صومالیہ میں بحری قزاقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
صومالی قزاق کی کاروائی کا نقشہ

امریکی مداخلت کے نتیجے میں صومالیہ میں 1990 سے خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوئی، جس کے بعد سے سمندر میں صومالی قزاقوں تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ بن گئے۔ حکومت ختم ہونے کے بعد یورپی بحری جہاز صومالیہ کی ساحل پر تابکار فضلا اور خطرناک مواد ٹھکانے لگانے لگے جس سے علاقہ میں خطرناک بیماریاں پھیلنا شروع ہو گئیں۔ اس کے علاوہ صومالی پانیوں سے بڑے تجارتی یورپی جہاز کثیر تعداد میں غیر قانونی طور پر مچھلیاں پکڑنے لگے۔ مقامی ماہی گیروں نے تیز رفتار کشتیوں میں ان یورپی جہازوں کا تعاقب شروع کر دیا اور اس طرح قذاقی کی ابتدا ہوئی۔

واقعات[ترمیم]

  • اپریل 2009 میں کچھ سولہ سے انیس سالہ قزاق لڑکوں نے امریکی مال بردار جہاز کے کپتان رچرڈ فلپس کو جان بچاؤ کشتی میں گرفتار کر لیا۔ امریکی بحریہ کے نشانہ بازوں نے قزاقوں کو قتل کر کے رچرڈ کو چھڑا لیا۔ امریکی اخبارات کے مطابق صدر بارک اوبامہ نے اس جھڑپ کی خود نگرانی کی اور اپنے پہلے فوجی امتحان میں سرخرو ہوئے۔[1]
  • مارچ 2011ء میں بھارتی بحریہ نے کچھ قیدیوں کو قزاقوں سے چھڑایا۔ مگر 5 پاکستانیوں کو تین ماہ تک بھارت نے ممبئی جیل میں رکھنے کے بعد رہا کیا۔[2]
  • جون 2011ء میں انصار برنی وَقف نے چندا اکٹھا کر کے 2.1 ملین امریکی ڈالر کا تاوان ادا کر کے 22 ملاحوں کو صومالی قزاقوں سے ایک سال کی قید کے بعد چھڑایا۔ ملاحوں میں 11 مصری، 6 بھارتی، 4 پاکستانی، اور 1 سری لنکی شامل تھے مگر تاوان کی رقم صرف پاکستانیوں نے ادا کی۔[3]


بیرونی روابط[ترمیم]