صلح حدیبیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مکہ معظمہ سے ایک منزل کے فاصلے پر ایک کنواں حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے ۔ وہاں مدینہ اورمشرکینِ مکہ کے درمیان مارچ 628ء کو ایک معاہدہ ہوا جسے صلح حدیبیہ (عربی میں صلح الحديبية) کہتے ہیں۔ 628ء (6 ھجری) میں 1400 مسلمانوں کے ہمراہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ سے مکہ کی طرف عمرہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ عرب کے رواج کے مطابق غیر مسلح افراد چاہے وہ دشمن کیوں نہ ہوں کعبہ کی زیارت کر سکتے تھے جس میں رسومات بھی شامل تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمان تقریباً غیر مسلح تھے۔ مگر عرب کے رواج کے خلاف مشرکینِ مکہ نے حضرت خالد بن ولید (جو بعد میں مسلمان ہو گئے) کی قیادت میں دو سو مسلح سواروں کے ساتھ مسلمانوں کو حدیبیہ کے مقام پر مکہ کے باہر ہی روک لیا۔ رسول اللہ نے حضرت عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ انھیں وہاں روک لیا گیا۔ ان کے واپس آنے میں تاخیر ہوئی تو آپ نے صحابہ سے بیعت لی جو بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔اس بیعت میں مسلمانوں نے عہد کیا کہ وہ مرتے دم تک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔۔ تھوڑی دیر بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ واپس آگئے اس بیعت کی خبر مکہ والوں کو ہوئی اور انھوں نے مسلمانوں کو جنگ کے لیے تیار پایا۔ تو صلح پر آمادہ ہوگئے۔ رسول پاک نے مکہ والوں کی شرائط قبول فرما لیا اور حضرت علی علیہ السلام سے یہ صلح نامہ لکھوایا گیا۔ صلح حدیبیہ تک مسلمان انتہائی طاقتور ہو چکے تھے مگر یہ یاد رہے کہ اس وقت مسلمان جنگ کی تیاری کے ساتھ نہیں آئے تھے۔ اسی لیے بعض لوگ چاہتے تھے کہ جنگ ضرور ہو۔ خود مسلمانوں میں ایسے لوگ تھے جن کو معاہدہ کی شرائط پسند نہیں تھیں۔ مثلاً اگر کوئی مسلمان مکہ کے لوگوں کے کے پاس چلا جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا مگر کوئی مشرک مسلمان ہو کر اپنے بزرگوں کی اجازت کے بغیر مدینہ چلا جائے تو اسے واپس کیا جائے گا۔ مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دانشمندی سے صلح کا معاہدہ ہو گیا۔ اس کی بنیادی شق یہ تھی کہ دس سال تک جنگ نہیں لڑی جائے گی اور مسلمان اس سال واپس چلے جائیں گے اور عمرہ کے لیے اگلے سال آئیں گے۔ چنانچہ مسلمان واپس مدینہ آئے اور پھر 629ء میں حج کیا۔ اس معاہدہ کے بہت سود مند اثرات برآمد ہوئے۔
معاہدہ یہ تھا ۔

ابتداء اللہ کے نام سے۔ امن کی یہ شرائط محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور سہیل بن عمرو سفیرِ مکہ کے درمیان طے ہوئیں۔ دس سال تک کوئی جنگ نہیں ہوگی۔ کوئی بھی (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا ساتھ دینا چاہے یا ان سے معاہدہ کرنا چاہے تو اس امر میں آزاد ہے۔ اسی طرح کوئی بھی قریش (مشرکینِ مکہ) کا ساتھ دینا چاہے یا ان سے معاہدہ کرنا چاہے تو اس امر میں آزاد ہے۔ کوئی بھی جوان آدمی یا ایسا شخص جس کا باپ زندہ ہو (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی طرف اپنے والد یا سرپرست کی اجازت کے بغیر جائے تو اسے اپنے والد یا سرپرست کو واپس کر دیا جائے گا لیکن اگر کوئی بھی قریش کی طرف جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ اس سال (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس چلے جائیں گے۔ مگر اگلے سال وہ اور ان کے ساتھی مکہ میں داخل ہو سکتے ہیں، تین دن گذار سکتے ہیں اور طواف کر سکتے ہیں۔ ان تین دنوں میں قریشِ مکہ ارد گرد کی پہاڑیوں سے ہٹ جائیں گے۔ جب (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور ان کے ساتھی مکہ میں داخل ہوں گے تو غیر مسلح ہوں گے سوائے ان سادہ تلواروں کے جو عرب ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔


اس سال مسلمان جو تعداد میں تھوڑے اور غیر مسلح تھے جنگ سے بچ گئے اور اس سے اگلے سال مکہ میں داخل ہوئے۔ معاہدہ کے دوران پہلے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام 'محمد رسول اللہ' لکھا گیا مگر مشرکین کو اعتراض ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سادہ نام لکھوا لیا۔