گلگت بلتستان
| گلگت بلتستان گلگت - بلتستان |
|
|---|---|
| — پاکستان کا پانچواں صوبہ — | |
| گلگت بلتستان | |
| Location of Gilgit-Baltistan (red) | |
| متناسقات: 35°21′N 75°54′E / 35.35°N 75.9°Eمتناسقات: 35°21′N 75°54′E / 35.35°N 75.9°E | |
| Country | |
| Established | 1 July 1970 |
| Capital | Gilgit |
| Largest city | Gilgit |
| حکومت | |
| - قسم | Autonomous territory of Pakistan |
| - حکمران ادارہ | Legislative Assembly |
| - Governor | Pir Karam Ali Shah[1] |
| - Chief Minister | Syed Mehdi Shah[2] |
| رقبہ | |
| - کُل | 72,496 کلومیٹر2 (27,990.9 میل2) |
| آبادی (2008; est.) | |
| - کُل | 1,800,000 |
| - کثافتِ آبادی | خطاء تعبیری: غیر تسلیم شدہ محرفی تنقیط ","۔/کلومیٹر2 (خطاء تعبیری: غیر متوقع < مشتغل۔/میل2) |
| منطقۂ وقت | PKT (یو ٹی سی+5) |
| ISO 3166 code | PK-NA |
| Main Language(s) |
|
| Assembly seats | 33[3] |
| Districts | 7 |
| Towns | 7 |
| Union Councils | |
| موقعِ جال | gilgitbaltistan.gov.pk |
گلگت بلتستان (Gilgit Baltistan) پاکستان کا شمالی علاقہ ہے۔ تاریخی طور پر یہ تین ریاستوں پر مشتمل تھا یعنی ہنزہ، گلگت اور بلتستان۔ 1848ء میں کشمیر کے ڈوگرہ سکھ راجہ نے ان علاقوں پر بزور قبضہ کر لیا اور جب پاکستان آزاد ہوا تو اس وقت یہ علاقہ کشمیر کے زیرِ نگیں تھا۔ 1948ء میں اس علاقے کے لوگوں نے خود لڑ کر آزادی حاصل کی اور اپنی مرضی سے پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ 2009ء میں اس علاقے ہو آزاد حیثیت دے کر پہلی دفعہ یہاں انتخابات کروائے گئے۔ جس کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سید مہدی شاہ پہلے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے [4] [5]۔
شمالی علاقہ جات کی آبادی 20لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جبکہ اس کا کل رقبہ 72971مربع کلومیٹر ہے ‘ اردو کے علاوہ بلتی اور شینا یہاں کی مشہور زبانیں ہیں۔ گلگت و بلتستان کا نیا مجوزہ صوبہ دوڈویژنز بلتستان اور گلگت پر مشتمل ہے۔ اول الذکر ڈویژن سکردو اور گانچے کے اضلاع پر مشتمل ہے جب کہ گلگت ڈویژن گلگت،غذر،دیا میر، استور اورہنزہ نگر کے اضلاع پر مشتمل ہے۔ شمالی علاقہ جات کے شمال مغرب میں افغانستان کی واخان کی پٹی ہے جو پاکستان کو تاجکستان سے الگ کرتی ہے جب کہ شمال مشرق میں چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کا ایغورکا علاقہ ہے۔ جنوب مشرق میں مقبوضہ کشمیر، جنوب میں آزاد کشمیر جبکہ مغرب میں صوبہ سرحد واقع ہیں۔ اس خطے میں سات ہزار میٹر سے بلند 50 چوٹیاں واقع ہیں۔ دنیا کے تین بلند ترین اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے قراقرم،ہمالیہ اور ہندوکش یہاں آکر ملتے ہیں۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی اسی خطے میں واقع ہے۔ جب کہ دنیا کے تین سب سے بڑے گلیشئیر بھی اسی خطے میں واقع ہیں۔[6]
اضلاع اور اعداد و شمار [ترمیم]
گلگت و بلتستان اب سات اضلاع پر مشتمل ہے جن میں سے دو بلتستان میں، تین گلگت اور دو ہنزہ۔نگر کے اضلاع ہیں۔ اس سے پہلے ہنزہ۔نگر کو بھی گلگت ڈویژن میں شمار کیا جاتا تھا جسے اب علیحدہ کر دیا گیا ہے۔
| سابقہ ڈویژن | اضلاع | رقبہ (مربع کلومیٹر) | آبادی (1998ء) | مرکز |
|---|---|---|---|---|
| بلتستان | ضلع گانچھے | 9,400 | 88,366 | خپلو |
| ضلع سکردو | 18,000 | 214,848 | سکردو | |
| گلگت | ضلع استور | 8,657 | 71,666 | گوری کوٹ/عید گاہ |
| ضلع دیامر | 10,936 | 131,925 | چلاس | |
| ضلع غذر | 9,635 | 120,218 | گاہ کچ | |
| ضلع گلگت | 39,300 | 383,324 | گلگت | |
| ضلع ہنزہ۔نگر(نیا ضلع) | ۔۔۔۔۔ | ۔۔۔۔۔ | سکندر آباد | |
| گلگت و بلتستان۔ مجموعاً | 7 اضلاع | 95,928 | 10,10,347 | گلگت |
| نئے ضلع ہنزہ۔نگر کا رقبہ اور آبادی ابھی گلگت کے ساتھ شامل ہے کیونکہ درست شمار دستیاب نہیں: گلگت و بلتستان کے کل رقبہ کا درست شمار دستیاب نہیں اور مختلف جگہ مختلف رقبے ملتے ہیں اس لیے یہاں صرف تمام رقبوں کا درست مجموعہ دیا گیا ہے۔ |
||||
متعلقہ مضامین [ترمیم]
مآخذ [ترمیم]
- ^ "Pir Karam Ali Shah appointed GB Governor". The News. 2011-01-26. http://www.thenews.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=10133. Retrieved 2011-01-28.
- ^ "Associated Press Of Pakistan ( Pakistan's Premier NEWS Agency ) - Public service policy to be pursued in Gilgit-Baltistan: PM". Ftp.app.com.pk. http://ftp.app.com.pk/en_/index.php?option=com_content&task=view&id=92218&Itemid=1. Retrieved 2010-06-05.
- ^ Legislative Assembly will have directly elected 24 members, besides six women and three technocrats. "Gilgit Baltistan: New Pakistani Package or Governor Rule" 3 September 2009, The Unrepresented Nations and Peoples Organization (UNPO)
- ^ پیپلزپارٹی کے سید مہدی شاہ گلگت بلتستان کے پہلے وزیر اعلیٰ منتخب روزنامہ جنگ، 11 دسمبر 2009ء
- ^ گلگت بلتستان: مہدی شاہ نئے وزیر اعلیٰ بی بی سی اردو، 11 دسمبر، 2009ء
- ^ شمالی علاقہ جات کو صوبائی حیثیت دینے کا اعلان روزنامہ آج، 4 ستمبر 2009ء
