صوبہ بادغیس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
صوبہ  بادغیس
عمومی معلومات
ملک Flag of Afghanistan.svg افغانستان
صدر مقام قلعه نو
رقبہ 20591 مربع کلومیٹر
آبادی 499,393 بمطابق {{{سال}}}ء
زبانیں پشتو دری فارسی ترکمن
منطقۂ وقت یو۔ٹی۔سی4:30+
گورنر عنایت اللہ عنایت

بادغیس(انگریزی: Badghis فارسی/پشتو: بادغیس) افغانستان کے چونتیس صوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ شمال مغربی افغانستان میں واقع ہے اور اس صوبہ کے دونوں اطراف میں دریائے مرغب اور دریائے ہاری بہتے ہیں۔ یہ صحرائے سراخ کے شمالی حصہ تک پھیلے ہوئے دریا ہیں۔ 1964ء میں صوبہ ہرات اور صوبہ میاماں کے کچھ حصوں سے علیحدہ کر کے علاقے کو صوبے کا درجہ دیا گیا تھا اور باغدیس کے لفظی معنی تیز ہواؤں کا گھر کے ہیں۔ اس صوبے کا کل رقبہ 20591 مربع کلومیٹر ہے۔ اس صوبے کا نام فارسی کے لفظ بادخیز سے اخذ ہوا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

1885ء میں باؤنڈری کمیشن نے یہاں ایک جغرافیائی سروے کروایا تھا اس کے مطابق اس صوبے کا نام باد خیز مقرر ہوا جو کہ وقت کے ساتھ بادغیس بن گیا۔ اس وقت یہاں خالصتاً افغان قبائل آباد تھے۔ صوبہ باغدیس ان صوبوں میں شامل ہے جن پر طالبان کا قبضہ کابل میں قبضہ ہونے کے کافی بعد میں ہوا۔ سرکاری طور پر طالبان حکومت میں شامل ہو جانے کے بعد بھی یہاں آباد تاجک قبائل نے پشتون طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ 2001ء میں امریکی حملے کے بعد شمالی اتحاد نے اس صوبہ پر بغیر کسی قابل ذکر مزاحمت کے قبضہ کر لیا تھا اور یہاں آباد پشتون قبائل جو اقلیت میں تھے، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نسل کشی شروع کر دی۔
کئی نامی گرامی قبائلی جنگجو سرداروں کی حالیہ دور میں عملداری رہی ہے، ان جنگجو سرداروں میں عبد المالک، رشید دوستم، جمعہ خان اور اسماعیل خان شامل ہیں۔ طالبان کے خلاف جنگ میں شمالی اتحاد کے کمانڈروں کو امداد ایرانی شیعہ گروپوں سے ملتی رہی ہے جو طالبان کی حکومت سے خوفزدہ تھے۔شمالی اتحاد کے کمانڈ روں کی اسی وجہ سے آپس میں اختلافات جنم لیتے رہے ہیں جن کی ایک واضع مثال کمانڈر عبدالمالک کی رشید دوستم سے رنجش تھی۔ عبد المالک نے اسی رنجش کی بنیاد پر طالبان کی اس صوبہ پر قبضہ کی راہ ہموار کی تھی۔

جغرافیہ[ترمیم]

صوبہ باغدیس شمال مغربی افغانستان کے پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے اور اس کی سرحدیں ہرات، غور، فریاب صوبوں جبکہ تاجکستان سے بھی ملتی ہیں۔ اس صوبہ کے شمالی حصہ میں دریائے مرغب جبکہ جنوبی حصہ میں دریائے ہری رد بہتے ہیں۔

طرز معاشرت[ترمیم]

اس صوبہ میں آباد قبائل میں اکثریت فارسی بولنے والے تاجک، ہزارہ اور ایمک قبائل کی ہے۔ پشتون یہاں اقلیت میں ہیں- AIMS اور NPS کے مطابق صوبہ باغدیس میں %62 تاجک، %28 پشتون، %5 ازبک، %3 ترک اور %2 بلوچ آباد ہیں۔ صوبہ باغدیس افغانستان کے انتہائی پسماندہ صوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ قلعہ نو جو کہ شبرگان اور ہرات کے درمیان واقعہ ایک قصبہ ہے اس صوبہ کا سرکاری طور پر صدر مقام ہے۔

سیاست[ترمیم]

اس صوبہ کے حالیہ گورنر عنایت اللہ عنایت ہیں، اور سپین کی فوج یہاں تعینات کی گئی ہے جو بحالی کے کاموں میں صوبائی انتظامیہ کی مدد کر رہی ہے۔

معیشت[ترمیم]

زراعت یہاں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، یہاں دریائے مرغب اور ہاری سے سیراب ہونے والی زمینیں کاشت کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ اس صوبہ میں 1990ء اور 2000ء کے عشرے میں انتہائی درجے کا قحط واقع ہوا جس کی وجہ سے یہاں کی مقامی آبادی کا بڑا حصہ ہرات کے باہر قائم مہاجر کیمپ میں ہجرت کرنے پر مجبور ہو گیا۔ صوبہ باغدیس کا شمار افغانستان میں قالین سازی کے لیے مشہور ہے اور یہ ملک میں دستی قالین سازی کی صنعت کا مرکز بھی ہے۔

اضلاع[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]