ضلع چکوال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ضلع  چکوال
Pool at Katas.jpg
عمومی معلومات
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صدر مقام چکوال
صوبہ پنجاب 
محل وقوع 32.93 درجے شمال، 72.85 درجے مشرق
رقبہ 6524 مربع کلومیٹر
بلندی 498 میٹر (1633.86 فٹ) از سطحِ سمندر
آبادی 10,83,725 بمطابق 1998ء
زبانیں ہندکو، اردو، پنجابی
منطقۂ وقت عالمی معیاری وقت + 5
رمزِ ڈاک 48800 (چکوال)، 48530 (کلر کہار)، 48100 (تلہ گنگ)
رمزِ بعید تکلم 0543
تحصیلیں


صوبہ پنجاب میں ضلع چکوال کا محل وقوع

ضلع چکوالچکوال کی تاریخ تاریخی اہمیت۔ ضلع چکوال پنجاب کا اہم ترین ضلع ہے اور چار تحصیلوں چکوال کلر کہار چوآسیدن شاہ اور تلہ گنگ اور 68یونین کونسلوں پر مشتمل ہے۔چکوال میں قومی اسمبلی کے دو این اے 60′این اے 61اور صوبائی اسمبلی کے چار پی پی 20′پی پی 21پی پی 22اور پی پی 23 کے حلقے آتے ہیں۔چکوال کو1985ء میں ضلع کا درجہ دیا گیا اس سے قبل یہ ضلع جہلم کی تحصیل ہوا کرتا تھا۔تلہ گنگ ضلع چکوال کی ایک انتہائی اہم تحصیل ہے۔ اس کے نام کے ساتھ دو الفاظ تلہ اور گنگ بھی ایک تاریخ رکھتے ہیں۔تلہ کا مطلب ہے نچلے حصے والی زمین اور گنگ ہندوئوں کی ایک قوم کا نام ہے۔قیام پاکستان سے قبل یہاں پر گنگ قوم آباد تھی اور یہ علاقہ چونکہ باقی علاقے سے نچلی سطح پر واقع تھا اس لیے یہاں پر آباد گنگ قوم کے افراد کو تلہ گنگ کے باعث شناخت کیا جاتا تھا۔تحصیل تلہ گنگ ملک کی سب سے بڑی شاہرہ موٹروے سے 30کلو میٹر دور واقع ہے جبکہ ضلع چکوال سے 45کلو میٹر دور واقع ہے۔ یہاں پر آباد لوگ پنجابی زبان بولتے ہیں۔تحصیل تلہ گنگ میں ایشیاء کا سب سے بڑا قصبہ لاوہ بھی موجود ہے۔جس کے رقبے پر پوری تحصیل کی آباد ی کی اکثریت آباد ہے۔چکوال کا علاقہ محل وقوع کے اعتبار سے شمالی حصے کی طرف سے ضلع راولپنڈی،جنوبی سطح پر ضلع جہلم ،مشرقی اعتبار سے خوشاب اورمغربی سرحد میانوالی سے ملتا ہے۔کل رقبہ 6609کلومیٹر اور1652443ایکٹر تک پھیلا ہوا ہے۔جنوبی حصے میں زیادہ تر پہاڑی سلسلہ واقع ہے اور سطح سمندر سے 3701فٹ کی بلندی پر ہے جبکہ شمال میں زیادہ حصہ دریا سوہان کے قریب واقع ہے۔چکوال میں پہاڑی سلسلہ ساتھ ساتھ ایک بارانی علاقہ ہے اس لیے یہاں پر کاشتکاری میں بارش کا بہت زیادہ عمل دخل ہے۔زیادہ تر لوگ دیہی علاقے میں آباد ہیں۔چکوال ایک تاریخی علاقہ ہے اور پاکستان کے قیام سے قبل یہاں پر ہندو’سکھ اور عیسائی قومیں آباد تھیں جن میں اکثریت ہندوئوں اور سکھوں کی تھی۔1947میں پاکستان کے قیام کے بعد یہ قومیں بھارت کو ہجرت کرگئیں جبکہ بھارت سے آنے والے مسلمان یہاں پر آباد ہوئے۔1947ء سے قبل انگریزوں کے دور حکومت میں چکوال ضلع جہلم کی تحصیل ہوتی تھی۔ 1985 میں اس کو ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔1891میںاعدادو شمار کے مطابق اس کی آبادی کی کل تعداد 164912تھی۔تحصیل چوآ سیدان شاہ کے کہار روڈ کے قریب 3000قبل کاتیس راج ہوا کرتا تھا جس کے چند ایک آثار آج بھی پائے جاتے ہیں۔ ہندوراج کے علاوہ وہاں سے 3کلو میٹر دور دھمیال بھی واقع ہے جو 1920میں بھی تمام افراد کے لیے اس حوالے سے ایک اہم جگہ تھی کہ یہاں پر تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کو روز گار کی تلاش کیلئے آنا پڑتا تھا اور انگریز فوج کا قیام بھی یہیں پر تھا۔

تحصیلیں

اسے انتظامی طور پر تین تحصیلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جو درج ذیل ہیں۔