صدام حسین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
صدام حسین


در منصب
16 جولائی 1979 – 9 اپریل 2003
وزیرِ اعظم
پیشرو احمد حسن البکر
جانشین Coalition Provisional Authority

در منصب
16 جولائی 1979 – 9 اپریل 2003
پیشرو احمد حسن البکر
جانشین Post abolished

در منصب
29 مئی 1994 – 9 اپریل 2003
پیشرو احمد حسین خضیر السامرائی
جانشین محمد بحر العلوم (as Acting President of the Governing Council of Iraq)
در منصب
16 جولائی 1979 – 23 مارچ 1991
پیشرو احمد حسن البکر
جانشین سعدون حمادی

در منصب
جنوری 1992 – 30 دسمبر 2006
پیشرو میشیل عفلق
جانشین مخلوئہ

Regional Secretary of the Regional Command of the Iraqi Regional Branch
در منصب
16 جولائی 1979 – 30 دسمبر 2006
National Secretary میشیل عفلق (until 1989)
Himself
پیشرو احمد حسن البکر
جانشین عزت ابراہیم الدوری
در منصب
فروری 1964 – اکتوبر 1966
پیشرو احمد حسن البکر
جانشین احمد حسن البکر

در منصب
فروری 1964 – 9 اپریل 2003

پیدائش 28 اپریل 1937 (1937-04-28)
العوجہ ، صوبۂ صلاحدین ، عراق
وفات 30 دسمبر 2006 (عمر 69 سال)
کاظمیہ ( عراق) ، بغداد ، عراق
قومیت عراقی
سیاسی جماعت بعث پارٹی (1957–1966)
Baghdad-based Ba'ath Party (1966–2006) (قومی ترقی محاذ)
ازواج ساجدہ طلفاح
سمیرہ شہبندر
بچے عدی حسین
قصی حسین
رغد حسین
رنا حسین
حلا حسین
مذہب سنی اسلام


Saddam Hussein at trial.jpg

پیدائش:28 اپریل 1937ء وفات:30 دسمبر 2006ء


سابق عراقی صدر اور بعث پارٹی کے سربراہ جو بغداد کے شمال میں واقع شہر تکریت کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

بچپن کی تصویر

والد کی جلد ہی وفات کے بعد ان کی والدہ انہیں اپنے رشتہ داروں کے پاس چھوڑ کر کسی اور گاؤں چلیں گئیں۔ چند سال بعد انہوں نے دوسری شادی کر لی۔ سوتیلے والد کا صدام کے ساتھ برتاؤ اچھا نہ تھا۔ صدام حسین کے لئے زندگی مشکل تھی اور اسرائیلی مورخ امتازیہ بیرون بتاتے ہیں محلے کے بچے نو عمر صدام کا مذاق اڑاتے تھے۔

صدام حسین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس عرصے کے دوران وہ قدرے تنہا رہتے تھے اور آس پاس کے لڑکوں پر دھونس بھی جماتے تھے۔

بارہ برس کی عمر میں انہوں نے اپنا گھر چھوڑا اور تکریت میں اپنے ایک چچا کے ساتھ رہنے لگے۔ ان کے یہ چچا یوں تو استاد تھے لیکن تاریخ عراق پر کتاب "دی ماڈرن ہسٹری آف عراق" کی مصنفہ پیبی مار کہتی ہیں ان کا ماضی خاصہ دلچسپ تھا۔


سیاسی زندگی[ترمیم]

اپنے لڑکپن میں صدام حسین حکومت مخالف مظاہروں میں خاصے سرگرم رہے۔ مگر عراقیوں کی طرح وہ برطانوی نو آبادیاتی حکومت اور امیر جاگیرداروں کے خلاف ہوتے گئے۔

صدام الباقر کے ساتھ

1958ء کے انقلاب میں عراق میں برطانیہ حامی بادشاہت کا خاتمہ کے بعد ملک میں پرتشدد بحرانی دور کا آغاز ہوا۔ لیکن صدام حسین کے لئے 60ء کی دہائی اہم ترین ثابت ہوئی۔ عراقی بعث پارٹی کے رکن کی حیثیت سے صدام پارٹی کے ایک سینئر رہنما اور ان کے چچا کے قریبی رشتہ دار احمو حسن الباقر کے منظور نظر اور قریبی ساتھی بننے میں کامیاب ہو گئے۔

صدام اس وقت نہ کوئی افسر تھے اور نہ فوج کا حصہ لیکن مورخ کہتے ہیں کہ احمو حسن باقر کے لئے وہ خاصے مفید کام انجام دیا کرتے تھے۔

1968ء میں بعث پارٹی اقتدار میں آئی اور احموحسن الباقر ملک کے نئے صدر بن گئے۔ صدام حسین اسی دور میں احموحسن کے دست راست رہے حکومت کے اہم اور خفیہ کام وہ خود انجام دینے لگے جن میں مخالفین کو منظر عام سے ہٹانا بھی شامل تھا۔ ان مخالفین میں سے کچھ تو قتل کر دیئے گئے، کچھ جلا وطن اور کچھ کو چپ کرا دیا گیا۔

صدارت[ترمیم]

صدر باقر نے عراقی تیل کی صنعت حکومتی کنٹرول میں لے لی عراقی خزانے پر دباؤ بڑھنے لگا اور حکومت نے ملک میں ترقی کے نئے دور کا آغاز کیا دیہاتوں میں بجلی پہنچنے لگی سڑکیں اور اسکول بننے لگے۔لیکن صدام حسین کے سیاسی عزائم بڑھنے لگے اور سن انیس سو اناسی میں انہوں نے اپنے محسن احمو آلباباقر سے زبردستی استعفٰی دلوا دیا اور خود صدر بن گئے۔جلد ہی انہوں نے اپنی پارٹی کی ’انقلابی کونسل‘ میں اپنے اور حکومت کے خلاف بغاوت کی سازش کا انکشاف کیا۔

صدام حسین

اس سازش کو منظر عام پر لانے کے لئے صدام نے کونسل کے ارکان کا ایک اجلاس طلب کیا اس میں صدام حسین اسٹیج پر بیٹھے سگار پیتے دکھائی دیتے ہیں جب کہ بغاوت میں ملوث افراد کے نام کی فہرست باآواز بلند پڑھی جاتی ہے اور جنہیں باری باری اجلاس سے باہر لے جا کر گرفتار کر لیا جاتا ہے یا ہلاک کر دیا جاتا ہے۔اس اجلاس کے شرکاء جذباتی انداز میں باآوازِ بلند صدر صدام کو اپنی وفاداری کا یقین دلاتے ہیں اور نعرے لگاتے ہیں۔

اس کے بعد بعث پارٹی کے حکومت پر صدر صدام کی شخصیت حاوی ہوتی گئی اور جیسا کہ مورخ پیبی مار نشاندہی کرتی ہیں اگر کوئی سیاسی نظریہ بچا تو وہ صدام ازم کا تھا۔

آنے والے برسوں میں صدام کے سیاسی عزائم عراق کی حدود سے واضع طور پر بڑھنے لگے۔ وہ خود کو عرب دنیا کا رہنما اور تاریخ میں اپنے آپ کو صلاح الدین ایوبی جیسے سپہ سالار کے برابر سمجھتے تھے کیونکہ صلاح الدین بھی تکریت میں پیدا ہوئے۔


ایران پر حملہ[ترمیم]

صدر صدام کے جارحانہ عزائم کی پہلی مثال جلد ہی 1980ء میں اس وقت سامنے آئی جب ان کی فوجوں نے ہمسایہ ملک ایران میں پیش قدمی کی۔صدر صدام کی توقعات کے برعکس یہ جنگ انہیں بڑی مہنگی پڑی 8 برس جاری رہنے والی اس جنگ میں 10 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ جنگ کے نتیجہ میں عراق کے خزانے پر بڑا بوجھ ثابت ہوئی۔

کویت پر حملہ[ترمیم]

صدر صدام نے ہمسایہ ممالک سے اقتصادی مدد مانگی۔ انہوں نے کویت پر عراقی تیل چوری کرنے کا الزام عائد کیا اور مطلوبہ معاوضہ نہ ملنے پر اگست 1990ء میں عراقی فوجیں کویت میں داخل ہو گئیں۔صدر صدام کو یہ فوجی اقدام بڑا مہنگا پڑا ان کو توقع تھی کہ بڑی طاقتیں جنہوں نے ایران کے خلاف ان کی جنگ میں عراق کا بھر پور ساتھ دیا، ہتھیار اور وسائل فراہم کئے اب اگر ان کھل کر حمایت نہ بھی کریں تو کم از کم مخالفت بھی نہیں کریں گی۔


عراق پر اتحادیوں کا پہلا حملہ[ترمیم]

لیکن حالات بدل چکے تھے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے خلیج میں اپنے مفادات یعنی تیل اور اسرائیل کی حفاظت ہر قیمت پر ضروری تھی۔اور اسی لیے امریکی قیادت میں ’آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم‘ کے تحت امریکہ اور برطانیہ نے عراق پر جنگ مسلط کر دی۔


عراق پر امریکہ اور برطانیہ کا دوسرا حملہ[ترمیم]

11 ستمبر کے واقعے کے بعد امریکہ مسلسل اس بات پر مصر رہا کہ عراق کے پاس وسیع تباہی کہ ہتھیار ہیں اور برطانیہ کا کہنا تھا کہ ان ہتھیاروں کو صرف 45منٹ میں قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے اس کے علاوہ عراق پر جوہری ہتھیار بنانے اور حاصل کرنے کا الزام بھی لگا اس لیے عراق پر فروری 2003ء میں امریکہ نے دوبارہ حملہ کر دیا۔ لیکن عراق پر امریکی حملے اور قبضے کے بعد سے اب تک ان میں سے کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔

عراق امریکی اور برطانوی گٹھ جوڑ میں شامل ملکوں کو اگرچہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی حمایت حاصل نہیں تھی اور اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے امریکی برطانوی گٹھ جوڑ سے کیے جانے والے دعووں کی تائید بھی نہیں کی تھی تاہم اس گٹھ جوڑ سے حملہ کر دیا گیا اپریل میں سقوط بغداد کے بعد صدر صدام حسین روپوش ہوگئے۔


گرفتاری[ترمیم]

صدام گرفتاری کے وقت

اس قبضے کے بعد 22 جولائی 2003ء کو معزول صدر صدام کے دونوں بیٹوں کو عودے اور قوصے حسین کو عراق کے شمالی شہر موصل میں حملہ کر کے قتل کر دیا گیا۔ 14 دسمبر 2003ء سنیچر کی شب مقامی وقت کے مطابق شب 8 بجے عراق کے شہر تکریت کے قریب سے ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔جس کے بعد ان پر امریکہ کی نگرانی میں مقدمہ چلایا گیا جس نے 3 نومبر کو صدام حسین کو 148 کردوں کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی۔

سزائے موت[ترمیم]

اس فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے 30 دسمبر 2006ء بمطابق 10 ذوالحجہ 1427ھ (عید الاضحی کے دن) صدر صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی۔ انہیں عراق کی اعلیٰ عدالت نے دجیل میں 1982 میں148 افراد کی ہلاکت کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ ان افراد کو صدام حسین پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد ہلاک کردیا گیا تھا۔ صدام حسین کے ساتھ ان کے سوتیلے بھائی اور انٹیلی جنس سروس کے سابق سربراہ برزان التکریت اورسابق چیف جسٹس کو بھی پھانسی دیدی گئی۔صدام حسین پر کردوں کے خلاف نسل کشی، جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم جیسے سنگین الزامات بھی تھے۔ دجیل مقدمے میں 7 میں سے دو ملزمان برزان التکریت(انٹیلی جنس سروس کے سابق سربراہ) اور طحہٰ یاسین رمضان(سابق نائب صدر) معزول صدر کے قریبی ساتھی رہ چکے ہیں۔ 5 دیگر ملزمان، سابق جج الوید حامد البندیر اور بعث پارٹی کے چار سابق عہدے دار عبداللہ خادم روئد، مظہر عبداللہ روئد، علی دعیم علی اور محمد ازاوی علی پر بھی دجیل ہلاکتوں کی ذمہ داری ڈالی گئی۔ جن میں سے دو کو موت جبکہ 4 کو قید کی سزا کا حکم سنایا گیا ۔ ساتویں ملزم کو ناکافی شہادتوں کی بنا پر رہا کر دیا گیا۔ صدام حسین نے عدالت کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے اسے امریکی قبضے کا ایک ہتھیار قرار دیا تھا۔ مقدمے کی کارروائی کے آغاز سے ہی صدام حسین کے وکیل نے عدالتی استحقاق کے بارے میں سوالات جاری رکھے۔ اس مقدمہ کے جج کو مقدمہ کی سماعت کے دوران ملزم سے ہمدردی رکھنے کے الزام اس وقت برطرف کر دیا گیا، جب مقدمہ اپنے آخری مراحل میں تھا، اور ایک نیا جج مقرر کیا گیا۔ مقدمے کی کاروائی کے دوران صدر صدام حسین امریکی قابض فوج کی تحویل میں رہے۔ آخری دنوں میں خبر دی گئ کہ انہیں پھانسی دینے کی غرض سے امریکی قابض افواج نے عراقی نژاد انتظامیہ کے حوالے کر دیا ہے۔ ان آخری دو ایام میں عراقی کٹھ پتلی انتظامیہ کے عہدے دار اس بارے متضاد بیانات دینے لگے کہ سزا پر کب عملدرآمد کیا جائے گا، وزیر انصاف نے کہا کہ قانون کی رو سے ۳۰ دن ضروری ہیں۔

صدام کے مقدمے کی سماعت کے دوران ان کے تین وکیلوں کو قتل کردیا گیا جس کے بعد ان کے مؤکلین نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور صدام حسین نے بھوک ہڑتال کی۔ عدالتی کارروائی کے اختتام سے قبل صدام نے عدالت کو لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ ان مقدمہ امریکی خواہشات کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔ صدام حسین کے خلاف عدالتی کارروائی بغداد میں خصوصی ٹربیونل میں سخت حفاظتی انتظامات کے تحت چلائی گئی۔اس دوران پانچ ججوں پر مشتمل ایک پینل عدالتی کارروائی کا جائزہ لیتا رہا ۔ بہت سے بین الاقوامی مقدمات کی طرح، صدام پر مقدمہ ان کے اپنے ہی لوگوں کے ذریعے چلایا گیا ۔صدام حسین نے پھانسی کے سزا سننے کے بعد فائرنگ ا سکواڈ کے ذریعے موت کی درخواست کی تھی۔

انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے اس قانونی عمل کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ، جس میں جرم ثابت کرنے کے لئے شکوک وشبہات سے بالاتر اس معیار کو برقرار نہیں رکھا جاتا جو عالمی مقدمات کے لئے تصور کیا جاتا ہے۔ [1]


30 دسمبر 2006ء صدر صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی۔ اس سے پہلے امریکی فوجیوں نے انھیں عراقی کٹھ پتلی انتظامیہ کے سپرد کیا. پھانسی کا منظرہ شبکہ پر جاری کیا گیا۔ [2] اس میں دیکھا گیا کہ پھانسی دینے والے عراقی شیعہ رہنما مقتدہ صدر کے نعرے لگا رہے تھے۔ صدام حسین کلمۂ شہادت پڑھ رہے تھے کہ تختہ گرا دیا گیا۔ عالمی مبصرین نے صدام حسین کے حوصلہ کی تعریف کی ہے۔

==حوالہ جات==جہاں صدام حسین کا تمام مقدمہ معروف انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں تحا بلکہ یہ ایک کھلا قتل تحا جو امریکی قبضہ گیروں نے اپنے مقامی ایجنٹوں کے ذریعے کیا تحا۔علاوہ ازیں صدام حسین نے تختہ دار پر عراق زندہ باد اور امریکہ مردہ باد کے نعرے لگا کر خود کو مردانہ وار موت کے حوالے کیا تحا۔ قمرالزماں خاں

  1. ^ روزنامہ جنگ 30 دسمبر 2006ء بی بی سی اردو سروس http://bbcurdu.com
  2. ^ دا رجسٹر، 2 جنوری 2007ء، "Growing rumpus over Saddam execution footage"