ضلع دادو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ضلع  دادو
دادو
عمومی معلومات
ملک پاکستان کا پرچم پاکستان
صدر مقام دادو
صوبہ سندھ 
آبادی 16،88،810 بمطابق 1998ء
زبانیں سندھی
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت +5
رمزِ ڈاک 76000
رمزِ بعید تکلم 25
ناظم کریم علی جتوئی
نائب ناظم سید محمد شاہ
تحصیل
دادو
میہڑ
جوہی
خیرپور ناتھن شاہ



صوبہ سندھ کے نقشے میں ضلع دادو کا محل وقوع

ضلع دادو پاکستان کے صوبہ سندھ کا ایک ضلع ہے، جس کا صدر مقام دادو شہر ہے۔

1933ء میں برطانوی نو آبادیاتی دور میں کراچی کی تحصیلوں کوٹری اور کوہستان اور ضلع لاڑکانہ کی تحصیلوں میہڑ، خیرپور ناتھن شاہ، دادو، جوہی اور سیہون کو ملا کر ضلع دادو تشکیل دیا گیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ رقبہ کے اعتبار سے سندھ کا سب سے بڑا ضلع تھا، 2004ء میں ایک حکم نامے کے تحت ضلع دادو کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا، اور نیا قائم ہونے والا ضلع جامشورو کہلایا۔

ضلع دادو کے مشرق میں کیرتھر کا پہاڑی سلسلہ ہے جو اسے بلوچستان سے جدا کرتا ہے۔ شمال میں ضلع لاڑکانہ، مشرق میں ضلع نوشہرو فیروز اور جنوب میں نیا ضلع جامشورو واقع ہے ہے۔ جامشورو کوٹری، سیہون اور جامشورو کی تحصیلوں پر مشتمل ہے ۔ اس کا ضلعی صدر مقام جامشورو ہے۔ اب ضلع دادو مندرجہ ذیل پانچ تحصیلوں (تعلقوں) پر مشتمل ہے:

پاکستان کی سب سے بڑی جھیل منچھر جھیل بھی اسی ضلع میں واقع ہے جو ضلع کے شہر سیہون کے مشرق میں ہے۔

فہرست

آبادیاتی خصوصیات[ترمیم]

1998ء کی قومی مردم شماری کے مطابق ضلع دادو کی کل آبادی 16،88،810 ہے۔ ضلع کی بیشتر آبادی دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے، جو کل آبادی کا 79 فیصد ہے جبکہ 21 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ ضلع 19،070 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اسے انتظامی طور پر 7 تحصیلوں (تعلقوں) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کثافت آبادی 88.6 فیصد افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔ اوسط ایک گھرانہ 5.5 افراد پر مشتمل ہے۔ یہ تناسب شہری علاقوں میں زیادہ (6.3 فیصد) ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ تناسب 5.5 فیصد ہے۔ ضلع کے 73 فیصد سے زائد گھر ایک کمرے کے حامل ہیں۔

موسم[ترمیم]

ضلع میں اوسط سالانہ بارش 120 م م ہوتی ہے۔ ضلع کا کل 217،000 ہیکٹرز کا رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے جہاں سے لکڑی حاصل کی جاتی ہے۔

قبائل[ترمیم]

ضلع کی بیشتر آبادی اسلام کی پیرو ہے۔ اہم قبائل میں جتوئی، مگسی، سومرو، شاہانی، کلہوڑو، ڈاہری، چنہ، پنہور، سولنگی، قاضی، شیخ، میرانی، ملاح، میربحر، چانڈیو، جمالی، کھوسہ، گبول، لوند، بوزدار، لغاری، انڑ وغیرہ ہیں۔ جن میں جتوئی، سومرو اور شاہانی سب سے زیادہ با اثر قبیلے ہیںرودراني

اہم شخصیات[ترمیم]

سابق وزیر اعظم پاکستان شوکت عزیز کے دور حکومت میں وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی رہنے والے لیاقت علی جتوئی کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے جو معروف قبائلی سردار عبد الحمید خان جتوئی کے صاحبزادے ہیں۔ لیاقت علی کے صاحبزادے کریم علی خان جتوئی ضلع کے موجودہ ناظم ہیں۔

بیرونی روابط[ترمیم]