صبرا و شاتيلا قتل عام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
صبرا اور شاتیلا کا قتلِ عالم
Massacre of palestinians in shatila.jpg
صبرا اور شاتیلا کے پناہ گزیں اڈوں پر قتلِ عام کے بعد کے مناظر[1]
مقام مغربی بیروت، لبنان
تاریخ 16 ستمبر، 1982ء
قسم حملہ قتل عام
اموات 328 تا 3،500
منصوبہ ساز الکتائب پارٹی ایلی حبیقہ کے زیرِ انتظام مسلح گروہ

لبنان کے علاقہ صبرا اور شاتیلا میں واقع فلسطینیوں کے پناہ گزیں اڈے پر الکتائب نامی عیسائی ملیشیا، جسے اسرائیل کی سرپرستی حاصل تھی، نے 16 اور 18 ستمبر 1982ء میں نہتے فلسطینیوں کا قتل عام کیا۔ مسلح گروہ بنام الکتائب جو کہ لبنان کی فلنججی جماعت کا رکن ایلی حبیقہ نے بنائی تھی۔ اس کو صبرا اور شاتیلا کے پناہ گزیں اڈوں میں پہنچانے کے لئے راستہ اسرائیلی فوجیوں نے فراہم کیا اور اس گروہ کے اراکین نے تین دن تک پناہ گزینوں کے اڈوں میں قتلِ عام کیا۔ اس بارے میں یہ بھی قیاس آرائیاں ہیں کہ اسرائیلی فوجی اس قتلِ عام کے بارے میں پہلے سے جانتے تھے کیونکہ اس قتلِ عام سے محض دو دن پہلے بشر الجمیل کا قتل ہوا تھا جوکہ عیسائی مسلح لیڈر اور منتخب صدر تھے اور اس وجہ سے لبنان کی فلنجی جماعتوں اور مسلمانوں میں ایک طویل نفرت و دشمنی کا آغاز ہوا۔ اس قتلِ عام میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب تک متنازعہ ہے، تاہم ایک اندازے کے مطابق 328 سے 3،500 تک مسلمان اس قتلِ عام کی نذر ہوگئے۔

تحقیقات و نتائج[ترمیم]

اس قتلِ عام پر اسرائیل میں اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید ہوئی کیونکہ صبرا اور شاتیلہ دونوں پناہ گزینوں کے اڈے اسرائیل کے زیرِ انتظام تھے۔ کچھ تجریہ نگاروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل اس کاروائی میں بلا واسطہ طور پر ملوث ہے۔ شدید تنقید کے نتیجے میں اسرائیل نے ایک ‘‘کہان کمیٹی‘‘کے نام سے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی، کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق اسرائیل اس قتلِ عام میں بالواسطہ ملوث پایا گیا۔ کمیٹی نے جاری کردہ رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی جرنیلوں اور اربابِ اختیار کو انتقام کی ان کاروائیوں کا اندازہ تھا اور انہیں فلنجی گروہ کو پناہ گزینوں کے اڈے میں داخل نہیں ہونے دینا چاہیئے تھا۔ ایرئیل شیرون کو ذاتی طور پر اس سانحہ کا ذمہ دار ٹھرایا گیا، جس نے متوقع “خون خرابے اور انتقام کے خطرے کو جانتے بوجھتے نظر انداز کیا اور خون خرابے کو روکنے کے لئے کوئی مناسب قدم نہ اُٹھایا“۔[2] تحقیقاتی کمیٹی نے سفارش کی کہ ایرئیل شیرون کو وزیرِ دفاع کے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیئے اور معمولی مزاحمت کے بعد ایرئیل شیرون مستعفی ہوگیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ورلڈ پریس فوٹو - 1982ء
  2. ^ Schiff, زیو; یارائی, ایہود (1984ء). اسرائیل کی لبنان سے جنگ. نیو یارک: سائمن اور شوشتر. pp. 283–4. ISBN 0-671-47991-1. 


بیرونی روابط[ترمیم]