عَنْ مُعَاوِیَۃ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ قَالَ أَنْ يُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمَ وَأَنْ يَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَى وَلَا يَضْرِبْ الْوَجْهَ وَلَا يُقَبِّحْ وَلَا يَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ’’ ابن ماجہ، باب حق المرأۃ علی الزوج، حدیث نمبر:۱۸۴۰۔ شوہر کے حقوق (۱)اس کی اطاعت اور ادب وخدمت، دلجوئی، رضا جوئی پورے طور پر بجالائے؛ البتہ ناجائز امور میں عذر کردے۱؎ (۲)اس کی گنجائش سے زیادہ اس سے فرمائش نہ کرے۲؎ (۳)اس کا مال بلااجازت خرچ نہ کرے۳؎ (۴)اس کے رشتہ دار سے سختی نہ کرے کہ جس سے شوہر کو تکلیف پہنچے، خاص کر شوہر کے ماں باپ کو اپنا مخدوم سمجھ کر ادب وتعظیم سے پیش آئے۴؎ (۵)شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو گھر میں آنے نہ دے۵؎ (۶)اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے۶؎ (۷)اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے کوئی چیز نہ دے۷؎ (۸)اس کی اجازت کے بغیر نفل نماز، نفل روزہ نہ رکھے۸؎ (۹)اگر صحبت کے لیے بلائے شرعی موانع کے بغیر اس سے انکار نہ کرے، اپنے وسائل اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی زیب وزینت کا دھیان رکھے۹؎ (۱۰)اپنے شوہر کو افلاس یابدصورتی کی وجہ سے حقیر نہ سمجھے۱۰؎ (۱۱)اگر کوئی چیز خلافِ شرع دیکھے تو ادب سے منع کرے، اس کا نام لیکر نہ پکارے۱۱؎ (۱۲)کسی کے سامنے خاوند کی شکایت نہ کرے۱۲؎۔ (۱)‘‘فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ’’ النساء:۳۴، ‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا’’ ترمذی، باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ، حدیث نمبر:۱۰۷۹۔ ‘‘لَاطَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ’’ بخاری، باب ماجاء فی اجازۃ خبرالواحد، حدیث نمبر:۶۷۱۶۔ (۲)‘‘لَاجُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ’’ البقرۃ:۲۳۶۔ (۳)‘‘عَنْ أبی هريرة قال: قال رسول اللهﷺ: لاتصوم المرأة وبعلها شاهد إلابإذنه، ولاتأذن في بيته وهوشاهد إلا بإذنه، وماأنفقت عن كسبه من غير أمره، فإن نصف أجره له’’ الآداب للبیہقی، باب فی مراعاۃ حق الأزواج، حدیث نمبر:۴۸۔ (۴)‘‘إِنْ تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيرًا’’ النساء:۱۴۸۔ ‘‘عن أبي هريرةؓ، قال : سئل النبيﷺ: أي النساء خير ؟ فقال: خير النساء من تسر إذا نظر ، وتطيع إذا أمر، ولاتخالفه في نفسها ومالها’’ المستدرک، باب خیرالنساء من تسراذانظر، حدیث نمبر:۲۶۳۳۔ (۵)‘‘وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِمَنْ تَكْرَهُونَ’’ ترمذی، باب ماجاء فی حق المرأۃ علی زوجھا، حدیث نمبر:۱۰۸۳۔ (۶)‘‘وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى’’ الاحزاب:۳۳۔ (۷)‘‘عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ لَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ فَقَالَ خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ’’ ابن ماجہ، باب ماللمرأۃ من مال زوجھا، حدیث نمبر:۲۲۸۴۔ ‘‘عَنْ أبی هريرة قال: قال رسول اللهﷺ: لاتصوم المرأة وبعلها شاهد إلابإذنه، ولاتأذن في بيته وهوشاهد إلا بإذنه، وماأنفقت عن كسبه من غير أمره، فإن نصف أجره له’’ الآداب للبیہقی، باب فی مراعاۃ حق الأزواج، حدیث نمبر:۴۸۔ (۸)‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ’’ بخاری، باب صوم المرأۃ باذن زوجھا تطوعا، حدیث نمبر:۴۷۹۳۔ (۹)‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ’’ بخاری، باب ذکر الملائکۃ، حدیث نمبر:۲۹۹۸۔


حاکم ومحکوم (مالک وخادم) کے حقوق حاکم ومحکوم کے حقوق میں حاکم کا مطلب بادشاہ ونائب بادشاہ، آقا وغیرہ اور محکوم سے مراد رعایا، نوکر وغیرہ سب داخل ہیں اور جہاں مالک ومملوک (خادم) ہو وہ بھی داخل ہوجائیں گے۔ محکوم کے حقوق (۱)محکوم پر دشوار احکام نہ جاری کرے۱؎ (۲)اگر باہم محکومین میں کوئی جھگڑا ہوجائے تو عدل وانصاف کی رعایت کرے؛ کسی کی طرف داری نہ ہو۲؎ (۳)ہرطرح ان کی حفاظت وآرام رسانی کی فکر میں رہے، داد خواہوں کو اپنے پاس پہنچنے کے لیے آسان طریقہ مقرر کرے۳؎ (۴)اگراپنی شان میں اس سے کوئی کوتاہی یاغلطی ہوجائے تو کثرت سے معاف کردیا کرے، ناروا اور ناجائز سختی کرنے سے پرہیز کرے۴؎۔ (۱)‘‘عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ رَأَيْتُ عَلَيْهِ بُرْدًا وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدًا فَقُلْتُ لَوْ أَخَذْتَ هَذَا فَلَبِسْتَهُ كَانَتْ حُلَّةً وَأَعْطَيْتَهُ ثَوْبًا آخَرَ فَقَالَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ كَلَامٌ وَكَانَتْ أُمُّهُ أَعْجَمِيَّةً فَنِلْتُ مِنْهَا فَذَكَرَنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي أَسَابَبْتَ فُلَانًا قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَفَنِلْتَ مِنْ أُمِّهِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ قُلْتُ عَلَى حِينِ سَاعَتِي هَذِهِ مِنْ كِبَرِ السِّنِّ قَالَ نَعَمْ هُمْ إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمْ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ جَعَلَ اللَّهُ أَخَاهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا يُكَلِّفُهُ مِنْ الْعَمَلِ مَا يَغْلِبُهُ فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ’’ بخاری، باب ماینھی من السباب واللعن:۵۵۹۰۔ (۲)‘‘وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ’’ المائدۃ:۴۲۔ (۳)……؟؟؟ (۴)‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمْ أَعْفُو عَنْ الْخَادِمِ فَصَمَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمْ أَعْفُو عَنْ الْخَادِمِ فَقَالَ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً’’ ترمذی، باب ماجاء فی العفو عن الخادم، حدیث نمبر: ۱۸۷۲۔ ‘‘عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ فَقَالَ أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَحَتْكَ النَّارُ أَوْ لَمَسَّتْكَ النَّارُ’’ مسلم، باب صحبۃ الممالیک وکفارۃ من لطم عبدہ، حدیث نمبر:۳۱۳۶) حاکم کے حقوق (۱)حاکم کی خیرخواہی واطاعت کرے؛ البتہ خلافِ شرع امور میں اطاعت نہ کرے۱؎ (۲)اگرحاکم سے کوئی امرخلافِ طبع پیش آئے تو صبر کرے شکایت وبددعا نہ کرے؛ البتہ اس کے نرم مزاجی کے لیے دعا کرے اور خود اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا اہتمام کرے تاکہ حکام کے دل نرم کردے۲؎ (۳)اگرحاکم سے آرام پہنچے تو اس کے ساتھ شکرگزاری کریں۳؎ (۴)اپنی ذات کے واسطے اس سے سرکشی نہ کرے اور جہاں غلام پائے جاتے ہوں، غلاموں کا نان ونفقہ واجب ہے اور غلام کو اس کی خدمت چھوڑ کر بھاگنا حرام ہے باقی غلام کے علاوہ محکومین آزاد ہیں، دائرۂ حکومت میں رہنے تک اس پر حقوق ہوں گے اور خارج ہونے کے بعد ہروقت مختار ہے۴؎۔ (۱)‘‘يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ’’ النساء:۵۹۔ ‘‘لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ’’ بخاری، باب ماجاء فی اجازۃ خبرالواحد، حدیث نمبر:۶۷۱۶۔ ‘‘عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: نعما للعبد أن يتوفاه الله بحسن عبادة ربه وبطاعة سيده نعما له ونعما له’’ مسنداحمد، مسند ابی ھریرۃؓ: ۷۶۴۲۔ (۲)‘‘يَابُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ’’ لقمان:۱۷۔ ‘‘والدعاء له بظهر الغيب ليصلحه الله ويصلح على يديه، والنصيحة له في جميع أموره، والصلاة والجهاد معه’’ آداب الصحبۃ، باب الصحبۃ مع السلطان:۱/۱۷۶۔ (۳)‘‘عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَشْكُرْ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرْ اللَّهَ’’ ترمذی، باب ماجاء فی الشکر لمن احسن الیک، حدیث نمبر:۱۸۷۸۔ ‘‘عن ابن عمر، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إن السلطان ظل الله في الأرض ، يأوي، إليه كل مظلوم من عباده، فإذا عدل كان له الأجر وعلى الرعية الشكر، وإذاجار كان عليه الإصر وعلى الرعية الصبر’’ شعب الایمان، باب فضل الامام العادل، حدیث نمبر:۷۱۱۷۔


سسرالی رشتہ داروں کے حقوق قرآن مجید میں حق تعالیٰ نے نسب کے ساتھ علاقہ مصاہرۃ (سسرالی رشتہ) کا بھی ذکر فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ساس، سسر، سالے، بہنوئی، داماد، بہو اور ربیب (بیوی کی پہلی اولاد) کا بھی حق ہوتا ہے، اس لیے ان تعلقات میں بھی احسان واخلاق کی رعایت کسی قدر خصوصیت کے ساتھ رکھنا چاہیے۔ (الفرقان:۵۴) عام مسلمانوں کے حقوق رشتہ داروں کے علاوہ اجنبی مسلمانوں کے بھی کچھ حقوق ہیں، علامہ اصبہانی رحمہ اللہ نے ‘‘ترغیب وترہیب’’ میں بروایت حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ حقوق نقل کئے ہیں: (۱)مسلمان بھائی کی لغزش کو معاف کرے (۲)اس کے رونے پر رحم کرے (۳)اس کے عیب کو ڈھانکے (۴)اس کے عذر کو قبول کرے (۵)اس کے تکلیف کو دور کرے (۶)ہمیشہ اس کی خیرخواہی کرتا رہے (۷)اس کی حفاظت ومحبت کرے (۸)اس کے ذمہ کی رعایت کرے (۹)بیمار ہو تو عیادت کرے (۱۰)مرجائے تو جنازے میں حاضر ہو (۱۱)اس کی دعوت قبول کرے (۱۲)اس کا ہدیہ قبول کرے (۱۳)اس کے احسان کی مکافات کرے (۱۴)اس کی نعمت کا شکریہ ادا کرے (۱۵)وقت پڑنے پر اس کی مدد کرے (۱۶)اس کے اہل وعیال کی حفاظت کرے (۱۷)اس کی حاجت پوری کرے (۱۸)اس کی درخواست کو سنے (۱۹)اس کی سفارش قبول کرے (۲۰)اس کی مراد سے ناامید نہ کرے (۲۱)وہ چھینک کر الحمد للہ کہے تو جواب میں ‘‘یَرْحَمُک اللہ’’ کہے (۲۲)اس کی گمشدہ چیز کو اس کے پاس پہنچا دے (۲۳)اس کے سلام کا جواب دے (۲۴)نرمی وخوش خلقی کے ساتھ اس سے گفتگو کرے (۲۵)اس کے ساتھ احسان کرے (۲۶)اگر وہ اس کے بھروسہ پر قسم کھا بیٹھے تو اس کو پورا کردے (۲۷)اگر اس پر کوئی ظلم کرتا ہو تو اس کی مدد کرے اگر وہ کسی پر کوئی ظلم کرتا ہے تو روک دے (۲۸)اس کے ساتھ محبت کرے، دشمنی نہ کرے (۲۹)اس کو رسوا نہ کرے (۳۰)جو بات اپنے لیے پسند کرے اس کے لیے بھی پسند کرے۔ (الترغیب والترھیب، للأصبھانی، باب فی الترغیب فی قضاء حوائج المسلم، حدیث نمبر:۱۱۶۸) ‘‘یہ تیس حقوق مختلف احادیث میں الگ الگ موجود ہیں’’۔ دوسری احادیث میں یہ حقوق زیادہ ہیں: (۳۱)ملاقات کے وقت اس کو سلام کرے اور مصافحہ بھی کرے۱؎ (۳۲)اگرباہم اتفاقاً کچھ رنجش ہوجائے تو تین دن سے زیادہ ترک کلام نہ کرے۲؎ (۳۳)اس پر بدگمانی نہ کرے۳؎ (۳۴)اس پر حسد وبغض نہ کرے۴؎ (۳۵)امربالمعروف ونہی عن المنکر ممکنہ حد تک کرے۵؎ (۳۶)چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کی عزت کرے۶؎ (۳۷)دومسلمانوں میں جھگڑا ہوجائے تو ان کو باہم ملاکر اصلاح کرادے۷؎ (۳۸)اس کی غیبت نہ کرے۸؎ (۳۹)اس کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچائے، نہ مال میں نہ آبرو میں۹؎ (۴۰)اگر سواری پر سوار نہ ہوسکے یااس پر اسباب نہ لادسکے تو اس کو سہارا لگادے۱۰؎ (۴۱)اس کو اٹھاکر اس کی جگہ نہ بیٹھے۱۱؎ (۴۲)تیسرے کو تنہا چھوڑ کر دوآدمی باتیں نہ کریں۱۲؎ (۴۳)اس کے راستہ میں کوئی نقصان دہ چیز ہو تو ہٹادے۱۳؎ (۴۴)اس کی چغلی نہ کرے۱۴؎ (۴۵)اگر اپنی کسی کے پاس کچھ حیثیت ہو اور کوئی اس کے پاس سفارشی چاہتا ہو تو سفارش کرے۱۵؎۔ نوٹ:یاد رکھیے! کہ جن لوگوں کے حقوق اوپر ذکر کئے گئے ہیں وہ خاص حقوق ہیں اور ان عام لوگوں کے حقوق میں وہ سب بھی شریک ہونگے۔ (۱)‘‘عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا وَحَمِدَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَغْفَرَاهُ غُفِرَ لَهُمَا’’ ابوداؤد، باب فی المصافحۃ، حدیث نمبر:۴۵۳۵۔ (۲۔۳۔۴)‘‘عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ’’ بخاری، باب الھجرۃ، حدیث نمبر:۵۶۱۲۔ (۵)‘‘خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ’’ الاعراف:۱۹۹۔ (۶)‘‘عن بن عباس رفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال ليس منا من لم يوقر الكبير ويرحم الصغير ويأمر بالمعروف وينه عن المنكر’’ صحیح ابن حبان، باب ذکر الزجر عن ترک توقیرالکبیر، حدیث نمبر:۴۵۸۔ (۷)‘‘عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ خَيْرًا أَوْ نَمَى خَيْرًا’’ ترمذی، باب ماجاء فی اصلاح ذات البین، حدیث نمبر:۱۸۶۱۔ (۸)‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا’’ مسلم، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ واحتقارہ ودمہ، حدیث نمبر:۴۶۵۰۔ (۹)‘‘عن القاسم، مولى عبد الرحمن أن النبيﷺ أوصى رجلا غزا قال: ولاتقطع شجرة مثمرة، ولاتقتل بهيمة ليست لك بها حاجة، واتق أذى المؤمنين’’ مراسیل ابی داؤد، باب ولاتقطع شجرۃ مثمرۃ، حدیث نمبر:۲۹۴۔ (۱۰)‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ’’ مسلم، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن، حدیث نمبر:۴۸۶۷۔ (۱۱)‘‘عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ’’ مسلم، باب تحریم اقامۃ الانسان من موضعہ المباح، حدیث نمبر:۴۰۴۴۔ (۱۲)‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةٌ فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ’’ بخاری، باب لایتناجی اثنان دون الثالث، حدیث نمبر:۵۸۱۴۔ (۱۳)‘‘عَنْ أَبُو بَرْزَة قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعُ بِهِ قَالَ اعْزِلْ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ’’ مسلم، باب فضل ازالۃ الأذی عن الطریق، حدیث نمبر:۴۷۴۷۔ (۱۴)‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا’’ مسلم، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ واحتقارہ ودمہ، حدیث نمبر:۴۶۵۰۔ (۱۵)‘‘عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ السَّائِلُ أَوْ طُلِبَتْ إِلَيْهِ حَاجَةٌ قَالَ اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ’’ بخاری، باب التحریض علی الصدقۃ والشفاعت، حدیث نمبر:۱۳۴۲۔ پڑوسیوں کے حقوق پڑوسیوں کے حقوق یہ ہیں: (۱)اس کے ساتھ احسان وہمدردی سے پیش آئے۱؎ (۲)اس کے اہل وعیال کی عزت کی حفاظت کرے۲؎ (۳)وقتاً فوقتاً اس کے گھر ہدیہ وغیرہ بھیجتا رہے؛ خاص کر جب وہ فاقہ سے ہو تو ضرور تھوڑا بہت کھانا دے۳؎ (۴)اس کو تکلیف نہ دے اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں اس سے نہ الجھے۴؎۔ حدیث میں تین طرح کے پڑوسی کا ذکر ہے (۱)مسلمان رشتہ دار پڑوسی (۲)مسلمان پڑوسی (۳)غیرمسلم پڑوسی… ان میں پہلے پڑوسی کا حق زیادہ؛ پھردوسرے کا؛ پھرتیسرے کا۵؎۔ (۱۔۲)‘‘عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ’’ بخاری، باب الوصاۃ بالجار، حدیث نمبر:۵۵۵۶۔ ‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ’’ مسلم، باب الحث علی اکرام الجاروالضیف، حدیث نمبر:۶۸۔ (۳)‘‘عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ’’ مسلم، باب الوصیۃ بالجاروالاحسان الیہ، حدیث نمبر:۴۷۵۸۔ (۴)‘‘خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ’’ الاعراف:۱۹۹۔ ‘‘فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ’’ الحجر:۸۵۔ (۵)‘‘عَنْ طَلْحَة بْن عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي قَالَ إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا’’ بخاری، باب ای الجار اقرب، حدیث نمبر:۲۰۹۹۔ ‘‘ثم قال رسول اللهﷺ: الجيران ثلاثة: فمنهم من له ثلاثة حقوق، ومنهم من له حقان، ومنهم من له حق، فأما الذي له ثلاثة حقوق فالجار المسلم القريب له حق الجار، وحق الإسلام، وحق القرابة، وأما الذي له حقان فالجار المسلم له حق الجوار، وحق الإسلام، وأما الذي له حق واحد فالجار الكافر له حق الجوار’’ شعب الایمان، فصل فیما یقول العاطس فی جواب التشمیت، حدیث نمبر:۹۲۳۸۔ غیرمسلم پڑوسی کے حقوق اس کے حقوق بھی مسلم پڑوسی کی طرح ہیں، جس کا ذکر پڑوسی کے حقوق کے ذیل میں آچکا ہے۔ پڑوسی کی تحدید گھر کے آگے چالیس گھر، گھر کے پیچھے چالیس گھر، گھر کے دائیں حصہ کے چالیس گھر اور گھر کے بائیں حصہ کے چالیس گھرپڑوسی میں داخل ہیں۔ (‘‘عن أبيه قال: أتى النبيﷺ رجل فقال: يارسول الله إني نزلت في محلة بني فلان وإن أشدهم لي أذى أقدمهم لي جوارا فبعث رسول اللهﷺ أبابكر وعمر وعليا يأتون المسجد فيقومون على بابه فيصيحون ألاأن أربعين داراجار ولايدخل الجنة من خاف جاره بوائقه’’ المعجم الکبیر، باب کعب بن مالک الانصاری، حدیث نمبر:۱۴۳۔ ‘‘عن الحسن، أنه سئل عن الجار، فقال: أربعين دارا أمامه، وأربعين خلفه، وأربعين عن يمينه، وأربعين عن يساره’’ الادب المفرد للبخاری، باب الادنی فالادنی من الجیر، حدیث نمبر:۱۰۹) یتیموں اور ضعیفو ں کے حقوق جو دوسروں کا محتاج ہو جیسے یتیم، بچے، عاجز، ضعیف، مسکین، بیمار، معذور، مسافر اور سائل ان لوگوں کے حقوق کچھ زائد ہیں: (۱)ان لوگوں کی مالی خدمت کرنا۱؎ (۲)ان لوگوں کے کام میں ہاتھ بٹانا۲؎ (۳)ان لوگوں کی دلجوئی وتسلی کرنا۳؎ (۴)ان کے حاجت وسوال کو رد نہ کرنا۴؎۔ (۱)‘‘عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَعُودُوا الْمَرِيضَ وَفُكُّوا الْعَانِيَ’’ بخاری، باب قول اللہ تعالیٰ کلوا من طیبات ما، حدیث نمبر:۴۹۵۴۔ ‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي قَالَ يَارَبِّ كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ أَمَاعَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ’’ مسلم، باب فضل عیادۃ المریض، حدیث نمبر:۴۶۶۱۔ (۲)‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ الْقَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ’’ بخاری، باب فضل النفقۃ علی الاھل، حدیث نمبر:۴۹۳۴۔ ‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ’’بخاری، باب لایظلم المسلم المسلم ولایسلمہ، حدیث نمبر:۲۲۶۲۔ (۳)‘‘عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّ أَبَاهَا قَالَ اشْتَكَيْتُ بِمَكَّةَ فَجَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِي ثُمَّ مَسَحَ صَدْرِي وَبَطْنِي ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ’’ ابوداؤد، باب الدعاء للمریض بالشفاء عند العیادۃ، حدیث نمبر:۲۶۹۸۔ (۴)‘‘فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْo وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ’’ الضحیٰ:۹،۱۰۔ مہمان کے حقوق مہمان کے حقوق یہ ہیں: (۱)مہمان کی آمد کے وقت بشاشت (خوشی) ظاہر کرنا، جاتے وقت کم ازکم دروازہ تک ساتھ چلنا۱؎ (۲)اس کی معمولات وضروریات کا انتظام کرنا کہ جس سے اس کو راحت پہنچے۲؎ (۳)عاجزی، تواضع اور اکرام کے ساتھ پیش آنا؛ بلکہ خود سے اس کی خدمت کرنا۳؎ (۴)کم از کم ایک روز اس کے لیے کھانے میں کسی قدر متوسط (درمیانی) درجہ کا تکلف کرنا؛ مگراتنا ہی کہ جس میں خود کو کوئی دشواری نہ ہو اور نہ ہی کوئی حجاب ہو اور کم ازکم تین دن تک اس کی میزبانی کرنا، اتنا تو اس کا ضروری حق ہے، اس کے بعد جب تک وہ رہے میزبان کی طرف سے احسان ہے؛ مگرخود مہمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ اس کو تنگ نہ کرے، نہ زیادہ ٹھہر کر، نہ بے جا فرمائشیں کرکے، نہ اس کے طعام وخدمت وغیرہ میں دخل اندازی کرکے، نہ اس کی مصروفیات میں زیادہ خلل ڈالے، اس کی میزبانی کا شکرگزار ہوتے ہوئے اس کے لیے دعائے خیر کرے۴؎۔ (۱)‘‘عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ’’مسلم، باب الحث علی اکرام الجار والضیف، حدیث نمبر:۶۷۔ (۱۔۲)‘‘وإظهار السرور، والكون عند أمره ونهيه، ورؤية فضله، واعتقاد المنزلة حيث أطربك بدخول منزلك، وتكرم بطعامك’’ ‘‘يسترسل الضيف فيما بيننا كرما فليس يعرف فينا أينا الضيف’’ آداب الصحبۃ، باب الصحبۃ مع الضیف بحسن البشر:۱/۱۸۲، ۱۸۵۔ (۱۔۲۔۳)‘‘هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ الْمُكْرَمِينَo إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُنْكَرُونَo فَرَاغَ إِلَى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ’’ ذاریات:۲۴،۲۵،۲۶۔ ‘‘قَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ ضَيْفِي فَلَا تَفْضَحُونِo وَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ’’ الحجر:۶۸،۶۹۔ (۳)‘‘عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قُلْنَا يَارَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلَا يَقْرُونَنَا فَمَا تَرَى فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ’’ بخاری، باب اکرام الضیف وخدمتہ ایاہ بنفسہ، حدیث نمبر:۵۶۷۲۔ (۴)‘‘عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ أَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَتْهُ أُذُنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ قَالُوا وَمَا جَائِزَتُهُ قَالَ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ’’ ترمذی، باب ماجاء فی الضیافۃ وغایۃ الضیافۃ، حدیث نمبر:۱۸۹۰، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ۔ ‘‘عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِؓ الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يُؤْثِمَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يُؤْثِمُهُ قَالَ يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلَا شَيْءَ لَهُ يَقْرِيهِ بِهِ’’ مسلم، باب الضیافۃ ونحوھا، حدیث نمبر:۳۲۵۶۔ دوستوں کے حقوق جس سے خصوصیت کے ساتھ دوستی ہو قرآن مجید میں اس کو اقارب ومحارم (خصوصی رشتہ دار) کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ اس کے آداب یہ ہیں: (۱)جس سے دوستی کرنا ہو اول اس کے عقائد، اعمال، معاملات اور اخلاق خوب دیکھ بھال لے؛ اگر سب امور میں اس کو درست وصالح پائے تو اس سے دوستی کرے ورنہ دور رہے، (صحبتِ بد (بُری صحبت) سے بچنے کی بہت تاکید آئی ہے اور مشاہدہ سے بھی اس کا ضرر محسوس ہوتا ہے) جب کوئی ایسا ہم جنس، ہم مشرب میسر ہو تو اس سے دوستی کا مضائقہ نہیں؛ بلکہ دنیا میں سب سے بڑھ کر راحت کی چیز دوستی ہے۱؎ (۲)اپنی جان ومال سے کبھی اسے تکلیف نہ دے۲؎ (۳)کوئی امرخلافِ مزاج اس سے پیش آجائے تو اُسے نظرانداز کردے اگر اتفاقاً کوئی رنجش (آپس میں کچھ تکلیف دہ بات ہوجائے) فوراً صفائی کرلے اس کو طول (لمبا) نہ دے، دوستوں کی شکایت کو لیکر نہ بیٹھ جائے۳؎ (۴)اس کی خیرخواہی میں کسی طرح کوتاہی نہ کرے، نیک مشورہ سے کبھی محروم نہ کرے، اس کے مشورہ کو نیک نیتی سے سنے اور اگر قابلِ عمل ہو تو قبول کرلے۴؎۔ (۱)‘‘عن مالك بن مغول، قال: قال عيسى ابن مريم عليه السلام: تحببوا إلى الله عز وجل ببغض أهل المعاصي، وتقربوا إليه بالتباعد منهم، والتمسوا مرضاته بسخطهم قالوا: ياروح الله من نجالس؟ قال: جالسوا من يذكركم الله رؤيته، ومن يزد في عملكم منطقه، ومن يرغبكم في الآخرة عمله’’ شعب الایمان، فصل فیما یقول العاطس فی جواب التشمیت، حدیث نمبر:۹۱۲۶۔ ‘‘عن أبي هريرة قال قال رسول اللهﷺ: المرء على دين خليله فلينظر أحدكم من يخالط وقال مؤمل من يخالل’’ مسنداحمد، مسند ابی ھریرۃ، حدیث نمبر:۸۰۱۵۔ ‘‘اعلم أنه لايصلح للصحبة كل إنسان. قال ﷺ: "المرء على دين خليله فلينظر أحدكم من يخالل" ولابد أن يتميز بخصال وصفات يرغب بسببها في صحبته وتشترط تلك الخصال بحسب الفوائد المطلوبة من الصحبة إذمعنى الشرط مالابد منه للوصول إلى المقصود فبالإضافة إلى المقصود تظهر الشروط’’ الخ بطولہ، احیاء علوم الدین، بیان البغض فی اللہ: ۲/۱۸۔ ‘‘أناعمر بن أحمد بن شاہین، ببغداد قال: قبیداللہ بن عبدالرحمن قال: نازکریا بن یحیی قال: ناالأصمعی قال: ناسلیمان بن بلال، عن مجالد، عن الشعبی قال: قال علی بن أبی طالب کرم اللہ وجہہ وقد ذکر صحبۃ رجل فقال: لاتصحب أخاالجھل و۔یاک و۔یاہ فکم من جاھل أردی حلیما حین آخاہ یقاس المرء بالمرء ۔ذاماالمرء ماشاہ وللشیء من الشیء مقاییس وأشباہ وللقلب من القلب دلیل حین یلقاہ، من آداب الصحبۃ حسن الخلق، فمن آداب العشرۃ وحسن الخلق مع الإخوان والأقران والأصحاب اقتداء بسنۃ رسول اللہﷺ’’ آداب الصحبۃ، باب احذر صحبۃ الجھال:۱/۱۳۔ ‘‘عَن الْمَدَائِنِی، قال: قال علی بن ابی طالبؓ: لاتؤاخ الفاجر؛ فإنہ یزین لک فعلہ، ویحب لوأنک مثلہ، ویزین لک أسوأخصالہ، ومدخلہ علیک ومخرجہ من عندک شین وعار، ولاالأحمق؛ فإنہ یجھد نفسہ لک ولاینفعک، وربما أراد أن ینفعک فیضرک؛ فسکوتہ خیر من نطقہ، وبعدہ خیر من قربہ، وموتہ خیر من حیاتہ، ولاالکذاب؛ فإنہ لاینفعک معہ عیش، ینقل حدیثک، وینقل الحدیث ۔لیک، و۔ن تحدّث بالصدق فمایصدق’’ المجالسۃ وجواھرالعلم لابی بکراحمد بن مروان بن محمدالدینوری، باب الجزء العاشر، حدیث نمبر:۱۳۷۹۔ (۲)‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّﷺ قَالَ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ’’ بخاری، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ، حدیث نمبر:۹۔ (۳)‘‘خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ’’ الاعراف:۱۹۹۔ ‘‘وَلَايَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَاتُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ’’ النور:۲۲۔ (۴)‘‘فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ’’ آل عمران:۱۵۹۔ ‘‘عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ’’ بخاری، باب قول النبیﷺ الدین النصیحۃ للّٰہ ولرسولہ ولأئمۃ المسلمین وعامتھم، حدیث نمبر:۵۵۔ متبنیٰ کا حکم یادرکھیے! کہ ہندوستان میں جس طرح متبنٰی (لے پالک) بنانے کی رسم ہے کہ اس کو بالکل تمام احکام میں اولاد کی طرح سمجھتے ہیں، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں، لے پالک ‘‘منھ بولے’’ بیٹے کا اثر دوستی کے اثر سے زیادہ نہیں چونکہ اس کے ساتھ جان بوجھ کر خصوصیت پیدا کی ہے اس لیے دوستی کے ضابطہ میں اس کو داخل کرسکتے ہیں، باقی میرا ث وغیرہ اس کو مل سکتی کیونکہ میراث اضطراری امر ہے، اختیاری نہیں کہ جس کو چاہا میراث دلوادیا، جس کو چاہا محروم کردیا۔ (‘‘عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ مِنْ بَعْدِهِ فَقَضَى أَنَّ مَنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنْ اسْتَلْحَقَهُ وَلَيْسَ لَهُ فِيمَا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ وَلَا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَا يَمْلِكُهَا أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا فَإِنَّهُ لَا يَلْحَقُ وَلَا يُورَثُ وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ فَهُوَ وَلَدُ زِنًا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ يَعْنِي بِذَلِكَ مَا قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَبْلَ الْإِسْلَامِ ’’ ابن ماجہ، باب فی ادعاء الولد، حدیث نمبر:۲۷۳۶) غیرمسلموں کے حقوق جس طرح اسلام یارشتہ دار کی وجہ سے بہت سے حقوق ثابت ہوتے ہیں، بعض حقوق صرف معمولی مطابقت کی وجہ سے بھی ثابت ہوجاتے ہیں، یعنی صرف آدمی ہونے کی وجہ سے ان کی رعایت واجب ہوتی ہے گومسلمان نہ ہو وہ یہ ہیں: (۱)بلاوجہ کسی کو جانی یامالی تکلیف نہ دیں۱؎ (۲)بلاوجہ شرعی کسی کے ساتھ بدزبانی نہ کرے۲؎ (۳)اگر کسی کو مصیبت، فاقہ اور مرض میں دیکھے تو اس کی مدد کرے، کھانا پانی دیدے، علاج معالجہ کردے۳؎ (۴)جس صورت میں شریعت نے سزا کی اجازت دی ہے، اس میں بھی ظلم وزیادتی نہ کرے، اس کو کسی بات میں نہ ترسائے۴؎۔ (۱۔۲)‘‘عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ’’ بخاری، بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {قُلْ ادْعُوا اللَّهَ أَوْ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى}، حدیث نمبر:۶۸۲۸۔ ‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمْ الرَّحْمَنُ ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ الرَّحِمُ شُجْنَةٌ مِنْ الرَّحْمَنِ فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعَهُ اللَّهُ’’ ترمذی، باب ماجاء فی رحمۃ الناس، حدیث نمبر:۱۸۴۷۔ ‘‘عَنْ مُحَمَّد عن جده، قال: قال رسول اللهﷺ: اصنع المعروف إلى من هو أهله وإلى من ليس هو أهله ، فإن أصبت أهله فهو أهله، وإن لم تصب أهله فأنت من أهله’’ مسندشہاب القضاعی، باب اصنع المعروف الی من ھواھلہ والی من لیس ھو اھلہ، حدیث نمبر:۶۹۷۔ (۳)‘‘عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَعُودُوا الْمَرِيضَ وَفُكُّوا الْعَانِيَ’’ بخاری، باب قول اللہ تعالیٰ کلوا من طیبات، حدیث نمبر:۴۹۵۴۔ ‘‘عَنْ مُحَمَّد عن جده، قال: قال رسول اللهﷺ: اصنع المعروف إلى من هو أهله وإلى من ليس هو أهله ، فإن أصبت أهله فهو أهله، وإن لم تصب أهله فأنت من أهله’’ مسندشہاب القضاعی، باب اصنع المعروف الی من ھواھلہ والی من لیس ھو اھلہ، حدیث نمبر:۶۹۷۔ (۴)‘‘عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمْ الرَّحْمَنُ ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ الرَّحِمُ شُجْنَةٌ مِنْ الرَّحْمَنِ فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعَهُ اللَّهُ’’ ترمذی، باب ماجاء فی رحمۃ الناس، حدیث نمبر:۱۸۴۷۔ ‘‘عَنْ مُحَمَّد عن جده، قال: قال رسول اللهﷺ: اصنع المعروف إلى من هو أهله وإلى من ليس هو أهله ، فإن أصبت أهله فهو أهله، وإن لم تصب أهله فأنت من أهله’’ مسندشہاب القضاعی، باب اصنع المعروف الی من ھواھلہ والی من لیس ھو اھلہ، حدیث نمبر:۶۹۷۔ ‘‘عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ’’ مسلم، باب الامر باحسان الذبح والقتل وتجدید الشقرۃ، حدیث نمبر:۳۶۱۵۔ ‘‘عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رَوَى عَنْ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ قَالَ يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ يَا عِبَادِي إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ يَا عِبَادِي إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّي فَتَضُرُّونِي وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي فَتَنْفَعُونِي يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ ’’ مسلم، باب تحریم الظلم، حدیث نمبر:۴۶۷۴۔ ‘‘عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إياكم والفحش، فإن الله لا يحب الفاحش والمتفحش، وإياكم والظلم فإن الظلم، هي الظلمات يوم القيامة، وإياكم والشح فإن الشح، دعا من كان قبلكم، فسفكوا دماءهم وقطعوا أرحامهم’’ صحیح ابن حبان، باب ذکر الزجر عن الظلم والفحش والشح، حدیث نمبر:۵۱۷۷ عن ابی ھریرۃؓ۔