طارق رمضان

وکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

[ترمیم] ابتدائی زندگی

طارق رمضان 26 ستمبر 1962ء کو جینوا سوئٹزلینڈ میں پیدا ہوئے۔ وہ مسلمان سکالر سعید رمضان کے بیٹے اور اخوان المسلمون کے بانی امام حسن البنا کے نواسے ہیں۔ ان کے والد مصری صدر جمال عبدالناصر کے دور میں جلاوطن کردئیے گئے تھے جس کے بعد وہ پہلے سعودی عرب اور پھر سوئٹزلینڈ منتقل ہوگئے۔ طار رمضان نے یہاں ہی گریجویشن اور پھر فلسفہ اور فرانسیسی ادب کی تعلیم حاصل کی۔ عربی اور مطالعہ علوم اسلامی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے وہ جامعۃ الازہر چلے گئے ۔

[ترمیم] عملی زندگی سرگرمیاں

ان دنوں وہ جینوا میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ 1996ء سے 2003ء تک فری بورگ یونیورستی میں مذہب اور فلسفہ کی تعلیم دیتے رہے ہیں۔ اکتوبر 2005ء میں انہوں نے آکسفورڈ یونیورستی کے سینٹ انٹونی کالج سیان کا وزیٹنگ فیلوشپ کا تعلق قائم ہوگیا۔ وہ لوکہائی فاونڈیشن میں سینئر ریسرچ فیلو کے کام کررہے ہیں۔ان کی اہلیہ کا تعلق فرانس سے ہے جنہوں نے شادی کے بعد اسلام قبول کیا۔ طارق رمضان سوئٹزلینڈ میں ’’موومنٹ فار سوئس مسلمز کے نام سے ایک تنظیم بھی چلا رہے ہیں۔ انہوں نے متعدد بین المذاہب سیمنار بھی منعقد کرائے۔ اس طرح انہوں نے اسلام اور سیکولرازم کے نام سے ایک کمیشن بھی قائم کیا۔ اس طرح مختلف یونیوسٹیوں سے اسلام کا روشن پہلو واضح کرنے کے لیے وہ لیکچرز دیتے رہتے ہیں۔ ان میں پورپ اور امریکہ کی یونیوسٹیاں شامل ہیں۔

[ترمیم] نظریات

2003 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق پر حملہ کای تو طارق رمضان اس کی بھرپور مذمت کی۔ دوسری طرف وہ خودکش حملوں سمیت دیگر کارائیوں کے بھی سخت خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کسی بھی صورت میں ہونا جائز نہیں۔ فرانس میں سکولوں کے طلبہ و طالبات کے لیے حجاب اور دیگر مذہبی چیزوں کے پہننے پر ممانعت کا قانون تیار ہوا تو طارق رمضان نے اس کی مخالفت کی ۔ اسی طرح جب عیسائی پوپ بینڈیکٹ نے اسلام کے خلاف تقریر کی اور مسلمان معاشروں میں اس کے خلاف شدید ردعمل ہوا تو طارق رمضان نے اسے نامناسب رویہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے اس قسم کے ردعمل سے دنیا میں اسلام کا مقام و مرتبہ میں اضافہ نہیں ہوتا۔ ان کے خیال میں تشدد کی راہ سے زیادہ مسلمانوں کو دعوت کی راہ اپنانی چاہیے۔ پھر طارق رمضان نے ایک مضمون لکھا جسے فرانسیسی اخباروں نے چھاپنے سے انکار کر دیا ۔ تاہم ایک سائیٹ امہ ڈاٹ کام نے اسے شائع کر دیا۔ اس میں طارق رمضان نے مختلف فرانسیسی یہودی دانشوروں اور شخصیات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جو انسانی حقوق کی پامالی اور اسرائیل کی ناجائز حمایت کرتے رہے ہیں۔ ان یہودی شخصیات کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے دفاع کے لیے عراق پر حملہ ضروری تھا۔ اس مضمون کے جواب میں طارق رمضان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ یہود دشمن ہے۔ مغرب میں بعض ادارے انہیں اسلام کا ’’مارٹن لوتھر‘‘ کہتے ہیں۔ طارق رمضان کی اب تک پندرہ کتب شائع ہو چکی ہیں۔

ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
ساتھی منصوبے
آلات
دیگر زبانیں