صحرائے تھل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
تھل
صحرا
ملک پاکستان
لمبائی 305 کلومیٹر (190 میل), N/S
حیوہ صحرا

صحرائے تھل پنجاب پاکستان کے ایک صحرا کا نام ھے۔ یہ پوٹھوہار اور سلسلہ کوہ نمک کے جنوب میں دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے درمیان میانوالی، بھکر، خوشاب جنھگ لیہ اور مظفر گڑھ کے اضلاع میں واقع ھے۔ اصل میں یہ تھل ان چھ اضلاع میں ایک مثلث بناتا ہے اور مظفر گڑھ جا کر ختم ہوتا ہے۔ اس کی شروعات ضلع خوشاب کے صدرمقام جو ہر آباد سے شروع ہوتی ہے اور قائد آباد سے نیچے پھر ضلع میانوالی میں ہرنولی کے قریب سے شروع ہو جاتا ہے۔ خوشاب سے میانوالی کو ملانے والی ریلوے سے جنوب میں سارا علاقہ تھل صحرا کا ہے۔ ہزاروں سال پرانی تاریخ کا حامل یہ علاقہ اب کہیں سر سبز ہو رہا ہے مگر اس کی اصل ثقافت زوال پذیر ہو رہی ہے اور اکثر علاقوں سے مٹتی جا رہی ہے۔ ھر طرف ریت کے ٹیلے ٹبے ھیں۔ پانی اور آبادی کم ھیں۔ صحرا‎ئی پودے اور جانور پاۓ جاتے ھیں۔ دونوں دریاوں کے اس درمیانی علاقے کو سندھ ساگر دو آب کہتے ہیں۔ تھل کے لوگوں کا رہن سہن بہت خوبصورت ہے۔ انگریز لکھاریوں نے لکھا ہے کہ جیسے لکھنئو کے شامیں بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔ اسی طرح تھل کی رات انتہائی پرسکون اور دلفریب ہوتی ہے۔ وقت کے تیزی کے ساتھ بدلنے کے باعث لوگ اب نہ تو اپنی زبان بولنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اپنے سکول جانے والے بچوں کو یہ پڑھانا چاہتے ہیں۔ تھل کے اصل لوگوں کے ساتھ کبھی "ٹی ڈی اے" تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور کبھی کوئی اداراہ بنا کر ان کا استحصال کیا گیا۔ ان کے زمینیں اپر پنجاب کے پنجابیوں کو الاٹ کر دی گئیں۔ وہاں پر ہزاروں افراد کی آبادی رکھنے والے کئی گاوں کو چند سو کی آبادی والے چکوک کے برابر بھی نہیں سمجھا گیا۔ جو سہولتیں چکوک کو حاصل ہیں وہ کسی بڑے گاوں کو بھی نہیں ہیں۔ انتہائی پسماندہ ، جاگیرداروں کے چنگل میں پھنسا ہوا تھل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دریائے سندھ سے نکالی ھوئی ایک نہر اور لوگوں کی شدید محنت تھل کو آہستہ آہستہ زرعی علاقے میں بدل رھی ھے۔ راولپنڈی سے ملتان جانے والی ریل گاڑی تھل سے ہو کر گزرتی ھے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

فہرست پاکستان کے صحرا